Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

درگا روپ

آغا گل

درگا روپ

آغا گل

MORE BYآغا گل

    بہت ہی الجھے ہوئے کیس ایس پی اسلم کو دیئے جاتے۔ وہ بے حد ذہین محنتی اور نڈر پولیس افسر تھا۔ سرخ و سفید رنگت قدرے چھوٹا قد۔بظاہر وہ پولیس افسر کی بجائے کسی یونیورسٹی کا پروفیسر دکھائی دیتا۔ زبان بھی شئتہ تھی۔ محکمہ پولیس نے بیرون ملک بھی جدید ترین تفتیشی طریقے سیکھنے کے لیئے اسے بجھوا یا تھا۔ جس سے اسکی صلاحیتں مزید نکھ گئیں۔ اسے ایک اندھا قتل سونپا گیا تھا۔ اخبارات اور سوشل میڈیا نے ملک سر پہ اٹھارکھا تھا۔ علاقہ کا تھانہ بے بس دکھائی دیتا تھا۔ جس کے باعث اس جلتے بلتے مقدمے کے لیئے اسلم کو بلایا گیا۔ آئی جی نے اسے بتایا کہ یہ محکمے کے وقار کا مسئلہ ہے۔ اسے ہر صورت قاتلہ کو گرفتار کرنا ہے۔ فائیلوں کے مطالعہ کے گواہان کے بیانات بعد رپورٹ کچھ یوں واضح ہوئی کہ کراچی کے افسر کو سندھ تعیناتی کے دوران قبائلی سردار بننے کا شوق چرایا۔ اس نے دیکھا کہ جو ملک دو قومی نظرئیہ پہ بنایا گیا تھا۔ اتنا زمانہ گزرنے کے بعد اسے یک قومی بنا دینا چاہیے تھا۔ کہ ہندوں کے ساتھ تو ہم دو قومی تھے۔ اب تو ایک ہی ہیں۔ مگر اس دو قومی نے نئی صورت اختیار کرلی۔ اشرافیہ کے لیئے الگ قانون عوام کے لئیے الگ۔ انگریزوں کے وفادار خاندان حکومت کے مستحق پائے گئے۔ انگریز اور پھر امریکہ نے جس کا ابا برطانیہ تھا۔ مگر رفتہ رفتہ بچہ اتنا طاقتور ہوگیا کہ کل کا منا خود باپ کا باپ بن گیا۔ اشرافیہ کو لے پالک بنا لیا۔ افسر وزیر نے سوچا کہ اگر وہ کسی طرح اشرافیہ میں شامل ہو جائے تو زندگی کے لطف اٹھائے ان کے لیئے تو سات خون بھی معاف ہوا کرتے ہیں۔ سرکاری ملازمت میں اس نے کافی دولت کمائی تھی۔ سرکاری افسر گملےمیں لگا صنوبر ہوا کرتا ہے۔ جڑوں کے بغیر برگد کا پیڑ۔ وزیر نے چیف سیکرٹری کو بریف کیس لیئے بھاگتے۔ گرفتار ہوکر برنینڈڈ سوٹ میں بالی کے بوٹ پہنے حوالات میں بند دیکھا تھا۔ اسے یقین تھا کہ پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہے۔ اصل چیز اشرافیہ میں شامل ہونا ہے۔ جس کے بعد کوئی اس کا بال بھی بانکا نہ کر سکتا۔ وڈیرہ اشرف اس کا جگری یار تھا۔ ہم پیالہ ہم نوالہ تھا۔ شب کی محفلوں کا ساتھی تھا۔

    ایک رات جب دونوں ہی ٹن تھے۔ وزیر نے اپنی محرومی کھول دی۔ اپنا غم بیان کیا کہ اس کے پاس طاقت نہیں ہے۔صرف روپیہ ہے۔چونکہ کچھ زیادہ ہی چڑھا رکھی تھی اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ ڈانسر تڑپ اٹھی،

    ”سیاں! میری جان لے لو۔مگر میں تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتی۔“ اس نے ٹشو پیپر سے آنسو اٹھائے۔

    ”یہ میں اپنے ساتھ رکھوں گی، مسکرا دو تم اداس اچھے نہیں لگتے۔“

    اجرک کی طرح اشرف کا دل بھی حسین تھا۔ وہ بھی تسلی دینے لگا۔ مدہوشی ہونے کے باعث اس نے تسلی دی۔ فرط محبت میں اس نے وزیر کو کندھے سے کھینچ کر ساتھ لگا لیا۔

    ”اشرافیہ میں شامل ہونے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ حکمران خاندانوں میں کہیں شادی کر لو۔“

    وزیر نے سنی ان سنی کر دی۔ وہ بدستور گلوگیر تھا ”مجھے تو کوئی بھی رشتہ نہیں دے گا۔ ہم تو اپنوں میں ہی شادیاں کرتے ہیں۔“

    وہسکی میں غم ابل رہے تھے۔ اتنی جان ماری کے باعث اشرف یوں تو ڈھیر تھا۔ مگر اس کی عقل جاگ رہی تھی۔ اس نے وزیر کو خوش خبری سنائی کہ دوستی کی خاطر وہ اپنی بہن سوہنی سے شادی کرا دے گا۔ دونوں بہت خوش ہوئے یوں وزیر بھی اشرافیہ میں شامل ہو جاتا۔ وزیر چونکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا۔ وہ اکثر لفظوں پر غور کرتے قہقے لگاتا۔ جیسے چڑیا گھر حالانکہ چڑیا کبھی گھر نہیں بناتی گھونسلہ بناتی ہے۔ گھوڑے ہسپتال جبکہ اس میں اونٹ بیل بھیڑیں ہوتی ہیں۔ ٹھگوں کے گروہ۔ علی بابا کے چالیس چور ذلیلہ کی بجائے اشرافیہ کہلاتے۔ چوٹی بلی جلیبیوں کی رکھوالی۔ عجب سا ملک تھا۔ کروڑوں فقیر۔ مقدس بھکاری۔ جنت کے محلو ں کے ڈیلر۔ گناہ بخشوانے کا وعدہ کرنے والے۔ اشرافیہ دراصل رزیلہ ہے۔

    ایس پی اسلم کیس میں ڈوبا ہو ا تھا۔ اسے فائیلوں نے ہی بتایا کہ وڈیرے کی بہن سانولی سی تھی۔ ایک پاؤں سے معذور تھی۔ وزیر کو پاؤں سے دلچسپی نہ تھی۔ کون سا اپنا بیوی سوہنی کو میرا تھن میں روڑانا تھا۔دونوں پاؤں بھی نہ ہوتے تو کیا فرق پڑتا۔ اس کا مقصد شادی نہیں اعلیٰ طبقہ میں شامل ہونا تھا۔

    اگلے ہی روز اشرف نے بھائیوں سے مشورہ کیا۔ چھوٹی بہن گھر بیٹھے بیٹھے بالوں میں چاندی اگالیتی تو شادی کون کرتا۔ باہم مشورے کے بعد ایک روز وزیر کو اپنے ہاں مدعو کیا اور شادی کو مشروط کر دیا کہ وزیر اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے کر رخصت کرے۔ ان کی لاڈلی بہن گھر میں سوتن برداشت نہیں کر سکتی۔ لاڈوں کی پلی ہے۔ صرف اسی کا حکم چلے گا۔

    وزیر نے انہیں بتایا کہ بیوی اسکی اپنی کزن ہے۔ دو بیٹیاں بھی ہیں۔ پورے خاندان سے کٹ جائے گا۔ پہلے بھی تو مسلمان بیویاں کنزیں لونڈیاں رکھتے تھے۔ بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے کے علاوہ عورتوں کے انبوہ میں بھی ترک تازیاں کرتے۔ مگر وہ قائیل نہ ہوئے۔ لگے ہاتھوں انہوں نے یہ بھی بتا دیا کہ وہ صرف اپنے بھائی کی خاطر رشتہ دینےپر تیار ہوئے ہیں۔ وزیر نے اشرافیہ ہاتھ سے نکلتی دیکھی تو اس نے رشتوں کی پرواہ کیئے بغیر ہی شرط مان لی۔ اکیلئے میں اس نے وڈیرے سے درخواست کی کہ وہ اپنی ہونے والی بیوی کو دیکھنا چاہتا۔

    اس کا شرعی حق ہے۔ وڈیرے نے تسلیم کر لیا کہ چند روز بعد گاؤں جائیں گے تو کچھ صورت نکل آئے گی۔ اس کی بہن کوثر کم تعلیم یافتہ مگر قبول صورت نیک گھریلو لڑکی تھی۔ وزیر اتنا کھپانچہ ہو چکا تھا کہ شکل دیکھتے ہی عورت کو بھانپ لیتا۔ بغیر گفتگو کیئے ہی اسے ہر زاویئے سے سکین کر لیتا۔

    اسلم سے فائیلوں کے پلندے ، گواہان کے بیانات بول رہے تھے۔ اسلم کا ہاتھ تھامے آگے لیئے جا رہے تھے۔

    وزیر نے چچا کو بلاکر اپنی بیوی ثریا اور دونوں بیٹیاں سلطانہ اور رضیہ اس کے سیرد کیس طلاق نامہ تھما مایا۔ حق مہر ادا کیا بیٹیوں کے لیئے ایک بڑی رقم دی اور انہیں زبردستی گھر سے نکال دیا چچا نے کہا ہماری بددعا ئیں تمہارا پیچھا کریں گی۔ میں زندگی بھر تمہیں بددعائیں دوں گا۔ ثریا نے پاؤں پکڑ لیئے سلطانہ اور رضیہ کا رونا تڑپنا نا قابل برداشت تھا۔ وزیر کا دل کانپنے لگا۔ وہ کمزور سا پڑنے لگا۔ اشرافیہ کے کیواڑبجنے لگے۔ وہ دوڑ کر کمرے میں چلا گیا۔

    ”ان کو نکال دو ، باہر گاڑیاں بھی ہیں ٹرک بھی! جو چاہو گھر سے بھی لے جائیں۔“

    عالم جنوں میں وزیر نے نوکروں سے ڈپٹ کر کہا۔ اور کمرے کی چٹخنی لگالی۔ بیوں اور بچیوں کی چیخ و پکار دل کو کاٹے جاتی تھی۔ اس نے فلم لگالی آواز اونچی کر بوتل ہونٹوں سے لگالی۔

    اگلی صبح وہ بیدار ہوا تو گھر میں خاموشی تھی۔ اس نے جی کڑا کر کے دروازہ کھولا۔ ہر طرف سناٹاتھا۔چائے ابراہیم لایا۔ جبکہ بیڈ ٹی اسے رافع دیا کرتا تھا۔ اس کا پرانا اردلی تھا۔ ابراہیم نے ڈرتے ڈرتے بتایا کہ کل رافع بھی روتا ہوا گھر سے چلا گیا کہ اب یہاں نوکری نہیں کر سکتا۔ گھر قبرستان بن گیا۔ قبریں راستہ نہیں روکتیں میدان صاف تھاسوہنی سے شادی میں اب کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔

    وزیر کی شادی دھوم دھام سے ہوئی۔ مشہور ناچنے والیاں منگوائی گئیں۔ مہمانوں کے ٹنٹ لگے تھے۔ ہاری مہمانوں کی خدمت بیگار میں کیئے جاتے۔ معاشی قتل اور جوتے کھانے کے باوجود سائیں کی خدمت ان کا فرض تھا۔بہن کو غیر آباد زمین کا بڑا حصّہ ایک ملازمہ ایک گائے اور کافی کچھ جہیز میں دیا۔ یوں وزیر بھی وڈیرہ بن گیا۔ اشرافیہ کی صفوں میں شامل ہو گیا۔ پہلے اس کے پاس افسری رعب داب اور پیسہ تھا۔ اب تو وہ اشرافیہ بھی تھا۔ جیسے بجلی آن کرو تو کرنٹ دوڑنے لگتاہے۔ ہر بلب جل اٹھتاہے۔اشرافیہ کو چھیڑو یا مذہبی مافیا کو تو ہر بلب جل اٹھتا ہے۔ جس سے بڑے بڑے گھاگھ بھی گھبرا جاتے۔ پینا پلانا۔ دعوتیں کرنا۔ روساء کی دعوتوں میں جانا فلاش کھیلنا اس کا معمول تھا۔ اکثر وزیر اپنے ساتھ اشرف کو لے کر سکھر سے کراچی عیش و عشرت کے لیئے جایا کرتا۔ اگرچہ ان کی عمریں پچاس برس کے لگ بھگ تھیں۔ مگر مالی خوشحالی کے باعث دونوں ہی نوجوان لگتے۔ شبینہ محفلوں میں بھی مرد میدان۔ دس برس بیت گئے۔ ایک بار وہ کراچی کے پسندیدہ ہوٹل میں ٹھہرے تو وزیر نے اپنے پسندیدہ سپلائیر امجد کو فون کیا کہ دو انتہائی حسین اور کم عمر لڑکیاں شام میں لیتا آئے۔ امجد صرف اعلیٰ طبقوں کے لیئے ہی کام کرتا۔ جس کے باعث اس پر ہن برستا۔ جن کے لیئے امجد کام کرتا روپیہ پیسہ واقعی ان کے ہاتھ کا میل تھا۔ امجد نے اپنی کار خرید رکھی تھی۔ ٹھاٹھ باٹھ سے رہتا۔ سرکار دربار میں رسائی تھی۔ اس کا مطالبہ رہتا کہ اس کی جانثاری جاں فشانی اور خدمات کے باعث اسے وزیر یا مشیر لگا دیا جائے۔ وہ دونوں لڑکیوں کو لے کر پہنچا اس نے رقم وصول کی اور اگلی صبح ناشتے کے بعد آنے کا وعدہ کرتے ہوئے۔ دوسرے گاہکوں کے آرڈر پورے کرنے چلا گیا۔ اگلی صبح وہ وقت مقررہ پر پہنچا تو ہوٹل کے تیور ہی بدلے ہوئے تھے۔ ہوٹل میں کہرام مچا ہوا تھا۔ ہر طرف پولیس دندنا رہی تھی۔ وزیر کو جسے لوگ طنزیہ نقلی۔ دونمبر وڈیرہ کہا کرتے۔ بجلی نامی لڑکی نے قتل کر دیا تھا۔ بے تحاشہ شراب پلا کر پھر عشوہ وادا سے نیٹ پلانے لگی۔ وزیر بےسدھ ہو گیا تو کمر بند سے اس کے ہاتھ باندھ اس کے حلق میں تکیے کا غلاف ٹھونس دیا۔ اس کے منہ پر تکیہ رکھ کر اوپر جا بیٹھی۔ ایک اچھے شاہسواری کی طرح وہ وزیر کی اچھل کود برداشت کرتی رہی مگر اس کے منہ پر زین کی طرح رکھے تکیے سے نہ گری۔ تڑپ ٹرپ کر وزیر دم توڈ گیا تو بجلی نے واش روم سے وزیر کے شیو کا سامان نکالا، چھوٹی قینچی سے ریزر توڑ کر بلیڈ الگ کیا۔ پھر کسی ماہر سرجن کی طرح کلائیوں کی رگیں کاٹ دیں۔ مزید بلیڈ توڑ کر اس نے گردن کی رگیں بھی خون بہنے کے لیئے کھول دیں۔ اس کوشیش میں اسکی اپنی انگلیاں بھی زخمی ہوگئیں۔ خون کے نمونے مقتول کے جسم پر بھی ملے۔ اس کے بعد بجلی نے بڑے سکون سے انٹر کوم پر ناشتہ منگوایا اور ہدائیت کی کہ دروازے کے باہر رکھ جائے۔ البتہ دروازہ پہ ہلکی سی ٹک ٹک کر کے اطلاح دیتا جائے۔اس ہوٹل کا مزاج ہی شاہانہ تھا رنگیلا تھا۔ اسٹاف نرالے سے آرڈر سننے کے عادی تھے۔ اطمینان سے ناشتہ کر کے اس نے وزیر کی سونے کی رولیکس جس میں ہیرے اور یاقوت جڑے تھے اور قیمتی انگوٹھی ، چین بھی قابو کی ، ساری رقم بھی اٹھا لی۔ ہوٹل میں رینٹ اے کار والے موجود رہتے۔ اس نے کمرہ بند کیا۔ چابی کاونٹر پر جمع کرانے کی بجائے پرس جھلاتی کار میں چلی گئی۔ جاتے جاتے بھی دروازے کے باہر Don’t Disturb والی تختی لگاتی گئی۔ جو ہر کمرے کی الماری میں موجود رہتی۔

    تختی دیکھنے کے بعد امجد بڑی دیر تک لاونج میں بیٹھا رہا۔ دن چڑھ چکا تھا۔ دن نکلتے ہی مزدور کام کی تلاش میں باہر جاتے ہیں۔ جبکہ سیکس ورکرز سونے کے لیئے گھروں کا رخ کرتی ہیں۔ امیر اور غریب کے لیئے سورج کے مفہوم بھی مختلف ہیں دوقومی کی ایک قوم سڑکوں کا رخ کرتی دوسری قوم بستروں کا۔ اکتا کر امجد نے انتظامیہ سے رابطہ کیا۔ وہ بزر دیتے رہے۔ دروزہ کھٹکھٹانے لگے۔ پھر دروازہ پیٹنے لگے۔ اگرچہ دوسری چاپی سے دروازہ کھول سکتے تھے۔ مگر حفظ ماتقدم کے طور پر انتظامیہ نے پولیس کو بلا لیا۔ جسے دیکھتے ہی امجد رفو چکر ہوگیا۔ پولیس نے واردات دیکھ کر پوچھ گچھ کی۔ ہوٹل کے عملے نے امجد کا نام لیا۔

    امجد دو ایک روز اِدھر ادھر چھپتا پھرا۔ مگر پولیس نے اس کی گچی پکڑ لی۔ امجد نے بتایا کہ وہ صرف فون پر کام کرتا ہے۔ گاہک اسے موبائیل پر آرڈر دیتا ہے۔ امجد پوچھتا کہ روکڑا کتنا ہے۔ اس کے اکثر گاہک متمول تھے۔ وہ کہا کرتے کہ پیسے کی فکر نہ کرو۔ وہ موبائیل پر رابطہ کرتا اور یوں اس کا دھندا چلتا۔ امجد کے پاس صرف موعائل نمبر رہا کرتے۔ وہ کون ہیں۔ کہاں رہتی ہیں۔ اسے ذرا بھر پروا نہ ہوتی۔ ان کا کوئی مستقل نام بھی نہ ہوتا۔ نام بدلتی رہتیں۔بجلی کا بھی اس کے پاس موبائیل نمبر ہی تھا۔ قتل کا کوئی بھی تعلق امجد سے نہیں بنتا تھا۔ مگر نوکری بنانے کے لیئے سفارشوں کے باوجود امجد کو سلاخوں کے پیچھے بھجوا دیا گیا۔ امجد نے اپنے سرپرستوں سے رابطے کیئے تو آئی۔ او نے اسکا نام مقدمے میں شامل نہ کیا۔

    اس کے بعد قاتلہ کا کچھ پتہ نہ چلا۔ اپنا موبائیل فون اس نے بند کر دیا تھا۔ سم بھی نکال پھینکی تھی۔ ڈی این اے اور دیگر شواہد موجود تھے۔ سم بجلی نے اپنے اصل نام اور شناختی کارڈ نمبر سے حاصل کی تھی اسکا نام سلطانہ تھا۔ بڑے ثبوت ہوتے ہوئے بھی وہ لا پتہ تھی۔ اسلم ہار ماننے والا انسان کب تھا۔ وہ تلاش کرتا رہا کہ کیا بجلی کا موبائیل کبھی دوبارہ ایکٹیو ہوا۔ اس نے خاصی چھان بین کی تو معلوم ہوا۔ پہاڑی قصبے میں موبائیل دو ماہ بعد کام کرنے لگا تھا۔ سم اس میں نئی ڈالی گئی تھی۔ جدید آلات کی مدد سے وہ موبائیل کھوجتا۔ ٹاور سے رابطہ چیک کرتے ہوئے اس قصبے میں پہنچ گیا۔ نہائیت ہی صبر سے وہ گھنٹوں جیپ بیٹھا موبائیل آن ہونے کا انتظار کرتا۔ اسلم نے صرف دو آدمی ساتھ لیئے تھے۔ ڈرائیور بھی وہ کمانڈروز سے ہی لیا کرتا۔ کہ اگر کچھ مزاحمت ہو تو ان کا پلہ بھاری پڑے۔ نفری نہ لینے کا سبب یہ تھا کہ وہ مقامی پولیس سے مدد لے سکتا تھا۔ جس کی شائد ضرورت ہی نہ پڑتی۔

    شام اتر رہی تھی۔ وادی سر سبز تھی۔ آبادی محدود سی تھی۔ سہ میں پھلوار کے بعد بارش ہونے لگی۔ جیپ میں فٹ مشین موبائیل کی لوکیشن دے رہی تھی۔ درختوں سے گھرا یہ مکان کسی متمول شخص کا لگتا تھا۔ اس کے دونوں مسلح ماتحت ساتھ تھے۔ گھنٹی بجانے کے تکلف کی بجائے وہ گیٹ سے اندر داخل ہوئے اس کے ساتھی اور ڈرائیور جو دراصل کمانڈوز کا تھا۔ برستی بارش میں وہ یوں پوزیشن لے کر جم گئے کہ اس بنگلے سے کسی کا نکلنا ہی نا ممکن تھا۔ وہ انتہائی چوکس اور محتاط تھے۔ اسلحہ بھی کاک کر لیا تھا۔ ایس پی اسلم نے دروازے پہ دستک دی۔ اندرکوئی فلم چل رہی تھی۔ اس بار دستک سخت اور غیر دوستانہ تھی۔ دروازہ کھولنے والا اسلم کو دیکھ کر گھبرا سا گیا۔ سامنے باوری افسر کھڑا تھا وہ بھی اتنی بارش میں

    ”خیر ہے سر؟ آپ میرے دروازے پر!“

    اسلم نے اسے دھکیلا ”اندر چلو مجھے بات کرنی ہے۔ کیا نام ہے تمہارا۔“

    وہ گھبرا سا گیا تھا ”میرا نام باری ہے۔ یہ کیا طریقہ ہے۔“

    اسلم ڈرائینگ روم میں جا بیٹھا ”یہاں میرے سوالوں کے جواب دو گے، یا تھانے میں لے جا کر الٹا لٹکا دوں۔ ویسے میرا خیال ہے تم سیدھا بیٹھ کر بہتر بول سکتے ہو۔ الٹا لٹک کر بولنا مشکل ہوتا ہے۔“ باری تھرڈ ڈگری سے اور تھانہ کلچر سے واقف تھا جو قیدیوں کو مارمار کر فارغ کرتے اور مشہور کرتے کہ دل کا دورہ پڑا ہے یا بلیڈ سے رگیں کاٹ کر خودکشی کر لی۔ محکمہ بہبود آبادی کی بجائے تھانے آبادی کم کرنے کی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے انجام دے رہے ہیں۔ یا پولیس مقابلے میں Hardened Criminals کو پار کرتے جو بھوت کی طرح بار بار بری ہو کر ضمانت کرا کے لوٹ آئے۔

    ”اس گھر میں کون کون ہے؟“

    باری اب بندے دا پتر بن گیا تھا۔

    ”میں اور میری بیوی سلمیٰ۔ ویسے میرے آس پاس بھی میرے والد اور بھائیوں کے گھر ہیں۔ ہم زیادہ تر انگلینڈ میں رہتے ہیں۔ اس لیئے الگ الگ مکان بناتے ہیں۔“

    اسلم لاتعلقی سے باری کے تاثرات دیکھتا رہا۔

    ”اپنی بیوی سلمیٰ کو بھی بلاؤ۔“ اسلم نے سخت لہجے میں حکم دیا۔ باری یوں تو سلمیٰ کو بلا لایا۔ مگر بدستور وہ حیرت کا شکار تھا۔ سلمیٰ اس کے بر عکس بالکل زرد پڑ چکی تھی۔ اس کا حسین چہرہ بلوچستان سا ویران ، بجھا بجھا ، دہشت زدہ سا تھا۔

    اسلم نے پولیس والوں کی آنکھ سے دیکھا تو سم کے شناختی کارڈ والی سلطانہ اور بجلی اور سلمیٰ اسے ایک سی لگی۔ وہ ناما نتریا (نام بدلنے والی) تھی پانی کی طرح ہیت صورت بدلنے والی۔

    ”تمہاری شادی کیسے ہوئی؟ یہ کس خاندان سے ہے؟“

    باری بدستور ہراساں تھا۔ اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ ”میں انگلینڈ سے آتا تو اپنے علاقے میں ادھر ادھر گھومتا پھرتا جو وہاں مجھے یاد آتا۔ اس ویران وادی میں جو نہر کے ساتھ سلمیٰ بیٹھی رو رہی تھی۔ وہ بغیر یاداشت کے تھی۔ جانے کون اسے یہاں چھوڑ گیا تھا۔ یا وہ بھاگتی ہوئی وہ چٹانوں میں یوں گری کہ سر پہ چوٹیں آئیں۔ جس سے اس کی یاداشت چلی گئی میں اسے سہارا دے کر گھر لے آیا۔ اس کے بریف کیس میں دولت اور قیمتی سامان تھا۔ مگر کوئی ایسی چیز نہ تھی جس سے شناخت ہو سکے۔“

    یہاں تک کی کہانی اسلم کو جاندار لگ رہی تھی ”پھر کیا ہوا؟ آگے بولو“

    ظاہر ہے کہ بجلی ان گمنام وادیوں میں روپوش ہونے کے لیے آئی۔باری نے پانی حلق سے اتارا وہ بہت خوفزدہ اور نراش تھا۔

    ”مجھے اچھی لگی میں نے والدین سے کہہ کر شادی کر لی۔ کچھ دریافت کروں تو اس کے سر میں درد ہونے لگتا ہے۔ ٹیسیں اٹھتی ہیں۔ جس کے باعث ہم صرف حال کی باتیں کرتے ہیں۔ ماضی کی کوئی بات نہیں کرتے۔ بہت اچھی گھریلو طبیعت کی ہے۔“

    اب اسلم سلمیٰ کی جانب متوجہ ہوا ”ہمارا نام یاداشت لوٹانے کے لیئے مشہور ہے، کیا ارادہ ہے؟“

    سلمیٰ اب رونے پہ اتر آ گئی تھی۔ ”میرا شوہر بہت پریشان ہے۔تم ساتھ کے کمرے میں بیٹھو باری۔ شیشوں سے دیکھتے رہنا۔“

    شائد وہ تنہائی میں بہتر بیان دے سکے۔ یہ سوچ کر اسلم نے باری کو ہاتھ کے اشارے سے شیشوں کے اس پار کمرے میں بیٹھنے کو کہا۔ اسلم کے چہرے پہ بدستور تھانہ کلچر لشکارے مار رہا تھا۔ جسے بوقت ضرورت وہ چہرے پہ طاری کر لیتا۔ باری صورتحال سے سہما ہوا تھا۔

    ”میں امید سے ہوں۔کچھ نرمی سے بات کریں۔“ سلمیٰ نے التجا کی۔

    اسلم بدستور اسے خونخوار نظروں سے گھورے جا رہا تھا۔ جیسے کچا چبا جائے گا۔

    ”تم نے وزیر کا قتل کیوں کیا۔“

    سلمیٰ لرز کر رہ گئی۔ پھر اس نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی،

    ”آپ کو میری کہانی تسلی سے سننی پڑے گی۔ کیونکہ یہ دو جانوں کا مسئلہ ہے۔“

    اسلم نے بظاہر سنی ان سنی کر دی وہ پتھر بنا بیٹھا تھا۔ ”ایک قاتلہ ہمدردی کی امید بھی رکھتی ہے تمہیں وزیر پر ترس نہ آیا۔ بیچارے کو کس بیدردی سے قتل کیا۔“

    اسلم نے سوچا اتنی ڈوز کافی ہے ، جس طرح وہ کانپے جا رہی ہے کہیں بیہوش ہو کر ڈھیر ہوگئی تو اس بارش میں آس پاس کسی ڈاکٹر کا ملنا بھی مشکل ہوگا۔ آس پاس کے بنگلے جاگ اٹھے تو مزاحمت کریں گے۔ مقامی تھانے سے مدد لینا پڑے گی۔ بہتر ہے کہ مزید سختی نہ کی جائے۔

    ”اچھا بتاؤ۔ مگر سچ بولنا یہ بیان تمہیں پھانسی کے پھندے تک لے جا سکتا ہے اور ہمارے پاس سارے ثبوت بھی ہیں بمعہ فرانزک ٹسٹ کے۔“ سلمیٰ نے حسرت بھری نظر دوسرے کمرے میں بیٹھے شوہر پر ڈالی۔

    ”وزیر نے اپنی بیوی ثریا اور دو بیٹیوں کو اپنے چچا کے سپر د کرتے ہوئے گھر سے نکال باہر کیا تو روتی دھوتی وہ ٹھوکریں کھانے کے لیئے رہ گئیں مہنگائی بڑھتی گئی۔ نانا ریٹائر ہوگئے۔ جو ماہانہ منافع ملتا اس سے ماں کا علاج بہن رضیہ کی تعلیم مشکل تھی۔ سلطانہ نے ملازمت کرلی روکھا سوکھا کھاتی۔ مگر ماں کا علاج اور رضیہ کی تعلیم جاری رکھی آمدنی بڑھانے رزق میں اضافے والے وظیفے کیے جمعرات کے روز رے رکھے مگر صورتحال نہ بدلی۔ مزاروں پہ منتیں مانگیں ، چڑھاوے چڑھائے۔ ایک روز رضیہ کالج سے نہ لوٹی۔ اہل محلہ تھانے گئے پرچہ کرایا۔ سلطانہ کو چھپائے رکھا کہ کہیں پولیس کی نظر نہ پڑ جائے۔ پولیس نے کوئی خاص لفٹ نہ کرائی۔ بلکہ الٹا چھان بین شروع کر دی کہ گلی کے کس لڑکے سے نین مٹکے تھے۔ بہت در کھٹکھٹایا تو جھلا کر بولے کسی یار کے ساتھ بھاگ گئی ہوئی۔ اس کا موبائیل طلب کیا تو انہیں بتایا کہ روٹی کے لالے پڑے ہیں۔ موبائیل کہاں۔ چند روز بعد رضیہ کی تشدد زدہ لاش شہر کے نالے میں ملی۔حالات بدستور خراب تھے۔ بلکہ بدسے بدتر ہوئے جاتے تھے۔ باوجود علاج کے کچھ افاقہ نہیں ہو رہا تھا۔ اتنا خرچ کر کے بھی ماں کی حالت خراب ہوتی جاتی، ایک شام جب ماں دم توڑ رہی تھی سلطانہ نے باس سے موبائیل پر رابطہ کیا کہ اس دنیا میں اس کا کوئی نہیں ہے۔انسانیت کے ناطے کچھ رحم کرے کچھ مالی امداد کرکے باس نے تسلی دی کہ وہ اپنی کار بھیجوا رہا ہے،ایک بڑے ہسپتال میں بات کرلی ہے، ساری پیمنٹ بھی وہی کرے گا۔ ڈاکٹر کو ماں کی بیماری بتائے اور ایمبولینس لے جا کر ماں کو داخل کرا دے پہلے اس کے گھر آئے تا کہ اس کو رقم ادا کر دے۔ ماں کو تسلی دیتے ہوئے وہ کار میں باس کے گھر پہنچی،۔وہ ڈرائیور کو بار بار کہہ رہی تھی کہ تیز چلے جلدی کرے۔ مگر باس اپنے دوستوں کے ساتھ بوتل کھولے بیٹھا تھا۔ بجائے سلطانہ کو رقم دینے کے اس سے سبھی کچھ لوٹ لیا۔ اگلے روز اس نے سلطانہ کو نصیحت کی کہ زبان بندہی رکھے۔ امیر لوگوں کے خلاف کچھ نہیں ہوتا۔ سلطانہ کی تصویر یں اخباروں میں چھپیں گی۔ بدنامی ہوگی لوگوں کی نظر میں آ جائے گی۔ مگر ہوگا کچھ بھی نہیں۔ باس نے سلطانہ کو یا د بھی دلایا کہ ایک ریپ ویکٹم نے مایوس ہو کر تھانے کے سامنے سر پر مٹی کا تیل ڈال کر آگ لگا لی تھی۔ کسی کو کان پہ جوں نہ رینگی۔ بلکہ مذہبی گروہ تنقید کر نے لگے۔ کہ خود کشی حرام ہے۔ اس لڑکی نے خدا کی دی ہوئی نعمت ٹھکرا دی۔ زندگی تو امانت ہے۔ اب جہنم کا ایندھن بنے گی۔

    اسلم ایک تجربہ کار افسر تھا۔ اس نے اشارے سے باری کو اندر بلایا اور چائے بنوانے کو کہا۔ اسے یہ بھی بتایا کہ اسکے ساتھیوں کو ملازم جیپ میں بیٹھنے کا کہے اور وہیں پہ چائے دے۔ مزاحمت کا خطرہ نہ تھا۔ یوں بھی سارے چوک و چوبند اور مسلح تھے۔ آگ میں جلنے کا بیان دیتے ہوئے سلمیٰ جس طرح تڑپ ر ہی تھی۔ یوں لگتا تھا۔ کہ جیسے اس کا انگ انگ سلگ رہا ہو۔ اس لیئے کچھ دلاسا دلانا ضروری تھا۔ ٹینشن کم کرنے کے لیئے اسلم نے چائے کا وقفہ دیا تھا۔ اسلم نے اصرا ر کیا کہ پہلے سلمیٰ چائے پیئے ، پھر بات ہوگی۔ تسلی دینے کے لیئے اس نے تعریف کی کہ سلمیٰ کا گھر بہت خوبصورت ہے۔ لیکن آنسوؤں کی جھڑی نہ رکی۔

    ”اس گھر میں میری آخری رات ہے۔“ اس نے حسرت بھری نظروں سے دائیں بائیں دیکھا۔ چائے سے سلمیٰ کچھ سنبھل گئی تھی۔ اسلم بھی اسے یوں دیکھ رہا تھا کہ وہ بیان جاری رکھے۔ سلمیٰ نے دوبارہ گفتگو کا آغاز کیا۔ اب وہ قدرے بہتر لگ رہی تھی۔

    ”سلطانہ نے سوچا کہ باس سچ کہتا ہے۔ اسی ڈرائیور نے گھر پہنچا دیا۔ وہ رو بھی نہیں سکتی تھی کہ محلے دار پوچھیں گے کہاں گئی تھی کہ روتی ہوئی آئی ہے۔ کیا ہوا ہے۔

    رات بھر تڑپ ٹرپ کر ماں نے دم توڑ دیا تھا۔ محلے داروں نے اسے آسودہ خاک کیا۔ سلطانہ دفتر نہ گئی۔ اور سوچتی رہی کہ کیا کرے۔ نوکری ہی کی تلاش میں ٹھوکریں کھاتے اس کی ملاقات امجد سے ہو گئی۔ وہ کے ایف سی میں کھانے کو سستی سی چیز ڈھونڈ رہی تھی۔ کھانے کی اشتہا انگیز لپٹیں آ رہی تھیں۔ پھر اس نے سوچا کہ کافی میں چینی زیادہ ڈالی جائے تو لنچ بن جائے گا۔ وہ اپنا مگ لے کر لوٹی تو بھوک سے تھر تھرا رہی تھی۔ اتنے میں امجد نے چکن سے بھری ٹرے اس کے سامنے رکھ دی۔“

    ”کھاؤ! تم بھوکی ہو۔ شاباش! کھاؤ۔“

    بہت دنوں بعد ہمدردی کے دوبول سن کر اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ امجد خود بھی لاتعلقی سے کھانے لگا۔

    پیٹ بھر کھانا کھا کے بعد سلمیٰ کے ہوش بجا ہوئے اس نے امجد سے التجا کی کہ اسے کوئی نوکری دلوادے۔ امجد نےایک معقول رقم اسے دیتے ہوئے تاکید کی کہ کل دوپہر کو اس کے ساتھ لنچ لے بہت دنوں بعد سلطانہ نے پیٹ بھر کھانا کھایا تھا۔ وہ گھر آتے ہی ڈھیر ہوئی۔ اگلے روز وہ کے ایف سی پہنچی تو امجد منتظر تھا۔ امجد اسے ایک فرشتہ سا لگا۔ اتنے کھٹور شہر میں ایک ہمدرد انسان۔ جو کسی کا دکھ سمجھ سکتا تھا۔

    امجد نے بتایا کہ روپیہ جائز میں نہیں ناجائز میں ہے۔ قانون کی اطاعت میں نہیں بلکہ لاقانونیت میں ہے۔ ڈرگز ، اسلحہ اور ایسے ہی معاملات میں کمایا جاتا ہے۔ ہر دولت کے پیچھے کرائم۔ غداری۔ وطن فروشی ہوتی ہے۔ سلطانہ چونکہ اس کی احسان مند تھی۔ وہ سنتی رہی۔ وہ ایسے لگتا تھا کہ وہ سچ ہی بول رہا ہے۔

    ”مگر میں تو نوکری تلاش کر رہی ہوں۔ مجھے نوکری دلوا دیں“

    امجد ہمدردی سے مسکرایا۔ اور اپنا کاروبار بتایا جسے سن کر سلطانہ کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ کھانا وہ کھا چکی تھی اس نے خالی پر س اٹھا یا اور چل دی۔ امجد نے بُرا نہ مانا اور اپنا موبائیل نمبر تھما دیا۔ اس کے چہرے پہ بدستو ہمدردانہ مسکراہٹ تھی۔

    ”کبھی ضرورت پڑتے تو یاد کر لینا۔“

    روپے تو لگتا تھا کہ جیسے ہوا میں اڑے جاتے ہیں۔ ہر چیز پہ ٹیکس تھا۔ روٹی۔ چاول۔ چینی اور بھی On Source پہلے سے ہی کٹ جاتا۔ خریدا ر کو پتہ ہی نہ چلتا کہ دو ہزار کے آٹے پہ وہ پانچ سو روپیہ ٹیکس ادا کر چکا ہے۔ جس ٹیکس سے حکمران بیرون ملک کاروبار کر رہے ہیں۔ جائیدادیں بنا رہے ہیں۔

    ایک بار بھوک نے سلطانہ کو آ دبوچا۔ اس نے نڈھال ہو کر امجد کوفون کیا۔ امجد نے اسے پیٹ بھر کر کھانا کھلایا اچھے لباس دلوائے اور ایک بڑھیا بیوٹی پارلر لے گیا۔ سج سنور کے جب سلطانہ نے خود کو دیکھا تو پہچا ن ہی نا پائی۔ یوں لگتا تھا جیسے کسی ملک کی شہزادی ہو۔ امجد اسے فون کرتا ، مقررہ جگہ سے ساتھ لے جاتا۔ اگلی صبح وہیں ڈراپ کر دیتا۔ دولت اب اس کے قدموں میں پڑی رہتی۔“

    بارش کچھ تھم سی گئی تھی۔ ہوائیں سائیں سائیں کر رہی تھیں۔ جنگل بھیگے بھیگے سے کھڑے سیاہ رات سے الجھ رہے تھے۔

    اسلم نے ہاتھ کے اشارے سے روکا،

    ”میرے ساتھ کام کی بات کرو۔ فلمی کہانیاں مت سناؤ“ وہ خاصہ بدمزہ ہو چکا تھا۔ عجیب سے عورت تھی۔ سوال گندم جواب چنا۔

    ”آخری فقرے ہیں“ سلطانہ نے التجا کی۔

    اسلم کو چائے کی طلب ہو رہی تھی۔ ایک بار پھر باری نے چائے بنوائی نوکر باوردی افسروں کی آمد اور میاں بیوں کی اڑی ہوئی رنگت بے چینی سے خوفزدہ سا سہما سہما تھا۔ اسے کچھ گڑ بڑ لگ رہی تھی۔

    سلمیٰ نے چائے پی کر دوبارہ گفتگو کا آغاز کیا۔

    ”اسی دھندے میں اسے ایک ایسا گاہک ملا جو اس قدر خوش ہوا کہ اس پہ ریجھ ہی گیا۔ اس نے بتایا کہ وہ اگلی رات لیئے بھی اسے ہی بک کر ئے گا۔ دن چڑھتے ہی وہ امجد کو فون کر کے پابند کر دے گا۔

    سحر کا وقت تھا۔ وہ عام سی گفتگو کرنے لگے۔ وزیر نے بتایا کہ وہ زبردستی وڈیرہ بنا ہے وہ ہر چیز ذہانت اور دولت سے حاصل کرنے کا گر جانتا ہے۔ وزیر نے اپنا تعارف کھل کر کرایا۔ بجلی اسے پہچان کر کانپ کانپ اٹھی کہ کیا پاپ کر چکی ہے۔ مر جائے، خودکشی کر لے۔“

    اسلم نے کوپ ٹیبل پر رکھ دیا ”اب موضوع کی طرف آؤ۔ مجھ سے بجلی کی با ت کرو۔“

    سلطانہ نے ایک طویل سانس لی ”وہ بجلی میں ہوں! میرا کاروباری نام بجلی ہے۔ وزیر نے تین قتل کیے میں بھی مقتول ہوں۔ تین کے بدلے ایک قتل۔ میں نے پہچان لیا تھا۔“

    اسلم ساکت و جامد رہ گیا۔ ہر طرف ایک سناٹا تھا۔ شیشوں سے باری انہیں دیکھ رہا تھا۔ وہ ان کی گفتگو نہیں سن سکتا تھا۔ صرف حرکات و سکنات ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ بے حد مغطرب تھا۔

    اسلم نے سلطانہ کا موبائیل منگوا کر سم نکالی۔ سم اس کے حوالے کی دی ، موبائیل جیب میں ڈال لیا۔ پھر اس نے علاقے کے تھانے کو فون کیا۔ علیک سلیک تعارف کے بعد اس نے تھا نیدار کو بتا یا کہ گرفتاری سے بچنے کے لیئے ملزمہ نے طوفانی دریاء میں چھلاگ لگا دی۔ اس میں تو ٹرک گرے نہ ملے وہ تو ایک عورت تھی۔ کیس فائیل کر دیں گے۔ موبائیل کی برآمدگی تمہارے کھاتے میں ڈال دیں گے۔ بلکہ تمہارے لیئے انعام کا بھی لکھوں گا۔ کھانا تیار رکھنا ہم چار آدمی ہیں۔“

    پھر وہ لاتعلقی سے اٹھا سلمیٰ۔ سلطانہ۔ بجلی پر نظر ڈالے بغیر باری کو اندر بلایا۔

    ”معذرت چاہتا ہوں کہ کسی کی تلاش میں آ پ دونوں کو مفت میں ہلکان کیا۔ کیا کریں نوکری ہی ایسی ہے۔“

    اس سے پہلے کہ سلمیٰ یا باری سنبھل پاتے ، برستی بارش میں اسلم جیپ میں نکل گیا۔

    حاشیہ

    نامانتریا (سنسکرت) نام بدلنے والی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے