aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zaraafat"
کچھ ایسا ہے یہ میں جو ہوں یہ میں اپنے سوا ہوں ''میں''سو اپنے آپ میں شاید نہیں واقع ہوا ہوں میںجو ہونے میں ہو وہ ہر لمحہ اپنا غیر ہوتا ہےکہ ہونے کو تو ہونے سے عجب کچھ بیر ہوتا ہےیوں ہی بس یوں ہی زینوؔ نے یکایک خودکشی کر لیعجب حس ظرافت کے تھے مالک یہ رواقی بھی
نغمۂ تکلم میںزیر و بم کئی غلطاںظرف اور ظرافت کےزیر لب تبسم سےکھل کے مسکرانے تکپیچ و خم کئی لرزاںاختیار و عادت کے
ظرافت اس کی فطرت کا تقاضہمتانت اس کے فکر و فن کا جوہرمحبت روح اس کی شاعری کیکہاں ہوں گے بھلا ایسے سخنورزمانہ کس لئے اس کو مٹاتاوہ انساں تھا نہ تھا حرف مکرر
عشق کا میزبان ہے پیارےحسن کی بس یہ شان ہے پیارےتیری شیخی کا کیا اثر ہوگاتیرا عاشق پٹھان ہے پیارےجو ترے حسن کا بنے الووہ بڑا بھاگوان ہے پیارےپھیکا پکوان کیوں نہ ہو آخرتیری اونچی دکان ہے پیارےعشق میں اور کیا ہو حبس دوامہجر خود انڈمان ہے پیارےقد تو بالشت بھر کا ہے تیراایک گز کی زبان ہے پیارےہاں طبیعت ہری میں کر دوں گامیرے بنگلے میں لان ہے پیارےمجھ سے اچھا تو غیر ہی نکلاجو ترا فیل بان ہے پیارےتیرے ابا سے ہوگا انٹریوکل مرا امتحان ہے پیارےتجھ کو مجھ سے یقین ترک وفااور مجھ کو گمان ہے پیارےشوق سے کھا جو تجھ کو آئے پسندیہ پراٹھا یہ نان ہے پیارےعید قرباں پہ کی ہے قربانیلے یہ بکرے کی ران ہے پیارےجس کو کہتا ہے تو ظریفؔ ظریفوہ ظرافت کی جان ہے پیارے
اے مری امید میری جاں نوازاے مری دل سوز میری کارسازمیری سپر اور مرے دل کی پناہدرد و مصیبت میں مری تکیہ گاہعیش میں اور رنج میں میری شفیقکوہ میں اور دشت میں میری رفیقکاٹنے والی غم ایام کیتھامنے والی دل ناکام کیدل پہ پڑا آن کے جب کوئی دکھتیرے دلاسے سے ملا ہم کو سکھتو نے نہ چھوڑا کبھی غربت میں ساتھتو نے اٹھایا نہ کبھی سر سے ہاتھجی کو ہو کبھی اگر عسرت کا رنجکھول دیے تو نے قناعت کے گنجتجھ سے ہے محتاج کا دل بے ہراستجھ سے ہے بیمار کو جینے کی آسخاطر رنجور کا درماں ہے توعاشق مہجور کا ایماں ہے تونوح کی کشتی کا سہارا تھی توچاہ میں یوسف کی دل آرا تھی تورام کے ہمراہ چڑھی رن میں توپانڈو کے بھی ساتھ پھری بن میں توتو نے سدا قیس کا بہلایا دلتھام لیا جب کبھی گھبرایا دلہو گیا فرہاد کا قصہ تمامپر ترے فقروں پہ رہا خوش مدامتو نے ہی رانجھے کی یہ بندھوائی آسہیر تھی فرقت میں بھی گویا کہ پاسہوتی ہے تو پشت پہ ہمت کی جبمشکلیں آساں نظر آتی ہیں سبہاتھ میں جب آ کے لیا تو نے ہاتسات سمندر سے گزرنا ہے باتساتھ ملا جس کو ترا دو قدمکہتا ہے وہ یہ ہے عرب اور عجمگھوڑے کی لی اپنے جہاں تو نے باگسامنے ہے تیرے گیا اور پراگعزم کو جب دیتی ہے تو میل جستگنبد گردوں نظر آتا ہے پستتو نے دیا آ کے ابھارا جہاںسمجھے کہ مٹھی میں ہے سارا جہاںذرے کو خورشید میں دے کھپابندے کو اللہ سے دے تو ملادونوں جہاں کی ہے بندھی تجھ سے لڑدین کی تو اصل ہے دنیا کی جڑنیکیوں کی تجھ سے ہے قائم اساستو نہ ہو تو جائیں نہ نیکی کے پاسدین کی تجھ بن کہیں پرسش نہ ہوتو نہ ہو تو حق کی پرستش نہ ہوخشک تھا بن تیرے درخت عملتو نے لگائے ہیں یہ سب پھول پھلدل کو لبھاتی ہے کبھی بن کے حورگاہ دکھاتی ہے شراب طہورنام ہے سدرہ کبھی طوبیٰ تراروز نرالا ہے تماشا تراکوثر و تسنیم ہے یا سلسبیلجلوے ہیں سب تیرے یہ بے قال و قیلروپ ہیں ہر پنتھ میں تیرے الگہے کہیں فردوس کہیں ہے سورگچھوٹ گئے سارے قریب اور بعیدایک نہ چھوٹی تو نہ چھوٹی امیدتیرے ہی دم سے کٹے جو دن تھے سختتیرے ہی صدقے سے ملا تاج و تختخاکیوں کی تجھ سے ہے ہمت بلندتو نہ ہو تو کام ہوں دنیا کے بندتجھ سے ہی آباد ہے کون و مکاںتو نہ ہو تو ہے بھی برہم جہاںکوئی پڑتا پھرتا ہے بہر معاشہے کوئی اکسیر کو کرتا تلاشاک تمنا میں ہے اولاد کیایک کو دل دار کی ہے لو لگیایک کو ہے دھن جو کچھ ہاتھ آئےدھوم سے اولاد کی شادی رچائےایک کو کچھ آج اگر مل گیاکل کی ہے یہ فکر کہ کھائیں گے کیاقوم کی بہبود کا بھوکا ہے ایکجن میں ہو ان کے لیے انجام نیکایک کو ہے تشنگیٔ قرب حقجس نے کیا دل سے جگر تک ہے شقجو ہے غرض اس کی نئی جستجولاکھ اگر دل ہیں تو لاکھ آرزوتجھ سے ہیں دل سب کے مگر باغ باغگل کوئی ہونے نہیں پاتا چراغسب یہ سمجھتے ہیں کہ پائی مرادکہتی ہے جب تو کہ اب آئی مرادوعدہ ترا راست ہو یا ہو دروغتو نے دیے ہیں اسے کیا کیا فروغوعدے وفا کرتی ہے گو چند تورکھتی ہے ہر ایک کو خورسند توبھاتی ہے سب کو تری لیت و لعلتو نے کہاں سیکھی ہے یہ آج کلتلخ کو تو چاہے تو شیریں کرےبزم عزا کو طرب آگیں کرےآنے نہ دے رنج کو مفلس کے پاسرکھے غنی اس کو رہے جس کے پاسیاس کا پاتی ہے جو تو کچھ لگاؤسیکڑوں کرتی ہے اتار اور چڑھاؤآنے نہیں دیتی دلوں پر ہراسٹوٹنے دیتی نہیں طالب کی آسجن کو میسر نہ ہو کملی پھٹیخوش ہیں توقع پہ وہ زر بفت کیچٹنی سے روٹی کا ہے جن کی بناؤبیٹھے پکاتے ہیں خیالی پلاؤپاؤں میں جوتی نہیں پر ہے یہ ذوقگھوڑا جو سبزہ ہو تو نیلا ہو طوقفیض کے کھولے ہیں جہاں تو نے بابدیکھتے ہیں جھونپڑے محلوں کے خوابتیرے کرشمے ہیں غضب دل فریبدل میں نہیں چھوڑتے صبر و شکیبتجھ سے مہوس نے جو شوریٰ لیاپھونک دیا کان میں کیا جانے کیادل سے بھلایا زن و فرزند کولگ گیا گھن نخل برومند کوکھانے سے پینے سے ہوا سرد جیایسی کچھ اکسیر کی ہے لو لگیدین کی ہے فکر نہ دنیا سے کامدھن ہے یہی رات دن اور صبح شامدھونکنی ہے بیٹھ کے جب دھونکناشہہ کو سمجھتا ہے اک ادنیٰ گداپیسے کو جب تاؤ پہ دیتا ہے تاؤپوچھتا یاروں سے ہے سونے کا بھاؤکہتا ہے جب ہنستے ہیں سب دیکھ کررہ گئی اک آنچ کی باقی کسرہے اسی دھند میں وہ آسودہ حالتو نے دیا عقل پہ پردہ سا ڈالتول کر گر دیکھیے اس کی خوشیکوئی خوشی اس کو نہ پہنچے کبھیپھرتے ہیں محتاج کئی تیرہ بختجن کے پیروں میں تھا کبھی تاج و تختآج جو برتن ہیں تو کل گھر کروملتی ہے مشکل سے انہیں نان جوتیرے سوا خاک نہیں ان کے پاسساری خدائی میں ہے لے دے کے آسپھولے سماتے نہیں اس آس پرصاحب عالم انہیں کہیے اگرکھاتے ہیں اس آس پہ قسمیں عجیبجھوٹے کو ہو تخت نہ یارب نصیبہوتا ہے نومیدیوں کا جب ہجومآتی ہے حسرت کی گھٹا جھوم جھوملگتی ہے ہمت کی کمر ٹوٹنےحوصلہ کا لگتا ہے جی چھوٹنےہوتی ہے بے صبری و طاقت میں جنگعرصۂ عالم نظر آتا ہے تنگجی میں یہ آتا ہے کہ سم کھائیےپھاڑ کے یا کپڑے نکل جائیےبیٹھنے لگتا ہے دل آوے کی طرحیاس ڈراتی ہے چھلاوے کی طرحہوتا ہے شکوہ کبھی تقدیر کااڑتا ہے خاکہ کبھی تدبیر کاٹھنتی ہے گردوں سے لڑائی کبھیہوتی ہے قسمت کی ہنسائی کبھیجاتا ہے قابو سے آخر دل نکلکرتی ہے ان مشکلوں کو تو ہی حلکان میں پہنچی تری آہٹ جو ہیںرخت سفر یاس نے باندھا وہیںساتھ گئی یاس کے پژمردگیہو گئی کافور سب افسردگیتجھ میں چھپا راحت جاں کا ہے بھیدچھوڑیو حالیؔ کا نہ ساتھ اے امید
مگر پو پھٹے گیتو پلکوں سے کھودو گے خود اپنے مردوں کی قبریںبساط ضیافت کی خاکستر سوختہ کے کنارےبہاؤ گے آنسو!بہائے ہیں ہم نے بھی آنسو!گو اب خال ہندو کی ارزش نہیں ہےعذار جہاں پر وہ رستا ہوا گہرا ناسورافرنگ کی آز خوں خوار سے بن چکا ہےبہائے ہیں ہم نے بھی آنسوہماری نگاہوں نے دیکھے ہیںسیال سایوں کے مانند گھلتے ہوئے شہرگرتے ہوئے بام و دراور مینار و گنبدمگر وقت مینار ہےاور دشمن اب اس کی خمیدہ کمر سے گزرتا ہوااس کے نچلے افق پر لڑھکتا چلا جا رہا ہےہمارے برہنہ و کاہیدہ جسموں نےوہ قید و بند اور وہ تازیانے سہے ہیںکہ ان سے ہمارا ستم گرخود اپنے الاؤ میں جلنے لگا ہے!
ہزاروں برس سے مری آتما اونگھ میں پھنس گئی تھیجب انسان دو پتھروں کو رگڑ کر کہن سال سورج کی سرخ آتما کو بلانے لگا تھامگر تیز آنچ اور بہت تیز بو نے جھنجھوڑا تو اب آنکھ پھاڑے ہوئےدم بخود ہےابلنے لگیں سبزیاں پھول پھل گوشت دالیں اناجابھی شوربے کے کھدکنے کی آواز چھائی ہوئی تھیابھی سانپ چھتری لگائے ہوئے بھاپ نیلے خلاؤں کی جانب رواں ہےوہ جس کی ضیافت کی تیاریاں تھیں کہاں ہےمری آتما جاگ کر چیختی ہےیہ ہانڈی ابلنے لگی ہےیہ مٹی کی ہانڈی ابلنے لگی ہےیہ مٹی کی دیوانی ہانڈی ابلنے لگی ہے
اے کسی گلشن زریں کی گراں قدر کلیاپنی اجڑی ہوئی مہکار چھپا لے مجھ سےاے کسی بستر کم خواب کی بے رنگ شکناپنا روندا ہوا کردار چھپا لے مجھ سےاے کسی جنت زر فام سے آنے والیاپنا ٹوٹا ہوا پندار چھپا لے مجھ سے
مرے دادا جو برٹش فوج کے نامی بھگوڑے تھےنہ جانے کتنی جیلوں کے انہوں نے قفل توڑے تھےچرس کا اور گانجے کا وہ کاروبار کرتے تھےخدا سے بھی نہیں ڈرتے تھے بس بیگم سے ڈرتے تھےمرے تائے بھی اپنے وقت کے مشہور چیٹر تھےکئی جیلوں کے تو وہ ہاف ایرلی بھی وزیٹر تھےہر اک غنڈہ انہیں گھر بیٹھے غنڈہ ٹیکس دیتا تھاتجوری توڑنے کا فن انہیں سے میں نے سیکھا تھاچچا مرحوم ناسک جیل سے جب واپس آئے تھےتو مشہور زمانہ اک طوائف ساتھ لائے تھےوہ ٹھمری دادرا اور بھیرویں میں بات کرتی تھیترنم میں ثریا اور لتا کو مات کرتی تھیمرے والد خدا بخشے کہیں آتے نہ جاتے تھےسحر سے شام تک اماں کے آگے دم ہلاتے تھےتھی اک بکرے نما براق داڑھی ان کے چہرے پرمگر پھر بھی کبڈی کھیلتے تھے رات کو اکثرمیں اپنے باپ دادا کے ہی نقش پا پہ چلتا ہوںمگر بس فرق اتنا ہے وہ غنڈے تھے میں نیتا ہوںپولس پیچھے تھی ان کے تھرڈ ڈگری کی ضیافت کومرے پیچھے بھی رہتی ہے مگر میری حفاظت کونہیں پروا کہ لیڈر کون اچھا کون گندہ ہےسیاست میری روزی ہے الیکشن میرا دھندہ ہےسیاست میں قدم رکھ کر حقیقت میں نے یہ جانیچرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی
چوسا دسہری ہو کہ سفیدہ ہو ایک ایکچکنا رسیلا شیریں دہن زرد فام ہے
دشت میں رام نے شبری کی ضیافت کھائیبھیلنی کے یہاں کھانے میں بھی انکار نہ تھاکیا بتائیں گے یہ ارباب خرد اب مجھ کوغیر سگریو شری رام کا کیا یار نہ تھا
دنبہ زرافے کی گردن ناپنے کو تیار ہوامرغابی کے انڈے کھا کر سانپ بہت بیمار ہوا
چڑیا گھر میں بسنے والیکیسا مزاج عالی ہےمنو بھیا پوچھ رہے ہیںکیا کوئی پنجرہ خالی ہےدوڑ میں سب سے اول چیتاجنگل کی ہر ریس میں جیتاجلدی جلدی بول رے ساتھیکچا پپیتا پکا پپیتاجنگل کے سلطان کو دیکھوشیر ببر کی شان کو دیکھوایسا بہادر کوئی نہیں ہےدل والے مہمان کو دیکھوبھاگ رہا ہے ہانپ رہا ہےڈر کے مارے کانپ رہا ہےبزدل گیدڑ نام ہے اس کادیکھو کیسا بھانپ رہا ہےہاتھی سونڈ ہلانے والےلمبے دانت دکھانے والےدریا دریا جنگل جنگلبھاری بوجھ اٹھانے والےباتوں میں بے باک بہت ہےسب پر اس کی دھاک بہت ہےبچو اس کا نام بتاؤیہ بی بی چالاک بہت ہےبن مانس کے کھیل عجب ہیںسرکس جیسے سارے ڈھب ہیںایسے کھیل کہاں سے سیکھےدیکھنے والے حیراں سب ہیںناچ دکھانے والے بھالوتو کالا تیرا نام ہے کالوکس سے ہے تری رشتہ داریتو آخر ہے کس کا خالوڈگ ڈگ ڈگ ڈگ بندر آئےخوشی خوشی سسرال کو جائےچھن چھن چھن چھن ناچے بندریاجیسے مداری چاہے نچائےزیبرا دیکھو دھاریوں والاپایا جس نے روپ نرالاصبح بھی اس کی شام بھی اس کیآدھا گورا آدھا کالایہ کچھوے سے ہارنے والاجھوٹی شیخی بگھارنے والاآخر منہ کی کھا جاتا ہےاوروں کو للکارنے والاسانپ جو پل پل بل کھاتے ہیںبین بجے تو لہراتے ہیںلہرائیں تو جاگے سوئےلاکھوں رنگ نظر آتے ہیںکنٹھی پہنے طوطے آئےہرے ہرے سے پر پھیلائےمٹھو بیٹا پڑھ لیتے ہیںکوئی ان کو اگر پڑھائےسارس دیکھو کتنا بڑا ہےبادل جیسے آن پڑا ہےمچھلی آئے اور پکڑ لوںپانی میں چپ چاپ کھڑا ہےوہ دیکھو وہ آیا زرافہجیسے کوئی بیرنگ لفافہہم دیتے ہیں اس کو دعائیںگردن میں ہو اور اضافہ
دن گزرتے ہیںدن کیسے گزرتے ہیںیوں تو سب ہی دن گزر جاتے ہیںجو زندہ ہیںوہ تو گزارتے ہیںذلیل ہوتے ہوئےکبھی بھوک کے ہاتھوںکبھی چاروں طرف پھیلی ان وباؤںکی سر پرستی میںجو خدا بن جاتی ہیںسفاک بے رحمی کے لباس میںگھروں کی منڈیروں پر چلتی ہیںچھلاووں کی طرحچباتی ہیں ماؤں کے کلیجےچیرتی ہیں ننھے بچوں کا دلاپنی کسی ضیافت میں پیش کرنے کے لیےاپنی ہی جیسی بلاؤں کونہیں روک سکتا کوئی انہیںوہ بھی جو ان کا خدا ہےوہ بلاتے ہیں اپنے خدا کو بھیاس ضیافت میںشاید وہ بھی انسانی گوشت کاشوقین ہےاور اکساتا ہے انہیںجب جب اسے اشتہا ہوتی ہےان کا خداصرف ان کا خدا ہےان کا نہیںجن کے کلیجے چبائے جا رہے ہیں
پھیلی ہے فضاؤں میں خوشی میری نظر کیہنستی نظر آتی ہیں فضائیں مرے گھر کیدل شاد مرے اہل و عیال آج بہت ہیںمصروف ہیں وہ بھی نہیں مصروف فقط میںرکھی ہے سلیقے سے ہر اک کام کی چیز آجمہمان مرے گھر میں ہیں کچھ میرے عزیز آجشادی کا مکاں گھر مرا معلوم نہ ہو کیوںمجمع ہو جب اتنا تو بھلا دھوم نہ ہو کیوںبھائی بھی ہیں بہنوئی بھی بھاوج بھی بہن بھیبیٹھا ہے بھتیجا بھی بھتیجے کی دلہن بھیبچی ادھر اک بیٹھ کے تکتی ہے دلہن کوکچھ طفل ستاتے ہیں ادھر اپنی بہن کوبچوں پہ جھلک خاص ہے تنویر سحر کیاٹھ بیٹھے ہیں سب سنتے ہی آواز گجر کیدل کش یہ فضا صبح کی یہ نور کا تڑکابلبل کی طرح بول رہا ہے کوئی لڑکابے وجہ کوئی رونے پہ آمادہ ہوا ہےحیرت سے نئے گر کو کوئی دیکھ رہا ہےبیٹھا ہے یہ چپ دوڑ رہا ہے وہ خوشی سےکھانے کے لیے ضد کوئی کرتا ہے ابھی سےکرنا ہے جو سامان ضیافت کو فراہمآ آ کے مرے کان میں کچھ کہتی ہیں بیگمہونا ہے جو خوبی سے ضیافت کا سرانجاملڑکی کے ذریعے سے بھی پہنچاتی ہیں پیغامآتی بھی ہیں جاتی بھی ہیں بیگم سوئے مطبخماماؤں میں بے وقت جہاں ہوتی ہے چخ چخراحت نہ ملے کیوں انہیں ہلکی تگ و دو میںسائے کی طرح ساتھ ہے لڑکی بھی جلو میںننھی ابھی اٹھی نہیں پہلو سے پھپھی کےلیتی ہیں وہ رہ رہ کے مزے اس کی ہنسی کےلڑکے مرے خوش ہو کے ادھر دیکھ رہے ہیںاخلاص و محبت سے مخاطب ہوں جدھر میںمجمع یہ عزیزوں کا محبت کی یہ باتیںان پیار کی باتوں میں نہ چوٹیں ہیں نہ گھاتیںانوار تبسم کے تکلم سے ہیں پیداضو صبح کی اس منظر دل کش پہ ہے شیداباتوں کا ابھی تھا طربی سلسلہ جارینرگس نے کہا آ کے ہے تیار نہاری
آیا ہے لے کے موسم سوغات مچھروں کیہر سمت ہو رہی ہے برسات مچھروں کیکم ذات مچھروں کی بد ذات مچھروں کیہم خوب جانتے ہیں اوقات مچھروں کیدیتے ہیں حسب عادت بیماریوں کو دعوتکر کر کے ہم ضیافت دن رات مچھروں کیہے ماجرا یہ کیسا کیا قہر ہے خدا کانازل جو ہو رہی ہیں آفات مچھروں کیآتی ہیں ہنستی گاتی جاتی ہیں گنگناتیافواج مچھروں کی بارات مچھروں کیبچھو سے بھی زیادہ زہریلے ہو چکے ہیںکچھ بڑھ چکی ہے اتنی اوقات مچھروں کیپھیلا کے کیوں غلاظت آلودگی نجاستکرتے ہیں پرورش کیوں حالات مچھروں کیہر چیز سے انوکھی ہر شے سے ہیں نرالیاطوار مچھروں کے حرکات مچھروں کیچلتی ہیں سائیں سائیں جب تیز تر ہوائیںبنتی ہیں بن بنائے کچھ بات مچھروں کیاس دور میں ہے قلت ہر چیز کی مگر ہےافراط مچھروں کی بہتات مچھروں کیاپنا لہو پلا کر ہم لوگ راہیؔ اکثرکرتے رہے تواضع دن رات مچھروں کی
جنگل جنگل پڑی پکارچوہے نے چھاپہ اخبارنیلے پیلے صفحے چارتصویریں چالیس ہزاراس پر خبروں کی بھر مارایک کے اوپر ایک سواررشتے ناطوں کے جھگڑےطوطے مینا کی تکرارپھول سجائے بلبل نےخوب رہا مینا بازاربندر کی تصویروں پرشہد کی مکھی کی یلغارگیدڑ نے اعلان کیاسارس گیا سمندر پارزرافے کی گردن میںکھیلوں کی خبروں کے ہارہاتھی دنگل جیت گیاشیر چلا کرنے کو شکاربکرے دنبے اور ہرنکھڑے ہوئے ہیں نمبردارکوئل سائے میں خوش ہےبھینسے گرمی سے بیزارمہنگائی میں مندہ ہےبھالو سیٹھ کا کاروبارلومڑ کھو گیا رستے میںامی روئیں زار و زارسہی معمہ حل کر کےبکری جیتی پانچ ہزارلیکن جنگل میں کیا ہےگاہک آئے بس دو چارکتر کتر کر کھا گیا آخرچوہا سب ردی اخبارچوہے نے چھاپہ اخبار
منسٹر مجھ کو بنوا دو خزانہ جات کا ماموںحکومت ہی تمہاری ہے تو ڈر کس بات کا ماموںمیں کب کہتا ہوں یو ایس کی سفارت چاہئے مجھ کوخزانے اور کھانے کی وزارت چاہئے مجھ کویہ میری چیز ہے غیروں کو ہتھیانے نہیں دوں گامیں کسٹم کا ادارہ ہاتھ سے جانے نہیں دوں گازراعت میں بہو کو شعبۂ باغات دے دو تماور اپنی ساس کو بھی جیل خانہ جات دے دو تمچچی کو میڈیا دے دو چچا کو ریلوے دے دوتمہارا جو مخالف ہو تم اس کو جیل وے دے دوبہت ہی کائیاں ہو جو اسے سی آئی اے دے دوجو ہو سب سے نکما تم اسے پی آئی اے دے دووزیر آب کا منصب دکھانے کے لیے رکھ لوقلم دان زراعت سمدھیانے کے لئے رکھ لومنسٹر ہیلتھ ابا کو بنا دو اب یہ صورت ہےبہت بیمار ہیں ان کو دواؤں کی ضرورت ہےجسے پینے کی عادت ہو اسے پی کر بنا دیناجو کچھ بھی بن نہ پائے اس کو اسپیکر بنا دیناحج و اوقاف بھی کوئی وزارت میں وزارت ہےنمازیں ہی نمازیں ہیں طہارت ہی طہارت ہےیہ گنگا ملک میں الٹی ہی بہنی چاہئے ماموںیہ کابینہ ہمارے گھر میں رہنی چاہئے ماموں
میں بچہ ہوں میں بچہ ہوں کبھی میں بھی بڑا ہوں گاابھی سے کیسے بتلاؤں کہ اس دنیا میں کیا ہوں گامیں جی بچپن سے پڑھنے اور لکھنے میں لگاؤں گاکبھی کھیلوں گا خوش ہو کر کبھی پڑھنے کو جاؤں گامصیبت کچھ بھی پیش آ جائے ہرگز منہ نہ موڑوں گااٹھوں جس کام کے کرنے کو پورا کر کے چھوڑوں گامیں اس دنیا کے ہر علم و ہنر سے آشنا ہو کربجا لاؤں گا ملک اور قوم کی خدمت بڑا ہو کرمیں اپنے صبر اور ہمت سے دکھ پر فتح پاؤں گامیں تکلیفیں اٹھاؤں گا مگر کچھ کر دکھاؤں گامیں اپنے ملک کی قوموں کو آپس میں ملا دوں گاجو لڑتے ہیں انہیں شربت محبت کا پلا دوں گامسلمان اور ہندو جین بدھ سکھ اور عیسائیمری کوشش سے اس دن سب کے سب ہو جائیں گے بھائییہ ساری طاقتیں مل کر وطن کے کام آئیں گینئی اک روح اس میں پھونک کر اس کو جلائیں گینئے سر سے وطن کے دل میں پھر اک جوش اٹھے گاصناعت کا زراعت کا تجارت کا حکومت کابڑھے گی ملک کی رونق بڑھے گی اس کی آبادیجدھر دیکھو ادھر راحت جدھر دیکھو ادھر شادیہوا ایسا تو نیرؔ ہم خوشی کے گیت گائیں گےغلامی کے زمانے کی کہانی بھول جائیں گے
میر باقر علیتم نے پھر بیچ میں داستاں روک دیشاہ گل فام گنجل طلسموں کی گتھیوں کو سلجھاتاصرصار جنگل کے شعلہ نفس اژدہوں سے نمٹتابیابان حیرت کی بے انت وسعت کو سر کر کےپہرے پہ مامور یک چشم دیووں کی نظریں بچاسبز قلعے کی اونچی کگر پھاند کرمہ جبیں کے معنبر شبستان تک آن پہنچا ہےاور اس طرف حق و طاغوت مد مقابل ہیںآنکھیں جدھر دیکھتی ہیں کلہاڑوں کی نیزوں کی برچھوں کی فصلیں کھڑی لہلہاتی نظر آ رہی ہیںجری سورما آمنے سامنے ہنہناتے الف ہوتے گھوڑوں پہ زانو جمائے ہوئے منتظر ہیںابھی طبل پر تھاپ پڑنے کو ہےاور ادھر شاہزادہ طلسمی محل کے حسیں دودھیا برج میں شاہ زادی کے حجلے کے اندرابھی لاجوردی چھپر کھٹ کا زر بفت پردہ اٹھا ہی رہا ہےمگر میر باقر علی تم نے پھر بیچ میں داستاں روک دیراہداری منقش در و بام ست رنگ قالین بلور قندیل فوارہ بربط سناتاجھروکوں پہ لہراتے پردوں کی قوس قزحمیمنہ میسرہ قلب ساقہ جناحآہنی خود سے جھانکتی مرتعش پتلیاںرزم گہہ کی کڑی دھوپ میں ایک ساکت پھریراچھپر کھٹ پہ سوئی ہوئی شاہ زادی کے پیروں پہ مہندی کی بیلیںفصاحت کے دریا بہاتے چلے جا رہے ہوبلاغت کے موتی لٹاتے چلے جا رہے ہومگر میر باقر علی داستاں گو سنوداستاں سننے والے تو صدیاں ہوئیں اٹھ کے جا بھی چکے ہیںتم اپنے طلسماتی قصے کے پر پیچ تاگوں میں ایسے لپٹتے گئے ہوکہ تم کو خبر ہی نہیںسامنے والی نکڑ پہ اک آنے کی بائیسکوپ آ گئی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books