کوڑے، جو درد سے چیختے تھے

بلند اقبال

کوڑے، جو درد سے چیختے تھے

بلند اقبال

MORE BYبلند اقبال

    ہوا تھوڑی سی سر سر ائی اور پھر یک لخت اَن گنت ریزوں میں بٹتی چلی گئی ۔ بکھرے ہوئے ریزے لمحے بھر کے لیے انگاروں کی طرح د ہکنے لگے مگر پھر جلد ہی خود اپنے آپ میں جل کربھسم ہو نے لگے اور باقی بچنے لگا کچھ ملگجا سا دھواں،جو تماشہ دیکھنے والوں کی آنکھوں کو دھےمے دھیمے جلانے لگا مگر ساتھ ہی ان کے دلوں کے دم بھی گھونٹنے لگا ۔۔۔ وہاں کس کو معلوم تھا کہ ہوا کے سینے میں تو ان کوڑوں کا درد تھا جو انجانے میں حیوانی جذبوں کی ایک ایسی دہکتی آگ سے آشنا ہوگئے تھے جو تماشہ دیکھنے والوں کے کسی وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔ تالیوں اور نعروں کی گونج میں کوڑے کرب سے چیختے تھے مگر سوائے بدنصیب ہوا کے کوئی بھی نہ تھا جو ان کے درد کی شدت کو محسوس کرتا اور پھر ہوا ہی اس کرب کو اپنے نازک بدن پر جھیلتی اور پھر درد سے ریزہ ریزہ ہوجاتی۔

    ہوا اور کوڑوں کا یہ درد ناک ملاپ اس سلگتی ہوئی دوپہر میں ہوا تھا جب ٹکٹی پر بندھی چاند بی بی زنا کاری کے جرم میں چالیس کو ڑوں کی سزا وار قرار پائی تھی۔ تماشایوں کے نعروں اور تالیوں کی بازگشت میں چاند بی بی کی کربناک چیخیں صرف ان آوازوں کو شکستگی سے ڈھونڈ رہی تھی جو گناہ گار نہیں تھیں ۔ شروع شروع میں تو اس کے گداز بدن کی پشت پر پڑنے والا پر ہر ایک کوڑا اس کی نازک کھال کو یوں چھیلتا رہا جیسے اس کی بدکار روح کو اس کے چھلے بدن کے کسی نہ کسی کونے سے باہر نکال کر ہی دم لے گا مگر پھر جلد ہی کوڑوں کو یوں لگنے لگا جیسے ان کی ہر ایک ضرب خود ان کے ہی بدن کو کاٹ کر کسی انجانے گناہ سے اس کے کونے کونے کو بھر رہی ہے ۔یہ ایک عجیب احساس تھا جس سے کوڑے اس سے قبل کبھی بھی دوچار نہیں ہوئے تھے ۔وہ تو نیکی اور بدی کے تعلق سے بے نیاز ہمیشہ اپنے چلانے والے کے زورِ بازوکے غلام رہے تھے ۔وہ تو کتنے ہی بار زانی اور شرابی مردوں اور عورتوں کے بدن پر جہنم کی دہکتی آگ کی طرح پڑتے رہے تھے مگر اس بار انہیں لگا تھا جیسے بیچ بازار یا تو خود ان کے ساتھ ہی زنا ہو رہا ہے یا پھر وہ کسی کے ساتھ بد کاری کر ر ہے ہیں ۔

    چاند بی بی کچھ دیر میں چاند کی طرح پیلی پڑنے لگی تھی۔اب اس کی چیخوں کی شدت میں کمی آرہی تھی۔کوڑوں کو لگنے لگا تھا جیسے چاند بی بی نے اب اپنے پر پڑنے والی بے رحم ضربوں سے ہار مان لی ہے۔اب ان کی ہر ضرب چاند بی بی کے بدن کے لیے محض ایک خفیف سی حرکت کا سبب بننے کا سبب بن رہی تھی۔تماشہ دیکھنے والوں کے جوش خروش کی شدت میں بھی کمی آرہی تھی۔نعروں اور تالیوں کی آوازیں چاند بی بی کی سسکیوں کے بغیر محض ایسے ڈھول کی تاب بنتی جارہی تھی جس کی رسیاں اب ڈھیلی ہو رہی تھیں۔مگر کوڑوں کا بو جھ ابَ

    بھاری سے بھاری تر ہوتا جارہا تھا۔ان کے بڑھتے بوجھ سے اب چاند بی بی کے بجائے، ارد گرد کی ہوائیں کٹنے لگی تھیں ۔وہ ریزہ ریزہ ہو کر

    کوڑوں سے رحم کی فریاد کرنے لگی تھیں ۔کوڑوں کے اندر کی جھلستی آگ ہوا کے ریزوں کو اب بکھیر کر انگاروں کی طرح جلانے لگی تھی ۔ ان سے اٹھنے والا ملگجا دھواں تماشہ دیکھنے والوں کی آنکھوں کو دھیمے دھیمے جلاتا تھا مگر ٹکٹکی پر بندھی چاند بی بی کے گداز بدن اور اس کی پُشت پر پڑنے والی ضربوں کے سنگم سے پیدا ہونے والے کوڑوں کے منوں بوجھ کو انہیں دکھانے سے قطعی قاصر تھا۔

    کوڑوں کا بوجھ۔۔۔ جو اس کے مارنے والے کی بے لگام جنسی لذت کی خواہش سے پیدا ہو رہا تھا اور چاند بی بی کے نرم و گداز بدن پر پڑنے والی ہر ایک ضرب سے ا س کے لیے جنسی تسکین کا مسلسل سبب بن رہا تھا ۔ بے بس کوڑے جو چاند بی بی کی طرح زنا کے مر تکب ہوگئے تھے ۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے مارنے والے کے غلیظ گناہ میں برابر کے شریک تھے اور اب اپنے کرب کا سارا بوجھ ہوا پر ڈال کر اسے ریزہ ریزہ کر ر ہے تھے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY