اکیلا چٹان
”سلامتی کا انتظار تھا۔ پر کچھ فائدہ نہ ہوا۔ اور شفا کے وقت کا پر دیکھو، دہشت اس کے گھوڑوں کے فرّانے کی آواز دان سے سنائی دیتی ہے۔ اس کے جنگی گھوڑوں کے ہنہنانے کی آواز سے تمام زمین کانپ گئی۔ کیوں کہ وہ آ پہنچے ہیں۔ اور زمین کو اورسب کچھ جو اس میں ہے اور اس شہر کو بھی اس کے باشندوں سمیت کھا جائیں گے کیوں کہ خدا وند فرماتا ہ،ے دیکھو میں تمہارے درمیان سانپ اور افعی بھیجوں گا جن پر منتر کارگر نہ ہو گا اوروہ تم کو کاٹیں گے۔“
(یرمیاہ 8/17-15)
میرے ذہین میں آوازیں اُتر رہی تھیں۔ یہ سب کچھ میرے بس سے باہر تھا۔ سمے کے طوفان مجھے صدیوں کے عمل میں دوڑائے جا رہے تھے جیسے کردگاپ میں اڑتے خس و خاشاک۔ جیسے ناگ کے سنساتے جور۔
”کیا جلعاد میں روغن بلسان نہیں ہے؟ کیا وہاں کوئی طبیب نہیں ہے؟ میری بنت ِقوم کیوں شفا نہیں پاتی؟“
( یرمیاہ 8-22)
زبیر بلوچ اس دنیا سے منہ موڑ گیا تھا۔ بہت دیر تو میں یقین اور بے یقینی کے عالم میں رہا۔ سورج تیزی سے سمندروں میں ڈوبنے جا رہا تھا۔ میں نے عالم جنون میں گاڑی اسٹارٹ کی، ڈرائیور بھی چھلانگ لگاکر پچھلی سیٹ پر جا بیٹھا۔ دنیا بہت ہی تیزی سے بدلی جا رہی تھی۔ ہر طرف یم دیوتا کے نوکیلے پروں کی جنبش سے فضائیں ساکت اور بوجھل تھیں۔
مستونگ کی زمین قربانیوں کی سرزمین ہے۔مستونگ بلوچستان کا دل ہے، گود میں Hungarian کلاشنکوف رکھے، میں بھی سنگ ریزوں پہ بیٹھا میں منتظر تھاجو ان رہ نما چیئرمین زبیر بلوچ کا۔ جسے دالبندین سے لا رہے تھے۔ اڑتی بالو۔ دھوپ کی تمازت۔ آماچ اپنے میں کھول رہاتھا۔ من ہی من میں بس گھول رہا تھا۔ عالم مایوسی میں میرا ذہن اِدھر اُدھر بھٹک رہا تھا۔ صدیوں شیو بھگوان کا مندر مستونگ کو فوقیت دیتا رہا۔ سولا کا مقدس درخت! ”مستنگ شہار اے دیوا ناں“ (مستونگ شیو بھگوان کا پوترشہر ہے) اساطیری حوالے دماغ میں دوڑے جا رہے تھے۔ وقت رک سا گیا تھا۔ آماچ کی بھی سانسیں رکی رہی تھیں۔ پہاڑوں بھی غم کرتے ہیں۔ انسان صرف آنسو بہانے کو ہی غم سمجھتا ہے۔ شمعون بر یوناہ کو یسوع مسیح نے کفرنحوم سےساتھ چلنے کا اعزاز بخشا۔ شمعون اپنے والدبر یونا ہ کو بیتِ صیدا میں چھوڑ کر زبدی کےبیٹوں یعقوب اور یوحنا کے ساتھ کاروباری شراکت داری کے لیے بیت صیدا (ماہی گیری کا گھر) چلا آیا تھا۔ مادری زبان تو آرامی تھی مگر یونانی بھی بولتا تھا۔ میں نے چشمِ تصور سے دیکھا، یسوع مسیح نے فرمایا، ”اور میں بھی تجھ سے کہتا ہوں کہ تو پطرس (اکیلی چٹان) ہے اور میں اس پتھر پر کلیسا بناؤں گا۔“
میں نے ابتدائی تعارف کے دنوں میں ہی زبیر سے دریافت کیا تھا۔ ”تمہارے نام زبیر کا عربی میں کیا مطلب ہے، جانتے ہو؟“
وہ مسکرایا۔ مسکراہٹ اس کی شخصیت کا حصّہ تھی۔ہر ایک سے دوستانہ انداز میں ملتا۔
”جی ہاں! طاقت ور، مضبوط، عقل مند۔“
میں نے ذرا سا اختلاف کیا۔
”الزبر پتھر کے بڑے اور اکیلے چٹان کو بھی کہتے ہیں۔ تمھیں پتھر کا چٹان بنا یاجائے گا۔ جس پر حقوق و جمہوریت کی اسمبلی قائم ہوگئی۔ مجھے تمہاری شخصیت میں کیفا (Cephas) کی جھلک ملتی ہے۔ آرامی زبان میں چٹان کو کیفا کہتے ہیں۔ یسوع مسیح نے شمعون بریوناہ کو کیفا کا خطاب دیا تھا۔ جو یونانی سے Petros بنا اور انگریزی میں Peter کہلایا۔ جسے ہم پطرس کہتے ہیں۔“
اس نے خوش دلی سے اقرار کیا۔ ”میں یہ باتیں نہیں جانتا۔میرا مطالعہ اتنا وسیع نہیں۔ یونی ورسٹی کی تعلیم، لا کی تعلیم اور پھر چیئرمین بی ایس او پجار کے طور پر ذمہ داریاں۔۔۔“
میں جانتا تھا کہ بی ایس او مختلف نظریاتی دھڑوں میں تقسیم ہوتی چلی گئی تھی۔ جب 1966ء میں فرسٹ ائیر میں آیا تو میرے کلاسی خیرجان بلوچ، چیئرمین بی ایس او نے مجھے بھی ممبر شپ آفر کی۔ میں دو روپے ادا کرتے ہوئے فارم بھر کر بی ایس او کا ممبر بن گیا۔ اُن دنوں لازمی نہیں تھا کہ ممبر بلوچ ہی ہو۔ کوئی بھی زبان بولنے والا جو ہم خیال نظریاتی ساتھی ہو، بی ایس او کا ممبر بن سکتا تھا۔خیر جان کا تعلق ہزار گنجی نال سے تھا۔ میر ا پکا دوست اور کلاس فیلو تھا۔ میں نے اس کے مقابلے میں اسٹوڈنٹ یونین جرنل سیکرٹری کے لیے الیکشن بھی لڑا مگر عبرت ناک شکست کھائی۔ اس کے باوجود ہماری دوستی میں کوئی فرق نہیں آیا ہم اسے جیت کی مبارک باد بھی دینے گئے۔ بلوچستان یونی ورسٹی سے میں نے تو بیوروکریسی کی راہ لی، خیر جان اپنے نظریات کے ساتھ پہاڑوں پر چلا گیا۔ سلام دعا،رابطے رہے۔ مگر جب وہ واپس آیا تو اس کے بال سفید ہو چکے تھے۔ وہ زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گیا تھا۔ بے اختیار، روپے سے خالی مگرخوابوں سے بھری ہوئی جیب۔ ٹھونس ٹھونس کر خواب ا س کی جیب میں بھرے گئے تھے۔ سرداروں نوابوں نے انھیں جنگ کی آگ میں جھونکے رکھا۔ الیکشن میں بھی میر حاصل بزنجو کو ٹکٹ دیا گیا۔ جو جدوجہد کے دنوں میں تعلیم میں مشغول تھا۔ جب”تئی جان مئی جان“والا خیر جان ہتھیلی پہ جان لیے ساروان کے پہاڑوں میں نبرد آزما تھا۔ یوں ہی Blind کیسے جا رہا تھا۔ پتے اٹھائے بغیر ہی کھیلے جا رہا تھا۔ لنگ ولاش پہاڑوں سے اتر آیا۔ بال سفید کیے۔
سیر ینا ہوٹل کی تقریب میں چیئرمین ادبیات فخرزمان کے ساتھ صدارتی کرسی پر براجمان تھا۔ میں نے فخر زماں سے حال احوال کے بعد خیر جان سے پوچھا، ”کیا حال ہے انکل؟“
ایک منٹ توقف کیے بغیر ہی خیر جان شفقت سے بولا، ”کیا حال ہے منّے؟ کیسے ہو؟“
خیر جان کے بال سفید ہو چکے تھے۔ فخر زمان کو اندازہ نہ ہو ا کہ دو ہم جماعت ہم عمر باہم ٹول ٹکار کر رہے ہیں۔
بی ایس او پجار، نیشنل پارٹی کا فکری و اساسی ساتھی ہے۔ اس کا بنیادی نظریہ پارلیمانی سیاست، جمہوری جدوجہد اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے بلوچ قوم کے مسائل حل پہ مرکوز ہے۔ زبیر ان دنوں بی ایس او پجار کا چیئرمین تھا۔ یہ بڑا ہی پُر آشوب دور تھا۔ دنگے، فساد، ہنگامے۔ میں نیشنل پارٹی کا ممبر سینٹر ل کمیٹی اور سیکرٹری ریسرچ اینڈ ایڈوکیسی تھا۔ مجھ سےقبل واجہ کہور خان اس عہدے پر تھے لیکن میری نان لوکلی میر ے گلے پڑ گئی۔ مجھے پارٹی میں بھی out caste اور دَلت سمجھا جاتا۔ نوجوان مجھے مشکوک سمجھتے۔
زبیر کی زندگی میں سکون کا وقت تو شایدہی آیا ہو۔ ہمیشہ طلبا کے مسائل حل کرتا۔ بھاگ دوڑ میں منہمک دکھائی دیتا۔ نیشنل پارٹی میں میری حالت ابوالکلام آزاد سے مختلف نہ تھی۔ India Wins Freedom میں وہ لکھتے ہیں کہ مسلمان مجھے کانگریس کا نظریاتی ساتھی سمجھ کر برا بھلا کہتے، جب کانگریس میں آتا تو وہ مجھے مسلمانوں کا جاسوس قرار دیتے۔ چوں کہ میں نان لوکل ہوں،لیڈروں کے حلق سے نہ اترتا۔ وفا اور زبان کے باہم جوڑنے کا چلن تھا۔ حالاں کہ جس نے میر محراب خان کے کمانڈ آفس کا خفیہ راستہ انگریز کو بتایا، وہ براہوی بولتا تھا۔ جس نے غازی نورا مینگل کو باہوٹ بنا کر انگریز کے ہاتھ فروخت کیا،وہ بلوچی بولتا تھا۔ ڈاکٹر عافیہ کو بیچنے والا جرنل مشرف بھی اردو ہی تھا۔ اور جب نان لوکلوں کے پاس جاتا تو وہ آنکھیں دکھاتے کہ تمھیں ہمارا ساتھ دینا چاہیے۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم والی کیفیت تھی۔ سمجھ نہ پاتا کہ میں منجی کتھے ڈھانواں۔
میں نے بیورکریٹ کے طور پر زندگی گزاری تھی۔ملاقاتی پرچی بھجواتا، پی اے نمبر ملاتا، منع کرو تو ٹال دیتا۔ ”ساب ہیں تو دفتر میں، مگر میٹنگ چل رہی ہے۔“
جب کہ زبیر ایک سیاسی لیڈر تھا۔ اس کی ذمہ داریاں بے تحاشا تھیں۔ جنھیں وہ مردانہ وار نبھائے جاتا۔ قدم قدم پہ مسائل جال پھیلائے بیٹھے تھے۔ لاشیں اٹھاتے جنازوں کو کندھا دیتے ہم وکٹرہیو گو کے ناول Hunback of Notre Dame والے ہیرو Quasimodo کی طرح کبڑے ہوئے جاتے تھے۔ وہ بھی کسی Esmeralda کی جان لیوا اداؤں کے بغیر ہی مجروح سلطان پوری کے گیت ”غم دیے مستقل،کتنا نازک ہے دل یہ نہ جانا“ کی زندہ تفسیربن چکے تھے۔ ”میری قسمت میں غم گر اتنے تھے، دل بھی یا رب کئی دیے ہوتے۔“ والی کیفیت تھی۔ جیسے ایک ویران ستارے پر شہاب ثاقب کی بارش ہو رہی ہو۔ ایک دل اور اتنے تیر؟ تیرپہ تیر!
ماحول اشک بار تھا۔ میں دوبارہ سنگ ریزوں پہ آگیا۔ آس پاس اداس سوگوار لوگوں کا ہجوم تھا۔ لک پاس کا گلا رندھ گیا تھا۔ آماچ سسکیاں لینے لگا تھا۔ طیری،کردگاپ سے نوحے ابھر رہے تھے۔ کھڈچہ کوچہ سینہ کوبی کر رہاتھا۔ اشکنہ کی آنکھ بھر آئی تھی۔ سبھی حسرت و یاس سے کلی شیخان کو دیکھے جا رہے تھے۔ اتنے میں بی ایسں او کے کسی نوجوان نے آگ اُگلتی زمین پہ بیٹھے دیکھ کر مجھے پانی کی بوتل تھما دی۔ جیسے موبی کی آبِ جو ہاتھوں میں چلی آئی ہو۔ آنسو پیتے پیتے میرا گلا نمکین ہو کر رندھ گیا تھا۔ کیسے کیسے سماجی اصول ہیں کہ مرد رو نہیں سکتا۔ دھڑ سے بزدلی کا لیبل چسپاں کر دیتے ہیں۔ حالاں کہ آنسومقدس ہو کرLacrima بن جاتے ہیں۔ میں نے پانی کے گھونٹ حلق سےاتارے۔ مجھے روتا دیکھ کر تو نوجوان دل ہار جاتے۔ میں تو ان کا کماش تھا۔ ایک مضبوط جذباتی سہارا۔ جو خودمن ہی من میں کانپے جاتا تھا۔ بادِسموم، لُو کے تھپیڑوں میں جیسے کاشم۔ تپتی ہوئی ہوائیں ہاتھوں میں ریت لیے غلام پڑنیز، کاریز نوت۔ سورگز کے جنگل سے نکل رہی تھی۔ ہر طرف ایک بھونچال تھا۔نیچر بھی ہمارے ساتھ ہی آ کھڑی ہوئی تھی۔ جیسے ٹوٹ پڑنے کے لیے شیو بھگوان کے کائناتی رقص ”ٹانڈو“ کا اشارہ چاہتی ہو۔ تباہی، پھر بقا، پھر نئی تخلیق۔ جیسے نئی عمارت بنانے کے لیے پرانی کو جڑوں سے اکھڑ پھینکنا ہوتا ہے۔ Flow of Consciousness کے تھپیڑے جاری تھے۔ جن میں ڈوبتے ابھرتے انسان کی طرح ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔
”زبیر تم جانتے ہو کہ نام کے بھی اثرات شخصیت پر آتے ہیں!“
زبیر مجھے استاد کا درجہ دیتا۔ ”جی ہاں! سننے میں تو ایسے ہی آیا ہے کہ چالیس فی صد تو نام کا اثر ہوتا ہے۔“
اس کے مثبت جواب سے بات آگے چل نکلی۔ ”حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ عشرہ مشبرہ میں تھے۔ تلوار کے دھنّی، مردِ میدان تھے۔ غزوات میں شجاعت دکھائی۔ جنگِ بدر میں تو شجاعت کے جوہر کھلے۔ جنگِ فسطاط میں فتح پائی۔ جنگِ جُمل میں شرکت کے لیے تو آئے تھے مگر رسولِ خدا کی ایک پیش گوئی جب یاد دلائی گئی تو آپ واپس ہو لیے۔“
زبیر بہت خوش ہوا۔ نوجوان تھا۔ اب تک اسے فرصت کے لمحے نہ ملے تھے کہ بیٹھ کر مطالعہ کرے۔ دو گھڑی اپنے نام کے مطلب پڑھے۔ زبیر بن عوام عوامرضی اللہ عنہ کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ سوال بھی کیے۔ اتنے میں ڈاکٹر مالک بلوچ کے آنے سے تقریب شروع ہوگئی۔ ہماری گفت گو، اس کے سوال،التوا میں ہی رہے۔ زبیر ایک بڑے لیڈر کی طرح ابھر رہا تھا۔ مقبولیت کا گراف بڑھ رہا تھا۔ اس کے ایک اشارے پر نوجوان مجتمع ہو جاتے۔
ایک فاصلے پر گاڑیاں روک کر زبیر کے عزیز و اقارب، دوست،سنگت، بی ایس او کے باحوصلہ ورکرز پیدل چلے آرہے تھے۔ ان کے چہرے غیض و غضب سے دمک رہے تھے۔ ان کے چلنے میں ایک تمکنت تھی۔حالات کےپیش نظر اشارے سے علیک سلیک ہوئی۔ وقت جیسے رک سا گیا تھا۔ گھڑی میں وقت دیکھنا بدتمیزی کے زمرے میں آتا۔ مگر یوں لگتا جیسے ایک گھنٹہ بیت چکا ہو۔ ڈھاڈر اور لنڈی کا سورج جیسے کلی شیخان پہ انگارے برسانے چلا آیا تھا۔ انتقام کی آگ میں جلتا سورج۔ جو کبھی سوا نیزے پہ اتر آیا کرتا تھا۔ جلتا بلتا، دہکتا سو ریا۔
طلبا سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ کو یونی ورسٹی سے جبری لاپتہ کیا تو اگلی صبح ہلچل مچ گئی۔ بی ایس او پجار نے بلوچستان یونی ورسٹی گیٹ کے اندر دھرنا دیا۔ آنے جانے کا راستہ بھی بند کر دیا۔ مجھے اطلاع ملی تو میں نے نیشنل پارٹی کا کیپ سر پہ رکھا اور گلے میں Lapel Card ڈال کر یونی ورسٹی جا پہنچا۔ نیشنل پارٹی میں شمولیت کے بعد جب پہلی بار سڑک پر دھرنا دیا۔شہرکی میلی کچیلی سڑک پر سفید لباس میں بیٹھا تو کچھ عجیب سا لگا۔ پھر تو عادت سی ہوگئی۔ دھرنے میں صرف نوجوان تھے۔کوئی سنجیدہ مشر، کماش ان کے ساتھ نہیں تھا۔ اتنے بڑے سانحہ کے باوجود نوکری باز پروفیسروں کی برکت سے یونی ورسٹی معمول کے مطابق چل رہی تھی۔ کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ گھنٹہ بھر ان کے ساتھ رہا۔ یہ سلسلہ چند روز جاری رہا۔ پھر مجھے زبیر نے بتایا کہ تڑیاں دی جا رہی ہیں کہ دھرنا اٹھاؤ ورنہ گرفتار کر لیں گے۔ بات چیت کے لیے بھی کوئی نہ آیا۔ absolute Power tends to Corrupt absolutely۔ زبیر بھلا گرفتاریوں سے کیا ڈرتا، اس نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ میں نے ساتھ نبھانے کا ارادہ کر رکھا تھا۔ میں نے کہا کہ پکڑنے آئیں، میں نہ ہوا تو مجھے موبائل پر اطلاع دیں۔ میں بھی گرفتاری دوں گا۔ کیوں کہ میں اس یونی ورسٹی کے اولین پوسٹ گریجوایٹ Batch سے ہوں اور شعبۂ اردو بھی خالق بلوچ، فاروق احمد، فردوس انور قاضی کے ہم راہ ہم سبھی نے بنایا تھا۔ صدر شعبۂ مجتبیٰ حسین کی زیر نگرانی اردو ادب کا سلیبس بھی ہماری ہی ٹیم نے بنایا تھا۔ ہمارا تو زیادہ حق بنتا ہے کہ ہم طلبا کا بھر پور ساتھ دیتے ہوئے جبری گم شدگی پر احتجاج کریں۔ وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کے والد میر غلام قادر بگٹی شعبہ اردو میں میرے اسٹوڈنٹ بھی تھے، دوست بھی۔
شعبہ ہسٹری کے ڈاکٹر فاروق جن کا تعلق کلی شیخان سے تھا،وہ مجھے دیکھ کر آگے بڑھے۔ ان کے احترام میں اٹھ کر مصافحہ کیا۔ مگر اس کے بعد میرے پاس الفاظ نہ بچے تھے۔ زبیر کے والد اور سسر سے بھی ملاقات ہوئی۔ایک ایسے ماحول میں کہ ہر طرف خاموشی تھی۔پانی کی بوتل کب کی ختم ہو چکی تھی۔ کسی نے مجھے نئی بوتل تھما دی۔
نیشنل پارٹی کے دفتر میں تقریب کا آغاز ہونے کو تھا۔ نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر مالک بلوچ، میر کبیر محمد شہی، ڈاکٹر اسحاق اور ہمارے صوبائی صدر، مستونگ کے اسلم بلوچ بھی موجود تھے۔ ایک جانب عطا محمد بنگلزئی اپنے گروپ کے ساتھ بیٹھے تھے۔ چوں کہ فنکشن میرا تھا، میں بے تابی سے زبیر کی راہ دیکھ رہا تھا۔ ابر ار برکت بھی نہیں پہنچا تھا۔ اچانک میرے منشی سیموئیل نے اشارہ کیا۔ وہ تھا تو پاسٹر مگر کسی آزاد گروپ سے تھا۔ اس کا فائدہ مجھے یہ رہتا کہ طویل سفر میں وہ بائبل پر گفتگو کیا کرتا۔ پکا پکا مسیحی تھا۔ سیموئیل کے اشارے کا مطلب تھا کہ زبیر آ چکا ہے اور کچن میں بیٹھا ہے۔ میں گھبرا کر لپکا تو دیکھا کہ بھوکا پیاسا زبیر خشک بسکٹ جلدی جلدی حلق سے اتارنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھوک کا مارا ابرار برکت بھی تھا۔ وہ صبح سے بھوکے تھے۔ کھانا کھانے کا وقت نہ ملا تھا، تقریر کرنے سے قبل کچھ کھانا چاہتے تھے۔ اتنی عجلت میں چائے ممکن نہ تھی۔ سیموئیل نے پانی کے گلاس پیش کیے کہ خشک بسکٹ ذرا نم دار تو ہوں۔ بھوکے پیاسے بھی مسکرا رہے تھے۔ مورال ہائی تھا۔
ہم نے اکیلے چٹان کو زمین کے سپرد کر دیا۔ مجھے ساغؔر کا گیت یاد آیا۔ مر کے بھی جاگتے ہی رہتے ہیں جانباز سنو! زبیر تاریخ میں امر ہو گیا۔ کیفا ( اکیلی چٹان) کو بادشاہ نیرو کے حکم سے ویٹکن کی پہاڑی میں شہید کیا گیا تھا۔ زبیر کو دالبندین میں۔ بادشاہ حق سچ سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ ہیرو دیس انتپاس نے اپنی سال گرہ کے دن بھرے دربار میں سلومی کا Striptease دیکھا تو ترنگ میں آ کر شاہانہ فرمان دیا،”مانگ کیا مانگتی ہے؟“
سلومی نے انعام میں John the Baptist کا سر مانگا۔ ادھر کیا دیر تھی۔ جرنیل کرنیل دربار میں حاضر تھے۔ تھال میں سر لے آئے اور سلومی کو پیش کیا۔ بادشاہ اور ان کی سلومیاں vaticides کی مرتکب ہوتی ہیں۔ مگر سچ زندہ رہتا ہے۔ مجھے لگا زبیر زندہ ہے، بادشاہ اور سلومیاں مردہ ہیں۔ میں نے اپنا چٹان کل شیخان کے سنگ ریزوں کے حوالے کر دیا۔ خواجہ ابراہیم یکپاسی کی قلم رو میں۔
میں چپکے سے کھسک جانا چاہتا تھا۔ مباداکہ زبیر کا پانچ سالہ بیٹا مصطفیٰ مجھے دیکھ کر پکارتا ہوا نکلے اور میرے ہاتھ پکڑکر کہے، ”پیرہ جان، نہ کنا باوہ اے، انتئے بچف تھ ویس“
میں کانپ کانپ اٹھا۔ چراغ بجھ چکا تھا۔ ساتھ نہ دینے والے اندھیرے میں نکل سکتے تھے۔
”کاش کہ میرا سر پانی ہوتا اور میری آنکھیں آنسووں کا چشمہ، تاکہ میں اپنی بنتِ قوم کے مقتولوں پر شب و روز ماتم کرتا۔“
(یرمیاہ۔ 1/9)
حاشیہ
(A Reportage in Stream of Consciousness/ Miltonic Style) ٭
چٹان: ہم مذکر لکھتے ہیں جیسے دہلی میں سانس مذکر ہے، لکھنو میں مؤنث
پیرہ جان: تم میرے کیسے بزرگ ہو کہ میرے باپ کو بچا بھی نہ پائے۔
کلاسی: کلاس فیلو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.