گیدان کا اجالا
بڑے میاں کی شخصیت قابل توجہ نہ تھی - یوں توعام سے بوڑھے انسان تھے۔ بالکل ہی دبلے پتلے چہرہ جیسے کچھ کی دڑ دڑ، لکیریں، شیلے، گڑھے، کمر میں ذرا ساخم چونکہ لکھنو سے فرار ہو کر آئے تھے۔ وہی لکھنوی ٹھاٹھ، ایک چپکی ہوئی سیاہ اچکن، سر پر لکھنوی دو پلی ٹوپی، کلیدار چپکا ہوا۔ سنگل بیرل شارٹ گن سی ٹانگیں جن پہ سفید لکھنوی چوڑی دار پاجامہ جو کوئیٹہ کی سردی میں بھی اپنی نفاست اور ٹخنوں پر پڑنے والی سلوٹوں ( چڑیوں) کے باعث مختلف دکھائی دیتا۔ بڑے میاں مال دولت اسباب تو لکھنو میں ہی پھینک آئے تھے۔ صرف اپنے نظرئیات، عقیدے لکھنو کی شائستگی، نفاست اور شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ ہی ساتھ لائے تھے۔ جنہیں کو لپور ریلوے اسٹیشن پر نہ روکا گیا۔ ان کی آنکھیں سیاہ گہری گہری تھیں جیسے مند دریگ یا جا لگی کی رات، نپے تلے قدموں سے چلتے دائیں بائیں نہ دیکھتے، قدرے جھکی ہوئی نظروں سے چلتے۔ چہروں پر نگاہ نہ دوڑاتے۔ عجیب سی تمکنت تھی جیسے طیری کی راہوں پہ ہمایوں بادشاہ۔ ہاتھ میں عموماً رومال رہتا۔ قریب سے ٹانگہ گزرتا تو رو مال منہ پہ رکھ لیتے۔
اسکول کے بعد ہم گلی ڈنڈا، قینچے کھیلتے سڑک پہ چونے سے خا نے بنا رکھے تھے، ٹیم پوری ہوتی تو بارڈی کھیلتے۔ بڑے میاں یوں تو چند روز کے لیے بیٹی سے ملنے آئے تھے ان کا گھرانہ کراچی میں آ ن بسا تھا مگر یہاں ان کا دل لگ گیا۔ چوہدری امداد علی جو امداد ہوٹل اور اپنی یہ بڑی سی کار کے لیے معروف تھے۔ بڑے میاں ان کے دائیں ہاتھ کی حویلی میں مہمان ہوئے تھے۔ یہ متروکہ حویلی ان کے داماد کو الاٹ ہوئی تھی گنگا جمنی تہذیب نئی نئی ٹوٹی تھی۔ فضا دوستانہ، سیکولر، انسان دوست تھی۔ امیر غریب دو قومی میں بٹے نہیں تھے۔ کوئیٹہ میں۳۹ مندر گردوارےتھے۔ امیر غریب مل کر ایک ہی گلی محلہ میں رہتے۔ چوہدری امداد علی کے عالیشان گھر کے پہلو میں ہی محنت کش سیون ٹائپ گھروں میں آباد تھے۔ گھر کی بیرونی دیوار کے ساتھ ہودی تھی۔ جو انگریز گھوڑوں، بیلوں کے لیے بنا گئے تھے۔ سردیوں میں بچے اس خالی ہودی میں جا بیٹھتے۔ ٹین کے خالی ڈبے میں کو ئیلہ ڈال کر ہم اسے تاپتے۔ اور ہو دی میں بیٹھے باتیں کرتے ریڈیو ابھی تک نہیں آیا تھا۔ طویل شا میں بھی خاموش ہی رہا کرتیں۔
ایک روز بچے منادی کرتے دوڑتے پھرے کہ بڑے میاں نے کیقباد روڈ کے سارے بچوں کو باقرخانی دعوت پہ بلایا ہے۔ یوں تو کیقباد روڈ لیڈی سنڈیمن اسکول سے بھی آگے نکل جاتا۔ مگر ہم گوردت سنگھ سے بیکری تک ہی کو اپنا روڈ قرار دیتے۔ ہمارے بزرگوں کو خدشہ تھا کہ لڑکے جس قدر شرارتی، چلبلے، جھگڑالو اور کچھ چور چور سے ہیں۔ کسی روز دونوں جانب سے سرکار آوٹ آف باؤنڈ کا انتباہی بورڈ ہی نہ لگادے۔ ہم سبھی خوش خوش بڑے میاں کے ہاں گئے۔ ان کے گھر میں ایک لان اور گلاس روم تھا۔ جسے ہم بارہ دری کہا کرتے۔ سہ پہر کا پھیکا پھیکا زرد سا سورج تھا، جس کی غیرت چلتن نے نچوڑ لی تھی۔ گھاس پہ دریاں بچھی تھیں۔ حیرت ہوئی کہ بڑے میاں کو سبھی بچوں کے نام یاد تھے۔ وہ سبھی کو نام لے کر پکارتے کوئی نام یاد نہ آتا تو بلا تامل پوچھ لیتے۔
چائے کے کوپ کی بجائے ببرے (گول پیالے ) تھے تا کہ باقر خانیاں چائے میں ڈبوکر چمچ کی مدد سے کھائی جا سکیں۔ بڑے میاں بھی کسی لکھنوی رئیس کی طرح مجسم اخلاق اور مہمان نوازی کے انداز لئے تھے۔ باقر خانیاں بھی بہت تھیں۔ تھال بھرے پڑے تھے۔ ہم نے نظر بچا کر باقر خانیاں اپنے لباس میں بھی چھپا لیں۔ اس عرصہ میں ایک بار گھر کے اندر گئے تو ہم نے مزید مال پار کیا۔ کیونکہ باقر خانیاں تو مہینہ بھر میں بھی بے ذائقہ یا خشک نہ ہوتیں ہم کھا پی چکے تو بڑے میاں دوبارہ جلوہ افروز ہوئے۔ بالشت سے ٹیک لگا کر بچوں میں آن بیٹھے۔
”پیارے بچو ! تم لوگ کھیلتے کودتے رہتے ہو۔ میں نے تمہارے ہاتھ میں کتاب نہیں دیکھی۔ کتاب انسان کو شعور اور دانش دیتی ہے۔“ معاً انہیں خیال آیا کہ گفتگو کچھ عالمانہ ہو گئی ہے۔ بچوں کے سروں سے گزر رہی ہے۔ تھم کر یوں گویا ہوئے۔
”کتابیں پڑھو گے تو اچھے انسان بنو گے ترقی کرو گے۔“
سلیم نے جی کڑا کیا،
”کتابیں ہوں تو پڑھیں۔“
بڑے میاں شفقت سےمسکرائے۔“میں نے نکڑ والی دکان الاٹ کرالی ہے۔ وہاں ٹکیاں ٹافیاں بھی ہوں گے۔ پرمل، لائی، بھنے چنے اور کتابیں بھی۔ جو بچہ کتاب پڑھے گا۔ انعام بھ ملے گا۔“
سارے ہی بے چین ہو گئے، ”کیا انعام“
بڑے میاں پورے منصوبہ ساز تھے ”چاکلیٹ ملیں گے“ سبھی بچے خوش ہوئے۔ ہمیں ایک ٹکہ روز ملتا۔ وہ آدھی چھٹی میں کچھ کھانے کے لیئے۔ بٹوارے پہ جو نام بدلے بھی وہ نئے اور پرانے نام یوں تو ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ مگر پرانی قدروں کی طرح پرانے نام بھی دم توڑے جاتے تھے۔ خالصہ اسکول اسپیشل اسکول بن گیا تھا۔ ہمیں کبھی کبھار اکنی یا کسی تہوار پہ دونی بھی مل جایا کرتی۔ چونی یا اٹھنی عید بقر عید پہ ہی ملتی اور روپیہ چاند سا گول گول دور ہی سے ہمیں دیکھتا۔ ایک روپے میں سولہ آنے ہوا کرتے۔ باپ بڑا نہ بھیا۔ سب سے بڑا روپیہ ! لوٹ مار سے جو باقر خانیاں بچی تھیں۔ بڑے میاں نے بچوں کو ہی بخش دیں۔
”میاں گھر لے جائیے۔ کتابیں پڑھنے کی تیاری کیجئے۔ پھر روز ہی باقر خانیاں ملا کریں گی۔“ ہمیں ندامت بھی ہوئی کہ اس دریاء دلی کا اندازہ ہوتا تو باقر خانیاں پار نہ کرتے۔ کھلم کھلا لے جاتے۔ اس دعوت کے بعد بڑے میاں سے ہماری دوستی ہوگئی۔ سبھی ادب سے سلام کرتے۔ ان کی سرزنش پہ توجہ دیتے۔ وہ نکڑ والی، کسی کنجڑے کی دکان بھی کھل گئی۔ جیسے ہندو تالہ لگا گئے تھے کہ امن ہوا تو دوبارہ ٹھیا جمائیں گے۔ سیون ٹائپ تھکی ہوئی دکان تھی۔ اسے ہی لیپ پوت کے دوبارہ کار آمد بنایا جا رہا تھا۔ بڑے میاں اور دکان کی حالت ایک سی تھی بڑے میاں کے پیروں میں لنگر ڈالنے کا بھی خیال آتا۔ اتنے دھان پان تھے کہ زور کی ہوا چلتی۔ لوڑ آتا تو انہیں ساتھ ہی لے اڑتا۔ اورکوه مردار پہ دے مارتا جہاں مم رہتی ہے۔ چند روز میں دکان سچ گئی، نہ رنگ نہ روغن، ویسے ہی بے رنگ جیسے بٹوارے کے بعد کوئیٹہ۔
بچوں کے لیے دبلی پتلی کتابیں دکان کے شیلف بھرنے لگیں۔ میرے ابا کا پوچھا۔ وہ ڈسٹرکٹ انسپکٹر آف اسکولز سبی تھے۔ میں نے وعدہ کیا کہ جو نہی آئے، پہیہ چلاتا آؤں گا اور فوراً اطلاع دوں گا۔ ساتھ کا مکان میاں شفیح کا تھا وہ بھی محکمہ تعلیم کے افسر تھے۔ بڑے میاں کو ان کی بیٹھک میں راز و نیاز کے گفتگو کرتے دیکھا۔ میاں شفیح نہائیت ہی اپنائیت سے پیچواں گڑ گڑاتے ان کی گفتگو سنتے رہے۔ بعد میں ان کے بیٹے انعام نے بتایا کہ اپنی دکان کے لیے بچوں کی کتابیں طلب کر رہے تھے۔ میاں شفیح زبان کے پابند تھے۔ چند روز میں یہ بہت سی کتابیں بھیجوا دیں۔ بڑے میاں نے چوہدری عطا محمد کا در کھٹکھٹایا۔ وہ بڑے افسر تھے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر تھے۔ ہمیشہ سوٹ پہنتے۔ ٹائی لگاتے۔ سر پہ ہیٹ لگاتے گورے چٹے تو تھے ہی۔ ہمیں انگریز انگریز سے دکھائی دیتے۔ کتابوں کا ذخیرہ ان کی جانب سے بھی عطیہ ہوا۔ لائیبریری جم گئی۔ یہ محلہ مہاجروں کا تھا۔
بغیر سیلنگ کے ٹین والی چھتوں کے لیے ایک ایک کمرے میں خاندان بھرے رہے۔ برس ہا برس برف، بارش، دھوپ سہتے چھتوں کا منہ جھلس کر کالا پڑ گیا تھا۔ یہ چھتیں بڑی کھٹور تھیں۔ گرمیوں میں توا بن جاتیں۔ سردیوں میں گوریچ چلتی کھڑکیاں دروازے بجاتی پھرتی گھروں میں گھس جاتی۔ مہاجروں کے لیے یہی کیا کم تھا کہ سر چھپانے کو جگہ مل گئی تھی۔ چادریں تان کر ان کی بے ہنگم ٹین کے گھروں میں غسل خانے بنارکھے تھے۔ وہ سبھی نیند میں چل رہے تھے۔ انہیں اندازہ ہی نہ ہوتا ہے کہ کسی خواب سے جاگے ہیں۔ قابو س کی حالت میں ہیں یا کوئی بھیانک خواب دیکھے جاتے ہیں۔ جس کا کوئی انت نہیں۔ بے چین راتوں کی کروٹوں سے جاگتے تو بھیانک حقیقتیں دھانہ کھولے کھڑی ہوتیں۔ ان کا نہ تو روزگار تھا۔ نہ ہی کوئی پہچان نہ کوئی مستقبل۔ بڑے میاں کی لائیبریری چل نکلی۔ سبھی بچوں کے نام ان کو یاد تھے۔ کوئی چند روز نہ آتا تو بچہ بھجواتے کہ بڑے میاں یاد کرتے ہیں۔ کوئی بیمار ہوتا تو خیریت دریافت کرنے آتے۔ اور کچھ پھل وغیرہ یا پورے چار آنے کا سیر بھر شنڈے خانی قابلی انگور ہی لیے آتے۔
محلے بھر میں تاثر تھا کہ بڑے میاں ایک مہربان اور شفیق انسان ہیں۔ کچھ دیوانے سے، مخبوط الحواس ہیں۔ بچوں کو کتابیں پڑھانے میں باؤلے ہوئے جاتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں دست غیب ہے۔ جنات رقم دے جاتے ہیں۔ مفت میں لائیبریری چلاتے ہیں۔ شیشے کے یہ بڑے بڑے جار سجے تھے۔ جن میں ٹکیاں، چاکلیٹ، چنے، پھلے، پرمل، لائی اور جانے کیا کیا بھر رکھا تھا۔ ہمیں کتابوں سے کیا دلچسپی ہوتی۔ ہم تو کتابیں بھی ان ہی چیزوں کے لئے عاریتا ًلے کر پڑھتے۔ آر چر روڈ پہ پرانی کتابوں کی ایک دکان تھی۔ جس کا مالک تھا تو مسلمان۔ مگر وہ اچکن پہنتا اور گاندھی سی گول عینک لگاتا۔ جس کے باعث اسے گاندھی کہتے ویسے ایک سٹھیائی سی عورت ساڑھی لگائے پھرتی۔ اسے ”نہرو کا ماں“ کہتے۔ گاندھی نصابی کتاب چوتھائی قیمت پر خرید کر نصف پہ فروخت کر ڈالتا۔ جس کے باعث اس کی دکان پہ رونق رہتی۔ بیچنے والے لڑکے سے وہ سوال نہ کرتا کہ کتاب آئی کہاں سے ہے۔ اٹھنی کی کتاب دونی میں خرید کر چونی میں بیچ ڈالتا۔ کئی لڑکےتوہم جماعتوں کے بستے ہی بیچ آتے۔ خصوصاً جب کسی سینما میں زنانہ شو ہوتا کیونکہ عورتوں کا ٹکٹ باراں آنے اور لڑکوں کا ٹکٹ چھ آنے ہوتا۔ بعض لڑکے تو بڑے میاں کی کتابیں بھی گاندھی کو بیچ آتے اور پیسے کھرے کرتے۔ بڑے میاں جس لڑکےکو کتاب دیتے اس کے نام کے سامنے کتاب کا نام لکھ دیتے۔ چونکہ گلی محلے کی دکان تھی۔ لڑکوں کے الگ الگ صفحات تھے۔ موقعہ پاتے ہی وہ لڑکے رجسٹر کھول کر اپنے نام پر لکھی کتا بیں بڑے میاں ہی کے قلم سے کاٹ ڈالتے، جس کا مطلب تھا کہ کتاب موصول ہوگئی ہے۔ بڑے میاں کو ادھر اُدھر کی باتوں میں لگا کر ہم ان کے مرتبانوں سے چاکلیٹ، ٹافیاں، ٹکیاں بھی پار کر لیتے۔ وہ اسی قدر معصوم تھے کہ انہیں کچھ خبر نہ ہونے پاتی۔ کہ مال لٹا جاتا ہے۔ لکھنوی تہذیب کا یہ عالم کہ ہر ایک سے آپ کہہ کر بات کرتے۔ شائستہ و شستہ زبان میں”رکھائی کی لینا۔ ٹالے بالے پالنا - پانی پانی ہونا“، جیسے فقر ے ہمارے سروں سے گزر جاتے۔ ان کی اردو نرم ملائم مگر ہمارے لیے مشکل ہوئی۔
بڑے لڑکے کبھی کبھار بڑے میاں سے ایسے لگاؤ لگاتے کہ ان کی جان پر بن آتی - شیروانی ان کے لباس کا حصہ تھی۔ بلکہ یوں لگتا کہ اس جنم میں شیروانی پہنے ہی آئے ہیں۔ شائد سوتے ہوئے ہی شیروانی اتارتے ہوں۔ عید کے روز نئے پھبن کی شیروانی پہنے آئے تو بڑے لڑکے عید ملنے لپکے، سڑک پہ اونٹ والا، گدھا گاڑی والا بچوں کو ادھر اُدھر سیر کراتا پھرتا۔ ان کی عیدی اینٹھ لیتا۔ اونٹ والا ایک جانب چائے سُڑک رہا تھا۔ لڑکوں نے بڑے میاں کو عید ملنے کے بہانے گلے ملتے ملتے تھام کر یوں اٹھایا کہ پل بھر میں اونٹ پہ بٹھا دیا۔ اور ساتھ ہی ساربان سا اشارہ کیا۔ اونٹ اٹھا اور چل دیا۔ بڑے میاں کو اونٹ پہ بیٹھنے کا تجربہ نہ تھا، کجا وہ انہیں دائیں بائیں پھرآتا۔ غنیمت ہے کہ بڑے میاں نے دونوں ہاتھوں سے ہتھ کڑا تھام رکھا تھا۔ لڑکے تو بھاگ نکلے۔ شتربان بدستور چائے میں منہمک تھا۔ چونکا تو اونٹ شاوک شاہ روڈ کی نکڑ عبور کر چکا تھا۔ ہم نے بھی شور مچایا ہم اونٹ کے ساتھ ساتھ بھاگ رہے تھے۔ بڑی مشکل سے وہ اونٹ موڑ کر واپس لایا۔ بڑے میاں کا انجر پنجر ہل چکا تھا۔ بمشکل انہیں اتارا - ایک بار عید پہ نائی کچھ زیادہ ہی گرمجوشی سے گلے ملا تو بڑے میاں پکار اٹھے ”ناؤ نے ہماری پسلیاں ہلا دی ہیں۔“ ان کی پسلیاں بھی لیلیٰ کی انگلیاں رہی ہوں گی۔ ٹانگیں تو رندلی میں بولان کے پانیوں کے ساتھ کھڑے کاشم جیسی پتلی پتلی تھیں۔ بڑے میاں چند روز صاحب فراش رہے، ان کے عقیدت مند لڑ کے دن بھر دروازہ پیٹتے۔ ان کی خیریت دریافت کرتے۔ لڑکوں کے تابڑ توڑ حملوں نے انہیں صحت دی۔ دوبارہ دکان پہ آ بیٹھے۔ شاعری اور بانکپن تو لکھنوی تہذیب کا حصہ ہے۔ ایک بار چوہدری امداد علی کے ہاں قوالی کی محفل کا اہتمام ہوا تو بڑے میاں نے دعوت نامہ سنتے ہی فی البدیہہ شعر کہا،
”در دولت پہ قوالوں کی ٹولی آنے والی ہے
رسول پاک کی اس جا سواری آنے والی ہے“
یہ شعر بڑے سے ڈرائینگ پیپر پہ لکھ کر دکان کے دروازے سے چپکا دیا۔ در دولت یوں کہ چوہدری امداد علی ہوٹل اور سینما کے مالک تھے اور ان کے بڑے بیٹے کا نام دولت علی تھا۔ بڑے صاحب علم صاحب ذوق انسان تھے۔ بڑے میاں عقیدوں سے بنے انسان تھے۔ محرم میں وہ میکانگی روڈ کی اثنا عشری امام بارگاہ میں ہی رہتے۔ اہل بیت سے انہیں مودت تھی۔ سفید رومال آنسوؤں سے تر رہتا مصائب اہل بیت کے بیان سے ان کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی۔ امام بارگاہ میں چاول بٹتے، شربت کی سبیلیں لگی ہوتی، شیعہ سنی یہ لنگر تھمنے نہ دیتے۔ سبھی اسے بخش کا ذریعہ سمجھتے ہوئے پیش پیش ر ہتے۔ محرم کے جلوس کو تجدید عہد قرار دیتے۔ بہت سے سال بہت سے موسم گزر گئے، ہم اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے زندگی کی دوڑ میں شامل ہوتے چلے گئے۔ بڑے میاں کسی بھولی بسری داستان کا حصہ بھی بن گئے۔
ایک نام جو کبھی زبان پر آتا۔ ایک شخص جو کبھی یاد آتا۔ سنا کہ اپنے گھر میں ہی رہتے ہیں۔ برسوں دکان کو تالہ رہا۔ بڑے میاں دکان بڑھا گئے، پھر سنا کہ دکان کرائے پہ اٹھادی۔ لائیبریری کی بجائے وہ پرچون کی دکان بنی۔ بڑے میاں سے نوجوان اتنے ہی لاتعلق تھے۔ جس قدر برآمدے میں پڑے دادا کے سائیکل سے! ہمیں عقیدت و محبت تھی۔ مگر ان کی ضرورت نہ تھی۔ بہت سے چیلنج سامنے تھے۔
ایک روز بھگدڑ مچی کہ بڑے میاں کو ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ وہیں داخل کر دیا ہے۔ ہمارے بزرگ بھی دوڑ پڑے نوجوان بھی ہسپتال کی جانب لپکے۔ دلوں کی محبت آتش فشاں کی طرح جاگ اٹھی۔ بھڑک اٹھی۔ عملے نے وارڈ کے باہر ہی روک لیا کہ ایک ایک ملاقاتی جائے ور نہ ان کو تکلیف ہوگی۔ ان کے بستر کے قریب ہی لکڑی کا بینچ سا رکھ دیا تھا جس پہ چودھری عطا محمد، میاں محمد شفیع اور میرے والد اکبر خان بمشکل جڑ کے بیٹھے۔ بڑے میاں نقاہت سے گفتگو کر رہے تھے۔ پہلے مجھے جانے کی اجازت ملی۔
بڑے میاں طاقت سمیٹ کر گفتگو کر رہے تھے”میں تو بیٹی سے ملنے آیا تھا۔ مگر میں نے دیکھا کہ بچے گلی ڈنڈا، باڑی کھیل رہے ہیں۔ پٹھو گرم کے نعرے لگاتے گالیاں بک رہے ہیں۔ تو میں نے عہد کیا کہ ہم صرف ملک بنا کر مطمئن نہ ہوں۔ اس نسل کو سنبھالیں۔ جسے یہ ملک چلانا ہے۔ میں یہیں بس گیا۔ غریب مہاجر بن کے بچوں کے ساتھ بچہ بن گیا ہے۔“بڑے میاں کو گفتگو میں دقعت ہو رہی تھی۔
مگر سبھی ان کے عقیدت مند تھے۔ احسان مند تھے۔ ان کی باتیں سننا چاہتے تھے۔ ہر آنکھ پر نم ہر دل مشکور تھا۔
”امام عالی مقام نے شب عاشور خیمے کے چراغ بجھا دیئے تھے تا کہ جو ساتھی یا افراد بیعت واپس لے کر جانا چاہیں وہ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر بغیر کسی شرمندگی یا جھجھک کے جاسکیں۔ امام حسین علیہ السلام کا مقصد کسی کو مروت میں اپنے ساتھ رکھنا نہیں بلکہ شعوری اور مرضی کی وفاداری کا موقعہ دینا تھا۔ ہم بجھے چراغ میں بھی خیمے میں موجود وفا کا دم بھرتے ہیں۔ میں اس محلے ہی کا ہو رہا۔ کراچی سے رقم منگوا منگوا کر ان بچوں پہ خرچ کرتا۔ ان کی تربیت کرتا۔ انہیں مطالعہ پہ لگاتا۔ جناب میثم تمار کی زبان وفا اور حق گوئی پہ کاٹی گئی تھی۔ میں نے ان بچوں کے لیئے اپنی زبان خود ہی کاٹ ڈالی۔ کوئی نہیں جانتا میں کون ہوں“
باہر نوجوانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔ عملے کی پرواہ کیئے بغیر ہی انہیں دھکیلتے ہوئے در آئے۔ سبھی بڑے میاں پہ نچھاور ہو گئے۔ سلیم نے ان کا ہاتھ فرط محبت سے تھام لیا۔ ہم آپ کو نہیں جانیں دیں گے۔ ”اسکی آنکھیں بھر آئیں“ ہم آپ کی کتابیں ٹافیاں چوری کرتے جوان ہوئےہیں۔
”سبھی بے حد جذباتی ہو رہے تھے۔“
”ہاں میں یہ سبھی باتیں جانتا ہوں۔“
ہم پہ گھڑوں پانی پڑ گیا۔ ہمیں بالکل علم نہ تھا کہ وہ ہماری حرکتوں سے واقف تھے۔ بڑے میاں کو کچھ غشی سی پڑرہی تھی اتنے میں ڈاکٹر چلا آیا ”افسوس ان کا تو بیٹا بھی نہیں ہے۔“
بڑے میاں نے آنکھیں کھولیں ”یہ سارے میرے بیٹے ہیں۔“
سلیم، احمد، انور۔۔۔ ”وہ ایک ایک نام لینے لگے۔“
فضاء اتنی بوجھل اور المناک تھی کہ میں سراسیمہ ہو کر باہر نکل آیا۔ اور دروازے کے سامنے پڑے بینچ پہ دھم سے ڈھیر ہو گیا۔ وقت سائیں سائیں کر رہا تھا، جدائی ماتم کر رہی تھی۔ مجھے لگا گیدان کے چراغ گل ہو چکے ہیں۔ ہر طرف اندھیرا ہے۔ مگر اس گھمبیر اندھیرے میں وفا کی روشنی ہے۔ جانثار سر سے کفن باند ھے۔ ہتھیلی پہ جاں رکھے حلقہ بنائے چوگرد بیٹھے ہیں۔
حاشیہ
کول پور: انگریز پولیس کول پور ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کی پڑتال کرتی۔
جن کے پاس ورک پرمٹ یا ثبوت نہ ہوتا انہیں وہیں اتارلیتے۔ اور آنے والی ٹرین میں زبردستی واپس بھجوا دیتے۔
طیری: مستونگ کا نواحی قصبہ جس نے ہمایوں بادشاہ کو پناہ دی تھی۔
لوڑ: ہوا کابگولہ
گوریچ: منجمد کرنے والی سائیبریا کی ہوا۔
کا شم: خود رو سر کنڈے
گیدان: بکری کے بالوں سے بناہ سیاہ خیمہ۔
مم: کوہ مردارمیں رہنے والی۔ شیرنی جسم، چہرہ عورت پسند کا مرد اُچک کر غاروں میں لے جاتی۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.