اچھا خاصا چیروا

صدیق عالم

اچھا خاصا چیروا

صدیق عالم

MORE BYصدیق عالم

    کہانی کی کہانی

    یہ ایک فنتاسی ہے۔ جاڑے کی ایک صبح ایک قبائلی اپنے سور کے ساتھ پہاڑ سے اُتر کر اسے بیچنے کے لئے قصبہ کی طرف جارہا تھا ۔ حالانکہ یہ اتنا آسان کام نہ تھا۔ اس قصبہ میں دوسرے چوپایوں کی طرح سوروں کا کوئی ہفتہ وار ہاٹ نہیں لگتا تھا اور سور کو کسی چوراہے پر کھڑے ہوکر بیچنے کے لئے آواز لگانا کچھ عجیب سا عمل تھا۔ وہ مایوس ہو کر واپس آ رہا تھا کہ پہاڑی ڈھلان پر ایک تین جھونپڑوں والے گاؤں کے پاس رات ہوگئی۔ یہ تینوں جھونپڑیاں دراصل تین چڑیلوں کی تھیں جو سورج ڈوبتے ہی پیڑوں پر جابستی تھیں۔ چڑیلوں نے قبائلی سے سور چھیننے کی بھرپور کوشش کی کہ اسلیے ان سے بچنے کے لیے ایک مقامی کسان کے گھر میں پناہ لینی پڑی۔ قبائلی کے لئے وہ رات بد روحوں والی رات ثابت ہوئی۔ صبح ہوتے ہی قبائلی نے فیصلہ کیا کہ وہ سور کے ساتھ ان راستوں سے گزر کر کبھی اپنے گھر نہیں پہنچ سکتا۔ لہذا اس نے کسان کو وہ سور تحفے کے طور پر دے دیا جسے اس کی بیٹی نے فوراً ایک نام دے ڈالا اور سرسوں کے کھیت میں سیر کرانے چل دی۔

    'We must take him back now. Before the

    spirits of the forest start to smell him, 'she

    said o Ben okri o The Famished Road

    جاڑے کی ایک صبح ایک قبائلی اپنے سور کے ساتھ پہاڑ سے اُترتا دکھائی دیا۔ وہ اسے بیچنے کے لئے جس قصہ کی طرف جارہا تھا، وہاں عیسائی آباد تھے۔ مشن اسپتال کے باہر جس کی بنیادپر یہ قصبہ بسا ہوا تھا اس نے سور کی تھوتھنی کو اپنے کرتے کے کونے سے صاف کیا اور کہا:

    ’’رات بھر جانے کتنے لوگوں کا منہ تجھے دیکھ کر پانی سے بھر آیا ہوگا۔‘‘

    سور کا رنگ خاکستری تھا۔ اس کے جسم کی ایک ایک پور سے پسینہ چھوٹ رہا تھا اور وہ بڑی بدتمیزی سے ریاح خارج کررہا تھا۔ وہ جلد سے جلد مذبخ تک پہنچنا چاہتا تھا تاکہ اس اذیت ناک زندگی سے نجات ملے۔ گرچہ آدمی کا ذہن اس کے اس ارادے کو سمجھنے سے قاصر تھا مگرسور نے اپنا فیصلہ خود کو سنا دیا تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں کی طرح بے رحمی کی موت مرنا نہیں چاہتا تھا۔ اسے تیز دھار والے آلے سے کٹنا زیادہ پسند تھا۔ گاؤں کی واحد پگیری ایک چھپر کے نیچے واقع تھی جسے الفانسو ہیمبرم چلاتا تھا۔ اس چپھر پر دائمی طور پرایک دو گدھ یا چیل بیٹھے پہرا دیا کرتے۔ گاؤں کے تمام سوروں کا سفر اسی چھپر کے نیچے ختم ہوتا تھا مگر جنگلیوں کے عام رواج کے مطابق وہ سوروں کو اذیت دے دے کر،ڈھلانوں میں یا چٹانوں کے گرد دوڑاتے ہوئے بھالوں سے بھونک بھونک کر انہیں نڈھال اور نیم جان کردیتے، پھر الفاظ ہیمبرم کے گدھ پوش چھپر کے نیچے اس سانس لیتی ہوئی لاش پر آخری کام ہوتا۔

    سور اپنی تھوتھنی اُٹھا کر مشن اسپتال کے آہنی پھاٹک کے غیر مستعمل سرے پر چڑھی ہوئی بوگنویلیا کی بیل کو سونگھ رہا تھا۔ اندر تاحدِّ نظر پھیلے ہوئے لان میں سر بلند پیڑوں، کیکر، شہ توت اور دوسری جنگلی، کٹیلی جھاڑیوں کا جنگل تھا۔ اس کی چھو ٹی چھوٹی آنکھیں اس جنگل میں دوڑتی گلہریوں، پھدکتی چڑیوں اور کیڑے مکوڑوں کو دیکھ رہی تھیں، جنھیں عام انسانی آنکھیں عام طور پر دیکھنے سے معذور ہوتی ہیں۔

    ’’ہر جگہ ایک ہی سی دنیا چل رہی ہے۔‘‘ سور نے خود کو دلاسا دیا۔ ’’قدرت نے ہر چیز کو پیدا کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ اس کے زندہ رہنے کے لئے ایک دوسری چیز پیدا کی جائے۔ اس نے انسان کے لئے مجھے پیدا کیا اور میرے لئے کیڑ ے مکوڑ ے اور ان حشرات الارض کے لئے انسان ۔ گویا چکر جاری ہے۔‘‘

    لڈو چیروا، جو دراصل اس پہاڑی کا نام تھا، ان دنوں زیادہ چالاک بننے کی جدوجہد میں مبتلا تھا۔ اسی لئے اس نے الفانسو ہیمبرم کو نظر انداز کردیا تھا مگر اب اسے پتہ چل رہا تھا کہ سور کو بیچنا، جسے وہ اتنے اوپر سے ڈھو کر لایا تھا اتنا آسان کام نہ تھا۔ اول تو گائے ، بیل، بکریوں کی طرح اس کا کوئی ہفتہ وار ہاٹ نہیں لگتا تھا، دوسرے سو ر کو کسی چوراہے پر کھڑے ہوکر بیچنے کے لئے بولی لگانا کچھ اٹ پٹا سا عمل تھا۔لڈو چیروا کے حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے اور وہ بار بار تھوک کے گھونٹ حلق سے نیچے ڈھکیل رہا تھا۔ فی الحال اسے (’’اور مجھے بھی‘‘) پیا س بجھانے کے لئے کسی کنویں یا سرکاری نل کی ضرورت تھی مگر وہ واحد کنواں جسے وہ اور خنزیر دیکھ پا رہے تھے وہ اسپتال کے لان میں جھاڑیوں اور قدیم داڑھی دار پودوں کے بیچ نظر آرہا تھا۔ کنویں کی منڈیر پر ایک رنگین گرگٹ چوکنا بیٹھا پہرا دے رہا تھا۔

    ’’ یہ کنواں کچھ زیادہ استعمال میں نہیں آتا ہے شاید۔‘‘ سور سوچ رہا تھا۔ ’’شاید اس کے پانی میں سانپ اور دوسرے کیڑے مکوڑے کلبلا رہے ہوں۔‘‘

    لڈو چیروا سور کو گھسیٹتے ہوئے اسپتال کے لان میں داخل تو ہوا مگر اس کے دل کے اندر بھی کچھ اس قسم کے وسوسے سر اُٹھا رہے تھے۔ کنویں کا گھیرا کافی بڑا تھا اوراس کی دونوں چرخیاں سلامت تھیں ۔ایک پرانا زنگ کھایا ہوا ڈول نائلن کی بے رونق رسی کے ساتھ کنواں کے صحن پر دھرا تھا۔ لڈو چیروا نے ڈول اُٹھا کر چرخی کے اوپر سے گزارتے گزارتے ایک نظر کنویں کے اندر ڈالی۔ کنویں کی اندرونی دیوار جھاڑیوں اور پودوں سے تڑخ رہی تھی۔ پیندے کا پانی ہلال کی شکل میں چمک رہا تھا۔

    ’’کم از کم ڈول سے اس بات کا پتہ تو چلتا ہے کہ اس کا پانی استعمال میں آتاہے۔‘‘ لڈو چیروا نے ڈول کو چرخی پر چھوڑتے ہوئے کہا۔ چرخی کے بولنے کی آواز سے سور چونک پڑا۔ اس نے کنوئیں کی منڈیر پر رسی اور ڈول کے دباؤ سے جھکے ہوئے لڈو چیروا کے جسم کو دیکھا۔ ’’کاش ‘‘ اس نے دل ہی دل میں دعا مانگی۔ کوئی غیبی طاقت اسے اندر کھینچ لے مگر اس سے نقصان تو میرا ہی ہے۔ میں اپنی پیاس کیسے بجھاؤں گا۔‘‘

    پانی ٹھنڈااور نمکین تھا جیسے کسی نے اس کا سارا مزا نکال لیاہو۔ دونوں کے پیٹ جتنا سہار سکتے تھے وہ اس سے زیاددہ ڈکار گئے۔ سور اپنی تھوتھنی اسی دوران کنوئیں کے صحن کے کنارے کی ہری گیلی گھاس کے اندر ڈال چکا تھا اور زمین کوڑنے لگا تھا۔ لڈو چیروا نے رشک سے اس کی طرف دیکھا۔ کاش میں بھی سور ہوتا اور مجھے اپنی بھوک مٹانے کے لئے اتنی احتیاط سے کام لینا نہ پڑتا۔ اگر سور بک گیا ہوتا تو وہ پیٹ بھرہنڑیا کھا کر اور تھوڑی دیسی شراب اوپر سے انڈیل کر کب کا پہاڑ کی طرف روانہ ہوچکا ہوتا۔ آہ، پہاڑ کے نیچے کی دنیا کتنی خوفناک، کتنی وشال ہے۔ کتنا عجیب ہے سب کچھ اس میدان میں۔ اس سپاٹ دھرتی پر آسمان سے اتنی دور رہ کر کیسے لوگ زندہ رہ پاتے ہوں گے؟اسے تو ابھی سے یوں لگ رہا تھا جیسے اس کا بدن آدھاڑ زمین کے اندر دھنس گیا ہو۔ سب کچھ اس کے اوپر ہو اور وہ سب کے پیروں کے نیچے۔

    ’’پہاڑ کی ڈھلانوں میں کتنی بلندی پر ہوا کرتے تھے ہم لوگ۔‘‘ سور سوچ رہا تھا۔ ’’ کتنی پستی ہے یہاں۔ اب بہتر یہی ہے کہ جلد سے جلد میرا قصہ پاک ہوجائے۔ ایک بات تو طے ہے۔ میں ان میدان والوں کے ہاضمے کے لئے ایک کڑ ا امتحان ضرور ثابت ہوں گا ۔ میں ایک پہاڑی سور ہوں۔ خالص ہوا میں سانس لی ہے اور پتھر کو چیر کر نکالا ہوا پانی پیا ہے میں نے۔ کسی کمزور آنت کے بس کی بات نہیں ہوں میں۔‘‘

    لڈو چیروا ہاتھ منھ دھو کر کدم کے ایک پیڑ کے نیچے کھڑا اس کے مدور ریشے دار پھولوں کو تاکتے ہوئے انگوچھے سے نتھنے پونچھ رہا تھا جب اس نے ان تینوں کو دھیرے دھیرے چل کر اپنی طرف آتے دیکھا۔ وہ لوگ عجیب ڈھنگ سے چل رہے تھے جیسے زمین ان کے موافق بنائی نہ گئی ہو۔ وہ ذرا قریب آئے تو بات اس کی سمجھ میں آگئی۔ وہ تینوں کوڑھ کے مریض تھے۔ان کے ہاتھوں اور پیروں میں انگلیاں برائے نام رہ گئی تھیں۔ تینوں دلچسپی سے لڈو چیروا کی طرف تاک رہے تھے، ان کی دھنسی ہوئی ناکوں کو دیکھ کر لڈو چیروا پریشان ہوگیا۔

    ’’یہ کوڑ ھیوں کا اسپتال تو نہیں؟ ‘‘ ا س نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

    ’’بالکل ! ‘‘ ایک کوڑ ھی نے جواب دیا۔ ’’ اور اگر فادر سیڈرک کو پتہ چلے کہ تم نے ہمارے کنوئیں کا پانی پیا ہے تو ہماری خیر نہیں ۔ یہ سور تمہارا ہے؟ اسے کہو زمین کو اس طرح کوڑ کر برباد نہ کرے ۔بیچنے کا ارادہ ہے؟‘‘

    ’’اور کیا !‘‘ لڈو چیروا نے کہا۔ ’’مگر میرے پانی پینے سے تمہارے لئے مصیبت کیوں کھڑی ہوگئی۔‘‘

    ’’خیر جانے دو۔‘‘ دوسرے مریض نے کہا۔ ’’اسے فادر سیڈرک کے پاس لئے چلتے ہوں۔ سور صحتمند دکھائی دے رہا ہے۔ ممکن ہے فادر سیڈرک اسے اسپتال کے کچن کے لئے خرید لیں۔ تم اپنے جانور کو لے کر ہمارے پیچھے آسکتے ہو۔ کچھ نام وام دیا ہے اسے جسے سن کر یہ اشارہ قبول کرے۔‘‘

    ’’جیسے پہاڑی اتنے تہذیب یافتہ ہوتے ہیں!‘‘ سورنے چاروں کے پیچھے چلتے چلتے سوچا۔ ’’یوں بھی ہم سوروں کی الگ پہچان کہاں ہوتی ہے۔ ان جنگلیوں کو اپنے برچھے ہماری مقعد میں ڈالنے سے فرصت ہی کہاں کہ ہمیں کوئی نام دیں۔ ہمیں تو بغیر نام کے ہی مرنا پڑتا ہے۔‘‘

    کھچڑی داڑھی کے اوپر فادر سیڈرک کے ہونٹ گلاب کی طرح سرخ تھے۔ وہ اپنے کھپریل نما چھپر والی بنگلیاکے اونچے برآمدے پر بیت کی کرسی پر بیٹھے پائپ پی رہے تھے اور اپنی ناک کے بال توڑ رہے تھے۔ ایک بوڑھی عورت لوہے کی تپائی پر اس کے لئے چائے رکھ رہی تھی۔

    ’’تو یہ سور تمہارا اپنا ہے ! کہیں سے چرایا تو نہیں ہے تم نے اسے؟ اور میں بھی عجیب بیوقوف ہوں۔ بھلائی کوئی چور یہ قبول کرے گا؟ ‘‘ فادر سیڈرک نے اپنی ناک کے ٹوٹے ہوئے بال کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا جس کے منحنی سرے پر رطوبت کا گلوبچہ چمک رہا تھا۔ ’’ اس اسپتال کا پتہ تمہیں کس نے دیا؟ ‘‘

    ’’ہمارے پہاڑ کے اس طرف اُتر کر مجھے معلوم تھا مائی باپ آپ کا اسپتال ہے۔‘‘

    ’’ارے مجھے مائی باپ نہ کہو۔ میں تو بس ایک ڈاکٹر ہوں یہاں۔ ‘‘ فادر سیڈرک ہنسے۔ ’’صرف اپنے گورے چمڑے کے لئے مشہور ہوں۔ اپنے ملک میں تو میرے لئے سوائے مردے پھاڑنے کے دوسرا کوئی کام میسر نہ ہوتا مگر میں یہ تجھ جنگلی سے کیوں کہہ رہا ہوں۔ اس سے بہتر ہے کہ تیرے سور سے بات کی جائے۔‘‘

    ’’بالکل!‘‘ سور نے تھوتھنی اوپر کرکے کہا۔ ’’ہم سور ضرور ہیں مگر ہماری آنکھیں دور بین ہیں اور فادر سیڈرک ، ہمارا پیٹ چیر کر آپ دنیا جہان کا علم برآمد کرسکتے ہیں مگر اتنی دور اندیشی کس کے پاس ہے بھلا۔ شاید یہی میرے سور پن کی دلیل ہے کہ میں بہت جلد اُمیدیں لگا بیٹھتا ہوں اس سے قطع نظر کہ ایک سور کے لئے انسان کا رد عمل یکساں طور پر تحقر سے بھرا ہوتا ہے چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو۔‘‘

    ’’فادر سیڈرک رحم! ‘‘ لڈو چیروا برآمدے پر اتنا جھک گیا تھا کہ اس کی ناک لال پکے کو چھو رہی تھی۔ ’’میں نے اسپتال کے کنویں کا پانی پیا ہے۔ کیا میری بھی ناک بیٹھ جائے گی؟ ‘‘

    ’’ہاں بالکل، میری طرح، دیکھ ادھر کیونکہ میں تو اسی اسپتال کے اندر رہتا ہوں۔ اس کا پانی پیتا ہوں۔ اس میں نہاتا ہوں۔ ‘‘ بوڑھے سیڈرک نے اپنی ناک انگلی سے دباکر پچکاتے ہوئے ایک بھیانک قہقہہ لگایا۔

    ’’رحم مائی باپ!‘‘ لڈو چیروا رو رہا تھا۔ ’’آپ یہ سور بلا قیمت رکھ لیں مگر مجھے اس مرض سے بچا لیں۔ میں اب باقی زندگی کبھی پہاڑ سے نیچے نہیں آؤں گا۔ ‘‘لڈو چیروا نے مڑ کر سور کی پسلیوں میں اپنی کہنی سے ٹھوکر لگائی۔ ’’سب کچھ اس حرامی کے چکر میں ہوگیا سرکار۔ الفانسو ہیمبرم اپنے غلیظ دانت نکال کر مجھ پر ہنسے گا۔‘‘

    ’’حرامی تو۔ میں تو بس چند ہی دنوں کا مہمان ہوں۔‘‘ سور نے کہا اور رسی کی رگڑ کو اپنے بدن پر محسوس کیا۔’’ اور الفانسو ہیمبرم مرنے کے بعد یقیناًسور بن کر پیدا ہوگا اور یہ لکھ لینا کسی فادر سیڈرک کے اسپتال میں اس پر چھرے چلیں گے۔‘‘

    ’’رحم فادر ، رحم!‘‘ لڈو چیروا کے سفید آنسو لال فرش پر موم کے قطروں کی طرح جم رہے تھے۔ مجھ پر بپتسمہ کرالیں۔ میرے گلے میں کتے کا پٹّا ڈال دیں۔ مجھے سور کی انتڑیوں میں ڈال کر گھسیٹیں مگر اس کوڑھ کے مرض سے نجات دلائیں۔ میں نے اسپتال کے کنویں کا پانی پیا ہے۔

    اور میں نے بھی۔ سور نے کہا ۔ مگر میں تو تھوڑے ہی عرصے کا مہمان ہوں۔ وہ سوچیں جن کے پیٹ میں میں بسنے والا ہوں۔

    فی الحال تو تم زمین سے کوڑھ کے جراثیم اپنی ناک پر بٹور رہے ہو۔ فادر سیڈرک کو اپنے مذاق پر اتنا لطف آیا کہ وہ اپنی کرسی پر گھوم سے گئے۔ جنگلی گدھے۔ کوڑھ تمہارے مغز میں ہے، پہلے اسے باہر نکالو ۔ اور اس جانور کو کسی دوسری جگہ بیچو۔ ہمارے اسپتال میں اتنا بڑا دیگچا کہاں ہوگا بھلا۔‘‘

    رحم فادر! لڈو چیروا کے الفاظ گلے میں اٹک رہے تھے مگر فادر سیڈرک اُٹھ کر بنگلیا کے اندر جا چکے تھے۔ تینوں مریض اپنے اپنے وارڈ کی طرف چلے گئے جو ان کی اپنی ہی بنائی ہوئی کھپریل کی جھونپڑیوں پر مشتمل تھے جن کی مٹی اور گارے کی دیواروں پر کھریا اور رنگین مٹیوں سے پھول اور پتے بنے ہوئے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل تھی کہ یہاں آنے والے اکثر مریض دائمی طور پر اس اسپتال کا حصہ بن جاتے ہیں۔

    اب چلو بھی۔ سور نے کہا۔ بہتر ہوگا کہ ہم پہاڑ لوٹ چلیں اور الفانسو ہیمبرم کا تلوا چاٹیں۔

    اسپتال کے باہر نصف فرلانگ کی دوری پر اسپتال سے چھٹکارا پانے والے مریضوں کا ایک گاؤں آباد تھا ، کیونکہ وہ اس قابل نہیں رہ گئے تھے کہ گھروں کو لوٹ سکیں۔ اس کے چوراہے پر سورج ایک بڑے سے رنگین گولے کی شکل میں کرنج کے ایک پیڑ پر رکھا ہوا تھا۔ چوراہے پر گاؤں والوں کی بھیڑتھی۔ ابھی ابھی وہاں مینڈھیں لڑ ا ئے گئے تھے۔ لوگ اس واقعہ پر گفتگو کررہے تھے۔ ہارا ہوا بکرا اپنے ٹوٹے ہوئے سینگ کی بے حرمتی اُٹھائے ہوئے کھڑا تھا۔ لڈو چیروا کے سور کو دیکھ کر لوگ اسے گھیر کر کھڑے ہوگئے۔

    کتنے میں خریدا؟

    ضرورت سے زیادہ صحت مند ہے۔ بیمارتونہیں۔ اب سمجھا، یہ تو پہاڑی سور ہے۔

    اسے اسپتال میں جا کر بیچو۔ ہمارے پاس اتنے پیسے کہاں ! ہم تو شہر وں میں جاکر بھیک مانگتے ہیں یا بڑے پادری کے گرجے کے باہر لائن لگاتے ہیں۔

    ایک بوڑھا اپنی لاٹھی ٹیکتا ہوا آیا اور اس نے لاٹھی کی نوک لڈو چیروا کی قمیض سے لگائی۔ موٹی موٹی عینکوں کے باوجود اس کی آنکھیں بالکل ہی معذور تھیں۔

    ’’تم نے سور کو کپڑے کیوں پہنا رکھے ہیں؟ ‘‘

    سارے لوگ ہنس پڑے۔ سور بھی مسکرا دیا۔

    کسے خبر تھی ، ایک بوڑھے کی آنکھیں اتنی صاف دیکھ سکتی تھیں۔ مبارک ہو بوڑھے گنہگار۔ میرے جسم کا سب سے اچھا پارچہ تمہارے نصیب میں ہوگا۔

    گاؤں کے دو شرابی کہیں سے ایک خارش زدہ کتا اُٹھا لائے اوراسے لڈو چیروا اور اس کے سور پر چھوڑ دیا۔ کتا جو خود بھی ڈرا ہوا تھا ، اتنے سارے لوگوں کی شہ پا کر دور سے بھونکتا رہا مگر دونوں خوفزدہ ہو کر گاؤں سے بگٹٹ بھاگ نکلے۔ سور آگے آگے تھا اور اس کی رسی تھامے، اس کے ساتھ خود کو کھنچاتے ہوئے لڈو چیروا پیچھے پیچھے یہاں تک کہ بھاگتے بھاگتے زمین ختم ہوگئی اور وہ پہاڑکے نیچے پہنچ گئے۔

    الفانسو ہیمبرم اپنی جھونپڑی کے باہر کھڑا تھا جب اس نے ڈھلان میں، جہاں چٹانیں مینڈکوں کی طرح اُبھری ہوئی تھیں اور ضدی پیڑ اپنی مرئی جڑوں کے ساتھ کھڑے تھے لڈو چیروا کو دیکھا۔ وہ اکیلا دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے پی رکھی تھی۔ اس نے رات کہاں گزاری تھی اس کا نشان اس کے بدن پر موجود نہ تھا۔ لڈو چیروا الفانسو ہیمبرم کے مذبح کے سامنے ایک مینڈک نما چٹان پر بیٹھ گیا اور اس نے سور بیچنے کا واقعہ یوں بیان کیا۔

    الفانسو، میرا سور بیمار تھا اور میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے گاؤں والے اس کا گوشت ڈکاریں۔ میں نے جو کچھ کیا، گاؤں والوں کے لئے کیا مگر بدلے میں کوئی میرا احسان مند کب ہوگا۔ خیر مجھے اس کی ضرورت بھی کیا ہے۔ میں اس کے بغیر بھی انتہائی بدنصیب ہوں ۔ میں نے گاؤں کی رسم توڑی ہے اور اس کی سزا کے طور پر تم دیکھ سکتے ہو میری ناک پچکنے والی ہے کیونکہ میں نے ایسے کنویں سے پیاس بجھائی ہے جس کے پانی سے کوڑھ کے مریض نہاتے ہیں۔ تو میں سور کو بیچنے میں ناکام واپس آرہا تھا کہ پہاڑی ڈھلان پر ایک تین جھونپڑوں والے گاؤں پر رات ہوگئی اور میرے سور نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔ آہ، مجھے کیا پتہ تھا، یہ تینوں جھونپڑیاں تین چڑیلوں کی تھیں جو سورج ڈوبتے ہی پیڑوں میں جابستی ہیں۔ ہم نے انہیں ہوا کے دوش پر اُڑتے ہوئے دیکھا۔ ان کے چہروں پر جھریاں تھیں اور آنکھیں چربیوں کی تہ میں غرق۔ ہمیں دیکھ کر وہ کھسیارہی تھیں۔ انہوں نے قریب کے تین پیڑ چنے اور ان پر بیٹھے بیٹھے ہمیں بدتمیزی سے تنبیہ کرنے لگیں۔ان کی آوازیں اس طرح آرہی تھیں جیسے برسات کی طوفانی ہوا بانس کے جھنڈے کے اندرسے سنسناتی آرہی ہو۔

    اچھا خاصا چیروا۔ تیری کھوپڑی گل جائے! سور دے دے۔

    بوڑھا بھینسا چیروا۔ تیرافوطہ گل جائے! سور دے۔

    ناٹا بھتیاچیروا۔ تیرا آدھا گل جائے ! سور دے دے۔

    الفانسو ،قسم لے لو جو میری زبان سے پہلے پہل ایک بھی لفظ نکلا ہو مگر میں کب تک برداشت کرتا۔ میں بھی انسان تھا، مجھے بھی غصہ آگیا اور میں پتھر اُٹھا اُٹھا کر ان چڑیلوں پر پھینکنے لگا۔ وہ ایک پیڑ سے دوسرے پیڑ پر کود رہی تھیں، کھلکھلا کر ہنس رہی تھیں، پادر ہی تھیں۔ اچھا خاصہ چیرو ا گارہی تھیں۔ وہ تو اچھا ہوا کہ میرا سور بھاگ نکلا اور مجھے اس کی تلاش میں پہاڑ سے واپس میدان میں اُترنا پڑا۔ ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جس کے باہر سرسوں کے کھیتوں کے بیچ سور بھاگا جارہا تھا اور جب میں نے اس کی رسی تھامی تو وہ ایک مکان کے لکڑی کے دروازے پر تھوتھنی رگڑرہا تھا جو گاؤں سے الگ تھلگ ایک سنسان جگہ پر کھڑا تھا۔ دروازہ ایک خوبصورت سی بچی نے کھولا تھا۔ رات ہم دونوں نے ا س مکان میں گزاری۔ اس کے مالک کا نام رس راج ٹوڈو تھا۔ وہ سرسوں اور گنے کی کاشت کرتا تھا اور گنے کے موسم میں جب بدمست ہاتھیوں کے غول پہاڑ سے اُتر تے ان سے نبٹنے کے لئے اسے سرکار نے بندوق دے رکھی تھی۔ میں نے جب اپنا پورا واقعہ سنایا تو اس نے تشویش کا اظہار کیا اور ازراہِ ہمدردی مجھے شراب پلائی۔ اس کی بیٹی میرے سو ر سے کھیل رہی تھی، اسے کھانا کھلا رہی تھی، اسے نام دے رہی تھی۔ اس رات میں نے ٹوڈو کے کمبل میں بڑی بے چین نیند گزاری۔ اس کی دو وجہیں تھیں۔ اول تو وہ کمبل ضرورت سے زیادہ آرام دہ تھا۔ دوسرے رات بھر وہ چڑیلیں مکان کے باہر چکر لگاتی رہیں۔ اچھا خاصا چیروا گاتی رہیں۔

    بڑی بدروحوں والی رات ہے!رس راج ٹوڈوبھوت پریت کے معاملات میں ایک ڈرپوک عیسائی تھا۔ وہ بار بار اُٹھ کر عیسیٰ مسیح کی مورتی کے سامنے موم بتی جلا رہا تھا۔ باہر بڑی ٹھنڈ تھی۔ میرے خیال سے پہاڑ کے اوپر کی طرف ہی کہیں پالا گرا ہوگا۔ پیڑ پودے سبھی اس دھوپ کے باوجود گیلے دکھائی دے رہے ہیں۔ تو رات بھر تیز ہوا چلتی رہی اور تینوں چڑیلیں گاتی رہیں۔

    اچھا خاصا چیروا ۔ تیرے بال میں لٹکے بچھو!سور دے دے۔

    اچھا خاصا چیروا ۔ تیرے کان میں گھسے کان پھیڑو!سور دے دے۔

    اچھا خاصا چیروا ۔ تیرے بدن سے چپکے چلھڑ!سور دے دے۔

    صبح نیند سے اُٹھ کر میں نے فیصلہ کیا میں اپنے سور کے ساتھ کبھی ان چڑیلوں کے جنگل سے گزر کر گھر واپس نہیں آسکتا اور میں نے اپنے دوست رس راج ٹوڈو کو سور تحفے میں دے دیا ، جسے اس کی بڑی بیٹی نے فوراً ایک نام دے ڈالا اور سرسوں کے کھیت میں سیر کرانے چل دی۔

    الفانسو ہیمبرم ، کیا میں نے غلط کام کیا۔

    الفانسو ہیمبرم نے کھانس کر گلا صاف کیا، اپنی بھینگی دانش مند آنکھوں سے آسمان کو ناپا، احترام کے ساتھ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اور کہا۔

    روحیں ہمارے پہاڑوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ کوئی ان کا قانون نہ توڑے ورنہ اس کا حشر بھی لڈو چیروا کی طرح ہوگا۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY