بے چہرہ
دوپہر تک سڑک کا تارکول نرم پڑ چکا تھا۔ شیشے کے اُس طرف پہاڑ پہلے نیلے تھے، پھر خاکستری ہوئے اور کچھ فاصلے کے بعد دھوپ میں یوں بے رنگ ہونے لگے جیسے رنگ بھی کوئی آسائش ہو جسے یہاں تک لانے کا خرچ کسی محکمے نے منظور نہ کیا ہو۔
صبح سے تین بستیاں گزر چکی تھیں۔ سیاہ بیگ اب ہلکا تھا۔ کاپیاں کم ہوگئی تھیں، پنسلیں تقریباً ختم، بخار کی گولیاں چند۔ سینیٹری پیڈ کے دو پیکٹ، پانی کی آدھی بوتل، ایک نوٹ بک اور چپلوں کا ایک جوڑا باقی تھا جو صبح ایک بچے کے پاؤں سے بڑا نکلا تھا۔
’’یہاں روکیں۔‘‘
ٹین کی چھت والی دکان کے سامنے گاڑی رکی۔ بوڑھا دکاندار ہاتھ کے پنکھے سے مکھیاں ہٹا رہا تھا۔ سڑک کے دوسری طرف ایلومینیم کے برتن کے پاس ایک بچی کھڑی تھی۔
اس نے بچی سے پہلے اس کے پاؤں دیکھے۔
گرد میں اٹے ہوئے چھوٹے ننگے پاؤں، جن کے نیچے زمین اتنی گرم تھی کہ شاید آدمی کو اس پر پاؤں رکھنے کے لیے غریب پیدا ہونا پڑتا تھا۔
گاڑی رکتے ہی بچی نے دودھ کے برتن کا ڈھکن اٹھا دیا۔
’’کتنے کا؟‘‘ ڈرائیور نے پوچھا۔
اس نے قیمت بتائی۔
وہ گاڑی سے اتری۔ ’’جوتے کہاں ہیں؟‘‘
بچی نے اپنے پاؤں دیکھے۔
’’گھر۔‘‘
’’پہنتی کیوں نہیں؟‘‘
’’نہیں ہیں۔‘‘
سیاہ بیگ کھولا۔ چپل نکالی۔ بچی نے دایاں پاؤں بائیں چپل میں ڈال لیا۔ وہ اس کے سامنے بیٹھ گئی، چپلیں بدلیں، پٹی کے نیچے مڑی انگلی سیدھی کی۔ سائز کچھ بڑا تھا۔ بچی نے ایک قدم رکھا، پھر دوسرا۔
پھٹ۔
پھٹ۔
وہ ہنس پڑی۔
اچانک جھک کر اس کے چہرے کو دیکھنے کی کوشش کی۔ دھوپ اور گرد سے بچنے کے لیے چادر ناک تک کھنچی ہوئی تھی۔
’’آپ خدا ہیں؟‘‘
اس کا ہاتھ ابھی بچی کے ٹخنے پر تھا۔
’’نہیں۔‘‘
بچی ذرا بھی مایوس نہ ہوئی۔ شاید اس کے پاس دوسرا امکان موجود تھا۔
’’پھر اللہ کی دوست ہوں گی۔ میں نے کل کہا تھا میرے پاؤں جلتے ہیں، مجھے جوتے دے دو۔‘‘
دکان سے کسی نے دودھ مانگا۔
بچی اسی لمحے خدا، اس کی دوست اور اپنی دعا تینوں کو چھوڑ کر برتن کی طرف دوڑ گئی۔
پھٹ۔ پھٹ۔ پھٹ۔
گاڑی چلی تو اس نے اے سی بند کروا دیا۔
ڈرائیور نے آئینے میں دیکھا۔ ’’گرمی بہت ہے۔‘‘
’’رہنے دیں۔‘‘
پسینہ گردن کے پیچھے جمع ہونے لگا۔ وہ شیشے سے باہر دیکھتی رہی۔ چند منٹ پہلے ایک جوڑا چپل دے کر اسے اپنے بارے میں اچھا محسوس ہوا تھا، اور اب یہی احساس ناقابلِ برداشت تھا۔ شاید خیرات کی سب سے مخفی قیمت یہی تھی کہ دینے والے کو چند لمحوں کے لیے اپنے اچھا ہونے کا ثبوت مل جاتا ہے۔
مگر بچی کے پاؤں واقعی جل رہے تھے۔
یہ حقیقت اس کے تمام تجزیوں سے چھوٹی بھی تھی اور بڑی بھی۔
گھر کے صحن میں شام کو پانی چھڑکا گیا تھا۔ گیلی مٹی کی بو دیواروں کے درمیان ٹھہری ہوئی تھی۔ ماں نے دروازہ کھولا، پہلے اسے، پھر بیگ کو دیکھا۔
’’کچھ کھایا؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
جھوٹ معمولی تھا۔ گھر میں بعض جھوٹ اتنی کثرت سے بولے جاتے ہیں کہ ان کی اخلاقی حیثیت ختم ہوجاتی ہے۔
کمرے میں چادر اتاری تو آئینے میں دھوپ سے جلا ہوا چہرہ نکلا۔ بال گرد سے بوجھل، گردن کے پیچھے پسینے کا خشک نمک۔ اس نے بال کھول دیے۔
نہانے کا خیال آیا۔ پھر خوشبو کا۔ پھر الماری میں لٹکے نیلے لباس کا جو اسے اپنے جسم پر اچھا لگتا تھا۔
اپنے جسم پر اچھا لگتا تھا۔
خیال نے خود ہی اپنی آواز کم کردی۔
وہ دیر تک آئینے کے سامنے کھڑی رہی۔ صبح سے بیماری، غربت، بچوں کے پاؤں، عورتوں کی ضرورتیں؛ ان سب کے بعد کیا اپنے جسم کے آرام، اس کی خوب صورتی، اس کے چاہے جانے کا خیال کچھ فحش ہوجاتا ہے؟ یا یہ فحاشی بھی اسے کہیں سے سکھائی گئی تھی؟
آئینے نے جواب نہیں دیا۔ آئینوں کی یہی خوبی ہے۔ وہ معاشرے کے مقابلے میں کم اخلاقیات رکھتے ہیں۔
میز پر چائے، لیپ ٹاپ اور بلوچ کڑھائی والے سرورق کی نوٹ بک پڑی تھی۔ اس نے لکھا،
آج اللہ کی دوست بننا بہت آسان تھا۔
کچھ دیر دیکھا۔
مٹا دیا۔
جب نظام ہی۔۔۔
یہ بھی مٹ گیا۔
اسے چپلوں کی آواز سنائی دی۔
پھٹ۔ پھٹ۔
فون روشن ہوا۔
بھائی۔
آج والی تصویریں مت لگانا۔
اس نے جواب میں لکھا،
کیوں؟
Send سے پہلے انگلی رک گئی۔
بھائی کی پروفائل تصویر میں سمندر تھا۔ وہ کنارے پر کھڑا ہنس رہا تھا، آستینیں کہنیوں تک، بال ہوا میں۔ کسی نے اس سے نہیں کہا تھا کہ اس ہنسی کو صرف گھر کی چار دیواری کے اندر رکھا جائے۔
اور اسی تصویر سے، نہ جانے کیوں، سائیکل نکل آئی۔
وہ شاید نو برس کی تھی۔ بھائی سیٹ پکڑ کر پیچھے دوڑ رہا تھا۔
چھوڑنا نہیں۔
نہیں چھوڑتا۔
پھر اس نے چھوڑ دیا تھا۔
وہ چلتی رہی، کافی دور تک، یہ جانے بغیر کہ پیچھے کوئی ہاتھ نہیں۔ مڑ کر دیکھا تو بھائی تالیاں بجا رہا تھا۔
فون پر کیوں؟ ابھی موجود تھا۔
اس نے مٹا دیا۔
ماں چائے کا دوسرا کپ لے آئی۔ پہلے کپ کو چھوا۔
’’یہ تو ٹھنڈی ہوگئی۔‘‘
پھر فون کی روشن اسکرین دیکھی۔
’’اس نے کچھ کہا ہے؟‘‘
’’آپ کو بتا دیا؟‘‘
’’وہ تمہارا برا نہیں چاہتا۔‘‘
چارپائی۔ سلائی مشین۔ لکڑی کی الماری۔ اور وہ تمہارا برا نہیں چاہتا۔
گھر کی پرانی اشیا میں یہ جملہ بھی شامل تھا۔
’’میں نے کب کہا چاہتا ہے؟‘‘
ماں نے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔ ’’بیٹی، باہر کے علاقے ہیں۔ تصویریں لگتی ہیں۔ لوگ باتیں بناتے ہیں۔‘‘
’’میری تصویروں میں میرا چہرہ بھی نہیں ہوتا۔‘‘
ہاتھ رک گیا۔
’’بات صرف چہرے کی نہیں ہوتی۔‘‘
ماں چلی گئی۔
جملہ رہ گیا۔
بات صرف چہرے کی نہیں ہوتی۔
رات کو اس نے بچی کی تصویر نہیں لگائی۔ صرف لکھا،
زندگی کو پڑھتی ہوں، زندگی کو سمجھتی ہوں۔
نیچے ایک رشتہ دار نے لکھا،
زیادہ پڑھنے کا یہی نقصان ہے۔
اس نے جواب لکھا،
کم پڑھنے کے فائدے بھی آپ سے سیکھ رہے ہیں۔
ہنسی آئی۔
Delete۔
اسکرین خالی ہوئی تو اسے لگا Delete محض بٹن نہیں۔ بعض عورتوں کی زندگی میں یہ پورا ادارہ ہوتا ہے، جو باہر بھی موجود رہتا ہے اور کچھ عرصے بعد انگلی کے اندر منتقل ہوجاتا ہے۔
صبح بھائی سامنے بیٹھا چائے پی رہا تھا۔
’’اگلے ہفتے پھر جانا ہے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’گاڑی نہیں جائے گی۔‘‘
اس نے کپ رکھ دیا۔
’’کیوں؟‘‘
’’ڈرائیور نے بتایا تم لوگ بہت اندر تک جاتے ہو۔ حالات اچھے نہیں۔‘‘
’’ڈرائیور آپ کو رپورٹ کرتا ہے؟‘‘
’’بات مت بدلو۔‘‘
ماں نے روٹی توڑتے ہوئے کہا، ’’صبح صبح شروع نہ ہوجاؤ۔‘‘
بھائی نے اسے نہیں دیکھا۔ ’’کام کرنا ہے، شہر میں کرو۔ کسی تنظیم کے ساتھ۔ ہر جگہ خود پہنچنا ضروری نہیں۔‘‘
’’جہاں تنظیمیں پہنچتی ہیں وہاں مجھے جانے کی ضرورت بھی نہیں۔‘‘
’’یہی تو مسئلہ ہے۔ تمہیں ہر مسئلے کے مرکز میں خود ہونا ضروری لگتا ہے۔‘‘
جواب اس کے منہ تک آیا اور وہیں رہ گیا۔
کل بچی کو چپل دیتے ہوئے جو خوشی ہوئی تھی، وہ کیا تھی؟ اگر کوئی اور عورت اسے چپل دے دیتی تو کیا فرق پڑتا؟ بچی کے لیے نہیں۔ اس کے لیے شاید پڑتا۔
بھائی نے اس خاموشی کو رضامندی سمجھ لیا۔
’’اس دفعہ نہیں جانا۔‘‘
اب اس نے اسے دیکھا۔
’’میں جاؤں گی۔‘‘
’’گاڑی نہیں ملے گی۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘
لفظ نکل گیا۔
دو دن بعد وہ بس میں بیٹھی تھی۔
ماں نے روکا نہیں تھا۔ پانی کی چھوٹی بوتل اور دو روٹیاں بیگ میں رکھ دی تھیں۔
’’واپسی سے پہلے فون کردینا۔‘‘
بھائی باہر نہیں آیا۔
بس شہر سے نکلی تو آزادی کا پہلا احساس کسی نعرے کی طرح نہیں آیا؛ گھٹنوں میں درد کی صورت آیا۔ سیٹ سخت تھی، کھڑکی سے گرم ہوا آتی تھی، ہر چند میل بعد بس رکتی، لوگ چڑھتے، اترتے، کسی بچے کو الٹی ہوتی، کہیں بکری کی رسی کسی کے پاؤں میں الجھتی۔ اسے اپنی سابقہ گاڑی اور اے سی یاد آئے اور اپنے اس فیصلے پر جو اطمینان تھا، اس پر بھی شک ہوا۔ تکلیف کو اخلاقی برتری سمجھ لینا شاید ان لوگوں کی عیاشی تھی جن کے پاس واپس جانے کے لیے آرام موجود ہو۔
بستی کے ایک صحن میں عورتیں جمع تھیں۔ ایک عورت اپنی بیٹی کے اسکول چھوڑنے کا ذکر کررہی تھی۔
’’وہ پڑھنا چاہتی ہے۔ میں بھی چاہتی ہوں پڑھے۔ اسکول دور ہے۔ صبح گاڑی نہیں۔ پیدل جائے تو واپسی شام۔ پھر راستے کے لوگ الگ۔‘‘
اس کے پاس جواب تیار تھا، اسے روکیں مت۔
مگر کچھ دیر بعد وہی عورت کسی دوسری لڑکی کے بارے میں بولی، ’’بہت آزاد ہوگئی ہے۔ موبائل رکھتی ہے۔ لڑکوں سے باتیں۔ ایسی پڑھائی بھی کس کام کی؟‘‘
تیار جواب اپنی جگہ سے ہل گیا۔
’’اگر آپ کی بیٹی کسی لڑکے سے بات کرے؟‘‘
عورت نے اسے دیکھا۔ سوال اب سماجی نہیں رہا تھا۔
’’میری بیٹی ایسی نہیں۔‘‘
’’کیسی؟‘‘
دو عورتیں ہنسیں۔
’’آپ پڑھی لکھی ہیں، آپ سمجھتی ہیں۔‘‘
وہ بھی مسکرا دی۔
پڑھا لکھا ہونا کبھی کبھی دوسرے کی بات سمجھنے کی سند نہیں، اس پر مزید بات نہ کرنے کی درخواست ہوتا ہے۔
واپسی پر وہ بس اڈے کی طرف پیدل جارہی تھی کہ ایک نوجوان ساتھ ہولیا۔
’’آپ لوگ خواتین کے لیے بھی کچھ کرتے ہیں؟‘‘
’’اسی لیے تو آتی ہوں۔‘‘
اس نے ایک لمحے کے لیے اس کا چہرہ دیکھا۔
صرف ایک لمحہ۔
عورتیں بعض نگاہوں کی مدت گھڑی سے نہیں ناپتیں۔
اس کا ہاتھ چادر کی طرف گیا۔ کنارا اوپر کیا۔ چند قدم بعد اپنے ہاتھ ہی پر جھنجھلاہٹ ہوئی۔ کیوں؟ دھوپ؟ عادت؟ خوف؟ یا اس نے واقعی نہیں چاہا تھا کہ وہ آدمی اسے دیکھے؟
انتخاب اور تربیت کے درمیان لکیر کہاں تھی؟
سڑک پر لکیر صاف تھی۔ سفید رنگ کی۔ دونوں طرف ٹوٹی ہوئی۔
چوکی پر بس روک لی گئی۔
شناختی کارڈ۔
اہلکار نے تصویر دیکھی، پھر اس کی طرف۔
’’چہرہ ذرا۔۔۔‘‘
چادر نیچے آگئی۔
ایک سیکنڈ۔
دو۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘
گھر والے جس چہرے کو اجنبی مرد سے چھپانا چاہتے تھے، ریاست اسے شناخت کے لیے دیکھنا چاہتی تھی۔ دونوں کو اس کی ضرورت تھی۔ ایک کو عزت کے ثبوت کے طور پر، دوسرے کو شناخت کے۔ خود اسے اپنا چہرہ کس لیے درکار تھا، فارم میں اس کا خانہ نہیں تھا۔
’’بیگ کھولیں۔‘‘
کاپیاں۔ پنسلیں۔ دوائیں۔ سینیٹری پیڈ۔ نوٹ بک۔
اہلکار نے نوٹ بک اٹھائی۔ درمیان سے کھولی۔
سفید صفحہ۔
دوسرا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘
نوٹ بک واپس آگئی۔
چند کلومیٹر آگے نیلا سرکاری بورڈ کھڑا تھا،
بنیادی مرکز صحت
دروازے پر تالا۔
برآمدے میں ایک آدمی بیمار بچے کو گود میں لیے بیٹھا تھا۔
’’ڈاکٹر؟‘‘
اس نے سڑک کی طرف دیکھا۔
’’شہر۔‘‘
’’کتنی دور؟‘‘
’’گاڑی آئے تو۔‘‘
اس نے بیگ سے دوا نکالی۔
بچے کا ماتھا گرم تھا۔
’’عمر؟‘‘
باپ نے بچے کو دیکھا۔
’’پانچ۔۔۔ شاید چھ۔‘‘
دوا واپس بیگ میں چلی گئی۔
فون نکالا۔
No Service
چوکی پر شناخت کی تصدیق ممکن تھی۔ یہاں بخار کی نہیں۔
وہ اس خیال کو آگے بڑھا سکتی تھی، ایک مکمل جملہ بنا سکتی تھی، شاید ایک اچھی پوسٹ بھی۔ مگر بچہ اس وقت کوئی استعارہ نہیں تھا۔ اسے بخار تھا اور اس کا باپ گاڑی کا منتظر تھا۔
شام تک بس شہر میں داخل ہوئی تو فون نے یکے بعد دیگرے پیغامات وصول کرنے شروع کردیے۔
ایک voice note یونیورسٹی کے پرانے دوست کا تھا۔
’’پورا دن غائب۔ چائے پی ہے یا بچوں اور انقلاب کے درمیان پھر بھول گئی؟‘‘
وہ ہنس پڑی۔
دوبارہ سنا۔
پھر تیسری بار۔
تیسری مرتبہ آدھے میں بند کردیا۔
لکھا،
آج بہت تھک گئی ہوں۔
Delete۔
چائے پی لی۔
Delete۔
آخر خالی کپ کی تصویر بھیج دی۔
جواب فوراً آیا،
اس میں چائے کہاں ہے؟
وہ مسکرائی۔
تم ہوتے تو شاید۔۔۔
انگلیاں رک گئیں۔
ریاست، قوم، طبقہ، پدر سری، معیشت۔ ان سب کے لیے اس کے پاس الفاظ تھے۔ ’’تم ہوتے‘‘ کے بعد زبان ختم ہوگئی۔
Delete۔
آئینے کے سامنے چادر اتاری۔ بال کھولے۔ الماری میں نیلا لباس تھا۔
اسی نے کہا تھا، شاید تین برس پہلے، شاید چار،
یہ رنگ تم پر اچھا لگتا ہے۔
ممکن ہے اس نے محض رنگ کی تعریف کی ہو۔ یادداشت خواہش کی قابلِ اعتماد گواہ نہیں ہوتی۔
اس نے لباس باہر نکالا، اپنے جسم کے سامنے رکھا۔
ایک لمحے کے لیے اسے یہ خواہش ہوئی کہ وہ اسے پہنے اور کوئی اسے دیکھے۔
بس اتنی سی بات۔
پھر وہی پرانا خوف، جو ہمیشہ کسی بڑے نام کے بغیر آتا تھا۔ خاندان؟ قبیلہ؟ حیا؟ اپنی ہی تربیت؟ اور شاید یہ بھی کہ اگر کسی عورت نے خود چاہا کہ اسے دیکھا جائے تو دیکھنے والے کی نگاہ سے پہلے وہ خود اپنے خلاف گواہ بن جاتی ہے۔
لباس واپس لٹک گیا۔
دو دن بعد فون پر ایک نوجوان بلوچ عورت کی ویڈیو آئی۔ وہ دھمکیوں کا ذکر کررہی تھی۔ اپنے والد اور گھر والوں کے خطرے کا۔ آواز میں خوف کم تھا، یا شاید خوف بہت دیر رہ جائے تو آواز سے نکل کر جسم کے کسی اور حصے میں رہنے لگتا ہے۔
رات کو خبر آئی کہ اس کے والد قتل ہوگئے ہیں۔
وہ میز پر بیٹھ گئی۔
ان کے والد کے قتل۔۔۔
رکی۔
مبینہ قتل۔۔۔
متعلقہ حکام۔۔۔
ذمہ داران۔۔۔
الفاظ ایک دوسرے کے بعد آنے لگے۔ مہذب، قانونی، محتاط۔ زبان نے چند سیکنڈ میں وہ فاصلہ پیدا کردیا جو خوف کو قابلِ اشاعت بناتا ہے۔
قدموں کی آواز۔
بھائی دروازے پر تھا۔
’’جاگ رہی ہو؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’کیا لکھ رہی ہو؟‘‘
’’کچھ نہیں۔‘‘
اس نے اسکرین کی طرف نہیں دیکھا۔
’’وہ ویڈیو دیکھی ہے میں نے۔‘‘
وہ خاموش رہی۔
’’اسی لیے کہتا ہوں احتیاط کرو۔ تم سمجھتی کیوں نہیں؟‘‘
’’میں سمجھتی ہوں۔‘‘
’’نہیں۔ تم نظریہ سمجھتی ہو۔ خطرہ نہیں۔‘‘
اس بار لہجے میں حکم کم تھا۔
وہ پہلی بار اس کا خوف سن رہی تھی۔
’’یہ لوگ کسی کے نہیں ہوتے۔ تمہارے ساتھ کچھ ہوا تو۔۔۔‘‘
جملہ وہیں رہ گیا۔
سائیکل۔
سیٹ پر اس کا چھوٹا سا جسم۔ پیچھے بھائی کا ہاتھ۔
چھوڑنا نہیں۔
نہیں چھوڑتا۔
پھر وہ ہاتھ چھوڑ دیتا ہے تاکہ وہ چلنا سیکھ سکے۔
شاید بھائی اب بھی یہی سمجھتا تھا کہ محبت کا ایک وقت ہاتھ چھوڑنا ہے اور ایک وقت پکڑ لینا۔ مسئلہ صرف یہ تھا کہ فیصلہ ہمیشہ ہاتھ کا مالک کرتا تھا، سائیکل پر بیٹھی لڑکی نہیں۔
’’میں پوسٹ کروں گی۔‘‘
بھائی نے پلکیں بند کیں۔
’’جو کرنا ہے کرو۔ میری گاڑی استعمال نہیں ہوگی۔ میرا نام کہیں مت لانا۔‘‘
دروازہ آہستہ سے بند ہوا۔
گھر نہیں ٹوٹا۔
صرف گھر کے اندر اس کے لیے ایک جگہ کچھ چھوٹی ہوگئی۔
اس نے اسکرین دیکھی۔
مبینہ قتل۔ متعلقہ حکام۔ ذمہ داران۔
ایک سطر اوپر شامل کی،
ویڈیو میں پہلے سے ظاہر کیے گئے خدشات کے بعد اس موت کو محض ایک الگ واقعہ سمجھ کر نہیں دیکھا جاسکتا۔
پڑھا۔
یہ بھی مکمل سچ نہیں تھا۔
مگر اس کا اپنا جملہ تھا۔
Post۔
اس رات ماں کمرے میں نہیں آئی۔
صبح ناشتے کی میز پر بھائی کی کرسی خالی تھی۔ ماں نے روٹی اس کی طرف سرکائی۔
’’پھر جانا ہے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’بس سے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
ماں اپنی انگلیوں کو دیکھتی رہی۔
’’رات سے پہلے واپس آنا۔‘‘
اجازت؟ حکم؟ خوف؟
شاید ماؤں کی زبان میں ان تینوں کے لیے ہمیشہ الگ الفاظ نہیں ہوتے۔
وہ اٹھنے لگی۔
’’وہ نیلا جوڑا کیوں نہیں پہنتی اب؟‘‘
وہ رک گئی۔
ماں نے روٹی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’اچھا لگتا تھا تم پر۔‘‘
چند لمحے دونوں خاموش رہیں۔
اس دن اس نے نیلا لباس پہن لیا۔
راستے میں کئی بار خیال آیا، کس کے لیے؟ اپنے لیے؟ ماں کے لیے؟ اس شخص کے لیے جس نے برسوں پہلے ایک رنگ کی تعریف کی تھی؟
پھر سوال سے تھک گئی۔
ہر خواہش کو عدالت میں اپنا نسب ثابت کرنا کیوں ضروری تھا؟
بستی میں بچوں کو رنگین پنسلیں بانٹی جارہی تھیں۔ ایک بچی مسلسل اسے دیکھتی رہی۔ وہ کسی بچے سے بات کرتی تو ذرا قریب آجاتی، نظر ملتے ہی پیچھے۔
’’کیا ہے؟‘‘
کاغذ فوراً پشت کے پیچھے۔
’’کچھ نہیں۔‘‘
واپسی کے وقت وہ دوڑتی آئی، تہہ کیا ہوا کاغذ اس کے ہاتھ میں دیا اور بھاگ گئی۔
بس میں اس نے اسے کھولا۔
سرخ لباس میں ایک عورت۔ کھلے بال۔ بہت بڑی آنکھیں۔ اور دونوں طرف دو غیر معمولی بڑے کان۔
اگلی بار اس نے بچی سے پوچھا، ’’میرے کان اتنے بڑے کیوں ہیں؟‘‘
بچی حیران ہوئی۔
’’آپ سب کی بات سنتی ہیں نا۔‘‘
وہ جواب اس کے ساتھ بس تک آیا۔
اس نے خود کو ہمیشہ بولنے والی سمجھا تھا۔ لکھنے والی۔ سوال کرنے والی۔ اعتراض کرنے والی۔
بچی نے اسے سنتے ہوئے دیکھا تھا۔
فون کھولا۔
پرانی پوسٹ سامنے تھی،
زندگی کو پڑھتی ہوں، زندگی کو سمجھتی ہوں۔
Edit۔
’’سمجھتی ہوں‘‘ مٹ گیا۔
زندگی کو پڑھتی ہوں۔
اسی وقت پیغام آیا۔
پہنچ گئی؟
اس نے لکھا،
ابھی راستے میں ہوں۔
پھر، نہ جانے کس عجلت میں، دوسری سطر،
پہنچ کر تمہاری آواز سننا چاہتی ہوں۔
اسکرین پر جملہ موجود تھا۔
ایک عورت کی خواہش، چند الفاظ میں۔
نہ نظریہ۔
نہ قرارداد۔
نہ وضاحت۔
انگلی Delete کی طرف گئی۔
وہی انگلی جو تصویریں مٹاتی تھی، جواب مٹاتی تھی، ’’تم ہوتے تو شاید‘‘ مٹا چکی تھی؛ وہی انگلی جس کے اندر شاید گھر، قبیلہ، خوف اور وہ تمام نامعلوم نگران برسوں سے اپنا چھوٹا سا دفتر کھولے بیٹھے تھے۔
انگلی رک گئی۔
Send۔
کچھ نہیں ہوا۔
بس چلتی رہی۔
کوئی پہاڑ نہیں ٹوٹا۔ کسی گھر کی عزت سڑک پر نہیں گری۔ آسمان نے رنگ نہیں بدلا۔
اس نے پرانی پوسٹ دوبارہ دیکھی۔
زندگی کو پڑھتی ہوں۔
کچھ دیر بعد وہ بھی مٹ گئی۔
فون بند۔
شیشے میں اس کا عکس اب صاف نہیں تھا۔ باہر کے پہاڑ اس کے چہرے کے اندر سے گزر رہے تھے۔ چادر ذرا سرک آئی تھی۔
ہاتھ اٹھا۔
آدھے راستے میں ٹھہر گیا۔
شاید اسے چادر درست کرنی تھی۔
شاید نہیں۔
وہ اپنے عکس کو دیکھتی رہی، اتنی دیر جتنی دیر کسی اجنبی مرد کی نگاہ کو کبھی اجازت نہ دیتی۔
بس نے موڑ کاٹا۔
پہاڑ شیشے میں آیا۔
چہرہ غائب ہوگیا۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.