Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گِلّو

MORE BYمہادیوی ورما

    سون جوہی میں آج ایک پیلی کلی لگی ہے۔ اسے دیـکھ کر بے ساختہ ہی اس چھوٹی مخلوق کی یاد آئی، جواس بیل کی گھنی ہریالی میں چھپ کر بیٹھتا تھا اور پھر میرے قریب پہنچتے ہی کندھے پر کود کر مجھے چونکا دیتا تھا۔ تب مجھے کلی کی تلاش رہتی تھی، پرآج اس ننھی سی جان کی تلاش ہے۔

    لیکن وہ اب تک اس سون جوہی کی جڑ میں مٹی ہوکر مل گیا ہوگا۔ کون جانے سنہری کلی کے بہانے وہی مجھے چونکانے اوپر آ گیا ہو۔ اچانک ایک دن صبح کے وقت کمرے سے برامدے میں آکر میں نے دیکھا دو کَوّے ایک گملے کے چاروں طرف کھیل کھیل میں اپنی چوچیں مار رہے ہیں۔ یہ کاکبھشنڈی بھی عجیب پرندہ ہے۔ بیک وقت عزیز و خوار، انتہائی معزز انتہائی ذلیل۔

    ہمارے بیچارے آبا واجدد نہ گروڑ کی شکل میں آ سکتے ہیں، نہ مور کی، نہ ہنس کی۔ انہیں پترپکش میں ہم سے کچھ پانے کے لۓ کَوّا بنکر ہی مجسم ہونا پڑتا ہے۔ اتنا ہی نہیں ہمارے دور کے عزیزوں کو بھی اپنی آمد کا کا پیغام ان کی درشت آواز میں ہی دینا پڑتا ہے۔ دوسری طرف ہم کَوّا اور کاؤں کاؤں کرنے کو توہین کے معنی میں ہی استعمال کرتے ہیں۔ مجھے کَوّے کی اس اساطیری کہانی کی تشریح میں دفعتاً رکاوٹ پیش آئی، کیوں کہ گملے اور دیوار کے بیچ میں چھپی ایک چھوٹی سی مخلوق پر میری نظر رک گئی۔ قریب جا کر دیکھا، گلہری کا چھوٹا سا بچہ ہے جوغالِباً گھونسلے سے گر پڑا ہے اور اب کَوّے جس میں اچھی خوراک تلاش کر رہے ہیں۔ دو کَوّؤں کی چوچوں کے دو زخم اس ننھی سی جان کے لۓ بہت تھے، اس لیے وہ بے جان سا گملے سے چپٹا پڑا تھا۔

    سب نے کہا، کَوّے کی چونچ کا زخم لگنے کے بعد یہ بچ نہیں سکتا، اس لیے اسے ایسے ہی رہنے دیا جاۓ۔ لیکن جی نہیں مانا۔ اسے آہستہ سے اٹھا کر اپنے کمرے میں لائی، پھر روئی سے خون پوچھ کر زخموں پر پنسلین کا مرہم لگایا۔ روئی کی پتلی بَتّی دودھ سے بھگوکر جیسے تیسے اس کے ننھے سے منہ میں لگائی پر منہ کھل نہ سکا اور دودھ کی بوندے دونوں اور ڈھلک گئیں۔

    کئی گھنٹے کے علاج کے بعد اس کے منہ میں ایک بوند پانی ٹپکایا جا سکا۔ تیسرے دن وہ اتنا اچھا اور بیباک ہو گیا کہ میری انگلی اپنے دو ننھے پنجوں سے پکڑ کر، نیلے شیشے کے موتیوں جیسی آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ تین چار ماہ میں اس کے چکنے روئیں، جھبّے دار پونچھ اور شوخ چمکیلی آنکھیں سب کو حیران کرنے لگیں۔ ہم نے اس کی اسم عام کو اسم معرفہ کی شکل دیدی اور اس طرح ہم اسے گِلّوکہ کر بلانے لگے۔ میں نے پھول رکھنے کی ایک ہلکی ڈلیا میں روئی بچھا کر اسے تار سے کھڑکی پر لٹکا دیا۔ وہی دو برس گِلّو کا گھر رہا۔ وہ خود ہلاکر اپنے گھر میں جھولتا اور اپنی شیشے کے منکوں سی آنکھوں سے کمرے کے اندر اور کھڑکی سے باہر نہ جانے کیا دیکھتا سمجھتا رہتا تھا۔ لیکن اس کی سمجھداری اور سرگرمی پر سب کو تعجب ہوتا تھا۔ جب میں لکھنے بیٹھتی تو اپنی طرف میری توجہ مائِل کرنے کی اسے اتی تیز خواہش ہوتی تھی کہ اس نے ایک اچھا طریقہ ڈونڈ نکالا۔

    وہ میرے پیر تک آکر سرّ سے پردے پر چڑھ جاتا اور پھر اسی تیزی سے اترتا۔ اس کی یہ دوڑنے کی ترتیب تب تک چلتی جب تک میں اسے پکڑنے کے لیے نہ اٹھتی۔

    کبھی میں گِلّو کو پکڑ کر ایک لمبے لفافے میں اس طرح رکھ دیتی کہ اس کے اگلے دو پنجوں اور سر کے علاوہ سارا چھوٹا سا جسم لفافے کے اندر بند رہتا۔ اس حیران کن صورت حال میں کبھی کبھی گھنٹوں میز پر دیوارکے سہارے کھڑا رہکر وہ اپنی چمکیلی آنکھوں سے میرا کام کاج دیکھا کرتا۔ بھوک لگنے پر چک-چک کر کے مانو وہ مجھے پیغام دیتا اور کاجو یا بسکٹ مل جانے پر اسی صورت حال میں لفافے سے باہر والے پنجوں سے پکڑکر اسے کترتا رہتا۔ پھر گِلّو کی زندگی کی پہلی بہار آئی۔ نیم-چمبیلی کی خوشبو میرے کمرے میں آہستہ آہستہ آنے لگی۔ باہر کی گلہریاں کھڑکی کی جالی کے پاس آکر چک چک کر کے نہ جانے کیا کہنے لگیں۔ گِلّو کو جالی کے پاس بیٹھ کر اپنےپن سے باہر جھانکتے دیکھ کر مجھے لگا کہ اسے آزاد کرنا ضروری ہے۔

    میں نے کیلے نکالکر جالی کا ایک کونا کھول دیا اور اس راستے سے گِلّو نے باہر جانے پر سچمچ ہی آزادی کی سانس لی۔ اتنے چھوٹے جانور کو گھر میں پلے کتے، بلیوں سے بچانا بھی ایک پریشانی ہی تھی۔ اہم دستاویز و خطوط کی وجہ سے میرے باہر جانے پر کمرہ بند ہی رہتا ہے۔ میرے کالج سے لوٹنے پر جیسے ہی کمرہ کھولا گیا اور میں نےاندر پیر رکھا، ویسے ہی گِلّو اپنے جالی کے دروازے سے اندر آکر میرے پیر سے سر اور سر سے پیر تک دوڑ لگانے لگا۔ تب سے یہ روزانہ کا سلسلہ ہو گیا۔

    میرے کمرے سے جانے پر گِلّو بھی کھڑکی کی کھلی جالی کی راہ باہر چلا جاتا اور دن بھر گلہریوں کے جھنڈ کا قائِد بنا ہرڈال پراچھلتا کودتا رہتا اور ٹھیک چار بجے وہ کھڑکی سے اندر آکر اپنے جھولے میں جھولنے لگتا۔

    مجھے چونکانے کی خواہش اس میں نہ جانے کب اور کیسے پیدا ہو گئی تھی۔ کبھی پھولدان کے پھولوں میں چھپ جاتا، کبھی پردے کی شکن میں اور کبھی سون جوہی کی پتّیوں میں۔

    میرے پاس بہت سے چرند پرند ہیں اور ان کا مجھ سے لگاؤ بھی کم نہیں ہے، لیکن ان میں سے کسی کی میرے ساتھ طشتری میں کھانے کی ہمت ہوئی ہے، ایسا مجھے یاد نہیں آتا۔ گِلّو ان میں مُستَثنٰی تھا۔ میں جیسے ہی کھانے کے کمرے میں پہنچتی، وہ کھڑکی سے نکل کر صحن کی دیوار، برآمدہ پار کر کے میز پر پہنچ جاتا اور میری طشتری میں بیٹھ جانا چاہتا۔ بہت مشکل سے میں نے اسے طشتری کے پاس بیٹھنا سکھایا جہاں بیٹھ کر وہ میری طشتری میں سے ایک ایک چاول اٹھاکر بڑی صفائی سے کھاتا رہتا۔ کاجو اس کا پسنـدیدہ کھانا تھا اور کئی دن کاجو نہ ملنے پر وہ دوسری کھانے کی چیزیں یا تو لینا بند کر دیتا یا جھولے سے نیچے پھیک دیتا تھا۔

    اسی بیچ مجھے موٹر کار حادثے میں زخمی ہو کر کچھ دن ہسپتال میں رہنا پڑا۔ ان دنوں جب میرے کمرے کا دروازہ کھولا جاتا گِلّو اپنے جھولے سے اتر کر دوڑتا اور پھر کسی دوسرے کو دیکھ کر اسی تیزی سے اپنے گھونسلے میں جا بیٹھتا۔ سب اسے کاجو دے آتے، لیکن ہسپتال سے لوٹ کر جب میں نے اس کے جھولے کی صفائی کی تو اس میں کاجو بھرے ملے، جن سے علم ہوتا تھا کہ وہ ان دنوں اپنا پسنـدیدہ کھانا کتنا کم کھاتا رہا۔ میری علالت میں وہ تکیے پر سرہانے بیٹھ کر اپنے ننھے ننھے پنجوں سے میرے سر اور بالوں کو اتنے آہستہ آہستہ سہلاتا رہتا کہ اس کا ہٹنا ایک نرس کے ہٹنے کے مثل لگتا۔

    گرمیوں میں جب میں دو پہر میں کام کرتی رہتی تو گِلّو نہ باہر جاتا نہ اپنے جھولے میں بیٹھتا۔ اس نے میرے قریب رہنے کے ساتھ گرمی سے بچنے کا بلکل نیا طریقہ ڈھونڈ نکالا تھا۔ وہ میرے پاس رکھی سراہی پر لیٹ جاتا اور اس طرح پاس بھی رہتا اور ٹھنڈک میں بھی رہتا۔

    گلہریوں کی زندگی کی مدت دو سال سے زیادہ نہیں ہوتی، اس لیے گِلّو کے صفر زندگی کا اختتام آ ہی گیا۔ دن بھراس نے نہ کچھ کھایا نہ باہر گیا۔ رات میں موت کی اذیت میں بھی وہ اپنے جھولے سے اتر کر میرے بستر پر آیا اور ٹھنڈے پنجوں سے میری وہی انگلی پکڑکر ہاتھ سے چپک گیا، جسے اس نے اپنے بچپن کی ادھمری حالت میں پکڑا تھا۔ پنجے اتنے ٹھنڈے ہو رہے تھے کہ میں نے جاگ کر ہیٹرجلایا اور اسے تپش دینے کی کوشش کی۔ لیکن صبح کی پہلی کرن کے لمس کے ساتھ ہی وہ کسی اور زندگی میں جاگنے کے لیے سو گیا۔

    اس کا جھولا اتار کر رکھ دیا گیا ہے اور کھڑکی کی جالی بند کر دی گئی ہے، لیکن گلہریوں کی نئی نسل جالی کے اس پار چک چک کرتی ہی رہتی ہے اور سون جوہی پر بسنت آتا ہی رہتا ہے۔ سون جوہی کی بیل کے نیچے گلو کی قبر بنا دی گئی ہے۔ اس لیے بھی کہ اسے وہ بیل سب سے زیادہ محبوب تھی۔ اس لیے بھی کہ اس ننھی جان کا، کسی موسم بہار کے دن، جوہی کے پیلے چھوٹے پھول میں کھل جانے کا یقین، مجھے تسلی دیتا ہے۔

    *

    کاکبھشنڈی، کَوّا، کاکبھشنڈی کو ہندو مذہب میں رام کے بھکت کے طور پر دکھایا گیا ہے، جو کَوّے کی شکل میں گروڑ کو رامائن کی کہانی سناتے ہیں۔

    گروڑ، مور، ہنس۔ ان سے مراد چیل مور اور ہنس ہیں جو ہندو روایات میں خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔

    پترپکش: ہندو مذہب کے عقیدے یا رواج کے مطابق پترپکش سال کا وہ وقت ہوتا ہے جب لوگ اپنے آباؤ اجداد کو بعض رسم و رواج کے ذریعے یاد کرتے ہیں۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے