حقل دما
بلوچستان کانٹوں کا تاج ہے، چاہ کزحان ہے، بھوک میں ب کا نقطہ ہے۔ جانے سمندر سے کیوں ابھر آیا تھا! خشک پہاڑ، بے آب و گیاہ، دشت و جبل۔ پیاسے دریا،جن میں خشک پتھر دھوپ سے چمکتے ہیں۔صحراؤں کی پیاسی بالوسر پٹختی پھرتی ہے۔ حضرت ابراہیم نے انسانی قربانی پر پابندی لگا دی مگر یہاں انسان کی بلی چڑھتی ہے، کتنے ہی گوندکش انسانوں کو چبا جاتے ہیں۔
آگ اگلے سورج کی تمازت سے جھلسے ہوئے کوہسار میں جب اختر آباد کے مقام پر ہریالی ابھری، ایک نرسری نے سر نکالا تو شادابی دیکھ کر دل خوش ہوا۔ بریک لگائے اور جیپ موڑی۔
یہ بے نامی بس کی طرح بے نام نرسری تھی۔ نہ کوئی بورڈ اور نہ ہی گیٹ، غریبانہ سی تھی۔ لیکن تھی بہت سرسبز - مالی نے کارکردگی دکھاتے ہوئے قبل مسیح کے انداز میں لکڑیاں جوڑ کر ایک بے ڈھنگا سالکڑیوں کا دروازہ بنا رکھا تھا، جو کسی قدیم مچان سے متشابہ تھا۔
ہارن بجایا تو مالی کا بیٹا دوڑا آیا۔ کیوں کہ آر پار بخوبی دکھائی دے رہا تھا، ملیشیا کے گرد آلودہ لباس میں ہاتھ میں رمبی لیے مگر اس کی آنکھیں شمالی تارے کی طرح چمک رہی تھیں جیسے نئی صبح دیکھ رہا ہو۔ درختوں کے نیچے کھری چار پائی پہ میں تو ڈھیر ہی ہو گیا۔ ایسا سرسبز ٹا پوز مرد سے ڈھلا ہوا، ہمیں کہاں نصیب۔
حال احوال ہوا۔
خیر جان مالی کرد تھا۔ کرد ترکی سے راس کماری تک کسی زمین کی تلاش میں ہیں جسے اپنا وطن کہہ سکے۔ صدیوں سے ایسی دھرتی کھوج رہے ہیں، جسے وہ اپنا کہہ سکیں۔ مگر خیر جان ان مسائل سے آگا نہ تھا۔ اس نے بھیڑ بکریاں فروخت کر کے یہ زمین سالانہ کرائے پر حاصل کی تھی کہ وہ یہاں ایک نرسری بنائے گا۔ زمین کا مالک بھی کردہی تھا اور اس نے وعدہ کیا کہ کرایہ تو بڑھائے گا مگر زمین خالی نہیں کرائے گا۔ ورنہ تو خیر جان کی ساری محنت اکارت جاتی۔ کتنے ہی ٹریکٹر تو اس نے زرخیز مٹی کے ڈلوائے تھے، کچھ فاصلے پہ کسی کا ٹیوب ویل تھا، جو اس کو پانی بھی دیا کرتا۔ ماہانہ رقم لیتا۔
خیر جان کے دو بیٹے تھے ؛ ستار اور نورجان۔ وہ باپ کے ساتھ ہی کام کرتے تھے اور خاصے محنتی دکھائی دیتے تھے۔ انہوں نے خشک ٹہنیاں سلگا کر میرے لیے سلیمانی چائے بنائی۔
پہلی ہی ملاقات میں خیر جان سے دوستی ہوئی۔ جسے سبھی یوں تو ماما پکارتے مگر تھا میرا ہم عمر۔ لہٰذا میں خیر جان ہی کہتا۔
نرسری اچھی خاصی تھی، گلاب تو قابل تعریف تھے۔
گملے جیپ میں رکھوائے تو مول تول کے بجائے خیر جان مسکرایا اور کہا کہ اتنی رقم ویسے بنتی ہے آپ جو چاہے دے دیں۔ اور پھر گنے بغیر ہی نوٹ رکھ لیے۔
شہر میں تو غیر اعلانیہ جنگ جاری تھی۔ بم دھما کے، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگز۔طالبات کی بس پر کسی نے ایسا بم مارا کہ لوہا بھی جلنے لگا سب کچھ خاکستر ہو گیا۔
اس اذیت ناک شہر سے نکلنا بھی سکون بخش تھا۔
بچوں کی شادی ہو چکی تھی۔ نارنگ اور میں اکیلے رہتے تھے۔ ہر طرف خوف اور تنہائی کے گرداب تھے۔ گھر بھر میں تنہائی کے بھوت دانت نکو سے پھرتے۔ جب ہم نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما تھا تو جوان تھے، لیکن کسی بے وفا ہم راہی کی طرح جوانی بھی تیل دے کر غائب ہوگئی تو ہمیں احساس ہونے لگا کہ ہم اکیلے ہیں۔
مجھے خیر جان سے دلچسپی نہ تھی، میں دراصل اس عقوبت خانے سے نکلنا چاہتا تھا جسے عرف عام میں کو ئٹہ کہا جاتا ہے۔ اس نرسری میں درختوں کے نیچے وہ ہمارے لیے کسی کا فرکنج میں منجی بچھا دیتے، پھر سلیمانی چائے کا اہتمام کرتے۔ ہم انہیں یہ تاثر نہ دیتے کہ فرار ہو کر کچھ دیر سکون میں رہنا چاہتے ہیں بلکہ یہ بتلاتے کہ پھولوں سے پودوں سے ہمیں عشق ہے، ہم پودوں میں، ہریالی میں بہت خوش ہوتے ہیں۔ واپسی پر کچھ گملے بھی خرید لیتے۔ گھر میں ان گملوں کے لیے جگہ نہ بچی توعزیزواقارب، احباب کو گملے تحفہ دینے لگے اور پھر پلاسٹک کی تھیلیوں میں لگے پھولوں پر اتر آئے کوئی بہانہ تو بناناہی ہوتا۔
ستار کی آنکھوں میں دمکتے سورجوں کا راز بھی جلد ہی کھل گیا، اس کی منگنی ہو چکی تھی، شادی ہونے کو ہی تھی۔ وہ گھرانا اپنے میں ہی مگن رہتا ہے۔ نرسری سے باہر کیا ہو رہا ہے، انہیں کچھ خبر نہ تھی اور نہ ہی جاننا چاہتے تھے۔ اگر چہ وہ غیر تعلیم یافتہ تھے مگر انہوں نے اپنے کنبے کے گرد ایک ان دیکھی سی لکیر سے گول دائرہ بنا رکھا تھا۔ اس دائرے کے اندر ہی ان کی پوری کائنات تھی۔ باقی انہیں کچھ علم نہ تھا۔ شہر کے مقتل کی انہیں کچھ خبر نہ ہوتی۔
یوں لگتا کہ یم دیوتا کے پروں کی نوکیلی جنبش سے ایک خوف ناک خاموشی جان لیوا سکوت طاری ہے۔ کوئی کچھ نہیں بولتا۔ مفلوج ذہن مردہ ہاتھوں سے سپاہیوں کے احکام بجا لاتے۔ ڈکی بانٹ اٹھا کر تلاشیاں دیتے۔ لوگ آگے ہی آگے کھسکتے رہتے۔ مجھے اکثر گمان ہوتا کہ ہم بھی داستان امیر حمزہ یا چار درویش کے روایتی کردار ہیں، جن کی روح نکال کر قلی کیمپ میں محفوظ کر لی گئی ہو۔ مجھے بچپن میں دیکھی فلم 'سات لاکھ' بھی یاد آتی۔ جس کا مشہور مکالمہ تھا، ’’سات لاکھ کے بنگلوں میں رہ سکتے ہیں لیکن بیچ نہیں سکتے، سات لاکھ رو پیہ گن سکتے ہو خرچ نہیں کر سکتے۔‘‘ ہم ایسے بھی انسان تھے؛ کھاپی سکتے ہیں مگر بول نہیں سکتے تھے، سوچ نہیں سکتے تھے۔
اس نرسری میں ہم درختوں، پھولوں، بیلوں کے درمیان خود کو محفوظ سمجھتے۔ وہاں نفرتیں اور خوف نہ ہوتا، سپاہی بھی نہ تھے۔ بس گملے ہی گملے تھے، جن سے زندگی پھوٹتی، ایک مہک سی آتی اور سبزے کی مخصوص باس جو دل کو سکون بخشتی۔ لیکن کسی طور میں خیر جان کو احساس نہ ہونے دیتا کہ ہمارا وہاں آنا سکون کی خاطر ہے۔ اس نرسری پہ نہ تو کوئی میزائل گرتا اور نہ ہی بم پھٹتا۔ شہر سے خاصی دور بھی تھی اور اس میں تو محض پودے ہی تھے، جنہیں کوئی نہیں مارتا، کوئی ان سے خوف نہ کھاتا، تلاشیاں نہ لیتا، باشعور جو نہیں تھے۔
ستار کی شادی کے دن قریب آرہے تھے۔ نرسری ہی کے پہلو میں چھتنار درختوں کی اوٹ میں خیر جان کا کچا مکان تھا، جہاں سے کبھی کبھی شادی بیاہ کے گیتوں کی پروائی ہوا کے دوشن یہ چلی آتی۔
میں ان کا عزیز نہ تھا لہٰذا مجھ سے شادی کے لیے بجار نہ کرتے۔ البتہ میں نے خود ہی کچھ رقم انہیں بجار میں دی۔ نارنگ بھی کبھی کبھار ان کے یہاں چلی جاتی۔ اس نے بھی دلہن کے لیے ایک جوڑا تحفے میں دے دیا۔
ہمیں کسی کام سے کراچی جانا پڑا تھا، سارے اسپتال کراچی میں ہی ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ کراچی کی ضرورت بھی بڑھنے لگتی ہے۔ نارنگ نے واپسی پر میرے ہمراہ نرسری جاتے ہوئے دلہن سے بھی ملاقات کی، اسے منہ دکھائی بھی دی۔
ستار بہت خوش رہتا، محنت سے کام کرتا ہے۔ اب تو ان کردوں سے قرابت داری سی محسوس ہونے لگی تھی۔
سال بعد ستار کو اللہ نے بیٹا دیا۔ ہم مبارک باد دینے گئے۔ بہت خوشی ہوئی۔ میں نے اسے تاکید کی کہ بیٹے کو تعلیم دلوانا کیوں کہ تعلیم ملازمت کے لیے نہیں ہوتی بلکہ انسان کا ذہن روشن ہو جاتا ہے۔
شہر کے حالات بدستور خراب ہوتے جا رہے تھے۔ نرسری کا بھی کاروبار کچھ سرد پڑ گیا۔ ہم نے بھی سوچا کہ کیا لازم ہے اس آفت زدہ علاقے میں رہنا، بچوں کے پاس چلے جاتے جو تر بیلا، اسلام آباد مردان اور دیگر شہروں میں بہ سبب ملازمت تعینات تھے۔ ان کی ٹرانسفر ہوتی تو ایک نیا شہر ہمارے لیے وا ہو جاتا ہے۔
بہت دنوں بعد ہم نرسری گئے تو بچہ کچھ بڑا ہو چکا تھا۔ ہمک کے میری بانہوں میں آ گیا۔ ستار کی زندگی شادی کے بعد با مقصد ہوگئی تھی۔ بہت ہی محنت کرتا تھا۔ اس نے ایک موٹر سائیکل بھی خرید لیا تھا۔
ایک بار میلنیم مارکیٹ میں ان سے ملاقات ہوئی۔ بیوی تو چادری میں سمٹی سمٹائی ہوئی تھی، بچے نے مجھے پہچان لیا۔ میں نے ستار کو کچھ پیسے بھی دیے کہ بیٹے کو کھلونے خرید دینا۔ دونوں میاں بیوی بہت خوش تھے۔ اس بچے نے تو انہیں اور بھی حسین بنا دیا تھا۔
بچے کا نام فضل تھا۔ بہت ہی پیارا تھا۔ ’’غوں غیں‘‘ کر کے مجھ سے گفتگو کی کوشش کرتا، کبھی کلکاریاں مارتا۔ بڑا ہی زندہ دل تھا۔
ستار کے لباس میں بھی سلیقہ آگیا تھا اور کسی کی نگرانی میں بائی پاس پہ بھی گملے، پودے رکھوانے لگا تھا۔ جس کے باعث لوگ گاڑیاں روک کر پودے خرید لیا کرتے۔ بلوچستان چوں کہ نیم صحرائی خطہ ہے، بلوچستانیوں کی خواہش رہتی ہے کہ کچھ رنگ بکھیر دیں، پودوں سے پھولوں سے گھروں کو حسین بنادیں۔
ستار کی محنت سے خاندان میں فارغ البالی آگئی، ان کے چہرے بھی دمک اٹھے۔ میری مصروفیات بڑھیں تو میں نے اس گوشہ عافیت میں آنا جانا کم کر دیا۔
پھر کئی ماہ بعد گیا تو ماحول بدلا ہو ا سا تھا۔ پودے مرجھائے ہوئے تھے، روشیں اجر چکی تھیں بیلوں کا حسن کملا گیا تھا، نرسری ویران پڑی تھی۔
ایک گھنے درخت کے نیچے خیر جان مصلیٰ بچائے درخت کے تنے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔
قریب گیا تو اس نے خوش آمدی (استقبال ) نہ کی۔ بدستور تسبیح کے دانے پھراتارہا، ہونٹوں کی جنبش سے البتہ لگتا کچھ پڑھ رہا ہے۔ مجھے شدید دھچکا سا لگا۔ یہ سخت بد اخلاقی تھی۔ مجھے ناگوار تو گزرا، مگر میں منجی پر جابیٹھا۔ یوں لگتا تھا کہ خیر جان کی روح کوئی لے گیا ہے ممی بنا سامنے بیٹھا ہے، حنوط شدہ۔ یا کوئی بغیر بیٹری کا روبوٹ ہے۔
’’ کیا ہوا خیر جان؟ بولتے کیوں نہیں؟‘‘ میں نے لہجے کی ناگواری چھپاتے ہوئے سوال کیا ہے۔
کمبخت ہے تو مالی، میرے لیے اٹھا بھی نہ، خوش آمدی بھی نہیں کی، ایک بار تو دل چاہا کہ پیر پٹختا پلٹ پڑوں، ایسی سبکی، توبہ!
گہری کاریز سے خیر جان کی کانپتی ہوئی آواز نکلی، جیسے گہرے کنویں سے چھلکتا کانپتا ڈول نکلتا ہے۔
’’ستار کو لے گئے، ستار کو اٹھا کر لے گئے۔‘‘
مجھے جھٹکا سالگا۔ جیسے کسی نے سرد پانی کا ڈول مجھ پر انڈیل دیا ہو۔
میں بوکھلا کر اٹھا اور خیر جان کے ساتھ آبیٹھا۔
’’کون لے گیا ستار کو؟‘‘
اچانک ہی شام غریباں اتر آئی تھی۔
خیر جان نے طاقت جمع کی۔ ’’سر کار لے گئی، پوچھ گچھ کے لیے‘‘
میرا من کانپ اٹھا۔
میرے سامنے صحراؤں کی مسخ شدہ لاشیں گزرگئیں۔۔۔ اور توتک کا اجتماعی قبرستان جو ساڑھے تین سو انسانوں کو اپنی کوکھ میں لیے بیٹھے تھا، سبھی کو سمو چانگل گئی۔۔۔
اور کتنے توتک ہوں گے؟
ہوائیں سائیں سائیں کرنے لگیں، درخت بین کرنے لگے، پھولوں کی آنکھوں میں آنسو تھے نمبی سسکیاں لینے لگیں۔
خیر جان مجھ سے آنکھ نہیں ملا رہا تھا کیوں کہ اس کے بیٹے کو اٹھانے والے میرے ہم زبان تھے، وہ مجھے انھی کا حصہ قرار دیتے ہوئے نظریں نہیں ملا رہا تھا۔ شاید چاہتا تھا کہ میں اس کے زخموں پہ نمک نہ چھڑکوں، دلا سے نہ دوں اور چلتا بنوں۔
میں کچھ دیر بت بنا رہا۔ پھر اسے کچھ تسلیاں دیں، کچھ دعائیں اس کی جھولی میں پھینکیں اور بوجھل قدموں سے باہر نکل گیا۔
نارنگ کو خبر ہوئی تو بہت ہی پریشان ہوئی۔ ستار کی بازیابی کے لیے دعائیں کرتی رہی۔ ستار کی بیوی اور معصوم بچے کو یاد کر کے روتی رہی۔
اس بچے کو بھی معلوم نہ تھا کہ پوچھ گچھ کیا ہوتی ہے، اس کا باپ اچانک ہی گم کیوں ہو گیا۔ وہ چیخ چیخ کر ماں سے لڑتا کہ اس کے ابا کو لائے، وہ کیوں نہیں آتا؟ رورو کے ہلکان ہو جاتا اور پھر نقاہت سے سوتا رہتا۔
صرف نرسری نہیں اجڑی، ستار کا پورا گھرانہ ویران ہو گیا۔
چند ماہ بعد اخبار میں خبر آئی کہ ستار کا جسم ملا ہے، روح نہیں تھی۔
سینے میں دو گولیاں لگی تھیں۔
میں جانتا تھا کہ وہ گھرانہ مجھ سے نفرت کرنے لگا ہے، مگر فاتحہ خوانی تو قرض بھی ہے اور فرض بھی۔ مجھے وہاں جانا ہی تھا۔ میرے عقیدے کے مطابق بھی ضروری تھا کہ اس کے لیے دعا تو کرلوں، مل کر ہاتھ تو اٹھالوں۔
مجھے لگا مگر مچھ کے آنسو بہانے چلا ہوں۔
وہاں چند ایک ہی لوگ تھے، جن کی گرم نظریں میرے سینے کے پار اتر گئیں۔
خیر جان نے بے دلی سے فاتحہ لی۔ میں نے کچھ بولنا چاہا تو اس نے میری بات کاٹ دی۔ ’’اللہ انصاف کرے گا، میں اللہ سے انصاف مانگتا ہوں‘‘
وہ مجھے پہچان نہیں رہا تھا۔ ایک اجنبی انداز میں جانے خدا سے مخاطب تھا، اسی سے انصاف مانگ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں خشک تھیں۔ مگر لگتا تھا کہ جل رہی ہیں۔
نرسری ایک ویران خزاں رسیدہ، قحط دیدہ جھاڑ جھنکاڑ میں منتقلب ہو چکی تھی۔ گملے سوکھے پڑے تھے، بیلیں خشک تھیں، پودے مرجھائے تھے۔ درختوں میں کچھ جان تھی مگر وہ بھی کملا گئے تھے۔
ہر طرف موت تھی، پژمردگی تھی، خون ناحق کے بین تھے۔
کوئٹہ کی پیالہ نما وادی کتنا خون پیے گی؟ یہ پیالہ نما وادی کیا خون سے بھرنا چاہتی ہے؟
سلومی تو کائفا سردار کاہن کے ساتھ چلی آئی۔ جنگی دیوتا کے پجاری انسانوں کا خون اسے پیش کر رہے تھے۔
’’جب اس کے پکڑوانے والے یہوداہ نے یہ دیکھا کہ وہ مجرم ٹھہرایا گیا تو پچھتایا اور وہ تیسں روپے سردار کاہنوں اور
بزرگوں کے پاس واپس لا کر کہا، میں نے گناہ کیا کہ بے قصور کو قتل کے لیے پکڑوایا۔ انہوں نے کہا، ہمیں کیا تو
جان۔ اور روپیوں کو مقدس آگ میں پھینک کر چلا گیا اور جا کر اپنے آپ کو پھانسی دی۔ سردار کاہنوں نے روپے
لے کر کہا، ان کو ہیکل کے خزانہ میں ڈالنا روا نہیں، کیوں کہ یہ خون کی قیمت ہے۔ پس انہوں نے مشورہ کر کے
ان پیسوں سے کمہار کا کھیت پر دیسوں کے دفن کرنے کے لیے خریدا۔ اس سبب سے وہ کھیت آج تک ’’حقل دما‘‘ کہلاتا ہے۔ ’’پہلے زمانوں کے اسکریوتی بھی خود کشی کر لیتے تھے۔‘‘
میں نے سب کچھ بھول جانے کی کوشش کی۔ یہ بھی سننے میں آیا کہ زمین مالک کو واپس کر کے خیر جان بھی کہیں چلا گیا۔
میں جس نرسری میں سکون قلب کے لیے جایا کرتا، وہ کب کی اجڑ چکی تھی۔ اور خیر جان کی سلگتی تپتی نگاہوں کا سامنا کرنے کی سکت بھی تھی۔
برسوں بعد کرتہ کے علاقے میں ایک مفلوک الحال بوڑھے کو کھجوریں بیچتے دیکھ کر کچھ اپنائیت کا احساس سا ہوا۔ جیسے وہ کبھی پہلے بھی مل چکا ہے۔ اس کے ساتھ ایک بچہ بیٹھا تھا۔
میں نے بمشکل اسے پہچانا۔۔۔ وہ خیر جان تھا۔
میں نے اپنا تعارف کرایا تو اس نے لاتعلقی کا اظہار کیا۔
یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ وہ بچہ فضل ہی رہا ہو گا۔
میں نے خیر جان سے دریافت کیا کہ وہ شہر کیوں چھوڑ آیا، فضل لکھ پڑھ کر افسر بن جاتا، اب کیا غربت اور جہالت میں ڈوبا بیٹھا ہے، نہ ہی کوئی امید اور نہ ہی مستقبل۔
خیر جان بہت ہی لاغر ہو چکا تھا بہت ہی خستہ حال تھا۔
بہت ہی کریدنے پہ، اصرار پر وہ اتناہی بولا کہ شہر اس کا بیٹا نگل گیا، وہ اپنا پوتا ترقی یافتہ شہروں کے حوالے نہیں کرنا چاہتا۔
اس نے خیری میں کھجوریں لپیٹں۔ پتو نگ کی طرح کندھے پر رکھیں اور بچے کی انگلی تھام کر بولان کی ویران گھاٹیوں کی جانب چل پڑا۔
پطرس کو یسوع کی بات یاد آئی، جو اس نے کہی تھی کہ مرغ کی بانگ دینے سے پہلے تو تین بار میرا انکار کرے گا۔
بیایان میں پکارنے والے کی آواز آتی ہے کہ،
’’خداوند کی راہ تیار کرو،
اس کے راستے سیدھے بناؤ!‘‘
٭ حقل دما (AKELDAMA): خون کا کھیت
٭ متی کی انجیل - 27/8
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.