گلنار

MORE BYمسز عبدالقادر

    کہانی کی کہانی

    کہانی لوگوں کے اندھے عقاید اور اسے حقیقت میں پیش کرنے کی داستان کو بیان کرتی ہے۔ وہ دونوں اپنی زندگی سے بے حد خوش تھے۔ لیکن اولاد نہ ہونے کی وجہ سے مایوس بھی تھے۔ دل بہلانے کے لیے اس کی بیوی نے گلنار نام کی بلی پال رکھی تھی، جسے وہ بہت چاہتی تھی۔ اولاد کے لیے شوہر دوسری شادی کر لیتا ہے۔ لیکن دوسری شادی اس کی زندگی کے رخ کو ایک ایسا موڑ دیتی ہے کہ اسے خود اس پر یقین نہیں آتا۔

    گیتی آرا، گلنار سے جس قدر محبت کرتی تھی۔ شجاع اسی قدر اس سے نفرت کرتا تھا۔ جب کبھی وہ اسے دیکھ پاتا، نہایت غضبناک ہوکر کہتا۔

    ’’گیتی آرا! اس ڈائن کو یہاں سے دور کرو۔ ورنہ میں اس کو گولی مار دوں گا۔‘‘

    درحقیقت وہ تھی بھی ڈائن۔ اسے یہ کہنا بالکل موزوں تھا۔ اس کا رنگ سیاہ اور شکل مکروہ تھی۔ مگر اپنی اپنی طبیعت ہے۔ گیتی آراء اس پر جان و دل سے فدا تھی۔ جب تک گلنار نہ کھا لیتی گیتی آراء کے حلق سے نوالہ نہ اترتا تھا۔

    گلنا بڑی سمجھ دار تھی۔ اس کی محبت کو محسوس کرتی اور اس کا دل خوش کرنے کو طرح طرح کی حرکتیں کیا کرتی۔ وہ نہایت صفائی پسند تھی، بڑے سلیقے سے کھانا کھاتی اور ایک گدیلے والی کرسی جو گیتی آرا نے خاص اسی کی خاطر بنائی تھی بیٹھی رہتی۔

    جب شجاع کے پاؤں کی آہٹ سنتی تو جھٹ اچک کر گیتی آرا کے ڈریسنگ روم میں گھس جاتی اور جب تک شجاع گھر میں رہتا اونچا سانس تک نہ لیتی۔ گیتی آراء اس کی اس عقلمندی کی بہت معترف تھی اور اکثر بڑے فخر سے کہا کرتی کہ جتنی عقلمند میری گلنار ہے اتنا عقلمند کوئی انسان بھی نہیں۔

    شجاع اور گیتی آرا کی آپس میں بڑی محبت تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر جیتے تھے۔ ان کی شادی کو پانچ سال گزر گئے۔ مگر نخل امید بار آور نہ ہوا تھا۔ وہ ایک کامیاب بیرسٹر اور والدین کا اکلوتا فرزند تھا۔ چنانچہ اس حالت میں گیتی آرا کا بانجھ ہونا سخت خطرناک تھا۔

    شجاع کے والدین اس کو بااولاد دیکھنے کے خواہشمند تھے۔ اس کی والدہ کی عین آرزو تھی کہ اس کا سوناگھر ایک معصوم اور شوخ ہستی کی برکت سے بارونق ہو۔ کوئی اسے توتلی زبان سے دادی اماں کہے۔ اسے دلفریب شرارتوں سے ستائے اور معصومانہ اداؤں سے مچل کر اس کا دل لبھائے۔ گیتی آرا بھی اس کمی کومحسوس کرتی تھی۔ مگر یہ خدا کی دین ہے۔ کسی کے بس کی بات نہیں۔

    جوں جوں دن گزرتے جاتے گیتی آرا کے تفکرات میں اضافہ ہوتا جاتا تھا۔ کیونکہ اس کا مستقبل تاریک تھا۔ اپنے حسرتناک انجام کا نقشہ اسے آنکھوں کے سامنے دکھائی دیتا تھا اور وہ اکثر اپنی پانمالی محبت کے خیال سے تھرا اٹھتی تھی۔

    جب تک شجاع گھرمیں رہتا گیتی آرا کا دل بہلاتا رہتا۔ مگر جونہی وہ عدالت کو جاتا وہ افسردہ ہو جاتی۔ کیونکہ گھر میں کوئی اس سے کھل کر بات چیت نہ کرتا تھا۔ اس لیے اس نے اپنا غم غلط کرنے کو گلنار پال رکھی تھی۔ جو اس کی محبوب بلی تھی۔ وہ اکثر تنہائی میں اس سے باتیں کیا کرتی، جس کے جواب میں گلنار اس کو ایسی نگاہوں سے دیکھتی جس سے ظاہر ہوتا کہ وہ اس کی باتیں سمجھتی اور دکھ درد میں اس کی شریک ہے۔

    شجاع کو والدین بار بار دوسری شادی کے لیے کہہ چکے تھے مگر وہ انکار کرتا رہا۔ آخر جب ان کا اصرار حد سے بڑھ گیا تو مجبوراً اسے رضامند ہونا پڑا۔

    شجاع کی دوسری شادی کو بھی مدت گذر گئی۔ مگر بچے کی صورت دیکھنا نصیب نہ ہوئی۔ اس کی والدہ ہنوز زندہ تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ ایک دفعہ اور شجاع کی شادی کرکے قسمت آزمائی کر لے۔ لیکن اب اس کا نئی بہو سے سابقہ تھا۔ جس نے شجاع کو اس طرح قابو کیا تھا کہ اسے دم مارنے کی جرات نہ تھی۔ گیتی آرا کو وہ بالکل بھول چکا تھا۔

    شہزادی اپنی چالاکیوں سے اس کو موقع ہی نہ دیتی تھی کہ وہ کسی سے ملنے کے لیے وقت نکال سکے۔ وہ ہروقت اس کی ناز برداریوں میں مصروف رہتا۔ شجاع کے اس طرز عمل سے گیتی آرا کو سخت قلق ہوتا تھا۔ مگر وہ راضی برضا تھی۔

    شہزادی شکل و صورت میں تو گیتی آرا کا مقابلہ نہ کرسکتی تھی مگر ناز نخروں میں طاق تھی۔ مرد کی تسخیر کا گر جانتی تھی۔ وہ سخت مزاج کمینہ خصلت اور تند خو عورت تھی اور ماں کی تربیت کا اثر اس کے رگ و ریشہ میں سرایت کیے ہوئے تھا۔ وہ گیتی آرا کے خون کی پیاسی تھی۔ اس نے محل سرا کی طرف کھلنے والے دروازے عرصہ سے بند کرا دیے تھے۔ تاکہ شجاع کی نظر کہیں گیتی آرا پر نہ پڑ جائے۔ اس انقلاب نے گیتی آرا پر دنیا کا عیش و آرام حرام کر دیا۔ اس کی اس بےکیف زندگی میں واحد غم گسار اس کی پیاری بلی گلنار تھی۔

    جنوری کے آخری دن تھے۔ شجاع خواب راحت سے بیدار ہوا تو اس کی نظر میز پر رکھے ہوئے چنبیلی کے ایک خوبصورت ہار پر پڑی۔ جس کے قریب ہی ایک رقعہ پڑا تھا۔ رقعہ دیکھ کر اسے یاد آ گیا کہ آج اس کی پہلی شادی کی سالگرہ ہے۔ اس نے ہار کو اٹھاکر آنکھوں سے لگا لیا۔ بھولی ہوئی گیتی آرا کی یاد تازہ ہو گئی۔ گزشتہ ایام کی پر محبت زندگی کا نقشہ سنیما کی متحرک تصاویر کی طرح آنکھوں کے سامنے پھرنے لگا۔ اسے اپنے ظالمانہ سلوک سے جو اس نے چھ سال سے اس کے ساتھ روا رکھا تھا سخت ندامت ہوئی۔ وہ آہ سرد بھر کر کہنے لگا ’’آہ گیتی آرا کیسی عقلمند ہے۔ زرد چنبیلی کا ہار بھیج کر اس نے مجھے اس بےاعتنائی پر ملامت کی ہے۔ کیا اس سے میری محبت انہی پھولوں کی طرح زرد ہو چکی ہے۔‘‘

    وہ ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح ہار کو ہاتھ میں لے کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ بہت عرصہ تک انہی خیالات میں محو رہا اور ابھی خدا جانے کب تک اسی حالت میں رہتا مگر شہزادی کی کرخت آواز سے چونک اٹھا۔

    شہزادی۔ کیا اس بیہودہ عورت نے اس دفعہ پھر زرد پھولوں کا تحفہ بھیجا ہے۔ یہ پھول تو تابوت پر ڈالے جاتے ہیں۔ کون نمک حرام یہ ہار یہاں لایا ہے؟

    یہ کہتے ہوئے اس نے یہ ہار شجاع کے ہاتھ سے لے کر پھینک دیا۔ اس کے بعد گیتی آرا کو کوستی اورنوکروں کو برا بھلا کہتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔ شجاع نے منہ سے تو کچھ نہ کہا مگر اس کی آنکھیں پرنم ہو گئیں۔ وہ سوچنے لگا کیا مظلوم گیتی آرا کا تحفہ محبت ہر سال اسی طرح پائے استحقار سے ٹھکرا دیا جائےگا۔

    وہ تمام دن مغموم رہا۔ شام کے قریب جب وہ باہر سیر کو گیا تو بغیر کسی ارادے کے چلتے ہوئے باہر کے راستہ سے محل سرا میں داخل ہوکر سیدھا گیتی آرا کے کمرے میں جانکلا۔ گیتی آرا دریچہ کے قریب کرسی پر بیٹھی بحر فکر میں غوطہ زن تھی۔ وہ خاکی رنگ کے کپڑے پہنے تھی۔ اس کے عنبر افشاں سیاہ بال الجھے ہوئے کندھوں پر پریشان تھے۔ سورج کی آخری کرن اس کے زردی مائل دلفریب چہرہ کو چار چاند لگا رہی تھی۔ گلنار بھی اپنی کرسی پر بیٹھی اونگھ رہی تھی۔

    وہ کئی منٹ تک دروازے میں کھڑا اسی کو دیکھتا رہا۔ گیتی آرا اپنے خیالات کی رو میں بہہ رہی تھی۔ شجاع کی موجودگی کا اس کو مطلق احساس نہ ہوا۔ مگر گلنار نے اسے نیم وا آنکھوں سے دیکھتے ہی فوراً ہی چھلانگ لگائی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔

    گلنار کی اس حرکت پر وہ ایک دم چونک پڑی اور سامنے شجاع کو کھڑا دیکھ کر بے اختیار ایک چیخ اس کے منہ سے نکلی اور لڑکھڑاتے ہوئے اس کے استقبال کو بڑھی۔ لیکن شجاع وہیں کھڑا رہا۔ ندامت سے اس کے پاؤں بھاری ہو رہے تھے۔

    اس واقعہ کے بعد شجاع شہزادی سے چوری چھپے اکثر گیتی آرا کے پاس آتا جاتا رہا۔ جب اس ملاپ کو ایک سال کے قریب ہو گیا تو یکایت گیتی آرا سخت بیمار ہو گئی۔ کھانا پینا چھوٹ گیا اور سوکھ کر کانٹا ہو گئی۔ پہلے تو معمولی بات سمجھ کر اس نے کسی سے بیماری کا ذکر نہ کیا، لیکن آخر جب تکلیف زیادہ بڑھ گئی تو ڈاکٹر کو دکھایا گیا۔ جو معائنہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ مسز شجاع حاملہ ہیں۔

    یہ نوید جانفرا سن کر فرط طرب سے شجاع کی باچھیں کھل گئیں۔ بڑی بیگم نے منہ مانگی مراد پائی۔ شہزادی نے جب یہ خبر سنی تو وہ سناٹے میں آ گئی، مگر کیا کر سکتی تھی۔ گتھی سلجھنے والی نہ تھی۔ جل بھن کر رہ گئی۔ آخر اس نے اس غداری کا بدلہ لینے کی ٹھان لی۔

    شجاع کو خوف تھا کہ نہ جانے اب شہزادی کیا آفت برپا کرےگی۔ مگر برخلاف اس کے شہزادی نے اسے مبارک باد دی۔ اس خبر پر نہایت خوشی کا اظہار کیا اور رفتہ رفتہ گیتی آرا سے بھی راہ و رسم بڑھاکر اپنی ریاکارانہ محبت میں اسے ایسا اسیر کر لیا کہ وہ اس کا دم بھرنے لگی۔ گیتی آرا کا کمرہ بازار کے سرے پر واقع تھا جس کے نیچے ہر وقت دوکانداروں کی کرخت آوازیں، موٹریں اور ٹانگوں کا شور و غل بپا رہتا۔ شہزادی اب اکثر اس کے کمرے میں آتی اور دریچے میں بیٹھ کر پہروں اس پر رونق بازار کی سیر دیکھا کرتی۔

    شام کا وقت تھا۔ گیتی آرا اپنے کمرے میں پلنگ پر لیٹی تھی۔ شہزادی مسکراتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں مٹھائی کی ایک پلیٹ تھی۔

    شہزادی۔ بہن آج طبیعت کیسی ہے۔

    گیتی آرا۔ بدستور خراب ہے۔

    شہزادی۔ کچھ کھایا پیا بھی ہے۔

    گیتی آرا۔ بہن کھانے کو جی نہیں چاہتا۔

    شہزادی۔ اس طرح فاقہ کرنے سے تو بہت کمزور ہو جائےگی۔ لو یہ تھوڑی سی مٹھائی کھا لو۔ امی جان نے نیاز کی بھیجی تھی۔ یہ تمہارا حصہ ہے۔

    گیتی آرا کی طبیعت آج بہت بدمزہ تھی۔ اسے متلی ہو رہی تھی مگر شہزادی کے خوش کرنے کو اس نے پلیٹ اس کے ہاتھ سے لے لی اور رس گلا اٹھاکر کھانے لگی۔

    شہزادی مسکراتی ہوئی دریچہ میں بیٹھ کر بازار کا نظارہ دیکھنے لگی۔ گیتی آرا نے رس گلا اٹھایا۔ مگر کھانے کو جی نہ چاہتا تھا۔ اس نے شہزادی کی آنکھ بچاکر سب مٹھائی گلنار کی پلیٹ میں ڈال دی اور خود یونہی منہ ہلاتی رہی اور جب وہ مٹھائی ختم کر چکی تو گیتی آرا نے شہزادی کو دکھانے کے لیے تولیہ سے منہ ہاتھ پونچھ کر خالی پلیٹ میز پر رکھ دی۔

    رات آدھی سے زیادہ گذر چکی تھی۔ یکایک گلنار کرب و اضطراب سے لوٹنے لگی۔ گیتی آرا کی آنکھ کھل گئی۔ اسے بیدار دیکھ کر گلنار نہایت دردناک آواز سے کراہنے لگی۔ اس کی حالت متغیر تھی۔ پتلیاں پھر گئی تھیں۔ سانس رک رک کر آتا تھا اور وہ کوئی دم کی مہمان معلوم ہوتی تھی۔

    گیتی آرا کی آنکھوں میں دنیا اندھیر ہو گئی۔ وہ انتہائی الم سے سرپکر کر بیٹھ گئی اور بے اختیار اس کے آنسو جاری ہو گئے۔ اتنے میں کسی نے زور سے دستک دی۔ گیتی آرا سہم گئی کہ اس وقت دست کے کیا معنی آخر دل کڑا کرکے پوچھا کون ہے۔ ’’جلدی دروازہ کھولو۔‘‘ کسی نے کہا۔ آواز پہچان کر گیتی آرا نے فوراً دروازہ کھول دیا۔

    شجاع بوکھلایا ہوا اندر آیا اور کہنے لگا۔ اف گیتی آرا غضب ہو گیا۔ جلدی چلو۔ شہزادی قریب المرگ ہے۔ اس ناگہانی خبر سے گیتی آرا کے دل پر دھکا سا لگا۔ وہ کلیجہ مسوس کر رہ

    گئی اور قہر درویش برجان درویش گلنار کو اسی حالت میں چھوڑ کر شجاع کے ساتھ چل دی۔

    گیتی آرا کو دیکھ کر شہزادی باوجود انتہائی کرب کے بستر سے اچھل پڑی۔ ’’آہ تم ابھی زندہ ہو۔‘‘ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ ’’کیوں کیا ہے۔‘‘ شجاع نے کانپ کر کہا۔

    شہزادی (مایوسانہ نگاہوں سے دیکھ کر) میں نے پہلے اس کو مٹھائی میں سنکھیا ملاکر کھلایا اور بعد میں خود کھایا۔ مگر تعجب ہے اس پر ابھی تک کچھ اثر نہ ہوا۔

    شہزادی کی زبان سے یہ لفظ سن کر شجاع تھرا اٹھا۔ مگر گیتی آرا کہنے لگی، بہن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ میں نے وہ مٹھائی خود نہیں کھائی تھی۔ بلکہ گلنار کو دے دی تھی۔ آہ وہ بےچاری مجھ پر صدقے ہو گئی۔ اب تک یقیناً وہ مر چکی ہوگی۔

    شہزدی۔ (اپنے خشک لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے ) آہ تم زندہ ہو اور میں اس دنیا سے نامراد جا رہی ہوں۔ افسوس صد افسوس۔

    اس کی آنکھیں بے نور ہوگئیں۔ ناک ٹیڑھی اور اعضاء بے حس و حرکت ہو گئے۔ وہ کئی منٹ تک بالکل خاموش رہی۔ یکایک اس نے اپنی سب قوتوں کو یک جا جمع کرکے پھر آنکھیں کھول دیں اور اپنی نظریں بحال کرکے کہنے لگی۔

    شہزادی۔ گیتی آرا تم خوش ہوگی کہ میں مر رہی ہوں۔ لیکن یاد رکھو، میری روح تم سے ضرور انتقام لےگی۔

    اتنا کہتے ہوئے اس کی گردن کا نکا ڈھلک گیا اور روح تن سے جدا ہو گئی۔

    شہزادی کی تجہیز و تکفین کے بعد جب گیتی آرا اپنے گھر گئی تو یہ دیکھ کر اس کے تعجب کی انتہا نہ رہی کہ گلنار صحیح و سلامت اپنی کرسی پر بیٹھی ہوئی ہے۔

    اس حادثہ کے دو مہینے بعد خدا نے گیتی آرا کو چاند سا بیٹا عطا کیا۔ مگر افسوس یہ خوشی ان لوگوں کو زیادہ دیر تک دیکھنی نصیب نہ ہوئی۔ بچہ پندرہ دن زندہ رہ کر گھر والوں کو داغ مفارقت دے گیا۔

    بچے کی موت سے گیتی آرا اور شجاع نہایت دل برداشتہ ہو گئے۔ بڑی بیگم کو تو ایسا صدمہ ہوا کہ وہ جانبر نہ ہو سکی۔ ان کے بعد گھر کی رہی سہی رونق بھی کافور ہو گئی۔ شجاع تو پھر بھی باہر جاکر دو گھڑی دل بہلا لیتا۔ مگر گیتی آرا تصویر یاس بنی ہوئی ہروقت کڑھتی رہتی۔ درودیوار کاٹنے کو دوڑتے تھے۔ اب اسے کسی چیز سے دلچسپی نہ تھی۔ اس پر طرہ یہ کہ گلنار نے بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیا۔

    جب سے گلنار اس خوفناک موت کے منہ سے بچی تھی۔ اس دن سے اس کی عادتیں بالکل بدل گئی تھیں۔ وہ نہایت غصیلی اور خونخوار ہو گئی تھی۔ اب وہ اکثر اوقات گیتی آرا پر غراتی اور شجاع کو دیکھ کر بھی سامنے ڈٹی رہتی اور اکثر اوقات ایسی خوفناک آواز نکال کر روتی کہ سننے والوں کے دل دہل جاتے۔

    گیتی آرا نے اس کے گلے میں پٹہ ڈال دیا تھا۔ یہ تمام دن برآمدے میں زنجیر سے بندھی رہتی اور رات کو کھول دی جاتی تھی۔

    ڈیڑھ سال بعد پھر گیتی آرا کے لڑکی پیدا ہوئی۔ مگر وہ بھی پندرہ دن تک زندہ رہ کر بغیر کسی بیماری کے اچانک مر گئی۔ اس بچی کی موت سے شجاع کو یقین ہو گیا کہ یہ مکان

    آسیب زدہ ہے اور اکثر اوقات رات کو نہایت ڈراؤنے خواب دیکھتا تھا۔ چنانچہ ان توہمات کے زیر اثر اس نے وہ گھر چھوڑ دیا اور باہر کوٹھی میں سکونت اختیار کر لی۔

    یہاں آکر بھی ان خوفناک خوابوں نے پیچھا نہ چھوڑا۔ وہ اکثر دیکھتا کہ گلنار گیتی آرا کے سرہانے بیٹھی ہنس رہی ہے اور بعض دفعہ اسے محسوس ہوتا کہ گلنار کا قد بڑھتے بڑھتے گدھے جتنا ہو گیا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ یہ واقعات عالم بیداری کے ہیں۔ مگر گیتی آرا اس کے اس خیال کو تمسخر میں اڑا دیا کرتی تھی۔

    اسی سال گیتی آرا کو پھر امیدواری ہوئی۔ شجاع کے باپ کے ایک دوست شیخ نیاز احمد نے جو ایک عالم باعمل تھے۔ استخارہ کرکے شجاع کو بتایا کہ گیتی آرا کے بچوں پر کسی بدروح کا سایہ ہے۔ چنانچہ انہوں نے ایک تعویز دیا کہ جب بچہ پیدا ہو تو اس کے گلے میں ڈال دیا جائے۔

    اتفاق کی بات سمجھو یا خدا کی قدرت گیتی آرا کا تیسرا بچہ اصغر زندگی والا پیدا ہوا۔ شجاع اور گیتی آرا کے رنج و اندوہ مسرت میں تبدیل ہو گئے اور وہ اپنے آپ کو دنیا میں سب سے زیادہ خوش قسمت تصور کرنے لگے۔

    بچہ نہایت تندرست اور موٹا تازہ تھا۔ والدین کا اعتقاد تھا کہ بچہ نے تعویذ کی برکت سے ہی زندگی پائی ہے۔ چنانچہ وہ تعویذ کسی وقت بھی اس کے گلے سے علیحدہ نہ کیا جاتا تھا۔

    اصغر کی پہلی سالگرہ تھی۔ شام کا وقت تھا گیتی آرا کا کمرہ دلہن کی طرح سجا ہوا تھا۔ گلدستوں کی بوباس سے تمام کوٹھی بہک رہی تھی۔ برقی قمقوں کی تیز روشنی شیشوں کے سامان پر پڑ کر نہایت دلفریب سماں پیش کر رہی تھی۔ جابجا دروازوں پر زر و تار سہرے لٹک رہے تھے جو ایسی تقریب پر اکثر باندھے جاتے ہیں۔ درودیوار سے شادمانی ٹپک رہی تھی۔ شجاع میز کے قریب کھڑا نہایت خوشی سے ان تحائف کو دیکھ رہا تھا۔ جو میز پر قرینے سے رکھے تھے اور کمرے کی زینت کو دوبالا کر رہے تھے۔ یہ وہ تحائف تھے جو شجاع اور گیتی آرا کے عزیزوں نے اصغر کو سالگرہ پر دیے تھے۔

    مہمان عورتیں رخصت ہو گئیں۔ گیتی آرا اصغر کو گود میں لیے اندر داخل ہوئی۔ بچے کو دیکھ کر شجاع کا چہرہ پھول کی طرح کھل گیا۔ اس نے بچے کو ماں کی گود سے لے لیا اور ایک کرسی پر بیٹھ کر اس سے کھیلنے لگا۔

    یکایک اس کی نظر بچے کے گلے پر پڑی۔ وہ گھبراکر کہنے لگا۔

    ’’گیتی آرا اس کا تعویذ کہاں ہے؟‘‘

    یہ سنتے ہی گیتی آرا سٹ پٹائی ہوئی غسل خانے کی طرف بھاگی۔ اس نے نہلاتے وقت اسے اتار کر شیلف پر رکھا تھا۔ مگر اب اس کا نام نشان تک نہ تھا۔ تعویذ کی گم شدگی سے ان کے دل بجھ گئے اور رنگ فق ہو گیا۔ تمام مسرتیں یک دم کافور ہو گئیں۔ دونوں عالم یاس میں بچے کو گود میں لے کر پلنگ پر بیٹھ گئے۔

    رات طویل اور خوفناک تھی۔ بارہ بجے کے بعد جھکڑ چلنا شروع ہو گیا۔ بارش کے ساتھ اولے بھی پڑنے لگے۔ رعد کی گرج اور برق کی چشمک زنی قیامت برپا کرنے لگی۔ ہوا نے وہ زور باندھا کہ الامان۔

    کمرے میں اداسی چھائی تھی۔ پچھواڑے کی طرف برج میں گلنار بیٹھی نہایت پردرد آواز میں ’’میاؤں میاؤں‘‘ کر رہی تھی۔ اس کی ہولناک آواز شب تاز کی نحوست میں دو چند اضافہ کر رہی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ صدہا بد روحیں بین کر رہی ہیں۔

    باہر توشہ خانہ کی طرف سے برتنوں کی جھنکار سن کر گیتی آرا کے کان کھڑے ہو گئے۔ تھوڑی دیر بعد دروازے پر کھٹکا ہوا۔ پھر پاؤں کی چاپ سنائی دی۔ وہ کانپنے لگی۔ شجاع نے اسے تسلی دینے کی غرض سے پستول بھر کر پاس رکھ لیا۔

    اتنے میں روشندان سے کوئی چیز دھماکے کے ساتھ گری۔ گیتی آرا خوف سے اچھل پری۔ شجاع نے کہا ’’اوہو یہ تو گلنار ہے۔‘‘ گلنار آتے ہی ڈریسنگ روم میں گھس گئی۔ شجاع نے اٹھ کر ڈریسنگ روم کے دروازے میں چاپی گھما دی تاکہ گلنار باہر نہ نکل سکے۔

    رات چوتھائی کے قریب گزر چکی تھی۔ شجاع اور گیتی آرا کی آنکھ لگ گئی۔ یکایک گیتی آرا نے خواب میں دیکھا کہ شہزادی اس کے ساتھ ہاتھا پائی کرکے بچہ چھیننا چاہتی ہے اور

    دہشت سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ اتفاقاً اس کی نظر ڈریسنگ روم کے دروازے پر جاپڑی۔ دروازہ آہستہ آہستہ کھلا۔ ایک عورت اندر سے نمودار ہوئی۔ گیتی آرا چیخ مار کر بےہوش ہو گئی، شجاع جاگ اٹھا۔ اس نے دیکھا کہ شہزادی پلنگ کے قریب بچے پر جھکی ہوئی ہے۔ گھبراکر اس نے یکایک پستول داغ دیا۔ ایک خوفناک چیخ کے ساتھ دھم سے کوئی چیز زمین پر گرکر کراہنے لگی۔

    یک لخت بجلی فیوز ہو گئی۔ کمرہ دھوئیں سے بھر گیا۔ شجاع حواس باختہ دیوار کا سہارا لے کر کھڑا ہو گیا۔ ادھر اصغر نے گلا پھاڑ پھاڑ کر رونا شروع کر دیا۔ اس کے رونے سے شجاع کی کچھ ڈھارس بندھی۔ اس نے جلدی سے دروازہ کھول دیا۔

    مطلع صاف ہو چکا تھا۔ آخری مہینہ کے چاند کی پھیکی روشنی کمرے میں پڑنے لگی۔ شجاع نے بچے کو اٹھا لیا۔ اتنے میں گیتی آرا بھی تازہ ہوا کے جھونکے سے ہوش میں آ گئی اور ’’میرا بچہ، میرا بچہ‘‘ کہہ کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔

    ’’تمہارا بچہ محفوظ ہے۔ شجا ع نے کہا اور گیتی آرا کا ہاتھ پکڑ کر برآمدے میں لے آیا۔ ادھر پستول کا دھماکا سن کر ملازم بھی آچکے تھے۔ شجاع نے انہیں لیمپ جلانے کا حکم دیا۔ لیمپ روشن ہونے پر دونوں اندر آ گئے۔ یہ دیکھ کر ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ بجائے شہزادی کے فرش پر گلنار کی لاش پڑی تھی۔

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے