مچ اسٹیشن
بہت دنوں بعد رشید گھر لوٹا تو علاقہ بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ یوں تو مسجد فاتحہ لینے جوتے چرانے کے کام بھی آتی مگر ہمدردوں کا ہجوم اتنا تھا کہ قریبی مسجد میں سبھی جا بیٹھے مبارکبادوں کے ڈونگرے برسانے لگے۔رشید البتہ گھائیل تھا۔ گُمشدگی کے دنوں میں اس کی سخت پٹائی لگائی گئی تھی۔ جیسے ریوڑ زمین روند کر یوں تو گزر جاتا ہے، مگر کھروں کے نشان چھوڑ جاتا ہے۔ گزرے شب و روز وقت کے نشان اس کے چہرے اور گردن پر تھے۔اٹھنے خصوصاً بیٹھنے میں دقعت ہوتی۔ گدی والی کرسی لگا دی گئی تھی۔ رشید کی حالت کے سبب کسی نے اعتراض نہ کیا کہ ان کی موجودگی میں کرسی پر کیوں بیٹھتا ہے۔ رشید کو اچانک ہی جیسے چھلاوے یا بھوت پریت اٹھا کے چلتے بنے ہوں۔ اس کا بائیک بدستور ڈھابے کے سامنے پارک رہا۔ لوگ باگ دوڑے، عزیز و اقارب امنڈ پڑے۔ سبھی اس غول بیابانی کو جانتے تھے۔ جس کا نام لیتے دم نکلتا۔ تھانے گئے رپٹ لکھوائی۔ پھر ماماقدر کے احتجاجی کیمپ میں جا بیٹھے۔ اس کیمپ میں جو بڑی بڑی تصویریں لگی تھیں، ان ہی تصویروں میں رشید کی بھی تصویر آویزاں کر دی۔ پہلو میں مسجد تھی۔ بالکل قنات کے ساتھ لگی ہوئی، مگر نماز ی میں لاتعلقی سے مسجد میں داخل ہوتے۔ نماز ادا کر کے متلاشی نگاہوں سے جوتے تلاش کرتے۔ اپنا جوتا موجود پاکر خوشی سے کھل اٹھتے۔ خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنی راہ لیتے خدا غفور ہے رحیم ہے۔ وہ کبھی تو جہ نہ دیتے کہ احتجاجی کیمپ کی یہ روتی پیٹتی فریاد کرتی مائیں بہنیں اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیئے کیوں بیکل ہیں۔ اس احتجاجی کیمپ سے لوگوں بے توجہی دیکھ کر رشید کے والد اکرم کو مایوسی ہوئی کہ وہ رشید کی کیا مدد کر سکیں گے۔ پھر بھی یہ بڑی سی تصویرلگواتے ہی بن پڑی لوگ آتے جاتے رہے۔ قدرتی برآمدگی پر بدھائیاں ہوئیں۔ رشید نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔ ان دنوں سرکاری افسری خریدنے کی تگ و دو میں تھا۔ اکرم نےوعدہ کیا تھا کہ بازار کی دکان بیچ کر نوکری کی قیمت چکا دے گا۔ Horse mouth سے سنا تھا، بعض ٹھاکر رقم بھی وصول کرتے ہیں۔ ملازمت بھی نہیں دیتے۔ وہ اس قدر طاقتور ہیں کہ عام انسان ان کا کچھ بگاڑ بھی نہیں سکتا۔ اس لیئے اکرم کسی صاحب ایمان نوکری فروش وزیر کی تلاش میں سر گراں تھا۔ جو رقم اینٹھ کرــــــ پھر سرکاری ملازمت کا پروانہ تھما دے۔ کلثوم نے شدت سے محسوس کیا کہ رشید لطیفے سنانے ہنسانے کی بجائے اب چپ چاپ دم سادھے،خاموشی کی چادر اوڑھے رہتا ہے۔ابتداء میں وہ اسے تھرڈ ڈگری سے ذہن پر چھانے والے اثرات قرار دیتی رہی۔ مگر یہ کوئی موڈ کی بات نہ تھی، شخصیت کی تبدیلی تھی۔ رفتہ رفتہ اندرونی اور بیرونی گھاؤ مندمل ہوتے چلے گئے۔ کلثوم کی جانب اس کی توجہ رفتہ رفتہ مبذول ہونے لگی۔ورنہ بازیابی کے بعد تو وہ دوائیاں پھانک کر بولان میں گھومتے ٹرک کے ٹول میں جیسے سو جاتا۔ کروٹیں بدلنے میں ہی کراہنے لگتا۔ہونٹ سینے کی کوشش کرتا کہ کلثوم کیا سمجھے گی کہ مر د ہوا کر درد برداشت نہیں کر سکتا۔ جسم کے ریڈ زون پر بید اور جلتے سگریٹوں کے نشان صرف کلثوم ہی دیکھ پاتی تھی۔ وظیفہ زوجیت ادا کرنے سے بھی قاصر تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ سنبھلنے لگا۔ جوان تھا اتنی لپاڈگی برداشت کر گیا۔ اچھی خوراک، مقوی دوائیاں، گھرانے کی محبت،کلثوم کی خدمت کے باعث رشید پہلے تو سہارہ لے کے چلنے پھرنے لگا۔ اس کے بعد اپنے ہی پیروں کے بل پہ آ گیا۔
کلثوم نے محسوس کیا کہ دہلی کے پرانے صوفیوں کی طرح رشید کو دستِ غیب مل گیا تھا۔ جیسے ہی گدی نشین جا نماز پلٹتے سونے کی چمکتی دمکتی زر د اشرفیاں نکلتیں، جن سے ان کی شاہانہ زندگی خدام کا خرچ اور لنگر کا بجٹ چلتا۔ وہ دولت کے ڈھیر پہ بیٹھے دولت کو برا بھلا کہتے۔ ہاتھ کا میل قرار دیتے۔
حالت لاچاری میں گھر بیٹھے اتنی رقم ملتے رہنا محال تھا۔ رشید کی کمزوری ناتوانی کے باعث کلثوم نے کچھ پوچھنا مناسب نہ سمجھا۔ اسے امید تھی کہ طبیعت سنبھلے۔ وقت آنے پر خود ہی بتلا دے گا۔ کہ اچانک یہ دولت کی ریل پیل کیسے ہو گئی۔ کون زر نچھاور کر رہا ہے۔ رشید سہ پہر میں دوستوں سے ملنے جاتا۔ پھر مغرب کے بعد واپس لوٹتا۔ یوں لگتا کہ جیسے اسے کوئی پر اسرار سی نوکری مفت میں بلا خریدے ہی مل گئی ہو۔ وہ کچھ کاغذ پڑھتا لیکن چھپ چھپا کے۔ ورنہ کلثوم کو کمرے سے باہر بھجوا دیا کرتا۔ ویسے لیپ ٹاپ کے لیئےرشید کو کبھی بھی میز کی ضرورت نہ پڑی۔ منجی پر ہی بیٹھ کر کام کرنے لگتا۔ جانے کون سا ڈیٹا انڈیلتا رہتا۔
سرھاندی یا پرا ندی! اس کا فرق نہ معلوم پڑتا۔انہماک کا ایسا عالم کہ کچھ سننا بھی پسند نہ کرتا۔ کلثوم اس کے لیئے چائے یا کچھ کھانے کو لاتی تو وہ گڑبڑا کر کاغذوں کا پلندہ اور سکرین چھپانے لگتا۔ اپنے والد اکرم کو البتہ رشید نے بتلا دیا تھا کہ اسے نوکری مل گئی ہے۔ تنخواہ بھی معقول ملتی ہے۔ اکرم چونکہ آڑھتی تھا۔ اسے نوکری کی باریکیوں سے دلچسپی نہ تھی۔ اس کے لیئے اس قدر ہی کافی تھا کہ ملازمت کے باعث کماؤ پتر بن گیاہے۔ رشید کھلے ہاتھ کا تھا۔ گھر پہ بھی خرچ کرتا وہ بھی دل کھول کر۔
وقت کے لیپ کے باعث رفتہ رفتہ اندرونی گھاؤ اور بیرونی زخم مندمل ہوتے چلے گئے۔ وہ نارمل سی زندگی گزارنے لگا۔لاچار مریض کے اندر سے وہی جذباتی شوہر ابھرا تو کلثوم کی زندگی بھی سنور گئی۔ وہ ہنستا بولتا، لطیفے سناتا۔ زندگی میں دلچسپی لیتا۔
یوں تو کلثوم نے بارہا دریافت کیا کہ وہ نوکری کون سی ہے جس کے لیے صرف سہ پہر سے شام اور کبھی رات تک باہر جانا پڑتا ہے اور کاغذوں کے پلندے، تصویں کن لوگوں کی ہیں اور پھر ان سب کا رشید سے بھلا کیا تعلق مگر رشید طرح دے جاتا۔ اِدھر اُدھر کی باتیں کرتا۔ یا پھر کلثوم کے حسن کی تعریف کرنے لگتا۔ موضوع بدل کر ادھر ادھر باجو والی گلی سے سٹک جاتا۔چند بار اکرم نے بہو سے کریدنا چاہا کہ رشید کون سی شاہانہ ملازمت ہے جس کی تنخواہ اتنی زیادہ ہے اور کام اتنا ہلکا۔ اکرم کی گھر پہ نظر تھی وہ مطمئن تھا رشید کی دولت سے گھر کی شکل و صورت تیزی سے بدل رہی تھی۔ موٹر سائیکل گھر کے برآمدے میں کھڑی کر کار لے آیا تھا۔ جو اسی گیٹ سے گھر میں سما گئی۔یوں ان کا خاندان دو پہیوں کی بجائے چار پہیوں والی قوم میں شامل ہو گیا۔ کار بھی خاندان کے وقار میں چار چاند لگا دیتی ہے۔ کار صرف سواری نہیں بلکہ اعلان ہے کہ یہ ایک کامیاب خوش حال گھرانہ ہے۔
چند ہی ماہ میں سرگوشیاں سی ہونے لگیں کہ رشید کوئی خفیہ کام کر رہا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق طلب کرنے والے کی تلاش میں رہتا ہے۔ ان سے دوستی کرنا، ساتھ رہ کر ان کے خلاف ثبوت اکٹھے کرنا۔ ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، ان کے دھرنوں میں شامل ہونا۔نعرے بازی کرنا۔ان کے حوصلے بڑھاتا۔ ان ہی کے ساتھ تھانوں،حوالاتوں میں بند ہوتا۔ قمیض کے بٹن میں لگے کیمرے سے ان کی گفتگو ریکارڈ کرتا۔ گفتگو سے ان کا ذہن کریدنے لگتا۔ بظاہر وہ ایک انقلابی تھا۔ جسے پولیس گھسیٹ کر دوسرے کامریڈوں کے ہمراہ بند کر دیتی۔ رشید غیر محسوس طور پر دو زندگیاں گزارنے لگا تھا۔Prompter کا سرکاری منڈوا کاٹھ کی ہنڈیاں ثابت ہوا۔ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ بھیڑ کی کھال پہنے رشید کا سحت اینٹی ریڈیکل اصلی ہوگیا ہے۔ حقوق مانگنے والوں کو ملک دشمن شمار کرنے لگا ہے۔ مختلف نظرئیاتی گروہوں میں یوں گھل مل جاتا ہے، شیر و شکر ہو جاتا ہے۔ چونکہ ہاتھ میں پیسہ تھا، دوستوں پہ خرچ کرتا۔ کسی بھی میٹنگ کے لیئے ہوٹل کے ہال کا انتخاب کرتا، انتظام کرتا بل بھی ادا کرتا۔ افواہوں کے باوجود اسکی مقبولیت بڑھنے لگی تھی۔ یہی نہیں جیب نالے کے اس پار تک رسائی تھی۔
رشید جیسے خواب تو ہر Ambicious انسان دیکھتا، مگر جو راجہ کے من بھائے وہی سورس کہلائے۔ اکرم کچھ متوحش سا تھا۔ ہر دولت کے پیچھے کوئی کرائم چھپا ہوتا ہے، دولت کی عمارت کی نیو ہی کرائم میں پڑتی ہے۔ اکرم نے متعدد بار سوال کیئے کہ کون سی ملازمت ہے جسکی تنخواہ روپے کے بجائے یوں لگتا ہے کہ پاونڈ میں ملتی رہی ہے، پھر بھلاوہ دفتر کیوں نہیں جاتا۔رشید نے دلجوئی کی ”بابا وہ تانگے بیل گاڑی والا دور کب کا لد گیا، جب ہر چیز مضبوط پکی یا جاندار ہو کرتی تھی۔ آپ کباب کھانے ٹنڈے کبا بیئے کے ہاں جاتے یا پھر بارش میں بھیگتے ہوئے لال کباب والے کے جا نکلتے، اب فون کرو تو دروازے پہ ڈبہ لیئے پہنچ جاتا ہے۔“ ویسے رشید درست کہہ رہا۔ زمانہ بے حد تیزی سے بدل رہا تھا، یوں بھی جیسے اکرم کا عقیدہ تھا کہ بحث بیوقوفوں کے ساتھ تھڑے پر قطار کھیلنے سا مشغلہ ہے کسی کی سوچ جس بحث سے بھلا کب بدلی ہے۔ اسی دوران رشید کا اصرار بڑھا کہ کلثوم اسکول کی ملازمت چھوڑ دے۔ ٹیچر کی ملازمت تو شادی سے پہلے اختیار کی تھی۔ جب مالی حالات درست نہ تھے اپنے والد کا ساتھ دینے کے لیے وہ عملی زندگی میں اتر آئی تھی۔ رشید نے اسے اسکول آتے جاتے دیکھا تو دل تھام کے ہی رہ گیا۔ شادی میں رکاوٹ بس بے روزگاری تھی۔ اچھا پڑھا لکھا خوبصورت نوجوان جس کا والد اکرم اچھی شہرت رکھتا تھا اور بیٹے کو بھی کام مل جاتا، یوں کلثوم ان کے ہاں مستقل طور پر چلی آئی۔ کیونکہ شادی میں ٹرانسفر پالیسی نہیں ہوتی۔ بیوی کسی بھی آمر کی طرح عمر بھر کے لیئے آتی ہے مدت ملازمت بھی بڑھانی نہیں پڑتی یہ امید بھی تھی کہ بیوی کی قسمت بھی ساتھ آکر شامل ہوتی ہے۔
رشید کو دوست احباب نے سمجھایا کہ وہ سیاسی جلسوں سے دور رہے، اپنا مستقبل بنائے۔ مگر اس کے اعصاب پر لیون ٹراٹسکی جیسے دانشور سوار تھے۔ وہ ہر وقت تبدیلی کی بات کرتا، اکرم نے بھی سمجھایا بجھایا کہ اڑھائی ہزار برس کی جو کچی پکی تاریخ ہے اس میں کوئی انقلاب تو کیا ہلکی سی تبدیلی بھی نہیں آئی۔ وہی بھیڑ چال معاشرہ۔ ایک باپور بدست چرواہا سارے برّے ہانکے چلا جاتا ہے۔ جاپان ٹریکٹر نہ لاتا تو حضرت ابراہیم کے زمانے کل ہل بد دستور چلتا و پُراسرار اغوا ءاور ٹارزن کی واپسی کے بعد رشید بالکل ہی بدل چکا تھا۔ لیکن کلثوم کو اس کی شخصیت کی تبدیلی کچھ خوفناک سی لگی۔ جیسے شور مچاتے دریاؤں کے پُرسکون کورانگا کھمب۔ جو اتھلےپانیوں میں بھی انسانوں کو نگل لیتے ہیں۔
پہلے تو گھر پرسکون ہوا کرتا آمدنی کم سہی ایک برکت تھی، برکت بھی ایک پُراسرار سی چیز ہے، جس کی وجہ سے جو کی پانچ روٹیاں
دو مچھلیاں پانچ ہزار انسانوں کے لیئے کافی ثابت ہوتی ہیں۔بلکہ بچے کچھے ٹکڑوں سے باراں ٹوکریاں بھر جاتی ہیں مگر اب کچھ بے سکونی سی تھی۔
رشید کی پُراسرار مصروفیات گھنٹوں لیپ ٹاپ پہ بیٹھے رہنا پھر چند گھنٹوں کے لیئے یوں غائب ہونا کہ موبائیل بھی سویا رہتا۔ جب کلثوم نے اپنے سسُر اکرم کو توجہ دلائی تو اکرم نے بتایا کہ حالات کی اس تبدیلی نے خود اسے بھی چکرا دیا ہے۔ بس کایا کلپ ہو گئی رشید بدلا بدلا سا لگتا ہے خواہشات کے بھنور میں کسی لٹو کی طرح گھومے جاتا جانے کون سی نوکری ہے۔ کس کی نوکری ؟ کس نے اسے علی بابا کے دوبول ” کھل جا سم سم “ سکھا دیے ہیں کہ ہن برسنے لگا ہے۔ اکرم اپنے بیٹے کو قابلی کار سے اتار کر موٹر سائیکل پہ بٹھانا چاہتا تھا جس کی پچھلی سیٹ پہ سکون بھی کبھی ساتھ ہی بیٹھتا۔
ایک روز کلثوم اسکول سے جلدی لوٹ آئی، تلاش کے بعد الماری کی چابی ڈھونڈ نکالی۔ہر بیوی اپنے شوہر کے جسم اور ذہن کی جیولوجی ڈی کوڈ کر لیتی ہے۔ رشید سی سیاسی جلوس میں رہنمائی اور نعرہ بازی کے لیئے کب کا نکل گیا تھا۔ اس کی واپسی دیر سے ہی ہوتی۔ بعض اوقات تو پولیس ہی ڈک لیتی۔ پھر اگلے ہی روز حکومت سے معافی دلوا کر سارے ہی رہنما ہدہ جیل سے باہر لے آ تے۔ کوئیٹہ میں پھول کہاں کاغذی پھولوں کے ہار پہنا کر کاغذی شیر لے آتے جو، جووی فار وکٹری بناتے۔ حالانکہ وی کا نشان چاند کی جانب بلند دو ٹانگیں بھی لگتا ہے۔
Mock- Heroic Talk سے سیاسی بھوجن کرتے۔ اسی پہ جیئے جاتے۔ یہی ان کا من بھاتا کھاجا ہوا کرتا۔
الماری سے رشید کا خفیہ لیپ ٹاپ نکال کر کلثوم نے آن کر دیا۔ لیپ ٹاپ اور عورت اسی کی ہوا کرتی ہے جس کے ہاتھوں میں ہو۔ عورت کا تو پاس ورڈ ہی نہیں ہوتا، ہر چابی لگ جاتی ہے۔ احتیاط کی خاطر وہ اسٹور میں جا چھپی تھی۔ لیپ ٹاپ سچ اگلنے لگا۔ رشید ترقی پسندوں بائیں بازو کے دانش وروں کا دشمن نکلا جو غربت کو خدائی آزمائش نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کی قبیح سازش قرار دیتے ہیں۔ ان لوگوں کی تقریر یں اور پورا ڈیٹا تھا۔ جو سماجی شعور اور معاشی تبدیلیوں کے خواہاں تھے۔ Status Quo قائم رکھنا سرکار دربار کے لیئے ضروری تھا۔ شعور جا گا تو پھر انقلاب آئے گا۔
ایسے ہی لوگ تو چندر شیکھر آزاد، بھگت سنگھ، حسن ناصر، فیض، فراز، آزات جمالدینی کی طرح چبیاں مارتے ہوئے انسانوں کو ساتویں صدی کے ٹھلیا والے مقدس گار ے سے باہر نکالتے ہیں۔جگاتے ہیں، اکیسویں صدی میں لاتے ہیں۔ کلثوم سہم سی گئی پھر سناٹے میں آگئی۔ وہ ان معصوم انسانوں کو بھلا کیسے بچا سکتی ہے۔ چند ہی روز بعد جنہیں چک بر غائب کر دے گا۔اس نے یو ایس بی نکال لی جس میں پوری تفصیل تھی۔ لیپ ٹاپ بند کر کے اس نے دراز کا تالہ دوبارہ لگا دیا اور چابی بھی وہیں چھپا دی جہاں رشید پوشیدہ رکھتا تھا۔ موقعہ پاتے ہی اس نے اپنے سُسر اکرم کو ساری باتیں بتا دیں۔ اکرم کو بھی سکتہ سا ہو گیا، مگر کچھ دیر بعد وہ خود کو سنبھالنے کے قابل ہوا تو اس نے وہ خطرناک یو ایس بی کلثوم سے لے کر اپنی جیب میں ڈال لی۔ اکرم کو خدشہ تھا کہ رشید گمشدہ یو ایس بی کی ذمہ داری کلثوم پر ڈال دے گا۔بیٹا جس قدر بھی نیلام ہو باپ اسے زبردستی یو ایس بی چھیننے کی کوشش نہیں کرتا۔ شام میں رشید باہر ہی رہا۔ رات گئے کھا پی کرلوٹا تو اس قدر تھکا ہوا تھا کہ آتے ہی ڈھیر ہو گیا۔ برآمدگی کے بعد وہ وظیفہ زوجیت ادا کرنے کے قابل بھی نہ رہا تھا۔ جبکہ کلثوم پوری کوشش سے رشید کے دل کو ٹنڈرا کے میدانوں سے محبت کرنے والے شوہر میں بدلنا چاہتی تھی۔ رشید بھی billing سے آگے نہ بڑھتا۔ جسم پر لگی چوٹیں تو مندمل ہوئی جا رتیں تھیں۔ دل کے گھاؤ کہاں دکھائی دیتے ہیں۔ دل چاند سا کم ظرف نہیں ہوتا کہ ایک عالم کے سامنے سینہ کھول کے کھمب دکھانے بیٹھ جائے۔
اگلے روز اکرم بھی مصلحت کے تحت گھر میں ہی رہا، رشید نے، لیپ ٹاپ کھولتے ہی ادھم مچا دیا۔ وہ پاگل سا ہو گیا۔
”میری یو ایس بی تم نے چرائی ہے۔“ وہ حلق کے بل چیخ اٹھا۔
کلثوم آگ میں کودنے کو تیار بیٹھی تھی۔ انسانیت کے لیئے جو ہر کی رسم ادا کرنے کو رانی سنجوگیتا بن گئی۔ ”تم معصوم لوگوں کو پکڑوانا چاہتے ہو۔ صرف دولت اور اقتدار کے لیئے۔ میں ایسا نہیں ہونے دوں گی۔ اتنے قصائی نہ بنو۔“
رشید آگ بگولہ ہو گیا ”وہ پرانے زمانے کی باتیں تھیں، اب ہر شخص اپنے لیئے اپنی کامیابی کے لیے جیتا ہے۔ یہ ملک دو قومی کے لیئے بنا تھا۔ لوٹنے والا، لٹنے والا، قاتل، مقتول، ظالم، مظلوم۔ جب میں دن رات مار کھا رہا تھا تو کوئی مجھے بچانے نہ آیا۔ کندھوں کے سوار بھی خاموش رہے اور شہ رگ سے لپٹے جذبات بھی، میں نے دیکھا کہ بھگوان بھی دور رہتا ہے۔ گرم کمرے میں بند لا تعلق سا۔ لاؤ مجھے یو ایس بی دے دو۔“
کلثوم کی آنکھیں قہر برسا رہی تھیں۔ جیسے ان میں سبی، دھاڈر آن بیٹھا ہو ”میں یو ایس بی توڑ دوں گی۔ تاکہ تم ثبوت نہ پہنچا سکو“
رشید کا پاگل پن عروج پر تھا ”ساری معلومات میرے دماغ میں ہیں۔ توڑنے سے کیا ہوگا؟ دوسری بنا لوں گا۔ میں اب مچ اسٹیشن پر کھڑا ہوں جہاں پیچھے ہٹنے کا راستہ ہے آگے بڑھنے کا نہیں۔ مگر یہ تصویریں یہ ویڈیوز مجھے دو۔“
اس نے جھپٹ کر الماری سے پستول نکالا اس سے پہلے کہ کلثوم پہ لپکتا۔
پائینتی سے الجھ کر یوں گرا کہ پستول کلثوم کے قدموں میں جیسے خود ہی اڑتا آیا ہو۔ کلثوم نے جھپٹ کر پستول اٹھایا اور رشید پہ تان لیا۔ ”رک جاؤ۔ اب بھی وقت ہے۔“
رشید ذرا ٹھٹکا ”آدمی کو مارو تو قتل ہے، مل کر آبادی مار ڈالو تو جنگ ہے۔ یہ لفظوں کا کھیل ہے۔ میری کامیابی ضروری ہے۔ ڈیفینس میں بنگلہ ہوگا، گاڑیاں، دبئی کی پراپرٹی، ہر سال عمرے۔“ باتوں میں لگا کر اس نے کلثوم پر جست لگائی۔ اسی لمحے شعلہ چمکا اور رشید کا بھیجہ چاٹ گیا۔
اکرم دوڑتا ہوا اندر داخل ہوا۔ وہ یہ تمام گفتگو سن رہا تھا۔ کلثوم ساکت و جامد تھی۔ اسے کوئی تاسف نہ تھا۔ اکرم نے کلثوم سے پستول چھین کر زمین پر گرے رشید کے ہاتھ میں دے دیا، جو اپنے ہی خون میں نہایا ہوا تھا۔ زن و مرد دوڑتے چلے آئے۔ ہر لب پہ آہ و فغاں تھی۔ سبھی رشید کی خودکشی پر افسوس کر رہے تھے، کہ نظام بدلتے خود ہی جان سے گیا۔۔ ہر جانب کہرام بپا تھا ایک زمانہ دوڑے چلا آ رہا تھا۔ بیٹے پہ گرا، رشید بچوں کی طرح بلک رہا تھا۔ پولیس نے نرمی مگر طاقت سے اکرم کو الگ کیا۔ جو خون میں لتھڑا ہوا تھا۔
”اس نے خودکشی کیوں کی؟ یہ تو کامیاب لیڈر تھا۔“ تھانیدار نے رسان سے پوچھا۔ اس نے اتنے قتل دیکھے تھے کہ اب یہ اس کے لیئے ایک عام سا واقعہ تھا۔ ہرجانب سے جھانکتےموبائل کیمروں کے باعث تھانیدار نے چہرے پر حزن و ملال کی کیفیت طاری رکھی۔ کھینچ کر کچھ نمی بھی آنکھوں میں لےآیا۔ بات اس کے حلق سے اتر نہیں رہی تھی۔ قتل بھی تو ممکن تھا۔ رشید نےلوگوں کے اصرار پہ بھی پانی کو منہ نہ لگایا۔
تھانیدار نے شفقت اور محبت سے گلاس اکرم کے ہونٹوں سے لگا دیا۔ ویسے ہاتھ کی ڈھیلی گرفت میں پستول سینے پہ گولی یہ زخم Self Inflicted ہی تو تھا مگر وہ تسلی چاہتا تھا ” بزرگو اس نے خودکشی کیوں کی۔“ تھانیدار بدستور اکرم کو گھورے جا رہا تھا جیسے آنکھوں سے دل میں ہی اتر جائے گا۔
اکرم دھاڑیں مار کر رو رہا تھا۔ ”بس ہم نے جسم کے زخموں کا علاج تو کیا دل کے زخم نہ دیکھے۔ کہتا رہتا کہ مچ اسٹیشن پر پھنس گیا ہوں۔ گاڑی رک گئی ہے۔ آنے بڑھنے کا راستہ نہیں۔“
حاشیہ
Prompter اسٹیج کے عقب سے اداکار کو مکالمہ یاد دلانے والا۔
کورانگا کھمب: دریا میں گہرا کنواں۔
Billing : چونچیں، باہم ملا کر طوطوں کا اظہارِ محبت۔
مچ: دھونی ر ما نے والےسادھو کا مقام -درہ بولان کا شہر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.