لہو اور تارکول
اس کے کشمیر میں داخل ہوتے ہی وہاں پھیلی فضا کو سراپا زبان بنے دیکھ کر ایسا لگا کہ اس کے پاس لانے والا بوڑھا شاعر مجھے پھر سمجھانے لگا ہے۔
ماڈرن کھنڈر میں کوئی دلکشی نہیں ہو سکتی تو اسے گرنا تک نہیں آتا۔ اسے دیکھتے جانا اور اس میں گھومنا خطرے سے خالی نہیں۔ کسی سیاح کو اپنے میں دلچسپی لیتے دیکھ کر اس کا وجود پھولنے لگے گا اور اس کے در و دیوار مزید مسماریت کے عمل میں داخل ہو جائیں گے۔ کہیں ہم اس کی گرتی ہوئی اینٹوں کی زد میں نہ آجائیں۔
”لیکن میں اسی کی خاطر یہاں آیا ہوں، اس سے ملے بغیر نہیں جا سکتا۔“ میں بڑبڑایا۔
”پھر تم ماڈرن کی خرد بینی اور خود نمائی سے واقف نہیں ہو، اسے دوبارہ اپنی اہمیت کے وہم میں ڈالنا۔۔۔“
”تم اس ملگجی روشنی کا خیال چھوڑ کر میری طرف دیکھو۔“ میں اپنے بوڑھے ساتھی کو چھوڑ کر اس کی سمت نگاہ دوڑا رہا تھا پر وہ کچھ کہنے کے لئے بیتاب تھا۔ میں سوچتا ہوں کہ مام کو ذرا بھی۔۔۔
”آگے نہیں بڑھایا۔“ میری حیرت کی پرواہ کئے بغیر وہ آگے بولا، ”بہت ہلکا اور پست قد ادیب تھا۔“
”تم سمرسٹ نام کا ذکر کر رہے ہو۔“ اسے دفعتاً ناول نگار ہرزہ سرائی کرتے دیکھ کر میں نے پہلو بدلا۔
”دنیا میں مام کے نام پر کسی اور نے بھی لکھا ہے نہیں لوگ جلے طالع کرنے کا شوق کیوں پالے ہیں تو۔۔۔“ وہ جملے کو ادھورا چھوڑ کر بوڑھے سر کی طرف دیکھتا ہوا بیزاری کا اظہار کرنے لگا۔
”ہم تو تمھاری صحت کا پوچھنے آئے تھے یہ سب باتیں کسی اور وقت بھی ہو سکتی ہیں۔“ بوڑھا بات کاٹتا ہوا بولا۔
”میری صحت کے بارے میں تم پہلے ہی جانتے ہو تمھارے سامنے سب کچھ ہوا ہے، تم ہی کہو گئی ہوئی جان واپس ہاتھ آتی ہے۔“ وہ مردہ سا اٹھا۔
”تو میں چلتا ہوں۔“ بوڑھا وحشت زدہ سا کھڑا ہوا۔
”مجھے بھی اجازت دو۔“ میں بھی کرسی چھوڑنے لگا۔
”تم بیٹھو۔ تم نے تو ابھی۔۔۔“ وہ مجھے متعجب نظروں سے دیکھتا ہوا بوڑھے سے بے نیاز ہو گیا، ”تم اچھی طرح دیکھنا چاہتے ہو تو دوسرا بلب جلا دو یہ صرف میرے چہرے تک ہے باقی سب۔“
واقعی وہ مرے لے کر گلے تک کا آدمی تھا اب اس کے چمکدار آنکھوں کے سوا جسم کے کسی حصے کا آنکھوں کے سوائے جسم کے کسی دوسرے حصے نے حرکت نہ کی تھی۔
”تم نے مجھے غور سے نہیں دیکھا۔“ وہ رنجیدہ ہونے لگا اور میں اسے ڈھونڈنے لگا۔ میں نے دیکھا اس کی ٹانگیں لکڑی کے ڈنڈے دکھائی دیتی تھیں۔ گھٹنوں اور پنڈلی کے زخم سے نکلا ہوا خون ابھی تک سبز ہو رہا تھا۔ اور سینے میں گڑی کیل بالکل تازہ نظر آتی تھی۔
”یہ سب کیسے ہوا؟“ میں نے آسیب زدہ آواز میں پوچھا۔
”یہ سب کیسے ہو سکتا ہے۔“ وہ نفرت بھرے لہجے میں بولا، ”تم نے اپنا قد تو دیکھا ہے۔ تمھیں وہاں کھڑے ہو کر اپنی اوقات کی تو ناپو۔“ اس نے اسٹیل کی الماری کے دروازے پر لٹکے قد آدم آئینے کی طرف اشارہ کیا اور میرے کرسی چھوڑتے ہی شیطانی ہنسی ہنسنے لگا، ”ذرا بھی حیا اور شرم نہیں کمبخت کو۔ مجھے اس حالت میں پڑا دیکھ کر بھی شرم نہیں آئی۔ بھڑوا سالا، ناپ آؤ اپنا جثہ۔“ مسٹر ٹھگنے ہی وہ ہنیو ہو گیا۔ ”میری بات کا برا مت مانو تم مصلوب آدمی کا ذہن اس طرح پراگندہ ہو جاتا ہے۔ میرا مطلب تھا اپنا حد و دار پہچان لینا آسان نہیں۔“ وہ چائے لیکر آئی اپنی بیوی کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا، ”چائے پینے سے پہلے ان سے متعارف ہونا نہ بھولنا ورنہ حد و دار والی بات سمجھ میں نہ آئے گی۔“ لیکن مسٹر کچھ کہنے سے پہلے ہی پگھلتی ہوئی موم کی گڑیا کمرے سے باہر جا چکی تھی۔ ”بڑی نیک دل عورت ہے جلتی ہوئی قندیل سے زیادہ پارسا دوسری چیز دوسری نہیں ہو سکتی۔ کاش میں نے اس حالت میں پہونچنے سے پہلے اس کی سنی ہوتی۔“ اس نے آہ بھری، ”کیا تم شادی شدہ ہو۔“ مسٹر جواب کا انتظار کئے بغیر وہ آگے کہنے لگا، ”بیوی سے زیادہ وفادار اور بے شعور ہستی اس دنیا میں اور کوئی نہیں ہے۔“ اس نے آنکھیں سکیڑ کر میرے چہرے پر گاڑ دیں، ”وہی تمھارا ہمدرد اور خیر خواہ بن سکتی ہے۔ بکشنر دیکھا میں تمھیں بتا دوں اس کی خوشی کیا ہوتا ہے۔ اچھا کیا جو تم نے شادی نہیں کی۔“ وہ میری بات کاٹ کر بولا، ”اطمینان سے بھر کر میں نے اس کی بے ربط باتوں کی تہہ میں اترتے ہوئے چائے کی پیالی اس کے ہاتھ میں تھما دی۔“
”خیر تم بتاؤ کہ مام کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے، تم ذہین آدمی ہو۔ کوئی بھی ذہین آدمی مام کو کوئی درجہ نہیں دے سکتا۔ اب اس بوڑھے کو بھی ساتھ نہ لانا۔“ اس کا چہرہ پھر سخت ہونے لگا۔
”مگر مجھے تمھارے پاس۔۔۔“
”ٹھیک ہے تمھیں میرے پاس رکنا چاہیے مگر اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔“ وہ اپنے کو سنبھالنے لگا، ”میں ابھی پوری طرح مغلوب نہیں ہوا۔ میری بیزاری نے مجھے اس حالت میں ضرور پہنچا دیا ہے۔“ اس نے بات کا رخ بدل دیا۔ ”پھر بھی وقت کے پاس زخم کا مرہم ہے۔ وہ گھڑیال سے گھنانا پاپ دھو ڈالتا ہے۔ بلند بانگ آوازیں کوئی بات بھی نہیں، اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ تم کمرے میں داخل ہوئے اور میرے زخموں کا درد کم ہونے لگا۔ اپنی زیارت کو آئے ہوئے کو دیکھ کر۔“ وہ رک گیا۔ ”ذرا میری ٹانگوں میں گدگدی کیسی تو نکالو دوست، یہ ان میں زندگی کی کوئی چنگاری بچی ہو۔“ مجھے الٹتے دیکھ کر وہ اعتماد سے پھرنے لگا۔ ”چنگاری کو شعلہ بنتے دیر نہیں لگتی۔“ ٹانگوں کو آزاد دیکھ کر وہ چلنے لگا۔ ”بیوی جیسی بیوقوف ہستی دنیا میں دوسری کوئی نہیں ہوتی۔ وہ بار بار آئے خاوند کا سواگت کرتی ہے، اسی دیسی حالت میں بنائے رکھنے میں خوش رہتی ہے۔“ اس نے مسکرا کر کہتے پر بھی میری ٹانگوں سے کھیلیں۔۔۔
نکالیں دوسرے دن کی طرح یہ بھی آہن ہے کہ یہ اب لکڑی کے ڈنڈوں سے بھی گئی گزری ہو گئی ہیں۔ مجھے اپنی ٹانگوں میں چنگاریاں ڈھونڈتے دیکھ کر وہ ملتجی ہو گیا۔ مجھے ہاتھ ملا میرے سینے میں گڑی میخ بھی نکال دو۔ مجھے یقین ہے کہ میرے دل کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ کیل اس سے ذرا ہٹ کر ہی اندر گئی ہے۔ مجھے اپنا کہنا مانتے دیکھ کر وہ خوشی سے پاگل ہو اُٹھا۔ اُس عورت کو بلاؤ جو میرے شہر میں گھومتی ہوئی بھی میری ایسی حالت میں رگڑ لگائے پڑے۔ پتا نہیں کرتی ہے۔ اس کی آواز سن کر راکھ ہوتی ہوئی شمع جھپ سے اندر آگئی اور اس کی ٹانگوں اور سینے کی آواز جوڑ دیکھ کر سن رہ گئی۔
”آپ نے یہ کیا کیا؟ آپ نہیں جانتے۔ آپ اسے نہیں بولنے دیتے۔ یہ دوبارہ کھڑا ہوتا رہا سن نہیں آئے گا۔ اسے یوں ہی آدھا ادھورا رہنے دیجئے ورنہ میں کہیں کی نہ رہوں گی۔ آپ کا یہ سہارا ابا کو یہ درد و الم مجھ کو بھلا تک۔۔۔“
”تمہارا ڈر بے بنیاد ہے۔“ وہ چیخ اٹھا۔
”درد و الم مجھ کو پار کرنے والی بات کیا غلط ہے؟“
قندیل بھرا بھرا دانے لگی، ”جو کچھ ہو چکا ہے وہ کم نہیں۔“
”کبھی درست نہیں۔۔۔ مگر اب بالکل غلط ہے؟“
”کیا اتنا عرصہ لڑک بھڑک کر بھی میں نے کچھ نہیں سیکھا؟“ وہ الفاظ کو چبانے لگا۔ ”تم نے میرا دکھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جس غم نے تمھیں آدھا کر دیا کیا میں اسے بھول سکتا ہوں مجھ پر آدمی کا سب سے بڑا گزر ہے۔ تمہیں بھی حسبِ رسم اس آدمی کا مشکور ہونا چاہئے۔ اس نے مجھے مروت بھری نظروں سے دیکھا۔ ”اسے بھی کہو۔ ٹانگیں اٹھا کر اندر لے جاؤ اور ان کی مالش کر کے انہیں گرم پانی سے صاف کر دو۔ بہتر ہے پہلے میرے سینے پر پٹی باندھ دو تاکہ خون زیادہ نہ نکل جائے۔“
مدیر فروغ اردو لکھنؤ
”اب مجھے جانے دو۔“ میں گھبرانے لگا۔
”تم کبھی شادی نہ کرنا۔ ورنہ تمھیں بھی بیوی کے روپ میں اپنا دشمن مل جائے گا۔“ وہ میری بات کو نظر انداز کر گیا۔ ”تم ہی بتاؤ کمبخت مام کو ماننے والا آدمی میرے کس کام کا۔ اُس بوڑھے کو بھول وہ سکی ہے۔“
اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ ”بیٹھ جاؤ کھنڈر میں دروازہ اور کھڑکیاں لگانے کے بعد ان پر پالش کون کرے گا۔“
”لیکن تمھاری بیوی۔“
”اس کی فکر نہ کرو میں نے اس کی بات مان لی ہے۔“
”کون سی بات؟“
”وہی درد و الم مجھ والی بات۔ اب میں گھٹنوں پر کھڑا پار کرنے کی غلطی نہیں کروں گا۔“
”بس اتنا ہی۔ وہ یہی چاہتی ہے۔“
”کیوں؟“
”تاکہ میں پھر سے خود مساریت کے چکر میں نہ پڑوں۔ آئنے کے سامنے کھڑا ہو کر بھی اپنے کو ناپا نہیں جا سکتا۔“ وہ دھل ہوئی ٹانگوں کو پیٹنے لگا۔ ”ارے میں پھر سے کھڑا ہو سکتا ہوں۔“ وہ چہکنے لگا۔ ”وہ لیکن چل نہیں سکتا۔“ وہ مایوس ہو گیا۔ ”مگر تم جو ہو۔“ وہ پھر مجھے اعتماد بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔ ”تم مجھے دوبارہ چلنا سکھا سکتے ہو صرف چلنا سکھا سکتے ہو۔ صرف چلنا۔ شکر نہ کرو اب میں بھاگنا نہیں چاہتا۔ کسی نے سہارے صرف چلا ہی جا سکتا ہے۔“ اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔
”اب تم لیٹ جاؤ۔“ میں نے اسے مشورہ دیا۔۔۔
”میں تمھیں کل باہر گھما لاؤں گا۔“
”چلو میں یہاں سے نکلتا ہوں۔“ میں بولا۔ ”وقت ضائع کرنے کا گناہ میں نے پہلے بھی کہیں نہیں کیا ہے بھی۔ اسکول سے لوٹنے والے ہیں۔ وہ آگئے تو۔۔۔“
وہ مجھے دروازے کی طرف دھکیلنے لگا اور ان کی پرچھائیاں چلاتی رہ گئی۔
”ذرا فضا کو سونگھ کر دیکھو۔ شہر کے حواس پر یخ گرہ رہ کر گیا! اس میں یقیناً الجھی تک میرے وجود کی بو باقی ہے۔“ مسٹر خاموش رہے پر وہ جھنجھلا اٹھا۔
”سمر سٹ میں سے کوئی خوشبو نہیں پھوٹی۔“ عالم نے اس بوڑھے کی با بوریہ زدہ دانتوں سے نکلتی۔ بدبو سے متنفر ہو کر بھی منھ نہیں پھیرا۔ وہ مجھے آگے چلنے کا اشارہ کرتے ہوئے پھنکارنے لگا۔ ”دنیا بہت بڑی ہے۔ سلسلہ در تک بکھرا پڑا ہے۔ اس انتشار کو مجھے ہی سمیٹنا ہے۔ دوسرا کچھ نہیں کر سکے۔“ اس کی آواز میں اس کا ہوس سرسرا نے لگا، ”لوگوں نے بہت کوشش کی۔ مگر بات نہیں بنی ہر بات ہر کسی کے بس میں ہو تب نا۔ مجھے اچھی طرح غور سے دیکھئے یا کروہ اور بھی دور جانے لگا۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ اپنے آپ کو چھوٹی چھوٹی ذلالتوں کے مالک کیوں کہتے ہیں؟“
”وہ یہی محسوس کرتے ہوں گے۔“ میں بول اٹھا۔
”میں نہیں مانتا۔“ وہ رک گیا اور لباس نس پہنے لگا۔ ”ایک بار فضا کو پھر سے سونگھو۔ مسٹر سوا کسی اور کے وجود کی بو کا احساس بھی ہوتا ہے۔؟ تو سانس ہی نہیں لیتے۔“ وہ چڑ گیا۔
”ذرا سینہ پھلا کر تو دیکھو۔“ اس نے اپنے پھیپھڑے ایک بار پھر ہوا سے بھر لئے اور بڑے راز دارانہ لہجے میں پوچھنے لگا۔ ”سچ بتاؤ میں زندہ رہوں گا کہ نہیں دراصل میں یقین کے ساتھ مرنا چاہتا ہوں۔“
”عقلمند آدمی ایسے سوال نہیں پوچھا کرتے۔“ میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی کہہ دیا۔
”تم بھی ان میں سے جو کہتے ہیں اب کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دیا جا سکتا۔ عظمت کے پیدا ہونے کا امکان نہیں رہا۔“ اس نے مجھے انگارے برساتی ہوئی نگاہوں سے دیکھا۔
”ہم بھر کی طرف نہ دیکھنا بند کر کے میری بات کیوں نہیں سنتے۔ میرا تو خود میری طرف متوجہ ہے۔ ذرا افق پر نگاہ تو دوڑاؤ۔ دیکھو تو وہاں اڑتے سائیوں میں واضح تر خدو خال والا کون ہے۔ لیکن تمھاری نظر تو سڑک کے اس پار تک نہیں جاتی!“ اس کے دفعتاً اپنے ہاتھ میرے کندھوں پر سے ہٹا لئے اور تن کر کھڑا ہو گیا۔
”پتہ نہیں لوگ ایک مقام پر پہونچ کر خود سے کنارہ کشی کیوں ہو جاتے ہیں ایک حد ہی کیوں؟“ وہ مجھے نہلائے ہوئے کو متوازن رکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ یہ آدمی بھی مجھے سڑک پار کرنے میں مدد دینے کے بجائے۔۔۔ میرا سہارا لئے بغیر ہی اس نے اپنا قدم آگے یا ملا کے نیچے رکھ دیا اور دوسرے ہی لمحے لڑکھڑا کر سڑک کے عین بیچ میں جا گرا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کرتا اس کا جسم کافی سڑک کا حصہ بن چکا تھا۔ اور اس کی چیخ نے ٹریفک کو جام کرنا شروع کر دیا تھا۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.