Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

لیجیا

MORE BYایڈگر ایلن پو

    کہانی کی کہانی

    لیجیا (Ligeia) ایڈگر ایلن پو (Edgar Allan Poe) کا ایک شاہکار نفسیاتی اور گوتھک افسانہ ہے، جس میں محبت، موت، یادداشت اور انسانی ارادے کی پراسرار قوت کو نہایت فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ کہانی کا راوی اپنی غیر معمولی ذہانت اور دلکش شخصیت کی مالک بیوی لیجیا کی موت کے بعد بھی اس کی یاد سے آزاد نہیں ہو پاتا۔ دوسری شادی کے باوجود وہ ماضی کے سحر میں گرفتار رہتا ہے، یہاں تک کہ حقیقت اور وہم کی سرحدیں دھندلا جاتی ہیں۔ افسانے کا اختتام ایسا پراسرار اور مبہم ہے کہ قاری کو آخر تک یہ فیصلہ کرنے میں دشواری ہوتی ہے کہ وہ کسی مافوق الفطرت واقعے کا مشاہدہ کر رہا ہے یا ایک شکستہ ذہن کی کیفیت کا۔ لیجیا کو ایڈگر ایلن پو کی بہترین تخلیقات میں شمار کیا جاتا ہے اور اسے گوتھک ادب اور نفسیاتی افسانے کا ایک لازوال نمونہ سمجھا جاتا ہے۔

    ”جو ارادہ انسان کے اندر پوشیدہ ہے، وہ کبھی نہیں مرتا۔ کون ہے جو ارادے کے بھید اور اس کی قوت کو جانتا ہو؟ خدا دراصل ایک عظیم ارادہ ہے جو اپنی شدید تاثیر کے باعث پوری کائنات میں جاری و ساری ہے۔ انسان نہ فرشتوں کے آگے مکمل طور پر جھکتا ہے اور نہ موت کے سامنے، سوائے اس وقت کے جب اس کا اپنا ارادہ کمزور پڑ جائے۔“

    میں آج تک یہ یاد نہیں کر سکا کہ میری لیجیا سے پہلی ملاقات کب، کیسے اور کہاں ہوئی تھی۔ اس کے بعد بہت سے برس گزر چکے ہیں اور مسلسل دکھوں نے میری یادداشت کو کمزور کر دیا ہے۔ یا شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ میری محبوبہ کی شخصیت، اس کا غیر معمولی علم، اس کا انوکھا مگر پُرسکون حسن، اور اس کی دھیمی، موسیقیت سے بھرپور آواز کی مسحور کن تاثیر آہستہ آہستہ، خاموشی سے میرے دل میں اترتی چلی گئی، یہاں تک کہ مجھے خود بھی اس کا احساس نہ ہو سکا۔ البتہ میرا خیال ہے کہ میں اس سے پہلی بار اور پھر اکثر ایک بڑے، پرانے اور شکستہ حال شہر میں ملا تھا جو دریائے رائن کے کنارے آباد تھا۔

    اس کے خاندان کا ذکر میں نے یقیناً اس کی زبان سے سنا تھا۔ اتنا ضرور معلوم تھا کہ اس کا خاندان نہایت قدیم تھا۔ لیجیا۔۔۔ لیجیا دنیا کی ہر دوسری چیز سے بے خبر کر دینے والے مطالعوں میں ڈوب جانے کے باوجود آج بھی صرف یہی ایک نام میرے تصور میں اس عورت کی تصویر زندہ کر دیتا ہے جو اب اس دنیا میں نہیں رہی۔ اور اب، جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں، اچانک مجھے یاد آیا کہ میں نے کبھی اس عورت کا خاندانی نام جاننے کی کوشش ہی نہیں کی، جو پہلے میری دوست بنی، پھر میری منگیتر، پھر میرے علمی سفر کی ساتھی، اور آخرکار میری شریکِ حیات۔

    کیا یہ لیجیا کی شوخی تھی؟ یا وہ میرے عشق کی گہرائی آزمانا چاہتی تھی کہ میں اس کے خاندان کے بارے میں کوئی سوال نہ کروں؟ یا یہ میری اپنی رومان پرستی تھی، جس میں میں نے اپنے بے پناہ عشق کی نذر یہ تجسس بھی قربان کر دیا؟ مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ ایسا ہی ہوا تھا؛ یہ کیسے اور کیوں ہوا، اس کی تمام تفصیل میری یادداشت سے محو ہو چکی ہے۔ اور اگر کبھی رومان کی وہ پراسرار دیوی، جسے قدیم مصر کے لوگ اپنی عبادت کا مرکز سمجھتے تھے، کسی منحوس شادی پر سایہ فگن ہوئی ہو، تو یقیناً وہ میری شادی پر موجود تھی۔

    ایک بات مگر ایسی ہے جسے میری یادداشت کبھی فراموش نہیں کر سکتی، اور وہ ہے لیجیا کا سراپا۔

    وہ قد آور تھی، جسم دبلا پتلا تھا، اور زندگی کے آخری دنوں میں تو اور بھی نحیف ہو گئی تھی۔ میں اس کی باوقار چال، اس کے پُرسکون وقار اور اس کے قدموں کی حیرت انگیز نرمی کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ وہ سایے کی طرح آتی اور سایے کی طرح چلی جاتی۔ جب وہ میرے مطالعہ خانے میں داخل ہوتی تو مجھے اس کی آمد کا احساس صرف اس کی شیریں، دھیمی آواز سے ہوتا، جب وہ اپنا سنگِ مرمر جیسا سفید ہاتھ میرے کندھے پر رکھتی۔

    چہرے کے حسن میں میں نے کبھی کسی عورت کو اس کا ہم سر نہیں دیکھا۔ اس کا حسن افیون کے خواب کی سی کیفیت رکھتا تھا؛ ایسا لطیف اور روح کو بلند کر دینے والا منظر جو کسی آسمانی تصور سے کم نہ تھا۔ مگر اس کے نقوش وہ نہیں تھے جنہیں ہمیں صدیوں سے حسن کا معیار ماننا سکھایا گیا ہے۔

    ایک فلسفی نے سچ کہا ہے کہ بے مثال حسن میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ انوکھا پن ضرور ہوتا ہے۔

    میں جانتا تھا کہ لیجیا کے خدوخال روایتی حسن کے مطابق نہیں تھے، لیکن اس کے باوجود اس کا حسن بے مثال تھا۔ میں بار بار یہ جاننے کی کوشش کرتا کہ آخر اس کے چہرے میں وہ کون سی غیر معمولی بات ہے جو اسے دوسروں سے الگ کرتی ہے، مگر ہر کوشش ناکام رہتی۔

    میں اس کی بلند، کشادہ اور دودھیا پیشانی کو دیکھتا۔ وہ بے عیب تھی۔ مگر بے عیب جیسا لفظ اس شان کے لیے کتنا معمولی محسوس ہوتا تھا۔ اس کی جلد خالص ہاتھی دانت کی طرح سفید اور نرم تھی۔ کنپٹیوں کے اوپر کا ہلکا سا ابھار، پیشانی کی وسعت اور سکون، اور اس پر بکھرے ہوئے سیاہ، چمکدار، گھنے اور قدرتی بل کھاتے بال، اس کے حسن کو اور بھی دلکش بنا دیتے تھے۔

    میں اس کی ناک کے نفیس خدوخال کو دیکھتا تو ایسی خوب صورتی کہیں اور نظر نہ آتی۔ اس کی سطح نہایت ہموار تھی، خم نہایت لطیف، اور نتھنے اس آزادی پسند روح کا پتہ دیتے تھے جو اس کے اندر بسی ہوئی تھی۔

    پھر میری نگاہ اس کے لبوں پر جاتی۔ وہاں تو گویا آسمانی حسن اپنی معراج پر تھا۔ اوپر والا مختصر لب نہایت خوب صورت خم لیے ہوئے تھا، نیچے والا لب نرم اور پُرکشش سکون میں ڈوبا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ مسکراہٹ کے وقت پڑنے والے ہلکے گڑھے، لبوں کی رنگت، اور چمکتے ہوئے سفید دانت اس کے چہرے کو ایسا نور بخشتے تھے کہ دیکھنے والا حیران رہ جاتا۔ اس کی مسکراہٹ میں سکون بھی تھا، وقار بھی، اور ایسی روشنی بھی جو دل کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی۔

    اس کی ٹھوڑی میں بھی عجیب دلکشی تھی۔ نہ بہت باریک، نہ بہت چوڑی، بلکہ ایسی متوازن کہ اس میں نرمی، وقار، بھراؤ اور روحانیت ایک ساتھ جمع ہو گئے تھے۔

    پھر میری نگاہ اس کی بڑی بڑی آنکھوں پر ٹھہر جاتی۔

    ایسی آنکھوں کی کوئی مثال قدیم زمانے کی کسی تصویر یا مجسمے میں بھی نہیں ملتی۔ شاید اسی میں وہ راز پوشیدہ تھا جس کی طرف اس فلسفی نے اشارہ کیا تھا۔ وہ ہماری قوم کی عام آنکھوں سے کہیں زیادہ بڑی تھیں، بلکہ اس وادی کی ہرنیوں کی مشہور بڑی آنکھوں سے بھی کہیں زیادہ گہری اور پُرکشش۔

    البتہ ان کی یہ غیر معمولی وسعت صرف اس وقت پوری طرح نمایاں ہوتی جب لیجیا کسی شدید جذبے کے زیرِ اثر ہوتی۔ ایسے لمحوں میں، شاید میرے بے قابو تخیل کی وجہ سے، اس کا حسن زمینی نہیں بلکہ کسی آسمانی مخلوق کا حسن معلوم ہوتا تھا۔

    اس کی آنکھیں گہرے سیاہ رنگ کی تھیں، جن پر لمبی، سیاہ پلکیں سایہ کیے رہتی تھیں۔ بھنویں بھی اسی رنگ کی تھیں، اگرچہ ان کی بناوٹ میں ہلکی سی بےقاعدگی تھی۔

    مگر اس کی آنکھوں کی اصل انفرادیت نہ ان کے رنگ میں تھی، نہ ان کی بناوٹ میں، نہ ان کی چمک میں، بلکہ ان کے تاثر میں تھی۔

    وہ تاثر۔۔۔ ایک ایسا لفظ جس کے پردے میں ہم اکثر اپنی لاعلمی چھپا لیتے ہیں۔

    میں گھنٹوں اس کی آنکھوں کے اس پراسرار تاثر پر غور کرتا رہتا۔ گرمیوں کی پوری پوری رات جاگ کر اس راز کو سمجھنے کی کوشش کرتا کہ آخر ان آنکھوں کی گہرائی میں ایسا کیا ہے جو مجھے بے اختیار اپنی طرف کھینچتا ہے۔

    وہ کیا چیز تھی جو میری محبوبہ کی آنکھوں کی پتلیوں کی تہہ میں چھپی ہوئی تھی؟ وہ کیا راز تھا؟

    اس راز کو جاننے کا جنون مجھ پر سوار ہو چکا تھا۔

    وہ آنکھیں۔۔۔ وہ بڑی، روشن، سیاہ اور آسمانی آنکھیں۔۔۔ میرے لیے دو درخشاں ستارے بن گئی تھیں، اور میں ان کا ایسا عاشق تھا جو پوری عقیدت کے ساتھ ہر لمحہ انہی کا راز پڑھنے میں مصروف رہتا۔

    ذہن کی دنیا میں بے شمار پراسرار باتیں ہیں، مگر ان میں شاید سب سے عجیب یہ حقیقت ہے کہ جب ہم کسی بہت پرانی بھولی ہوئی بات کو یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم یاد کے بالکل قریب پہنچ گئے ہیں، مگر عین اسی لمحے وہ بات ہاتھ سے پھسل جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس کیفیت پر اہلِ علم نے کبھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔ لیجیا کی آنکھوں کو دیر تک ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے ہوئے بھی میرے ساتھ بارہا یہی ہوا۔ مجھے محسوس ہوتا کہ اب میں ان کے تاثر کا راز پا لینے والا ہوں، وہ راز میرے بالکل قریب آ گیا ہے، مگر پھر اچانک اوجھل ہو جاتا اور ہمیشہ کے لیے میری گرفت سے نکل جاتا۔

    اور، عجیب بات تو یہ ہے کہ کائنات کی عام سے عام چیزوں میں بھی مجھے اسی پراسرار تاثر کی جھلک دکھائی دینے لگی۔ میرا مطلب یہ ہے کہ جب سے لیجیا کا حسن میرے دل میں گویا کسی مقدس مزار کی طرح بس گیا، تب سے دنیا کی بے شمار مادی چیزوں کو دیکھ کر میرے اندر وہی احساس بیدار ہونے لگا جو اس کی بڑی، روشن آنکھوں کو دیکھ کر ہوتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود میں نہ اس احساس کی تعریف کر سکتا تھا، نہ اس کا تجزیہ، نہ ہی پوری طرح اسے سمجھ پاتا تھا۔

    میں نے وہ کیفیت انگور کی تیزی سے بڑھتی ہوئی بیل میں دیکھی، ایک پروانے میں، ایک تتلی میں، ایک پیوپے میں، بہتے ہوئے پانی میں، سمندر کی موجوں میں، ٹوٹتے ہوئے شہاب میں، اور بہت بوڑھے انسانوں کی نگاہوں میں بھی محسوس کی۔ آسمان کے چند ستارے، خصوصاً ایک چھوٹا سا ستارہ، جسے دوربین سے دیکھا جائے، میرے اندر یہی احساس جگا دیتا تھا۔ بعض سازوں کی دھنیں بھی یہی کیفیت پیدا کرتی تھیں، اور کبھی کبھی کسی کتاب کا ایک اقتباس بھی۔

    ایسی بے شمار مثالوں میں سے ایک مجھے خاص طور پر یاد ہے۔ یہ ایک فلسفی کی کتاب کا اقتباس تھا، جو شاید اپنے قدیم اندازِ بیان کی وجہ سے، ہر بار میرے دل میں وہی پراسرار احساس پیدا کر دیتا تھا۔

    ”انسان کے اندر ایک ایسا ارادہ پوشیدہ ہے جو کبھی نہیں مرتا۔ کون ہے جو ارادے کے بھید اور اس کی قوت کو جانتا ہو؟ خدا دراصل ایک عظیم ارادہ ہے جو اپنی شدت کے باعث پوری کائنات میں جاری و ساری ہے۔ انسان نہ فرشتوں کے آگے مکمل طور پر جھکتا ہے اور نہ موت کے سامنے، سوائے اس وقت کے جب اس کا اپنا ارادہ کمزور پڑ جائے۔“

    وقت گزرنے اور بہت غور و فکر کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ اس اقتباس اور لیجیا کی شخصیت کے درمیان کوئی نہ کوئی گہرا تعلق ضرور تھا۔

    اس کے خیالات، اس کے اعمال اور اس کی گفتگو میں ایک غیر معمولی شدت تھی۔ شاید یہ اسی عظیم قوتِ ارادی کی علامت تھی، جس نے ہماری طویل رفاقت کے دوران کسی اور انداز میں اپنا اظہار نہیں کیا تھا۔

    میں نے اپنی زندگی میں جتنی عورتیں دیکھیں، ان سب میں لیجیا سب سے زیادہ پُرسکون دکھائی دیتی تھی، مگر اسی خاموش ظاہری سکون کے نیچے شدید جذبات کا ایک طوفان موجزن رہتا تھا۔

    میں اس کے جذبات کی گہرائی کا اندازہ صرف اس کی آنکھوں کی حیرت انگیز وسعت سے لگا سکتا تھا، جو مجھے بیک وقت مسحور بھی کرتی تھیں اور خوف زدہ بھی۔ اس کی نہایت دھیمی آواز کی سحر انگیز لے، اس کا صاف اور نپا تلا اندازِ گفتگو، اور کبھی کبھی اس کے لبوں سے نکلنے والے آتشیں الفاظ، جن کی شدت اس کے نرم لہجے کے باعث اور بھی نمایاں ہو جاتی تھی، اس کے باطن کی خبر دیتے تھے۔

    میں پہلے بھی اس کے علم کا ذکر کر چکا ہوں۔

    اس کا علم بے حد وسیع تھا، ایسا کہ میں نے کبھی کسی عورت میں نہیں دیکھا۔ قدیم زبانوں پر اسے غیر معمولی عبور حاصل تھا، اور جہاں تک میری معلومات تھیں، یورپ کی جدید زبانوں میں بھی اسے کبھی غلطی کرتے نہیں دیکھا۔ فلسفہ، اخلاقیات، طبیعیات اور ریاضی جیسے مشکل ترین علوم پر گفتگو ہو، میں نے کبھی اسے لاجواب نہیں پایا۔

    آج سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ میں نے اس کی اس غیر معمولی عظمت کو اس وقت پوری طرح کیوں نہ پہچانا۔

    اب مجھے صاف دکھائی دیتا ہے کہ اس کا علم حیران کن حد تک وسیع تھا، مگر تب میں صرف اتنا جانتا تھا کہ وہ مجھ سے ہر لحاظ سے برتر ہے۔ اسی لیے میں نے بچوں جیسی بے فکری کے ساتھ اپنے آپ کو اس کی رہنمائی کے سپرد کر دیا، خاص طور پر ان ابتدائی برسوں میں جب ہم دونوں وجود اور حقیقت کے پیچیدہ فلسفیانہ سوالات پر غور کیا کرتے تھے۔

    مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب وہ میرے ساتھ ان نایاب اور مشکل علوم کا مطالعہ کرتی تو ایسا محسوس ہوتا جیسے میرے سامنے ایک نئی دنیا کے دروازے کھل رہے ہوں۔ آہستہ آہستہ ایک ایسا شاندار راستہ میرے سامنے روشن ہوتا جاتا جس پر چلتے ہوئے مجھے لگتا کہ شاید ایک دن میں ایسی حکمت تک پہنچ جاؤں گا جو اپنی عظمت کے باعث گویا انسان کے لیے ممنوع ہو۔

    پھر وہ وقت آیا جب میری ساری امیدیں ٹوٹ گئیں۔

    لیجیا کے بغیر میں ایک ایسے بچے کی طرح تھا جو اندھیرے میں راستہ ٹٹول رہا ہو۔ اس کی موجودگی، اس کی آواز اور اس کی تشریحات ہی ان پیچیدہ فلسفیانہ رازوں کو روشن کرتی تھیں جن میں ہم دونوں ڈوبے رہتے تھے۔ اس کی آنکھوں کی روشنی کے بغیر کتابوں کے سنہری الفاظ بھی ماند پڑ گئے تھے۔

    پھر میں نے محسوس کیا کہ اس کی آنکھوں کی چمک دن بہ دن مدھم ہوتی جا رہی ہے۔

    وہ بیمار ہو گئی۔

    اس کی آنکھیں غیر معمولی روشنی سے چمکنے لگیں، اس کی انگلیاں موم کی طرح شفاف اور زرد ہو گئیں، اور اس کی کشادہ پیشانی پر ابھری ہوئی نیلی رگیں معمولی سے جذبات پر بھی تیزی سے دھڑکنے لگتیں۔

    میں سمجھ گیا کہ وہ مرنے والی ہے۔

    میں نے اپنے دل میں موت کے فرشتے سے پوری قوت کے ساتھ جنگ لڑی۔

    لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ لیجیا خود زندگی کے لیے مجھ سے بھی زیادہ شدت سے لڑ رہی تھی۔

    پہلے مجھے یقین تھا کہ اتنی مضبوط ارادے والی عورت موت سے نہیں ڈرے گی، مگر میں غلط تھا۔

    الفاظ میں اتنی طاقت نہیں کہ اس مزاحمت کی شدت بیان کر سکیں جس کے ساتھ وہ موت کے سائے سے برسرِ پیکار تھی۔

    میں اس کی حالت دیکھ کر کرب سے بھر جاتا۔ میں اسے دلاسہ دیتا، اسے سمجھانے کی کوشش کرتا، مگر اس کی ایک ہی خواہش تھی۔

    زندگی۔۔۔

    صرف زندگی۔۔۔

    اس شدید آرزو کے سامنے ہر دلیل، ہر تسلی بے معنی تھی۔

    پھر بھی آخری لمحے تک اس کے چہرے کا سکون قائم رہا۔

    اس کی آواز پہلے سے بھی زیادہ دھیمی اور نرم ہو گئی، مگر اس کے الفاظ میں ایسا پراسرار مفہوم تھا کہ میں انہیں سن کر ششدر رہ جاتا۔

    ایسا لگتا تھا جیسے وہ کوئی ایسی حقیقت بیان کر رہی ہو جس سے انسان پہلے کبھی واقف نہ ہوا ہو۔

    مجھے کبھی اس بات میں شک نہیں رہا کہ وہ مجھ سے محبت کرتی تھی۔

    لیکن اس محبت کی گہرائی کا اصل اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب وہ مرنے کے قریب تھی۔

    وہ گھنٹوں میرا ہاتھ تھامے اپنے دل کی باتیں کرتی رہتی۔ اس کی محبت محض محبت نہیں، گویا عبادت تھی۔

    میں بار بار سوچتا کہ آخر مجھ میں ایسی کیا خوبی تھی کہ مجھے اس قدر بے پناہ محبت نصیب ہوئی، اور پھر یہی سوچ کر دل ٹوٹ جاتا کہ جب اس نے اپنی محبت کا سب سے گہرا اظہار کیا، اسی وقت قسمت نے اسے مجھ سے چھین لیا۔

    اس موضوع پر مزید لکھنے کی مجھ میں ہمت نہیں۔

    صرف اتنا کہوں گا کہ اس کی بے مثال محبت ہی نے مجھے یہ راز سمجھایا کہ وہ زندگی سے اس قدر شدت سے کیوں چمٹی ہوئی تھی۔

    وہ صرف جینا چاہتی تھی۔۔۔

    صرف زندہ رہنا چاہتی تھی۔۔۔

    اس آرزو کی شدت کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں۔

    جس رات اس نے دنیا سے رخصت ہونا تھا، عین نصف شب کے وقت اس نے مجھے اپنے پاس بلایا اور حکم دیا کہ وہ نظم پڑھوں جو اس نے چند روز پہلے خود لکھی تھی۔

    میں نے اس کی خواہش پوری کی۔

    نظم یہ تھی،

    دیکھو کیسی جشن کی رات ہے

    عمر کے سنسان آخری برسوں میں

    فرشتوں کا ایک ہجوم

    پر پھیلائے، نقاب اوڑھے

    آنسوؤں میں ڈوبا ہوا

    ایک تھیٹر میں بیٹھا ہے

    جہاں امید اور خوف کا کھیل جاری ہے

    اور سازندے

    کبھی دھیمی، کبھی ٹوٹی ہوئی لے میں

    فلک کی پراسرار موسیقی بکھیر رہے ہیں

    خدا کی صورت بنے ہوئے اداکار

    آہستہ آہستہ بڑبڑاتے ہیں

    ادھر ادھر بھٹکتے پھرتے ہیں

    مگر وہ سب صرف کٹھ پتلیاں ہیں

    جنہیں بے صورت اور عظیم طاقتیں

    اپنے اشاروں پر نچا رہی ہیں

    وہی طاقتیں

    منظر بدلتی رہتی ہیں

    اور ان کے عظیم پروں کی پھڑپھڑاہٹ سے

    نظر نہ آنے والا دکھ

    فضا میں پھیل جاتا ہے

    یہ رنگا رنگ تماشا۔۔۔

    یقین رکھو۔۔۔

    کبھی فراموش نہیں ہوگا

    اس میں ایک سایہ ہے

    جسے ایک ہجوم ہمیشہ پکڑنے کی کوشش کرتا ہے

    مگر وہ کبھی ہاتھ نہیں آتا

    سب ایک ایسے دائرے میں بھٹکتے رہتے ہیں

    جو بار بار

    اسی نقطے پر واپس آ جاتا ہے

    اس کھیل میں دیوانگی بھی ہے

    گناہ بھی،

    اور پوری کہانی کی روح

    وحشت ہے

    مگر دیکھو

    ان اداکاروں کے درمیان

    ایک رینگتی ہوئی مخلوق داخل ہوتی ہے۔

    خون کی طرح سرخ۔۔۔

    بل کھاتی ہوئی۔۔۔

    تنہائی سے نکلتی ہوئی۔۔۔

    وہ تڑپتی ہے۔۔۔

    بل کھاتی ہے۔۔۔

    اور ایک ایک کر کے

    تمام اداکاروں کو نگلنے لگتی ہے۔

    فرشتے روتے ہیں

    کہ یہ گھناؤنی مخلوق

    انسانی خون سے لتھڑی ہوئی ہے۔

    اب چراغ بجھ گئے۔۔۔

    سب چراغ بجھ گئے۔۔۔

    اور ہر لرزتے ہوئے وجود پر

    طوفان کی طرح ایک پردہ گرتا ہے،

    جو دراصل کفن ہے۔

    پھر فرشتے اٹھتے ہیں

    اپنے چہرے بے نقاب کرتے ہیں

    اور اعلان کرتے ہیں

    اس ڈرامے کا نام انسان تھا

    اور اس کا فاتح کردار۔۔۔

    کیڑا تھا، جو ہر چیز کو نگل جاتا ہے۔

    اے خدا! لیجیا نے آدھی چیخ کے ساتھ کہا۔ وہ یکایک اٹھ کھڑی ہوئی اور جھٹکے سے اپنے دونوں بازو آسمان کی طرف بلند کر دیے، عین اس وقت جب میں نظم کی آخری سطر پڑھ کر فارغ ہوا تھا۔

    اے خدا اے میرے پروردگار کیا یہ سب ہمیشہ اسی طرح ہوتا رہے گا؟ کیا اس فاتح کو کبھی کوئی شکست نہیں دے سکے گا؟ کیا ہم سب تیرے ہی وجود کا حصہ نہیں ہیں؟ کون ہے جو ارادے کے راز اور اس کی قوت کو جانتا ہو؟ انسان نہ فرشتوں کے آگے مکمل طور پر جھکتا ہے اور نہ موت کے سامنے، سوائے اس وقت کے جب اس کا اپنا ارادہ کمزور پڑ جائے۔

    پھر، گویا جذبات کی شدت نے اس کی ساری طاقت نچوڑ لی ہو، اس نے اپنے سفید بازو آہستہ سے گرا دیے اور خاموشی کے ساتھ اپنی مرگ گاہ پر واپس لیٹ گئی۔ جب اس کی آخری سانسیں چل رہی تھیں تو ان کے ساتھ اس کے ہونٹوں سے ایک مدھم سی سرگوشی بھی سنائی دی۔ میں جھک کر اس کے قریب ہوا اور پھر وہی آخری الفاظ پہچانے جو پہلے بھی سن چکا تھا۔

    انسان نہ فرشتوں کے آگے مکمل طور پر جھکتا ہے اور نہ موت کے سامنے، سوائے اس وقت کے جب اس کا اپنا ارادہ کمزور پڑ جائے۔

    وہ مر گئی۔

    اور میں، غم کے بوجھ تلے بالکل کچلا ہوا، دریائے رائن کے کنارے واقع اس تاریک اور شکستہ شہر میں مزید تنہا رہنے کی ہمت نہ کر سکا۔

    مجھے دولت کی کوئی کمی نہ تھی۔ لیجیا میرے لیے اتنی دولت چھوڑ گئی تھی جتنی عام انسانوں کے حصے میں کبھی نہیں آتی۔ چند ماہ تک بے مقصد آوارہ گردی کرنے کے بعد میں نے انگلستان کے ایک دور افتادہ، ویران اور کم آباد علاقے میں ایک قدیم خانقاہ خرید لی۔ میں اس کا نام نہیں لینا چاہتا۔ میں نے اس کی کچھ مرمت کرائی۔

    اس عمارت کی اداس شان، اس کے گرد و نواح کی نیم وحشی فضا، اور اس سے وابستہ صدیوں پرانی غم انگیز یادیں، میرے دل کی ویرانی سے پوری طرح ہم آہنگ تھیں، جس نے مجھے دنیا سے کاٹ کر اس سنسان مقام تک پہنچا دیا تھا۔

    اگرچہ باہر سے اس خانقاہ کی شکل میں میں نے بہت کم تبدیلی کی، لیکن اندرونی حصے کو میں نے شاہانہ شان و شوکت سے سجا دیا۔ شاید یہ میری بچگانہ ضد تھی، یا شاید اس امید کا دھندلا سا عکس کہ اس طرح میرے غم میں کچھ کمی آ جائے گی۔

    بچپن ہی سے مجھے ایسی فضول آسائشوں کا شوق تھا، اور اب غم کی دیوانگی میں وہی پرانا ذوق پھر جاگ اٹھا تھا۔

    افسوس آج محسوس کرتا ہوں کہ ان بھاری پردوں، مصر کے پراسرار نقش و نگار، عجیب و غریب آرائش، سنہری قالینوں اور بے ربط سجاوٹ میں ابتدائی جنون کی واضح جھلک دیکھی جا سکتی تھی۔

    میں افیون کا غلام بن چکا تھا۔ میرے تمام فیصلے اور تمام احکام میرے خوابوں کے رنگ اختیار کر چکے تھے۔

    لیکن ان بے معنی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔

    میں صرف اس ایک کمرے کا ذکر کروں گا، جو ہمیشہ کے لیے منحوس ثابت ہوا، جہاں ذہنی انتشار کی ایک گھڑی میں میں اپنی نئی دلہن، سنہرے بالوں اور نیلی آنکھوں والی لیڈی رووینا ٹریوینین کو، جو ٹریمین خاندان سے تعلق رکھتی تھی، بیاہ کر لایا تھا۔ وہ میری ناقابلِ فراموش لیجیا کی جگہ لینے آئی تھی۔

    اس کمرے کی آرائش اور تعمیر کا ایک ایک نقش آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔

    مجھے حیرت ہوتی ہے کہ دلہن کے مغرور خاندان نے محض دولت کی خاطر اپنی اتنی پیاری بیٹی کو اس ہولناک کمرے میں قدم رکھنے کی اجازت کیسے دے دی۔

    میں نے پہلے کہا تھا کہ مجھے اس کمرے کی ہر تفصیل یاد ہے، حالانکہ زندگی کی اہم ترین باتیں میری یادداشت سے محو ہو چکی ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ اس عجیب و غریب سجاوٹ میں کوئی ترتیب، کوئی توازن نہ تھا جو ذہن پر نقش ہو جاتا۔

    یہ کمرہ قلعہ نما خانقاہ کے ایک بلند برج میں واقع تھا۔ اس کی شکل پانچ کونوں والی تھی اور وہ خاصا کشادہ تھا۔

    جنوبی دیوار پر صرف ایک ہی کھڑکی تھی۔ وینس کے شیشے کی ایک بہت بڑی، بے جوڑ، سیسے جیسی دھندلی شیشے کی تختی، جس سے چھن کر سورج یا چاند کی روشنی اندر آتی تو ہر چیز پر ایک خوفناک زردی چھا جاتی۔

    کھڑکی کے اوپر ایک پرانی انگور کی بیل پھیلی ہوئی تھی، جو برج کی بھاری دیواروں پر چڑھتی ہوئی چھت تک جا پہنچی تھی۔

    چھت سیاہ بلوط کی لکڑی سے بنی ہوئی، نہایت بلند، محرابی اور عجیب و غریب نیم گوتھک اور نیم قدیم مذہبی نقش و نگار سے مزین تھی۔

    اس محراب کے عین وسط سے ایک موٹی سنہری زنجیر کے ذریعے ایک بہت بڑا لوبان دان لٹک رہا تھا، جس کا انداز مشرقی تھا۔ اس میں بے شمار سوراخ تھے جن میں سے رنگ برنگی آگ کے شعلے یوں اندر باہر لہراتے تھے جیسے زندہ سانپ بل کھا رہے ہوں۔

    کمرے میں جگہ جگہ مشرقی طرز کے چند دیوان اور سنہری شمع دان رکھے تھے۔

    دلہن کا پلنگ ہندوستانی طرز کا تھا، سیاہ آبنوس کی لکڑی سے تراشا گیا، زمین سے بہت نیچا، اور اس کے اوپر کفن جیسے پردے کا سائبان لٹک رہا تھا۔

    کمرے کے ہر کونے میں سیاہ سنگِ خارا کے ایک ایک دیوہیکل تابوت رکھے تھے، جو لُقصر کے سامنے واقع قدیم بادشاہوں کی قبروں سے لائے گئے تھے۔ ان کے ڈھکن صدیوں پرانے نقش و نگار سے بھرے ہوئے تھے۔

    لیکن اس کمرے کا سب سے حیران کن حصہ اس کے پردے تھے۔

    دیواریں غیر معمولی حد تک بلند تھیں اور چھت سے فرش تک سنہری کپڑے کے بھاری بھرکم پردوں سے ڈھکی ہوئی تھیں۔

    یہی کپڑا فرش پر قالین کی صورت میں بچھا تھا، دیوانوں پر غلاف بنا ہوا تھا، پلنگ پر سائبان کی شکل میں لٹک رہا تھا اور کھڑکیوں کے پردے بھی اسی سے بنے تھے۔

    اس سنہری کپڑے پر جگہ جگہ تقریباً ایک فٹ قطر کی سیاہ عربی نقش و نگار کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔

    مگر ان نقشوں کی اصل شکل صرف ایک خاص زاویے سے نظر آتی تھی۔

    جو شخص پہلی بار کمرے میں داخل ہوتا، اسے یہ محض بے ڈھنگے اور بدصورت ڈیزائن محسوس ہوتے۔

    لیکن جیسے جیسے وہ آگے بڑھتا، یہ نقش بدلنے لگتے۔

    چند قدم چلنے کے بعد یوں لگتا جیسے چاروں طرف خوفناک مخلوقات زندہ ہو گئی ہوں، وہی پراسرار شکلیں جو شمالی قوموں کی دیومالائی کہانیوں میں ملتی ہیں یا کسی گناہ گار راہب کے ڈراؤنے خوابوں میں دکھائی دیتی ہیں۔

    پردوں کے پیچھے مسلسل چلنے والی مصنوعی ہوا نے اس منظر کو اور بھی زیادہ خوفناک بنا دیا تھا۔ پردے ہلتے تو ایسا محسوس ہوتا جیسے ان میں واقعی جان آگئی ہو۔

    میں نے اپنی نئی بیوی کے ساتھ شادی کا پہلا مہینہ اسی کمرے میں گزارا۔

    عجیب بات یہ تھی کہ مجھے اس عرصے میں کوئی خاص بے چینی محسوس نہ ہوئی۔

    میں صاف دیکھتا تھا کہ میری بیوی میرے تلخ مزاج سے خوف کھاتی ہے، مجھ سے بچتی رہتی ہے اور مجھ سے محبت بھی نہیں کرتی۔

    لیکن اس بات سے مجھے دکھ نہیں بلکہ ایک عجیب سی خوشی ہوتی تھی۔

    میں اس سے ایسی نفرت کرتا تھا جو کسی انسان کی نہیں بلکہ کسی شیطان کی ہو سکتی ہے۔

    میرا دل ہر لمحہ لیجیا کی یاد میں بھٹکتا رہتا۔

    وہ عظیم، حسین، پاکیزہ اور اب قبر میں سوئی ہوئی عورت۔

    میں اس کی پاکیزگی، اس کی دانش، اس کی بلند روح اور اس کی دیوانہ وار محبت کو یاد کر کے سرشار رہتا۔

    افیون کے نشے میں، جس کا میں مکمل غلام بن چکا تھا، رات کی خاموشی میں یا دن کے وقت وادیوں کی تنہائی میں، میں بار بار اس کا نام پکار اٹھتا، گویا میری تڑپ اسے دوبارہ اسی دنیا میں واپس بلا لے گی۔

    دوسرے مہینے کے آغاز میں لیڈی رووینا اچانک بیمار پڑ گئی۔

    بڑی مشکل سے اس کی جان بچی۔

    بخار نے اس کی راتوں کا سکون چھین لیا تھا۔

    نیم غنودگی کی حالت میں وہ بار بار کہتی کہ اسے برج والے کمرے میں عجیب آوازیں سنائی دیتی ہیں اور پردوں کے درمیان کچھ حرکت محسوس ہوتی ہے۔

    میں سمجھتا تھا کہ یہ سب بیماری کا وہم ہے، یا پھر اس پراسرار کمرے کی فضا کا اثر۔

    کچھ عرصے بعد وہ صحت یاب ہو گئی۔

    لیکن یہ سکون زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔

    جلد ہی ایک اور، پہلے سے کہیں زیادہ شدید بیماری نے اسے دوبارہ بستر سے لگا دیا۔

    اس حملے کے بعد وہ کبھی مکمل صحت مند نہ ہو سکی۔

    اب اس کی بیماریاں بار بار لوٹ آتیں، ہر بار پہلے سے زیادہ خطرناک صورت میں۔

    ڈاکٹروں کا علم اور ان کی ہر کوشش بے اثر ثابت ہوئی۔

    جوں جوں بیماری اس کے جسم میں جڑ پکڑتی گئی، میں نے محسوس کیا کہ اس کے اعصاب بھی کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔

    معمولی سی بات بھی اسے خوف زدہ کر دیتی۔

    وہ پھر انہی آوازوں اور پردوں کے پیچھے ہونے والی پراسرار حرکتوں کا ذکر کرنے لگی، لیکن اب پہلے سے کہیں زیادہ اصرار کے ساتھ۔

    ایک رات، ستمبر کے اختتام کے قریب، اس نے اس پریشان کن معاملے کو معمول سے زیادہ شدت کے ساتھ میری توجہ کا مرکز بنایا۔ وہ ابھی ابھی ایک بے چین نیند سے بیدار ہوئی تھی اور میں آدھی بے چینی اور آدھے مبہم خوف کے احساس کے ساتھ اس کے کمزور اور زرد چہرے کے تاثرات کو دیکھ رہا تھا۔ میں آبنوسی لکڑی کے پلنگ کے پاس، ہندوستانی طرز کے ایک صوفے پر بیٹھا تھا۔ وہ ذرا اٹھ بیٹھی اور نہایت سنجیدہ اور دھیمی آواز میں ان آوازوں کا ذکر کرنے لگی جو وہ سن رہی تھی مگر میں نہیں سن سکتا تھا، اور ان حرکات کا جنہیں وہ دیکھ رہی تھی مگر میری نظر ان تک نہیں پہنچ پا رہی تھی۔ ہوا پردوں کے پیچھے تیزی سے گزر رہی تھی اور میں اسے سمجھانا چاہتا تھا کہ (اگرچہ سچ کہوں تو میں خود بھی اس پر پوری طرح یقین نہیں رکھتا تھا) یہ مدھم سی سانسوں جیسی آوازیں اور دیوار پر بنے نقش و نگار کی یہ معمولی سی جنبشیں صرف ہوا کے اسی معمول کے بہاؤ کا قدرتی نتیجہ ہیں۔ لیکن اس کے چہرے پر چھا جانے والی موت جیسی زردی نے مجھے بتا دیا کہ میری تسلی کی تمام کوششیں بے فائدہ ہوں گی۔

    وہ بے ہوش ہونے والی معلوم ہوتی تھی اور قریب کوئی خادم موجود نہ تھا۔ مجھے یاد آیا کہ ہلکی شراب کی ایک صراحی کہاں رکھی ہے، جو اس کے ڈاکٹروں کے حکم پر رکھی گئی تھی، چنانچہ میں اسے لینے کے لیے کمرے کے دوسری طرف چل پڑا۔ لیکن جب میں لوبان دان کی روشنی کے نیچے سے گزرا تو دو نہایت عجیب اور چونکا دینے والی باتوں نے میری توجہ کھینچ لی۔

    مجھے محسوس ہوا کہ کوئی ٹھوس، اگرچہ نظر نہ آنے والی چیز میرے جسم کو ہلکے سے چھو کر گزر گئی ہے، اور میں نے دیکھا کہ سنہری قالین پر، عین اس جگہ جہاں لوبان دان کی تیز روشنی پڑ رہی تھی، ایک سایہ موجود تھا۔۔۔ ایک ہلکا، غیر واضح سا سایہ، جس کی شکل فرشتے جیسی تھی، ایسا سایہ جیسا کسی سایے کے بھی سایے کا تصور کیا جا سکتا ہے۔

    لیکن میں افیون کی بہت زیادہ مقدار کے نشے سے بے قابو کیفیت میں تھا، اس لیے میں نے ان باتوں پر زیادہ توجہ نہ دی اور نہ ہی رووینا سے ان کا ذکر کیا۔ شراب مل گئی تو میں واپس کمرے میں آیا اور ایک پیالہ بھر کر بے ہوش ہوتی ہوئی عورت کے ہونٹوں سے لگا دیا۔ اب وہ کچھ سنبھل چکی تھی، اس لیے اس نے برتن خود تھام لیا، جبکہ میں قریب والے صوفے پر بیٹھ گیا اور میری نظریں مسلسل اس کے چہرے اور جسم پر جمی رہیں۔

    اسی وقت مجھے قالین پر کسی کے ہلکے قدموں کی آواز صاف سنائی دی جو پلنگ کے قریب آ رہی تھی۔ اور ایک لمحے بعد، جب رووینا شراب کا پیالہ اپنے ہونٹوں تک لے جا رہی تھی، میں نے دیکھا۔۔۔ یا شاید مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں نے دیکھا کہ کمرے کی فضا میں کسی پوشیدہ چشمے سے تین یا چار بڑے قطرے، چمکدار سرخ یاقوت جیسے رنگ کے، پیالے میں گرے۔

    اگر میں نے یہ دیکھا تھا تو رووینا نے نہیں دیکھا۔ اس نے بغیر کسی تردد کے شراب پی لی۔ میں نے اس واقعے کا ذکر کرنے سے گریز کیا، کیونکہ آخرکار میرا خیال تھا کہ یہ صرف میرے بے حد فعال تخیل کا نتیجہ ہوگا، جو اس عورت کے خوف، افیون کے اثر اور رات کے وقت کی کیفیت سے اور بھی زیادہ مضطرب ہو گیا تھا۔

    لیکن میں اپنے آپ سے یہ حقیقت نہیں چھپا سکتا کہ ان سرخ قطروں کے گرنے کے فوراً بعد میری بیوی کی بیماری اچانک بہت بگڑ گئی۔ یہاں تک کہ تیسرے دن کی رات اس کے خادموں نے اسے کفن پہنا دیا اور چوتھی رات میں اس کے پردہ پوش جسد کے ساتھ اسی عجیب و غریب کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا جہاں وہ میری دلہن بن کر آئی تھی۔

    افیون سے پیدا ہونے والے خوفناک خیالات سایوں کی طرح میرے سامنے سے گزر رہے تھے۔ میں بے چینی سے کمرے کے کونوں میں رکھے ہوئے تابوتوں کو دیکھتا، پردوں پر بدلتے ہوئے نقش و نگار کو گھورتا، اور اوپر لوبان دان میں لپٹتی ہوئی مختلف رنگوں کی آگ کو تکتا رہتا۔ پھر میری نظر اس جگہ جا ٹھہری جہاں پچھلی رات مجھے وہ دھندلا سا سایہ دکھائی دیا تھا۔ مگر اب وہاں کچھ نہ تھا۔ میں نے قدرے سکون کا سانس لیا اور پھر اپنی نظریں پلنگ پر پڑے اس زرد اور سخت جسم کی طرف موڑ دیں۔

    اسی لمحے لیجیا کی ہزاروں یادیں میرے ذہن پر حملہ آور ہو گئیں، اور پھر میرے دل پر ایک سیلاب کی طرح وہ ناقابل بیان غم چھا گیا جس کے ساتھ میں نے اسے اسی طرح کفن میں لپٹا ہوا دیکھا تھا۔ رات گزرتی رہی اور میں، اپنی واحد اور بے مثال محبوبہ کی تلخ یادوں سے بھرا ہوا، رووینا کے جسم کو دیکھتا رہا۔

    شاید آدھی رات کا وقت تھا، یا شاید اس سے پہلے یا بعد کا، کیونکہ میں نے وقت کا کوئی حساب نہیں رکھا تھا، جب ایک ہلکی، نرم مگر بالکل واضح سسکی نے مجھے اپنے خیالوں سے چونکا دیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ یہ آواز آبنوسی پلنگ، یعنی موت کے پلنگ، سے آ رہی ہے۔ میں نے توہماتی خوف کی انتہا کے ساتھ کان لگائے، مگر آواز دوبارہ نہ آئی۔

    میں نے پوری قوت سے لاش میں کسی حرکت کو تلاش کرنے کی کوشش کی، مگر ذرا بھی جنبش نظر نہ آئی۔ پھر بھی مجھے یقین تھا کہ میں دھوکا نہیں کھا سکتا۔ میں نے وہ آواز سنی تھی، چاہے کتنی ہی مدھم کیوں نہ ہو، اور میری روح بیدار ہو گئی تھی۔

    میں نے پوری ثابت قدمی سے اپنی نظریں اس جسم پر جما دیں۔ کئی منٹ گزر گئے، یہاں تک کہ آخرکار ایک تبدیلی ظاہر ہوئی۔ اس کے گالوں پر اور پلکوں کے نیچے دبی ہوئی چھوٹی چھوٹی رگوں میں ہلکی سی رنگت نمودار ہونے لگی۔

    ایسا خوف اور دہشت میرے اندر پیدا ہوئی جس کے اظہار کے لیے انسانی زبان میں شاید کوئی مناسب لفظ نہیں۔ مجھے محسوس ہوا جیسے میرے دل کی دھڑکن رک گئی ہو اور جہاں بیٹھا تھا وہیں میرے اعضا پتھر کے ہو گئے ہوں۔ لیکن آخرکار فرض کے احساس نے مجھے سنبھلنے میں مدد دی۔ اب مجھے شک نہیں رہا کہ ہم نے اسے دفن کرنے میں جلدی کی تھی اور رووینا ابھی زندہ تھی۔

    ضروری تھا کہ فوراً کچھ کیا جائے، مگر برج والا یہ کمرہ محل کے اس حصے سے بالکل الگ تھا جہاں خادم رہتے تھے۔ کوئی مدد کے لیے موجود نہ تھا۔ میرے پاس ان کو بلانے کا کوئی ذریعہ نہ تھا، کیونکہ اس کے لیے مجھے کئی منٹ کے لیے کمرہ چھوڑنا پڑتا، اور میں ایسا کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا۔

    چنانچہ میں نے اکیلے ہی اس روح کو واپس لانے کی کوشش شروع کی جو ابھی جسم کے قریب بھٹک رہی تھی۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد واضح ہو گیا کہ پھر سے حالت خراب ہو رہی ہے۔ پلکوں اور گالوں سے رنگت غائب ہو گئی، جس سے چہرہ سنگ مرمر سے بھی زیادہ سفید ہو گیا۔ ہونٹ سکڑ کر موت کے خوفناک انداز میں دب گئے، جسم پر ایک ناگوار سردی اور چپچپاہٹ پھیل گئی، اور موت کی تمام نشانیاں دوبارہ ظاہر ہو گئیں۔

    میں کانپتا ہوا اس صوفے پر گر پڑا جہاں سے ابھی ابھی خوف کے عالم میں اٹھا تھا اور پھر لیجیا کے خوابوں اور یادوں میں ڈوب گیا۔

    ایک گھنٹہ اسی طرح گزر گیا کہ اچانک۔۔۔ کیا یہ ممکن تھا؟ مجھے دوبارہ پلنگ کی طرف سے کوئی مبہم سی آواز سنائی دی۔ میں نے انتہائی خوف کے عالم میں کان لگائے۔ آواز پھر آئی۔۔۔ یہ ایک آہ تھی۔

    میں لاش کی طرف لپکا۔ میں نے صاف دیکھا کہ اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ ایک لمحے بعد وہ کھلے اور موتیوں جیسے سفید دانتوں کی ایک روشن لکیر دکھائی دی۔

    اب میرے دل میں حیرت، اس گہرے خوف سے ٹکرا رہی تھی جو اب تک مجھ پر مکمل غالب تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میری نظر دھندلا رہی ہے اور میری عقل میرا ساتھ چھوڑ رہی ہے۔ بڑی کوشش سے میں نے خود کو اس کام کے لیے تیار کیا جو فرض ایک بار پھر میرے سامنے لے آیا تھا۔

    اب پیشانی، گالوں اور گلے پر ہلکی سی حرارت اور رنگت لوٹ آئی تھی۔ پورے جسم میں زندگی کی گرمی محسوس ہونے لگی، یہاں تک کہ دل میں ہلکی سی دھڑکن بھی محسوس ہوئی۔ وہ زندہ تھی۔

    میں نے دوگنی کوشش کے ساتھ اسے ہوش میں لانے کا کام شروع کیا۔ میں نے اس کی کنپٹیوں اور ہاتھوں کو ملّا، پانی سے تر کیا، اور ہر وہ کوشش کی جو میرے تجربے اور طب کے معمولی مطالعے سے ممکن تھی۔

    لیکن سب بے فائدہ رہا۔ اچانک رنگت پھر اڑ گئی، دل کی دھڑکن رک گئی، ہونٹ دوبارہ مردہ شخص جیسے ہو گئے، اور ایک لمحے بعد پورے جسم میں وہی برفیلی سردی، نیلاہٹ، سختی، دھنسی ہوئی ساخت اور موت کی تمام بھیانک نشانیاں واپس آ گئیں جو کئی دن قبر میں رہنے والے جسم میں ہوتی ہیں۔

    اور پھر میں لیجیا کے خوابوں میں ڈوب گیا۔ اور پھر۔۔۔ یہ حیرت کی بات نہیں کہ لکھتے ہوئے بھی میں کانپ اٹھتا ہوں۔۔۔ آبنوسی پلنگ کی طرف سے ایک ہلکی سی سسکی دوبارہ میرے کانوں تک پہنچی۔

    لیکن میں اس رات کی ان ناقابل بیان ہولناکیوں کو تفصیل سے کیوں بیان کروں؟ میں کیوں رک کر یہ بتاؤں کہ کس طرح بار بار، یہاں تک کہ صبح کی مدھم روشنی نمودار ہونے تک، یہ خوفناک منظرِ زندگی کی واپسی دہرایا گیا؟ کس طرح ہر خوفناک واپسی کے بعد موت پہلے سے زیادہ سخت اور ناقابل واپسی دکھائی دیتی تھی؟ کس طرح ہر اذیت کسی نظر نہ آنے والے دشمن سے جنگ کا منظر پیش کرتی تھی؟ اور کس طرح ہر جدوجہد کے بعد لاش کی ظاہری شکل میں ایسی تبدیلی آتی تھی جسے میں بیان نہیں کر سکتا؟

    میں جلدی سے اختتام کی طرف بڑھتا ہوں۔

    خوفناک رات کا بیشتر حصہ گزر چکا تھا اور وہ جو مر چکی تھی، ایک بار پھر حرکت کرنے لگی۔۔۔ اور اس بار پہلے سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ، حالانکہ وہ ایسی بے امید اور بھیانک موت کی کیفیت سے واپس آ رہی تھی جس کا تصور بھی خوفناک تھا۔

    میں بہت پہلے جدوجہد کرنا یا حرکت کرنا چھوڑ چکا تھا اور صوفے پر بالکل ساکت بیٹھا تھا، جیسے شدید جذبات کے ایک طوفان کا بے بس شکار ہوں۔ ان جذبات میں شدید ترین حیرت اور خوف شاید سب سے کم ہولناک اور کم تباہ کن کیفیت تھی۔

    میں پھر کہتا ہوں، لاش نے حرکت کی، اور اب پہلے سے زیادہ زور کے ساتھ۔ زندگی کی رنگت غیر معمولی قوت کے ساتھ اس کے چہرے پر واپس آنے لگی، اعضا ڈھیلے پڑ گئے، اور سوائے اس کے کہ پلکیں ابھی بھی مضبوطی سے بند تھیں اور کفن کی پٹیاں اور قبر کے کپڑے اب بھی اس وجود کو موت کی علامت دیے ہوئے تھے، میں یہ سمجھ سکتا تھا کہ شاید رووینا نے واقعی موت کی زنجیریں مکمل طور پر توڑ دی ہیں۔

    لیکن اگر اس وقت بھی میں اس خیال کو پوری طرح قبول نہیں کر پایا تھا، تو بھی میرے لیے شک کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی جب وہ کفن میں لپٹا ہوا وجود پلنگ سے اٹھا، لڑکھڑاتے ہوئے، کمزور قدموں کے ساتھ، آنکھیں بند کیے، اور ایسے انداز میں جیسے کوئی شخص خواب کی حالت میں بھٹک رہا ہو، پورے جسم کے ساتھ چلتا ہوا کمرے کے بیچ تک آ گیا۔

    میں نہ کانپا، نہ حرکت کر سکا۔۔۔ کیونکہ اس وجود کی چال، قد، انداز اور فضا سے جڑی ایسی ناقابل بیان خیالات کی بھیڑ میرے ذہن میں اتنی تیزی سے دوڑی کہ میں مفلوج ہو گیا، پتھر کی طرح سرد ہو گیا۔

    میں نے کوئی حرکت نہ کی، بس اس عجیب منظر کو دیکھتا رہا۔

    میرے خیالات میں پاگل پن جیسا انتشار تھا، ایک ایسا ہنگامہ جسے کوئی سکون نہ آ سکتا تھا۔

    کیا واقعی یہ زندہ رووینا تھی جو میرے سامنے کھڑی تھی؟ کیا یہ واقعی رووینا ہی تھی۔۔۔ وہ سنہرے بالوں والی، نیلی آنکھوں والی خاتون، لیڈی رووینا ٹریوینین آف ٹریمن؟

    آخر میں شک کیوں کرتا؟ اس کے منہ کے گرد کفن کی پٹی سختی سے لپٹی ہوئی تھی، لیکن کیا یہ سانس لیتی ہوئی لیڈی ٹریمن کا منہ نہیں ہو سکتا تھا؟

    اور اس کے گال۔۔۔ ان پر تو وہی زندگی کی سرخی تھی جو اس کی جوانی کے عروج میں ہوا کرتی تھی۔ ہاں، یہ یقیناً زندہ لیڈی ٹریمن کے خوبصورت گال ہو سکتے تھے۔

    اور ٹھوڑی، جس پر صحت کے زمانے جیسے گڑھے تھے، کیا وہ اسی کی نہیں ہو سکتی تھی؟

    لیکن کیا بیماری کے بعد اس کا قد بڑھ گیا تھا؟

    اس خیال نے مجھے کیسا ناقابل بیان جنون میں مبتلا کر دیا،

    ایک ہی جست میں میں اس کے قدموں تک پہنچ گیا۔

    میرے چھونے سے وہ پیچھے ہٹی اور اس کے سر سے وہ خوفناک کفن کی چادریں، جو اسے لپیٹے ہوئے تھیں، کھل کر نیچے گر گئیں۔ اور کمرے کی تیز ہوا میں لمبے، بکھرے ہوئے بالوں کا ایک بہت بڑا جھنڈ لہرانے لگا۔

    وہ بال آدھی رات کے کوے کے پروں سے بھی زیادہ سیاہ تھے!

    اور اب میرے سامنے کھڑے اس وجود کی آنکھیں آہستہ آہستہ کھلنے لگیں۔

    تو پھر، کم از کم اب، میں چیخ اٹھا، کیا میں کبھی۔۔۔ کبھی غلطی نہیں کر سکتا یہ وہی بھری ہوئی، سیاہ اور پراسرار آنکھیں ہیں میری کھوئی ہوئی محبت کی۔۔۔ اس خاتون کی۔۔۔ لیجیا کی!

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے