انحطاط

MORE BYمریم تسلیم کیانی

    وہ سڑک اب بالکل ویران ہو گئی تھی، جہاں روزانہ غول کے غول کبوتر آتے تھے اور دانوں سے بھری سڑک پر بغیر کسی خوف وخطر، شکم سیر ہوتے تھے۔۔۔

    اس سڑک کی ویرانی میں اس بڑے سے شاپنگ مال کا ہاتھ تھا جو عین سڑک کے ساتھ اونچا لمبا آسمان چھوتا دکھائی دیتا تھا۔ یہ پرآساٰش شاپنگ مال، اعلی طبقے کی توجہ کا مرکز تو بن گیا مگر کبوتروں کے غول اس سڑک سے ہجرت کر گئے۔۔۔

    عبدالرحیم روز اپنے دانوں سے بھری بوری لے کے اسی جگہ آکے بیٹھتا تھا جہاں روزانہ اس سے خرید کے لوگ دانہ کبوتروں کو ڈالتے تھے۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اسے ان لوگوں کو دیکھ کے اطمینان ہوتا تھا یا کبوتروں کو کھاتا دیکھ کر تسکین ملتی تھی۔۔۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ لوگ اپنے بچوں کو ان کے ہاتھوں سے دانہ ڈلواتے وقت دنیا کی تمام تر فکروں سے آزاد کیوں خوش ہوتے تھے۔۔۔ ان کے چہروں پر طمانیت کیوں ہوتی تھی۔۔۔ چند خاندان اس کے مخصوص گاہک تھے۔۔۔ سب کے چہروں پر مختلف تاثرات دیکھنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔۔۔ ان ہی منظروں کو دیکھ کے اس کا بچپن گزرا تھا، پہلے اپنے باپ کے ساتھ آتا تھا اور اس کے گزر جانے کے بعد باپ کی جگہ سنبھال لی۔ کبوتروں سے اسے ازحد عشق تھا۔۔۔ مغرب کے بعد وہ بچا ہوا دانہ اسی سڑک پہ ڈال کے چل دیتا تھا۔۔۔ اس کے ساتھی اسے مست ملنگ کہتے تھے۔

    اس کی بیوی بھی سادہ مزاج تھی اسے دانوں کی کمائی سے دو وقت کا پیٹ بھر کھانا مل جاتا تھا۔۔۔ اس سے کبھی تنگی کی شکایت نہ کرتی۔۔۔ اسے مرغی کا گوشت اور قیمہ بہت پسند تھا۔ وہ ہفتے میں دوبار اس کی خواہش پوری کر دیتا تھا اور بدلے میں وہ اس کی خواہش پوری کر دیتی تھی۔ دونوں میاں بیوی اپنی جھونپری میں خوش وخرم رہتے تھے۔ آس پاس کی عورتیں اسے باولی کہتی تو وہ ایسے شرما جاتی جیسے اس کی تعریف میں کسی نے زمین آسمان ایک کر دیئے ہوں۔

    سڑک کی ویرانی کو بہت دن گزر گئے تھے۔۔۔ وہ معمول کے مطابق اپنے دانوں کا تھیلا لے کے بیٹھتا تھا مگر کبوتر آتے نہ کوئی گاہک۔۔۔ جب کھانے والا نہ ہو تو دینے والے کیوں کر آتے۔۔۔ ایک ایک کرکے اس کے سارے ساتھی سڑک چھوڑ گئے تھے۔ اب وہ ہی اکیلا رہ گیا تھا۔ اسے کبوتر اور گاہک یاد آتے تھے۔ وہ خاندان اور ان کے بچوں کے کھلتے چہرے، جن کو دیکھ دیکھ کے وہ خود بھی نہال ہو جاتا تھا۔

    روزانہ شام میں وہ مایوس سا گھر واپس آتا۔ بوجھل دل سے کھانا کھا کے بستر پر پڑ جاتا۔۔۔ بیوی کافی دن سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ آخر کار پوچھ بیٹھی۔

    ’’اری کیا بتاؤں، مجھے تو بےچینی کھائے جاتی ہے۔ اس بڑی بلڈنگ کی نحوست میرے کبوتروں اور گاہکوں کو کھا گئی۔۔۔ اب کوئی آتا ہی نہیں، نہ کبوتر ہی واپس آتے ہیں حالانکہ جگہ وہ ہی ہے بس سامنے بلڈنگ نے آسمان تنگ کر دیا ہے۔ شاید وہ پہچان بھول گئے ہیں۔ اللہ جانے اب وہ کیسے پیٹ بھرتے ہوں گے۔۔۔‘‘

    بیوی نے ساری روداد غور سے سنی اور سر ہلا کے سو گئی۔ وہ بھی نڈھال سا اس پر گر گیا۔۔۔

    دو ایک روز بعد چند کبوتر سڑک پر نظر آئے۔ وفور جذبات سے اس نے سارا دانہ سڑک پر الٹ دیا اور ’’آآں ںـ‘‘ کر کے چلایا۔۔۔

    کبوتر اڑ گئے۔۔۔ وہ مایوس سا ہو گیا۔۔۔ دانوں کا خرچہ بڑھنے لگا۔

    کئی دن سے وہ گھرمیں دال سبزی دے رہا تھا۔ گوشت خریدنے کے لیے پیسے نہیں بچے تھے۔ راشن بھی ختم ہونے لگا۔۔۔ آٹا ختم ہوا، چاول، پھر چینی اور نمک مرچ بھی۔ جب سب ختم ہو گیا تب اسے فکر ہوئی۔۔۔ بیوی روز دال اور سبزی دیکھ کے صبر کرتی۔ اسے معلوم تھا کہ دانے نہیں بکتے تو پیسے کہاں سے آئیں گے۔

    رات آتی تو اس کے بگڑے موڈ کو جتن کر کے سدھارنے کی اپنی سی کوشش کرتی۔ پھر اس کے خالی وجود سے لپٹ کے سو جاتی۔

    عبدالرحیم کے دماغ کے آسمانوں پرجیسے ہر وقت کبوتر اڑتے رہتے۔ سفید، کاسنی، سرمئی اور بھورے کبوتر۔ غول کے غول۔ چھوٹے بڑے سب ان کو دانہ ڈالتے تھے۔۔۔ اسے خیال آتا کہ وہ کتنے پیارے دن تھے۔ اس کی کمائی بھی کتنی اچھی ہوتی تھی۔۔۔ اس کو شاپنگ مال کی عمارت سے نفرت ہو رہی تھی۔۔۔ نہ وہ عمارت بنتی نہ اس کے کبوتر ہجرت کرتے۔۔۔

    آج بیوی نے شکوہ کیا، ’’تو سبزی بھی نہیں دے کے گیا تھا۔۔۔ راشن بھی نہیں تھا کچھ۔۔۔ میں تیری راہ تکتی رہی۔۔۔ کچھ کھانے کو لا۔ بھوک لگی ہے۔۔۔‘‘

    ’’آج بس یہ ہی ہے۔۔۔‘‘ اس نے مٹھی کھول دی۔ کبوتروں کے دانے دیکھ کے منہ تو بنایا لیکن پھر صبر شکر کر کے کھا لیا، مٹی کے پیالے میں پانی لاکے پی لیا۔۔۔ اس نے بھی تقلید کی۔۔۔ دانے نگلتے وقت اسے کافی تکلیف ہوئی۔ اسے یہ بات سمجھ میں نہ آئی کہ اصل تکلیف کس چیز سے ہوئی، بیوی کے فاقے سے، اپنے فاقے سے یا کبوتروں کے دانے نگلنے سے۔۔۔ بس کوئی چیز تھی جو اس کے حلق میں اٹکی ہوئی تھی۔۔۔ اور پانی سے بھی نہ اتری تھی۔۔۔

    ’’کہیں تو پگلا گیا ہے۔‘‘ اس نے زندگی میں پہلی بار بیوی کی بڑبڑاہٹ سنی۔

    وہ رونے لگا۔۔۔ جی ہلکا ہوا تو بولا، ’’وہ اب کیوں نہیں آتے۔۔۔ میں دانے بیچتا تھا لوگ آتے تھے ان کو کھلاتے تھا، وہ دعا دیتے تھے۔۔۔‘‘

    ’’دعا دیتے تھے تو تجھے بھی دعا دی ہوگی۔۔۔‘‘ بیوی نے سادگی سے کہا۔ وہ چونکا۔

    ’’مجھے بھی دعا دی ہوگی۔۔۔ میں تو بچپن سے ان کو دانے ڈالتا ہوں بابا کے دانوں سے چرا کے بھی ڈالتا تھا اور اپنے بچے ہوئے دانے بھی میں ڈالتا تھا۔۔۔ دعا کیسے لگتی ہے۔۔۔؟‘‘

    بیوی سونے لیٹ گئی۔ وہ ساری رات ادھیڑ بن میں لگا رہا۔۔۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ دعا کیسی لگتی ہے۔ اور کبوتر کیا دعا کرتے ہیں۔۔۔ کاش مجھے کبوتروں کی زبان آتی، میں ان سے جان لیتا۔۔۔ پیٹ کا درد، بیوی کی بھوک کا درد اور اپنی لاعلمی اسے بے چین کیے دے رہی تھی۔۔۔

    اگلی صبح بڑی خوشگوار ہوا چل رہی تھی۔ موسم بدل رہا تھا۔ وہ سڑک پر آ گیا۔۔۔ مگر اس کا دل بےتاب ہونے لگا۔ ابھی صبح کے سات بجے تھے۔ وہ کبوتروں کی تلاش میں چل پڑا۔۔۔ یہ پہلی بار تھا جو وہ اپنا علاقہ چھوڑ کے کہیں اور جا رہا تھا۔۔۔

    ایک چوراہے پر اسے ایک منظر نے مبہوت کر دیا۔۔۔

    کبوتر!

    وہ ہی غول کے غول، وہ ہی رونق، وہ ہی لوگ اور۔۔۔ اور دانے والے۔۔۔!

    بیوی اسے دیکھ کے حیران رہ گئی۔۔۔ اس کے دونوں ہاتھوں میں سامان کی تھیلیاں تھیں۔۔۔ جن میں گوشت، سبزی، دالیں اور مرچ مصالحے تھے۔۔۔

    اس سے پہلے کہ بیوی کچھ کہتی۔ وہ بولا، ’’کبوتروں کی دعا لگ گئی۔۔۔‘‘

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY