اغوا

راجندر سنگھ بیدی

اغوا

راجندر سنگھ بیدی

MORE BY راجندر سنگھ بیدی

    ’’آلی ۔۔۔ آلی ۔۔۔ ‘‘ دلاور سنگھ نے زور سے پکارا۔

    آلی ۔۔۔ علی جو، ہمارے ٹھیکے کا کشمیری مزدور تھا۔ منشی دلاور سنگھ کی آواز سن کر علی جو ایک پل کے لیے رکا۔ ڈوبتے ہوئے سورج کی کرنیں ابھی تک لیموں کی طرح ترش تھیں اور علی جو کی سرخ رگوں سے بھری ہوئی آنکھوں نے انھیں چکھنے سے انکار کر دیا تھا۔ منشی جی کی طرف آنکھ اٹھائے بغیر علی جو نے نل کا رسہ تھام کر بقیہ چرخی کو گھومنے سے روک دیا اور جوابا بلند آواز سے بولا۔۔۔ ’’ہو سردار!‘‘

    سردار خاموش اور کم گو آدمی تھا۔ آج اس کا خلاف معمول اونچی، پر جوش آواز سے پکارنے کا مطلب یہ تھا کہ کنسو اپنے آبائی گانو، جنڈیالہ گورد سے واپس آ گئی ہے۔ دراصل ٹھیکے پر کام بدھ اور جمعرات کو اس لیے بھی سست رہا کہ کنسو، رائے صاحب ، اپنے باپ کے ساتھ شہر سے باہر چلی گئی تھی۔ اس کے بعد بنگلے کی فضا ایک ساکن اور گدلے پانی والے جوہڑ کی طرح ہو گئی تھی۔ لیکن اب کنسو کے آتے ہی ہمیشہ کی طرح ٹھیکہ بٹ گیا ۔۔۔ دو حصوں میں ۔۔۔ کام کرنے والوں میں اور گھورنے والوں میں۔ کام کرنے والے اس کی موجودگی میں زیادہ مستعدی سے کام کرتے تھے اور نکموں کی کسر پوری کر دیتے تھے۔ مزدوروں کے سربراہ منشی جی تھے۔ ان کے چھوٹے سے دستے میں علی جو، رحمان جو، گنی (غنی) اور علیا وغیرہ شامل تھے، اور یا پھرہئی سا، ہئی سا ۔۔۔ مال ملے گا، ہئی ساکی رٹ لگانے والے بھین ۔۔۔ ’پوربین‘ ۔ ان لوگوں کے جسم میں کنسو کو دیکھتے ہی ایک بجلی سی دوڑ جاتی تھی۔ دوسری طرف گھورنے والوں میں مزدوروں اور کاریگروں کے علاوہ بابو قسم کے لوگ تھے ۔۔۔ جھوٹ کیوں کہوں ۔۔۔ ا ن میںمیں بھی شامل تھا اور ان دنوں ٹھیکے کی چھوٹی موٹی ’بک کیپنگ‘ کیا کرتا تھا۔ میرے ساتھ دلال تھے، مختار تھے اور شیخ جی تھے۔

    یہ شیخ جی ساٹھ کے تھے۔ لیکن تھے بڑے کائیاں۔ انھیں زلف پہ شب دیجور کی پھبتی سوجھا کرتی تھی۔ زندگی کو تو شیخ جی نے بس پی لیا تھا، لیکن بقول دلاور سنگھ ابھی ’’ٹھوٹھا‘‘ ہاتھ میں تھا۔ یعنی تھے کاسہ بدست ۔ کئی مکمل اور نا مکمل رومان ان کے ذہن کی انتڑیوں میں تپ محرقہ پیدا کر رہے تھے۔ شیخ جی عموما بات یوں شروع کرتے ’’جب ہم جوان تھے۔۔۔ ‘‘

    اس کے بعد شیخ جی کی شنوائی نہ ہوتی۔ ہر ایک اپنی جوانی میں مست تھا۔ کم و بیش ہر ایک کی جوانی شیخ جی کی رجعت پسند جوانی سے زیادہ رنگین تھی اور اسے اس پر بجا یا بیجا طور پر ناز تھا۔ چنانچہ ’’جب ہم جوان تھے ۔۔۔‘‘ کے ساتھ ہی ایک ہلڑ سا مچ جاتا ۔۔۔

    کبھی شیخ جی بھی جوان تھے؟

    پرانی ہو گئی اب شیخ جی کی جوانی ۔۔۔

    او بے ، بکتا کیوں اے ۔۔۔ اے چپ رَو، بے ایمان گنی!

    اور جب آوے گدھی پر جوانی ۔۔۔

    قہ قہ قہ !!!

    کنسو کو بھی شیخ جی سے بے حد عقیدت تھی۔ دراصل کنسو کو ٹھیکے کے ہر آدمی سے انس تھا۔ وہ ایک پھرکی کی طرح گھومتی ہوئی آتی اور کاریگروں، مزدوروں کے اس ہلڑ میں گھومتی پھرتی، فقرے چست کرتی نکل جاتی۔ بڑی ہی جان تھی اس پھرکی میں اور یوں معلوم ہوتا تھا جیسے کسی بہت ہی طاقتور ہاتھ کی چٹکی نے اسے گھما کر وقت اور مقام کی وسعتوں میں ہمیشہ ہمیشہ آوارہ رہنے کے لیے چھوڑ دیا ہے، اور یہ پھرکی اسی گت سے رہتی دنیا تک گھومتی رہے گی اور کبھی دم نہ لے گی۔۔۔ آپ ابھی کنسو سے باتیں کر رہے ہیں اور مارے شرم کے اپنی علی جو آنکھیں کنسو کے چہرے پر نہیں گاڑسکتے۔ آپ برمے کمانچے سے ساگوان یا دیودار میں سوراخ کیے جاتے ہیں اور پھونکیں مار مار کر برادے کو پرے اڑاتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد آپ کا جی چاہتا ہے کہ ایک پَل، ایک چھن اپنے حسین مخاطب کو دیکھ لیں۔ آپ ذرا گردن پھیرتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ کنسو غائب ہے ۔۔۔ غائب! ہمارے ہاں ایک پہیلی ہے ۔۔۔ یہ تھی ، وہ گئی ۔اس کا حل ہے نگاہ، اور ظاہر ہے نگاہ کتنی تیز اور دور رس ہوتی ہے، جو دل وجود کو بھی چیر جاتی ہے اور جس سے آپ اپنا آپ بھی نہیں چھپا سکتے۔ ابھی وہ یہاں برمے کمانچے اور ساگوانی برادے میں الجھی ہوئی ہے اور اگلے ہی لمحے وہ اس جگہ پہنچ جاتی ہے جہاں زمین اور آسمان ملتے دکھائی دیتے ہیں اور جہاں درختوں کے زمردیں طاؤس اس ملاپ کی خوشی میں پائل ڈالے، اپنے بھدے اور کریہہ پانو زمین کی گولائیوں میں چھپائے ناچتے نظر آتے ہیں۔ جہاں آپ کا جسم بھی جانا چاہتا ہے، لیکن جا نہیں سکتا کیونکہ جہاں سلطان خلوت کرتا ہے، وہاں حشم نامحرم ہوتا ہے۔ جس جگہ جان پہنچتی ہے وہاں تن باریاب نہیں ہوتا ۔ کاریگروں کی سہیلی کنسو بھی ایک پہیلی تھی۔ پلک جھپکنے میں وہ اپنے خلوت خانوں میں گم ہو جاتی اور گنی ونی ، علیا، علی جو اور ہئی سا، ہئی ساکا لاؤ لشکر منھ اٹھا کر دیکھتا رہ جاتا۔ اگرچہ رائے صاحب نے اسے بہت آزادی دے رکھی تھی، پھر بھی وہ اپنی اس لاڈلی ’یہ تھی، وہ گئی‘ سے بہت،بہت نالاں تھے۔

    ان دنوں ماڈل ٹاؤن نیا نیا آباد ہوا تھا۔ قطعے بک چکے تھے لیکن تعمیر شروع نہیں ہوئی تھی۔ ہر خریدار میں پہلے تم کو دو کا جذبہ تھا اور رائے صاحب نے پہل کی تھی۔ زیر تعمیر بنگلے کے ساتھ اس بلاک میں صرف ایک چھوٹی سی کوٹھی تھی، جس میں رائے صاحب شہر سے اٹھ آئے تھے۔ کھلی آب و ہوا میں رہنے کا خیال آتے ہی رائے صاحب کا شہر میں تعفن سے دم گھٹنے لگا اور وہ اس کوٹھی میں پدھار کر بڑی بے صبری سے بنگلے میں پرویش کا انتظار کر رہے تھے۔ جٹھ کے لیے شہر کے رؤسا کی ایک لمبی چوڑی فہرست میں ہر روز ترامیم ہوتی تھیں۔ ان دنوں کوب، جاپان میں بھونچال آیا تھا اور رائے صاحب اس کی خبریں پڑھنے سے بہت گھبراتے تھے ۔۔۔ بس اسی کوٹھی کے سوا دور تک کوئی مکان نہ تھا۔ کئی ایک ایکڑ زمین میں لونک بوٹی اگ رہی تھی۔ مجھ سے ازلی مجرد ٹھیکے پر ہی سوجاتے تھے۔ شیخ جی بھی وہیں سویا کرتے۔ ان کی بیوی وفات پا گئی تھی۔ شیخ اور شیخانی کی زندگی بھر نہیں بنی، کیونکہ شیخ جی ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ شیخانی میری گردن کے نیچے بازو رکھ کر سویا کرتی تھی اور میں نے اس کی گردن کے نیچے کبھی بازو نہیں رکھا تھا ۔۔۔ اور پھر کنسو کو شیخانی کی وفاداری کے قصے سنایا کرتے تھے۔ کنسو ہر ایک کی دکھتی رگ سے واقف تھی۔ شیخ جی سے باتیں کرتی تو ’بیچاری‘ شیخانی کے متعلق ۔ مجھ سے بات کرتی تو میری شادی کی ناممکن ممکنات پر اور میری ہوائی بیوی کی شکل کے متعلق ۔۔۔ جسے وہ بھابی کہہ کر میرے دل میں ہمیشہ ایک گدگدی پیدا کر دیا کرتی ،اور علی جو سے بات کرتی تو کشمیر کے رومانی مناظر اور فروں کی تجارت کے متعلق ۔۔۔ علی جو درحقیقت مزدور نہیں تھا، لیکن نامساعد حالات اور فروں کی تجارت کی تباہی نے اسے اس کام کے لیے مجبور کر دیا تھا۔ اب بھی جب کبھی بارش کے بعد فضا کے خاکی ذرات دھل جاتے، تو اسے ماڈل ٹاؤن میں پہاڑ دکھائی دینے لگتے ۔۔۔ اور کنسو جانتی تھی کہ ہر ایک کا چور دروازہ ہوتا ہے اور وہ اس چور دروازے سے بلا کسی آہٹ کے داخل ہو جاتی اور اندر سے سب کچھ لوٹ کھسوٹ کر لے آتی۔ ہم تین چار لوگوں کے سوا ڈیرے میں تین چار، پوربین’ بھین‘ تھے جو اپنی ’لگائین‘ کو بھی ساتھ لے آئے تھے۔ انھوں نے عارضی طور پر اینٹوں کی کئی بے ترتیب کوٹھڑیاں بنا ڈالی تھیں اور ماڈل ٹاؤن کے اندر ایک اور ماڈل ٹاؤن آباد کر دیا تھا۔ بلا کی عورتیں تھیں۔ ان کی لگائین کڑاکے کی سردی میں صرف ایک انگیا یا ایک معمولی سی صدری پہن لیتی تھیں اور چالیس مکعب مکعب فٹ روڑی کوٹ ڈالتیں۔ ان کا دودھ بچے پیتے تھے، لہو ٹھیکیدار پیتا تھا اور ہڈیاں خاوند چچوڑتے تھے۔

    بھلا ہو ٹھیکیدار کا جس نے ہمیں ساگوانی برادہ تک جلانے کی اجازت دے رکھی تھی۔ اگرچہ آگ ان دنوں افیم کے بھاؤ بکتی تھی۔۔۔ سنو سنگھ سردار بگھیلا رائے جی ، پالا پوس نہ پالا ماگھ۔۔۔ پالا ٹھنڈی وائے جی ۔۔۔ یہ کہاوت ہمیں شیخ جی سنایا کرتے تھے جس کا مطلب تھا کہ ٹھنڈک صرف ہوا سے پیدا ہوتی ہے۔ کہیں دور چھٹانک چھٹانک کے اولے پڑے تھے۔ شیخ جی نے حجامت کے لیے شہر جانا ملتوی کر دیا اور لگے ابر آلود آسمان کی طرف تکنے اور سر پر ہاتھ پھیر کر ’اللہ خیر‘ کا وظیفہ پڑھنے۔ کوٹھی میں رائے صاحب کی بوری بھینس نے ناند کے ساتھ جسم رگڑ کر جھول گرا دی تھی۔ شیخ جی جھول کو اوڑھے ہوئے آہستہ آہستہ ہمارے پاس آئے۔ آج انھوں نے ایک نئی چیز دریافت کر لی تھی اور وہ یہ کہ لاہور میں رہنے والے لوگ لاہور ہی میں لوگوں کو چٹھیاں ڈالتے ہیں۔ کتنا بڑا شہر ہے لاہور ۔۔۔ شیخ جی کی اس دریافت پر مجھے بہت ہنسی آئی ۔ لیکن میں بدستور حساب کتاب میں منہمک رہا اور شیخ جی کی پھبتی کے متعلق سوچتا رہا۔ کچھ دیر بعد شیخ جی دہکتے ہوئے برادے کے قریب آ گئے اور کچھوے کی طرح جھول میں سے گردن نکال کر بولے۔

    ’’کنسو بہت ہی جوان ہو گئی ہے۔‘‘

    اب یہ بات بھی لاہور کے ایک بڑا شہر ہونے کی طرح ایک’ دریافت‘ تھی۔لیکن کنسو کا نام سنتے ہی علی جو، رحمان جو، اور گنی ونی کے کان کھڑے ہو گئے۔ دراصل لاہور کی تمہید اسی بم کے گولے کے لیے تھی۔ لیکن تمہید اور حرف مطلب میں اتنی بے تعلقی تھی کہ لاہور کی چٹھیوں کے بعد بے وقوف طبقہ کے سب آدمی اسے ضمنی بات سمجھ سکتے تھے۔

    تین چار آدمیوں کو اکٹھے ہوتے دیکھ کر کاریگروں نے بھی اڈوں پر دم لیا اور ادھر چلے آئے۔ دلاور سنگھ نے پھر نل پر بلانے کے لیے دور سے پکارا ’’۔۔۔ آلی ۔۔۔ آلی ۔۔۔ رحمے ‘‘ اور اس کے بعد خشت درجہ اول کی تمام پرچیاں اٹھائے شیخ جی کو طنزیہ سلام جگانے خود بھی ادھر چلا آیا۔ جمعدار رام آسرے نے بھی زندگی بھر نہ ٹوٹنے والے بیکانیری جوتے سرکائے اور قریب آ گیا۔ علی جو نے اپنے کشادہ ہاتھ پانو پھیلا کر گدھ کی طرح ایک لمبی اور بے ڈھنگی سی قلانچ بھری اور گنی کو اپنے پروں کی لپیٹ میں لے لیا۔گنی بولا۔ پرے ہٹ ہاتو ۔ علی جو لفظ ہاتو سے بہت جلتا تھا۔ کیونکہ ٹھیٹ پنجابی اصطلاح میں ہاتو بوجھ اٹھانے والے کشمیری کو کہا جاتا ہے اور علی جو کوئی لدو جانور تھوڑے ہی تھا۔ علی جو نہ تو مزدور تھا اور نہ ہی مالک۔ وہ تو خوبصورت لفظوں میں لکھا ہوا ایک المیہ ڈراما تھا جو فروں کی تباہی پر ختم ہوتا تھا۔ علی جو کا جسم ترکستانیوں کی طرح سڈول اور تنومند تھا۔ ادھر پنجاب میں مختلف کام کر کے اس نے اچھے پیسے جمع کر لیے تھے اور اب وہ بارہ مولہ پہنچ کر اپنی زندگی کا سفید جبہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔

    علی جو نے گنی کو پٹخنی دی۔ مارنے والے نے مارا، سہنے والے نے سہ لیا۔ بات جاری رہی جو مارنے اور سہنے سے زیادہ دلچسپ تھی۔ دلاور سنگھ بولا۔

    ’’بدمعاش ہے سالی۔‘‘

    علیا بولا ۔ ’’گجب خدا کا، اسے روکتا بھی کوئی نہیں۔ کئی دفعہ تو بڑی ہی دیر سے گھر آتی ہے۔ جب ہم شام کو گھر جاتے ہیں تو اس کا تانگہ ہمیں نہر پہ ملتا ہے۔‘‘

    ’’خبر نہیں کتنے یار رکھے وے ہیں اس چھوکری نے۔‘‘

    ’’مجھے تو بھاگتی دکھے۔‘‘

    ’’کس کے ساتھ دکھے بھاگتی؟‘‘

    ’’جو بھی کوئی لے جائے ۔۔۔ جوانی آفت پہ آئی دی ہے۔‘‘

    اور سب نے مشترکہ طور پر فیصلہ کر لیا کہ کنسو بھاگ جانا چاہتی ہے۔ سب اپنا اپنا تصور چمکانے لگے۔ شیخ جی نے اپنی مونچھوں پر ہاتھ پھیرا اور بولے ’’تم سب گلط کہتے ہو۔ وہ نہیں بھاگے کی۔ کم سے کم میرا تو سو بسوے یہی کھیال ہے۔‘‘

    کنسو کے طور اطوار سے تو مجھے بھی یہی شک ہوتا تھا کہ وہ چلن کی اچھی نہیں اور اسے کوئی بھی بھگا کر لے جا سکتا ہے۔ ’’تم کیسے کہہ سکتے ہو، شیخ؟‘‘ میں نے معا سوال کیا۔

    ’’کم سے کم ان دنوں تو اس کی باتوں سے مجھے کوئی سک نہیں ہوتا۔‘‘

    ’’کیسے؟‘‘

    ’’جانتا ہوں ۔۔۔ بس کہہ جو دیا ’’شیخ نے سر ہلاتے ہوئے ایک بے معنی سا جواب دیا۔ سورج کی شعاعوں میں اس وقت تک شکنجبین کی سی مٹھاس پیدا ہو گئی تھی اور علی جو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر شیخ جی کے منھ کی طرف دیکھ سکتا تھا اور سوچ سکتا تھا۔ اتنی بھی کیا ٹھنڈک لگ رہی ہے شیخ کو، سالا بھینس کی ہی جھول لپیٹ چلا آیا۔ گنی اس وقت کچھووں کا شکاری معلوم ہوتا تھا۔ شاید اس کا جی چاہتا تھا کہ جھول میں سے نکلی ہوئی گردن کو پکڑ کر مروڑ ڈالے۔ کنسو سچ مچ تھوڑے ہی بھاگ چلی تھی۔ ذرا ایسی باتوں سے مزا ہی لے لیتے۔ شیخ جی کی اس بے دلیل قطعیت ۔۔۔ بس کہہ جو دیا، پر مجھے بھی غصہ آ رہا تھا ۔۔۔ کائیں ، کائیں، کائیں۔ آسمان کے آخری کوے چھانگے مانگے کے جنگل کی طرف جا رہے تھے اور اپنے پیچھے آوازوں کی غیر مرئی لکیریں چھوڑتے جاتے تھے۔

    ’’یے بوبا‘‘ جمعدار رام آسرے کی بیوی رام دئی نے آواز دی اور جب رام آسرے نہ ہلا تو ٹوکری کو پھٹوں میں رکھ کر سَر کے انو کو اس میں پھینک دیا اور آپ کولھے مٹکاتی ہوئی اپنے ماڈل ٹاؤن کی طرف چلی گئی۔ دلاور سنگھ خشت درجہ اول کی پرچیوں کو میرے تخت پوش کے صندوقچے میں بند کر کے تالا لگاتے ہوئے بولا۔ ’’آج شیخ جی نے ہری تریاں (بھنگ) پی لی ہیں۔‘‘

    ’’ہنکارے ہے بڈھا تو‘‘ پوربیا بولا۔

    عجیب بات تھی۔ سب کنسو کا بھاگ جانا پسند کرتے تھے۔ میں نے مزدوروں کی وکالت کرتے ہوئے کہا۔ ’’با با! اماں باوا کی اتنی بے پروائی رنگ تو لائے گی ہی۔ یہ جتنی کھل کھیلنے والی چھوکریاں ہوتی ہیں، یہ سب بدمعاش ہوتی ہیں، ’’لیکن اندر ہی اندر میں شیخ جی کے تجربہ کا قائل تھا۔ عموما بڈھے لوگ لڑکیوں کو آزاد دیکھ کر اس قسم کے فتوے صادر کرتے ہیں۔ لیکن یہ بڈھا اس کے برعکس باتیں کر رہا تھا اور پھر اس نے اتنی قطعیت سے اعلان کیا۔ آخر جب دلاور نے مجبور کیا تو شیخ شروع ہوا۔ ’’دیکھو سردار ، جب ہم جوان ۔۔۔‘‘

    کائیں، کائیں، کائیں ۔۔۔ زمین کے آخری کووں نے شور مچا دیا اور گھر جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ سندر سنگھ ترکھان نے اوزار بوری میں ڈالے اور ہو ہو ہو کہتا رام آسرے پر گرپڑا۔ رام آسرے کی پچاس گز لمبی پگڑی کھل کر گلے میں جا پڑی۔ اس نے ترکھان کی پگڑی اچھال دی۔ سردار کا جونڈا کھل کر ہوا میں لہرانے لگا ۔۔۔ چلو گھر چلیں ۔ شیخ پھر سے جوان ہو ر ہا ہے۔۔۔ راستہ چھوڑ دو وگرنہ زخمی ہو جاؤ گے ۔۔۔ آلی ۔۔۔ آلی ۔۔۔ علی جو کی بے آواز ہنسی سے صرف فئی ۔۔۔ فئی کی آوازیں آئیں۔ اولے نہیں پڑیں گے شیخ جی۔ بناسک حجامت بنوالیں ۔۔۔ کوئی بولا اور سب اپنے اپنے چھانگے مانگے کو پدھارے۔

    اس وقت اندھیرا میدان اور لونک بوٹی پر رینگ رہا تھا۔ دور ایروڈرام میں ایک ہوائی جہاز اترتا ہوا دکھائی دیا۔ اس کی دم کا چمکتا ہوا نقطہ ٹوٹے ہوئے ستارے کی طرح تیزی سے زمین کی طرف آ رہا تھا۔ اس ٹوٹتے ہوئے ستارے کو دیکھ کر اندرونی ماڈل ٹاؤن سے رام دئی یا اس کی کوئی بہن بولی ۔۔۔ رام رام۔۔۔ رام رام ۔۔۔ میں سوچنے لگا۔ آج مجھے شب بھر نیند نہیں آئے گی۔۔۔ باتوں باتوں میں ان سالوں نے آج کیا پٹاخہ چھوڑ دیا۔ کیا کنسو کی شکل اس کی ہوائی بھابی کی شکل سے تو نہیں ملتی؟ اور میری رگوں میں خون کا دورہ تیز ہو گیا۔ میں نے کہا اب میں متواتر دودھ نہیں پیا کروں گا۔ اس سے میرے جسم میں بہت ہی جان آ جاتی ہے۔ پھر مجھے ہنسی آنے لگی۔ ہی ہی ہی ۔۔۔

    صبح اٹھ کر میں نے پاجامہ بدلا۔ بہت گندہ ہو چکا تھا پاجامہ، اور قمیص بھی میلی ہو رہی تھی۔ ابھی بمشکل دس ہی بجے ہوں گے کہ کنسو پھر گھومتی پھرتی آئی اور شیخ جی کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ اس نے اپنی پاکیزگی کی طرح سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے لیکن میں نے سوچا کہ ان کپڑوں کے اندر سفیدی کی بجائے سرخی ہے۔ گرم گرم لہو کی سرخی ۔ کنسو کے بالوں اور دوپٹے کی متوازی لکیریں اپنی چمکتی ہوئی سیاہیوں اور سفیدیوں کے ساتھ بے پروایانہ انداز سے پشت کی پگڈنڈیوں اور شاہراہوں پر رواں دواں تھیں۔

    شیخ جی نے پوچھا ۔’’جنڈیالے سے کب آئیں تھیں تم، بیٹی ؟‘‘

    ’’کل ہی تو آئی تھی بابا ۔۔۔ کنسو بولی ’’جنڈیالے میں میرا چچا مر گیا تھا بابا۔ بات سناؤں تمھیں اس چچا کی، بے چارہ اسٹیشن ماسٹر تھا۔‘‘

    شیخ جی نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔ ’’میرا داماد اسٹیشن ماسٹر ہے۔‘‘

    کنسو نے میری طرف دیکھا۔ شیخ جی کے خلاف میری اور کنسو کی سازش تھی۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ چونے کی کھڑی گاڑیاں ۔۔۔ بہتر روپے آٹھ آنے ۔۔۔

    ’’کنسو نے کہا۔ ’’میری بات تو سنو، بابا۔‘‘

    بابا سننے لگا ۔۔۔ ’’ساری عمر لاہور میں رہا بے چارہ ۔ وہیں کالجوں اسکولوں میں لڑکے پڑھتے تھے۔ دو برس ہوئے چچی مر گئیں۔ شیخانی کی طرح۔ لیکن وہ بچوں کے ساتھ دل بہلا لیتے تھے۔ اس کے بعد تبدیلی ہو گئی ۔ شورکوٹ روڈ، وہاں کوارٹر ملا تو اتنا بڑا کہ چار کنبے رہ جائیں۔ رات کو مکان بھائیں بھائیں کرتا۔ اس میں چاچا اکیلے ٹانگیں پسارے پڑے رہتے۔ لیکن وہ زندگی بھر اکیلے نہ رہے تھے۔ بڑے لڑکے کی شادی کے بعد بہو کو رونق کے لیے لے گئے۔ بھابی کو شورکوٹ والوں نے سر پر اٹھا لیا ۔۔۔ بڑے بابو کی بہو، بڑے بابو کی بہو ۔۔۔ بہو کو آئے مہینہ بھر نہ ہو پایا تھا کہ بیٹے صاحب آ دھمکے ۔۔۔ اب ان کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور پھر تم جانتے ہو، روٹی کی کتنی تکلیف ہو جاتی ہے۔ بہو بھی اتاولی سی تھی۔ ٹرنک وغیرہ اٹھوا چلی گئی۔ چچا بہت روئے، بہت روئے ۔۔۔ خط میں لکھتے ہیں بیٹے کو ۔۔۔ بہو کے آ جانے سے مجھے تمھاری ماں کے دن معلوم ہونے لگے تھے۔ وہی رونق، وہی ۔۔۔ لیکن، لیکن تمھارے ہاں تو کوئی بیٹا بھی نہیں ہے جس کی بہو تم لے آؤ۔۔۔ ‘‘

    شیخ جی بولے ۔’’بیٹا! ۔۔۔ میں بھی زندگی بھر اکیلا نہیں رہا۔ اب یہاں ٹھیکے پر ٹانگیں پسار کر سوتا ہوں تو ساری دنیا بھائیں بھائیں کرتی نظر آتی ہے۔ شیخانی کے دم سے بڑی رونق تھی۔ وہ یوں تو غریب تھی لیکن نیت کی بہت امیر تھی شیخانی۔۔۔ یہ کون ہے ۔۔۔ یہ داماد آ رہا ہے؟ یہ کون ہے، اس کے چچیرے بھائی کی بی بی ہے، یہ کون ہے رجالی کی بیوہ ہے ۔۔۔ ابھی چائے بن رہی ہے، ابھی اخروٹ منگوائے جا رہے ہیں۔ ابھی دھنیے نے چار لحاف تیار کر دیے ہیں اور میں کماتا اور کھپتا مر جاتا۔ اب میں کس کے لیے کماتا ہوں۔ کس کے لیے کھپتا ہوں۔ اب میرا کون ہے۔۔۔؟

    اور شیخ جی کا گلا رندھ گیا۔ میں نے آج تک کسی کو نہیں دیکھا جو دکھ بھرے دل سے یہ کہے کہ اس سنسار میں میرا کون ہے؟ اور پھر اس سے آگے کچھ کہہ پائے۔ اتنا بدنصیب کم ہی ہوتا ہے کوئی۔ اگر شور کوٹ میں اس کا کوئی نہ ہو، تو لاہور میں ہوتا ہے۔ لاہور میں نہ ہو، تو ماڈل ٹاؤن میں۔۔۔ لیکن شیخ جی کا تو چھانگے مانگے میں بھی کوئی نہ تھا۔

    کنسو شیخ جی کو رلا کر ٹل گئی اور میرے قریب آ کر بولی ۔ ’’دراصل بات یہ ہے، میرا کوئی چچا وچا نہیں ہے۔‘‘

    اور اڈے کے پاس ابھی تک شیخ اپنی پگڑی کے شملے سے آنکھیں پونچھ رہا تھا۔ میں نے اپنے قہقہے کا گلا گھونٹ دیا۔ اس کے بعد کنسو بولی۔ میں نے جنڈیالے میں بھابی پسند کر لی ہے۔ میں نے کنسو کے تل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ہاں! اس کے بائیں گال پر تل ہے۔ وہ رات کو خواب میں میرا سب مال و متاع لوٹ کر لے گئی۔ کنسو نے مجھ پر برادہ اچھال دیا۔ کوٹھی سے آواز آئی۔ کنسو ! کنسو کی نانی کی آواز تھی جو ہمیشہ کنسو سے بے سود التجا کیا کرتی کہ کنسو اپنے دوپٹے سے سر ڈھانپ لے۔

    اس کے بعد کنسو علی جو کی طرف مخاطب ہوئی۔ علی جو اس وقت نل کے رسہ کو چھوڑا چاہتا تھا۔ ’’ہو سردار‘‘ اس نے منشی جی کو بلاتے ہوئے شکستہ پنجابی میں کہا۔ ’’اب کتنا چلا گیا اندر؟‘‘

    نل پندرہ فٹ کے قریب زمین میں جاچکا تھا۔ دلاور بولا ’’ابھی تو کچھ بھی نہیں ہوا۔۔۔ زمین کچھ پتھریلی ہے۔ کڑ بہت محنت سے ٹوٹے گا۔‘‘

    زمین کے اندر سے بہت سے چھوٹے چھوٹے سفید پتھر باہر آ رہے تھے۔ علی جو رسے کو کھینچتا تو اس کے پٹھے تن جاتے تھے۔ کنسو بہت دلچسپی سے ان کی باتیں سنتی رہی اور علی جو کے تنومند جسم کو دیکھتی رہی۔ علی جو اس وقت سورج کی پہلی کرنوں میں تمتما رہا تھا۔ نوزائیدہ بچے کی طرح وہ سر سے پانوں تک خون کا ایک بڑا سا قطرہ دکھائی دیتا تھا۔ ٹوپی کے باہر اس کے بالوں کی سرخ، گھنگھریالی اون کے کنارے سنہری ہو رہے تھے۔ چھاتی پر اڑے ہوئے چیتھڑوں میں سے اس کا نصف، تنا ہوا سینہ دعوت نظارہ دے رہا تھا۔ کنسو نے بغلوں میں ہاتھ دے لیے اور دیکھتی رہی۔ دیکھتی رہی۔ پھر علی جو سے بولی۔

    ’’ارے ہاتو! بارہ مولے کب جا رہے ہو؟‘‘

    ’’جد پیسئے ہو جاندیس (جب بیسے ہو جائیں گے)‘‘

    ’’جو پیسے میں دے دیندیس (اور جو پیسے میں دے دوں تو؟)‘‘

    ’’آبھی ، ہونے جاندیس(ابھی اسی وقت چلا جاؤں گا)‘‘

    علی جو نے ہاتو کے لفظ کا برا نہیں منایا۔ کنسو چلی گئی۔ اس کے بعد وہ ہمیشہ کی طرح آتی اور ہر ایک سے چھیڑ چھاڑ کیا کرتی۔۔۔ ٹھیکہ بٹتا رہا۔ ہم بھی شیخ جی کے نقطہ نگاہ کے قائل ہو گئے اور کہنے لگے۔ کنسو، بہت آزاد لڑکی ہے وہ یونہی ہر ایک سے ہنس کھیل لیتی ہے۔

    اس وقت عمارت کھڑکیوں کی کارنس تک پہنچ چکی تھی۔ ہمارا عملہ بھی بڑھتا جاتا تھا۔ کارنسوں سے دو ردے اوپر اٹھنے پر ایک خوش پوش نوجوان کسی الیکٹریشن کا بورڈ لے آیا اور اسے بلاک کے ساتھ والی سڑک کے کنارے شیشم کی چھاؤں اور ارنڈوں کے سامنے گاڑ دیا۔ اس پر لکھا تھا ۔ ’’الکٹرک انسٹالیشن بائی راج اینڈ کمپنی‘‘ اس کے بعد تاروں کے گورکھ دھندے، گٹیاں اور سفید سفید کٹ آوٹ آنے لگے۔

    ایک دن پھر شیخ جی میرے پاس آئے۔ آج پھر انھوں نے بھینس کی جھول لپیٹ رکھی تھی۔ جب وہ کبھی بہت رازدارانہ لہجے میں بات کرنا چاہتے تھے تو وہ بھینس کی جھول لپیٹ لیتے تھے۔ میرے پاس آتے ہی بولے۔

    ’’اب کنسو بھاگ جائے گی۔‘‘

    میں نے کہا ’’ہیں؟‘‘

    ’’تم نے کچھ تبدیلی دیکھی ہے؟‘‘

    میں سوچنے لگا۔ میں نے کیا تبدیلی دیکھی ہے ۔۔۔ کیا تبدیلی؟

    ’’کیا تبدیلی؟‘‘ میں نے شیخ سے پوچھا۔

    ’’بس اب دیکھنا۔‘‘

    ’’بتاؤ تو۔‘‘

    ’’بس کہہ جو دیا دیکھنا۔‘‘

    ’’پھر بھی۔‘‘

    ’’بس کہہ جو دیا میں نے۔‘‘

    میں نے سپٹا کر زیادہ کرید نہ کی۔ دوپہر کو جب کنسو باہر نکلی تو وہ قدرے سہمی، شرمائی ہوئی تھی۔ یوں تو اس نے ہر ایک کے ساتھ باتیں کیں، لیکن آج ان میں کچھ اکھڑا پن سا تھا۔ دلاورسنگھ ، شیخ جی ، سندر سنگھ، علیا، گنی، بجلی کے مستری سبھی کے ساتھ وہ بولی۔ لیکن علی جو کے پاس سے گزر گئی۔

    شیخ نے کہا۔ ’’تم نے دیکھا ؟‘‘

    میں نے کہا۔’’ہاں شیخ ، میں نے دیکھا۔‘‘

    اس کے بعد ہم شام تک گھبرائے ہوئے ادھر ادھر پھرتے رہے۔ شیخ جی اور میں۔ آج کا دن مبارک تھا۔ آج علی جو نے زمین کا پتھریلا کڑ توڑ ڈالا تھا اور نل، زمین میں پانی تک چلا گیا تھا۔ نلکے کے مستری نے کڑ ٹوٹنے کی خوشی میں بتاشے تقسیم کروائے ۔۔۔ علی جو فارغ ہو چکا تھا اور آج رات وہ چلا جانا چاہتا تھا۔

    شام کے قریب جب زمین کے کوے گھر جانے لگے، تو ہمیں رائے صاحب کی تلاش ہوئی۔ اس وقت اڈوں کی آڑ میں سے شیخ جی نے مجھ کچھ دکھلایا ۔۔۔ وہ دیکھو ۔۔۔ سامنے علی جو کھڑا تھا۔ کوٹھی کا ایک دروازہ بالکل معمولی طور پر کھلا ہوا تھا اور کنسو علی جو کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی!

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites