چور دمِسکو

صدیق عالم

چور دمِسکو

صدیق عالم

MORE BYصدیق عالم

    کہانی کی کہانی

    ایک بے تکی دنیا میں رہنے کے ڈھونگ کے طور پر جرم کرنے کی کہانی ہے۔ دمسکو ایک سترہ برس کا نوجوان تھا جسے آسان کام کی تلاش تھی گرچہ اس کےخبتی باپ نے اسے بتایا تھا کہ اس دنیا میں آسان کام سے زیادہ مشکل کام کچھ نہیں ہوتا۔ اس کے دوست پھلندر نے اس کی پریشانی دور کر دی۔ پھلندر نے ٹرام ڈپو کے پچھواڑے مردہ گھر کے راستے پر ایک سنسان گلی کا پتہ لگایا تھا جہاں ایک بہت ہی بوڑھا بنگالی جوڑا رہتا تھا جو آنکھوں سے اندھے تھے۔ وہ اس گھر کا سارا سامان صاف کرنا چاہتا تھا مگر وہ یہ کام اکیلا نہیں کر سکتا تھا۔ اسے ایک ایسے آدمی کی ضرورت تھی جو دمسکو کی طرح تیز اور بہادر ہو۔ میں کسی مصیبت میں تو نہیں پڑوں گا؟ دمسکو نے شبہے کا اظہار کیا تو اس کے دوست نے کہا کہ جتنی جلد ہو سکے مصیبت میں پڑنا سیکھ لو۔ تمہاری دنیا بدل جائے گی۔ زندگی میں کامیاب ہونے کے لئے اس سے بہتر نسخہ اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ اس طرح دمسکو کو اس کا آسان کام مل گیا۔

    چور دمِسکو سورج نکلنے سے پہلے گھر لوٹ آیا تھا۔ اس کی رات بیکار گئی تھی ۔ اس شہر کوہو کیا گیا ہے کہ یہ دن بدن لوہے کے پیچھے چھپتا جا رہا ہے؟اور پولس کو ہر ناکے پر وہی کیوں مل جاتا ہے؟

    ’تم وہی ہو نا، چوردمِسکو جس کا اپنا گھر بار نہیں ہے؟‘ڈیوٹی کانسٹبل دیو دت اسے ہمیشہ اندھیرے میں پہچان جاتا۔’یہ ہم پولس والوں کا خاص تکیہ کلام ہے۔ ہم چور کے بارے میں ایسا اس لئے کہتے ہیں کیونکہ اگر اس کا گھر ہوتا تو وہ رات رات بھر سڑکیں کیوں ناپتا؟‘

    وہ دیو دت کے ساتھ ایک سگریٹ پیتا اور اسے یقین دلاتاکہ وہ کبھی اس کے ہات آنے والا نہیں۔’جو تمہارے لئے اچھا ہے،‘ دیو دت ہنستا۔’کیونکہ اگر تم پکڑے گئے تو لڑکے میں تمہاری ایسی مسکیں کسوں گا کہ اندر کی سانس اندر ہی رہ جائے گی۔‘

    یہ دیو دت ایک برا شگن تھا۔ وہ کوشش کرتا کہ کبھی ان کا سامنا نہ ہو،مگر ہر دوسرے ہفتے کسی نہ کسی ناکے یا چوراہے پر دونوں کی ملاقات ہو جاتی۔’اور میں یہی بات تم پولس والوں کے بارے میں بھی کہہ سکتا ہوں کہ تم لوگوں کا کوئی گھر نہیں ہوتا،‘وہ دیو دت پر کبھی کبھار اپنا غصہ اتارتا۔’اس معاملے میں تم ہم چوروں سے بھی بد تر ہو۔‘

    ’گھر کی کسے ضرورت ہے؟‘ دیو دت جواب دیتا جس کی زیادہ تر راتیں طوائفوں کے بستر پر گذرتیں۔ رات جتنی گہری ہوتی وہ اتنا گہرے نشے میں ہوتا۔ کسی وجہ سے اسے چور دمسکو پسند تھا۔ وہ اسے دور سے پہچان جاتا اور چور دمسکو کے لئے بھاگ کھڑا ہونا نا ممکن ہو جاتا۔ پھر تو نہ صرف یہ کہ اس کابہت سارا وقت دیو دت کے ساتھ برباد ہوتا بلکہ سارے علاقے کو اس کی موجودگی کا علم ہو جاتا اور لوگ اپنے گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے ٹھیک طرح سے بند کر لیتے۔

    اس دن دمسکو نے جب اپنے گھر کا دروازہ کھٹکھٹا یاتو اس کی بیوی نے نیندسے بوجھل آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔’کیا تم تھوڑی دیر بعد نہیں لوٹ سکتے تھے؟اور خدا کے لئے مجھے دیو دت کی کہانی نہ سنانا۔‘

    ’تم اب بھی سو رہی ہو میری گوریّاجب کہ چڑیاں چہچہا کر چپ بھی ہو چکیں۔‘دمسکو بستر پر بیٹھ کر اپنی بیوی کے سڈول کولھے سہلاتا جو اسے خاص طور پر پسند تھے۔’اور میں کیا کر سکتا ہوں اگر کارخانے سے نکلنے میں مجھے دیر ہو جاتی ہے۔ تو یہ صرف اس نا ہنجار دیو دت کے سبب ہے۔لیکن تم چاہو تو میں دوسرا بہانہ بھی بنا سکتا ہوں۔‘

    ایسا نہیں تھا کہ اس کی بیوی کو اس کے پیشے کا علم نہ تھا۔ مگر اس جھوٹ سے دونوں کو سہولت ہوتی تھی۔ اور پھر پاس پڑوس میں اسے لوگوں کا سامنا بھی تو کرنا پڑتا تھا۔ مگر کہیں نہ کہیں اس کے اندر ایک چور چھپا بیٹھا تھا جو اسے بتایا کرتا کہ سارے محلے کو اس کے شوہر کی بری عادت کا پتہ ہے۔

    چارپائی پر گرتے ہی دمسکو گہری نیند سو جاتا۔ مگر پھر اس کے خرّاٹے کے سبب اس کی بیوی کو نیند نہ آتی۔ اس دن وہ دوپہر ایک بجے تک سویا کیایہاں تک کہ مکھیاں بھی اس کے چہرے پر بھنبھنا تے ہوئے تنگ آ گئیں۔ اس کی دونوں لڑکیاں اسکول سے آچکی تھیں اور باورچی خانے میں کھٹر پٹر کر رہی تھیں۔ اپنی بیوی کو گھر میں نہ پا کر دمسکو نے اندازہ لگایا کہ وہ گیہوں پسوانے چکی پر گئی ہوگی ۔ اس کی دونوں بیٹیاں دس برس کی ہو چکی تھیں مگر بڑی جو اپنی چھوٹی بہن سے بیس منٹ پہلے پیدا ہوئی تھی اسے دمسکو نے اپنے گھٹنوں پر بٹھا کر کہا:’تم پڑھائی میں کافی تیز ہو۔ اور یہ ایک لڑکی کے لئے اچھی بات نہیں۔ تمہیں کون سی ناک پر عینک چڑھانی ہے!‘ جب کہ حقیقت یہ تھی کہ چھوٹی زیادہ تیز دماغ رکھتی تھی۔ اسے تو یہ تک پتہ تھا کہ اس کا باپ رات رات بھر غائب رہ کر کیا کارنامہ انجام دیتا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ دمسکو اپنی چھوٹی بیٹی سے آنکھیں ملا نہ پاتا۔’خاتون، کیا تم میرے لئے ایک کپ چائے بنا سکتی ہو؟‘ وہ اس سے کہتا۔’تم تو بس اسی کے لئے ٹھیک ہو، امّاں کی بیٹی۔‘

    ریس کورس سے ملحق ایک میگزین گھر کا کھنڈر واقع تھا جسے مقامی لوگ بارود گھر کے نام سے بلایا کرتے ۔اس بارود گھرکے دونوں ٹاور پر چیلوں نے گھونسلے بنا رکھے تھے اوراس کی چار دیواری کو مقامی لوگوں نے چھوٹا راستہ نکالنے کے لئے کئی جگہ پر توڑ ڈالی تھی۔چار دیواری سے لگا ہوا بارودگھر کا اپنا تالاب تھا جو اب کائی اور پلاسٹک کے کچڑوں سے ڈھک چکاتھا۔ اس تالاب کے دوسرے کنارے مسلمانوں کی بستی تھی ۔ اس بستی میں ان لوگوں کا دو کمروں والا گھر اور بڑا سا آنگن تھا جس میں کھپریل کے چھپر کی ور کشاپ تھی جس کے برامدے پر کبھی کوئلے کی بھٹی پر گھوڑوں کے لئے نعلیں نرم کی جاتی تھیں۔ یہ ورکشاپ اور آنگن، جہاں کبھی گھوڑے ہنہنایا کرتے تھے، اسے اپنے باپ کی یاد دلاتے جو شہر کا سب سے ماہر نعل بند تھا ۔بوڑھے کو افیم کی لت تھی اور یہ وہ زمانہ تھا جب افیون قانونی طور پر کھلے بازار میں ملا کرتی۔مگر پچھلے کئی برسوں سے افیم کی محرومی نے اس کے دماغ کی چولیں ہلا دی تھیں۔ جس کا یہ نتیجہ نکلا تھا کہ کچھ دنوں سے وہ رہ رہ کر اچانک خود کو بنجاروں کی نسل سے سمجھنے لگا تھا۔ بوڑھے کے سر پر ایک بڑا سا گومڑ تھا جیسے اس کے سر پر ایک دوسرا سر ابھرتے ابھرتے رہ گیا ہو۔

    ’دمسکو، میرے بیٹے، میں اس گومڑ کے ساتھ پیدا ہوا۔ یہی میری نشانی ہے اور تمہیں اسی کے ساتھ مجھے برداشت کرنا ہوگا۔ لیکن تم یہ نہیں بھول سکتے کہ یہاں سے پچھم کی طرف ایک شاندار ملک ہے دمشق جس کے نام پر تمہارا نام رکھا گیا تھا جسے لوگوں نے بگاڑنے میں دیر نہیں لگائی کیونکہ ہم بنجاروں کو اور آتا بھی کیا ہے۔اور یاد رکھو اس گھر کی چار دیواری کے باہر دنیا کسی بھوکے شیر کے مانند منہ پھاڑے تمہاری راہ دیکھ رہی ہے۔ تمہارے لئے بہتر ہے کہ تم جلد گھر لوٹ آؤ اور اس کے لئے ضروری ہے کہ تم تیز بھاگو۔ ہم بنجاروں نے جب بھٹکنا بند کر دیا تو آسمان کو یہ پسند نہیں آیا۔اب دیکھو ہم لوگ کتنی بدحالی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ ان دنوں زمین خدا کی تھی ،جہاں چاہے ڈیرا ڈال لو ، جہاں چاہے سبزی اگالو،جتنا چاہو پرندوں کا شکار کر لو ، جانوروں کے لئے تو چراگاہیں بھری پڑی تھیں۔ ایسا کون سا پانی کا گڈھا تھا جس میں مچھلیاں نہ تیر رہی ہوں۔ بس جال پھیلاؤ یا بنسی ڈالو اور موج کرو، مگر تمہارے دادا نے جانے کیا سوچ کراس جگہ رہنا قبول کیا۔ اس نے زمیندار سے جس کا اپنا گھوڑے کااصطبل تھا ،یہ زمین ٹھیکے پر لے کر اپنی ورکشاپ بنائی جس کی باقی بچی ہوئی زمین پرمیں نے بعد میں یہ دو کمرے تعمیر کروائے۔ مگر اب زمین کی قیمت آسمان کو چھونے لگی ہے،زمیندار کا اصطبل بک چکا ہے، اس پر ایک کافی اونچی عمارت بن چکی ہے جس کی کابکوں میں لوگ رہنے لگے ہیں، تمہارے دادا زمین کے سارے کاغذات لے کر دوسری دنیا میں جا چکے ہیں، ہمارے پاس صرف یہی گھر اور ورکشاپ بچے ہیں اور میں ایک ہارے ہوئے انسان کی طرح دنیا سے رخصت ہو رہا ہوں۔‘

    دمسکو کو اپنے باپ کی موت کا پورا واقعہ یاد تھااور اکثر وہ حیرانی سے سوچا کرتا کیا اس طرح مرنا بھی کسی کو زیب دیتا ہے؟دراصل اچانک ملک میں افیون غیر قانونی قرار دئے جانے کے بعد بازار سے افیم غائب ہو چکی تھی ۔ اس واقعے نے اس کے باپ سے گویا اس کی دنیا چھین لی ۔ وہ اپنی چارپائی پر بیٹھا لاچاری سے اس کی طرف دیکھا کرتا۔ افیم کے نہ ملنے سے وہ دن بدن کاہل اور سست ہوتا جا رہا تھا۔آخر کار اس نے اپنا کارخانہ بند کر دیا اور اس کا آنگن جہاں سائیس گھوڑوں کے نعل لگوانے آتے تھے سنسان ہو گیا۔ اس نے دمسکو کو نعل لگانے کا ہنر سکھا تو دیا تھا مگر دمسکو کو نعل بندی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس کی ساری دلچسپی صرف دھونکنی تک محدود تھی جس کی زنجیر سے لٹکتا ہوا وہ بڑا ہوا تھا۔ حد اس وقت ہو گئی جب ایک دن اس نے ایک نعل کو جو پوری طرح سے ٹھنڈ ی نہ ہو پائی تھی سندان سے ننگے ہات اٹھا لیا۔ یہ اس کے لئے آخری کیل ثابت ہوئی۔ اس دن اس کے باپ نے فیصلہ کیا کہ وہ دمسکو کا کچھ نہیں کر سکتا۔’گھوڑے اپنی بدنصیبی اپنے ساتھ لے کر پیدا ہوتے ہیں۔‘ اس نے دمسکو سے کہا۔ ’کوئی ان پر بوجھ نہیں ڈالتا۔ تمہیں پتہ ہے جب گھوڑا بیمار پڑ جاتا ہے یاا پاہج ہو جاتا ہے تو اس کاکیا کرتے ہیں؟ اسے گولی مار دیتے ہیں تاکہ وہ تکلیف سے نجات پا سکے۔ مگر ہم یہ کام انسانوں کے ساتھ نہیں کر سکتے ۔ کیوں؟کیونکہ اگر ایسا کیا جائے تو دنیا کی آدھی آبادی ختم ہو جائے گی جو ناکارہ لوگوں سے بھری پڑی ہے جو پیٹ پر ہات دھر کر بیٹھے رہتے ہیں اور اللہ کے نام پر دوسروں کی کمائی ہوئی دولت پر جیتے ہیں۔تو تم نے سوچا ہے ، آگے تمہارا کیا کرنے کا ارادہ ہے، میرے بد نصیب گھوڑے؟‘

    ’میں۔۔۔‘ دمسکو نے اپنی داہنی آنکھ چھوٹی کر کے آسمان کی طرف دیکھا جو شیشے کی طرح تمتما رہا تھا جیسے وہ بھی بوڑھے کے غصے کا شریک ہو۔ وہ اٹھارہ برس کا ہو چکا تھا اور گرچہ ابھی اس کی شادی نہیں ہوئی تھی مگر وہ جان چکا تھا کہ اس طرح کے سوالات اس سے کئے جا سکتے تھے۔’۔۔۔میں کوئی آسان کام ڈھونڈلوں گا۔ اس آسمان کے نیچے کچھ تو ہوگا میرے لئے!‘

    ’میں دعا کروں گا کہ تمہیں تمہارا آسان کام مل جائے گرچہ میں تمہیں بتانا چاہوں گا کہ اس دنیا میں آسان کام سے زیادہ مشکل کام کچھ نہیں ہوتا۔‘

    اور دمسکو کو اس کا آسان کام مل گیا۔ اس کام پر اسے اس کے دوست پھلندر نے لگایا تھا جس کی بہن خوشبو کماری کے کسے ہوئے بدن کی مہک ہر دوسرے دن اسے کھینچ کرپھلندر کا گھر لے جاتی جو ندی کے کنارے واقع تھا۔ ندی کے مٹیالے پانی میں ناؤ اور بجروں کے ساتھ ساتھ سارے ملک کے بول و براز بہہ کر آیا کرتے۔ اس کے کنارے کنکریٹ کی سڑک پر جہاں ٹرکوں سے ریت اور بجری اتاری جاتیں اسوستوس کی چھتوں اور اینٹ کی بدنمادیواروں والے ایک جیسے مکانوں کی قطار تھی جنھیں دوسری جنگِ عظیم کے دوران برٹش آرمی نے ہندوستانی سپاہیوں کو برما کے محاذ پر بھیجنے سے پہلے عارضی پڑاؤ کے طور پر بنوایا تھا مگر اب یہ سارے گھر مقامی لوگوں کے غیر قانونی قبضے میں جا چکے تھے جہاں ہر آٹھ دس گھر کے بعد ایک مندر کی بنیاد پڑ چکی تھی جو اور کچھ نہیں گھاٹ پروہت کی آمدن کا ایک ذریعہ تھا۔اس ندی پر دھوبیوں کے کئی سلسلہ وار گھاٹ تھے جن کے صحن پر گدھے بڑی تعداد میں کان جوڑے کھڑے رہتے اور پسووں کو بھگانے کے لئے اپنی دم ہلایا کرتے ۔ پھلندر کا باپ اپنے گھاٹ کا سب سے پرانا دھوبی تھا۔ پھلندر کے ڈھیر سارے بھائی بہن تھے۔ خوشبو کماری سب سے بڑی تھی جس کی بھاری بھرکم چھاتیوں کو دیکھ کر دمسکو کی سانس اٹکنے لگتی۔ خوشبو کو اس بات کا پتہ تھا۔ مگر جو بات وہ نہیں جانتی تھی وہ یہ تھی کہ دمسکو اب اپنے تصور میں اس کے کپڑے اتارنے کا عادی ہو گیا تھا۔ایک دن اس نے خواب میں دیکھا کہ وہ اس کے ننگے پستانوں پر پھسل رہا ہے۔ نیند ٹوٹنے پر اسے پتہ چلا کہ اس نے اپنا بستر گیلا کر لیا تھا جس پر وہ پھسل رہا تھا۔اس کا دوست کسی لومڑی کی طرح چالاک تھا۔ اس نے پہلی نظر میں ہی بھانپ لیا تھا کہ دمسکو اب اس کے لئے نہیں آتا۔

    ’تم دونوں کے بیچ کیا پک رہا ہے؟‘ ایک دن اس نے دمسکو سے کہا۔دونوں ندی کی ڈھال پر بیٹھے سگریٹ پی رہے تھے اور پانی پر بچھے ہوئے پتوں سے نکلے ہوئے کنول کے گلابی پھولوں پر پتھرسے نشانہ لگا رہے تھے۔ کنارے کی زمین پر ایک از کار رفتہ ناؤالٹی پڑی تھی جس پر بنگلہ دیش کی بنی چرکٹ لنگیاں اور دھاری دارانڈر وےئر سوکھ رہے تھے ۔’کٹوے ،تم آگ سے کھیل رہے ہو۔ تم میرے باپ کو نہیں جانتے۔ اسے پتہ چل گیا تو وہ اسے ہندو مسلم فساد میں بدل دے گا۔‘

    ’تمہارے باپ کو اس معاملے سے کیا لینا؟‘ دمسکو نے چہرا بناتے ہوئے کہا۔ ’کیا اس کے لئے کافی نہیں کہ تمہاری ماں کی کھال ادھیڑتا رہے؟‘

    ’تم میرے باپ کے سلسلے میں اس طرح کی بات نہیں کر سکتے۔‘

    پھر اس کے دوست نے اسے مشورہ دیا کہ پہلے وہ کچھ کمانا سیکھ لے۔’تم میرے ساتھ دھندے سے لگ جاؤ۔ میں نے ایک منصوبہ بنایا ہے۔ ٹرام ڈپو کے پچھواڑے مردہ گھر کے راستے پر ایک سنسان گلی ہے جہاں بہت کم لوگ جاتے ہیں۔ مجھے وہاں ایک گھر کے بارے میں پتہ چلاہے جس میں ایک بہت ہی بوڑھا بنگالی جوڑا رہتا ہے جو بالکل اندھے ہو چکے ہیں۔ تمہیں تو پتہ ہے یہ بنگالی بچے پیدا کرنے سے کتنا ڈرتے ہیں۔ تو اس کی ایک ہی بیٹی ہے۔ پہلے وہ اپنی بیٹی کے گھر جا یاکر تے تھے جب تک بوڑھے کی آنکھ سلامت تھی۔ مگر اب وہ وہاں بھی نہیں جا پاتے۔ کیا تم میرا ساتھ دو گے ؟ مجھے ایک آدمی کی ضرورت ہے جو تمہاری طرح تیز اور بہادر ہو۔‘

    ’تم مجھے کسی مصیبت میں تو نہیں ڈال رہے ہونا؟‘

    ’تو میں کہوں گا کہ جتنی جلد ہو سکے مصیبت میں پڑنا سیکھ لو۔تمہاری دنیا بدل جائے گی۔ زندگی میں کامیاب ہونے کے لئے اس سے بہتر نسخہ اور کچھ نہیں ہو سکتا۔‘

    تو دوسرے دن دونوں نے مل کر اس سنسان گھر کی ایک عقبی کھڑکی توڑ ڈالی۔ دونوں نے بوڑھا بڑھیا کی آنکھوں کے سامنے ہی گھر کا صفایہ کیا تھا مگر انھیں پتہ تک نہ چلا۔ یہ وہ شروعات تھی جس سے دمسکو پھر کبھی ابھر نہ پایا۔ دونوں کی ساجھے داری کافی کامیاب ثابت ہوئی تھی۔ دمسکو کے پاس آسان پیسہ آگیا تھا جسے وہ دل کھول کر خوشبو کماری پر خرچ کر سکتا تھا۔ خود خوشبو کے لئے اب یہ ناممکن ہو گیا تھا کہ گھر والوں کی نظروں میں دھول جھونک کر اس کے ساتھ مٹر گشتی سے باز آئے۔ دمسکو نے ایک سنسان گھر کے اندر ، جس کی بغیر کواڑ والی کھڑکی کے چارچوب فریم میں ہمیشہ ایک گدھے کے کان اور تمسخرسے مسکراتے ہوئے دانت دکھائی دیتے، بہت ہی پھوہڑ پن کے ساتھ خوشبو کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرنے کی کوشش کی۔ خوشبو پورے وقت ہنستی رہی۔

    ’رہنے دو،یہ تم سے نہیں ہو سکتا۔‘ وہ رہ رہ کر اس کی ننگی پیٹھ میں اپنے تیز ناخن چبھو رہی تھی۔’اتنی دیر سے تم کوشش کر رہے ہو اور تمہیں یہ تک نہیں پتہ کہ تمہیں کیا کرنا ہے۔ تم ڈرے ہوئے ہو۔ رہنے دو یہ تم سے نہیں ہو سکتا۔‘

    اس نے خوشبو کے ساتھ اور بھی کئی بار کوشش کی مگر ہر بار انجام ایک ہی نکلا۔ آخر کار اس نے اس کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیا۔ اب جب کبھی دونوں کا سامنا ہوتا خوشبو اپنی دونوں کلائیوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا کر اس کی دی ہوئی کانچ کی قیمتی چوڑیاں کھنکھنا تیں۔’دمسکو ، کچھ یاد آ رہا ہے۔‘ اور ایسا کہتے وقت اس کی آنکھوں میں ایک عجیب طرح کی مستی امنڈ آتی۔’ایسی کوئی چیز جس میں تم ماہر ہو؟‘

    دمسکو اس سے کترانے کی کوشش کرتا مگر وہ کسی نہ کسی بہانے اسے گھیر لیتی۔ پھلندر کو اپنی بہن کے پاگل پن کے بارے میں پتہ تھا۔’جانے تم نے اسے کیا پڑھا ہوا پانی پلایا ہے۔‘ اس نے ایک دن شراب کی میز پر گھونسا مارتے ہوئے دمسکوسے کہا۔’تمہیں پتہ ہونا چاہئے کہ خوشبو کی شادی طئے کر دی گئی ہے۔ لڑکے کا چہرا تھوڑا سا جلا ہوا ہے۔ وہ کافی کماؤ ہے۔ گودی میں اس کا اپنا غیر قانونی شراب کا دھندا ہے اور لاٹری کا کاروبار بھی ہے۔ پولس والوں سے اس کی اچھی دوستی ہے۔ لوگ کہتے ہیں وہ پیدائشی بزنس مین ہے۔‘

    ’پھر تو اسے جلد سے جلد سسرال چلا جانا چاہئے۔ وہ وہاں خوش رہے گی۔اور پھر یہی تو بچے پیدا کرنے کی عمر ہے۔‘

    ’کیا لڑکیاں اس لئے سسرال جاتی ہیں کہ وہ خوش رہیں؟‘ اس کا دوست ہنسا۔ ’تمہیں ابھی سے نشہ چڑھ رہا ہے۔ تمہیں علم نہیں، اس کا چہرا پہلی جورو کو بچانے کی کوسش میں جل گیا تھا جس نے اپنے اوپر کراسین تیل چھڑک کر آگ لگا لی تھی۔‘

    ’میں سوچ رہا ہوں، میں کوئی دوسرا دھندا کیوں نہ شروع کر لوں۔‘دمسکو نے بات بدلنے کی کوشش کی۔

    ’دوسرا دھندا؟ دمسکو تم اتنے سنکی کب سے ہو گئے؟‘ پھلندر ہنسا۔’تم گھوڑوں کے کھرْکترنے یا نعل لگانے سے تو رہے۔ اور وہ تمہارا افیمچی باپ! اس نے تم لوگوں کو اس گھر کے علاوہ دیا ہی کیا ہے جس کا آنگن ہر برسات بارود گھر کے گندے پانی میں ڈوب جاتا ہے؟‘

    ’تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔‘ دمسکو نے سر جھکا لیا۔اسے اس کا دکھ تھا کہ طرح طرح کی بیماریوں سے گھرے ہونے کے باوجود اس کا باپ مرنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ شاید یہ برسوں کی افیم خوری کا نتیجہ تھا کہ وہ اب بھی ایک پر شکم اور ہٹا کٹا انسان تھا۔ صرف اس کے زیادہ تر دانت گر چکے تھے اور چہرے پر ایک عجیب سی جھاڑ جھنکار داڑھی اگ آئی تھی جو اس کے منگول چہرے کو اور بھی منگول بناتی تھی۔’میں نے اور کچھ درجے پڑھ لیے ہوتے تو ممکن تھا مجھے کوئی ڈھنگ کا کام مل جاتا۔ شاید میں پوسٹ مین کی نوکری کر لیتا اور سائکل پر گھوما کرتا یا چنگی پر بیٹھ کر رسید کاٹا کرتا۔اب تو اینٹ ڈھونے کے علاوہ میں کچھ نہیں کر سکتا جو مجھ سے نہ ہوگا۔‘

    ’یہی تو میں تمہیں بتانے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘ اس کا دوست ہنسا۔’یہ کام اتنا برا نہیں جتنا تم سمجھ رہے ہو۔اور اگر تم پکڑے گئے تو پولس سے تمہاری دوستی پکی۔ پھر تو تمہارا کوئی بال بھی بانکا نہیں کر سکتا۔ صرف گاہے بگاہے ان بہن چودوں کی مٹھی گرم کرتے رہنا۔‘

    اس کا دوست کئی بار جیل جا چکا تھا مگر دمسکو کی بد نصیبی تھی کہ وہ کبھی جیل نہیں گیا۔ شاید اس لئے کہ وہ اپنے دوست سے پانچ برس چھوٹا تھا اور شاید اس لئے بھی کہ وہ بھاگنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس کا دوست کئی مہینے بعد جیل سے رہا ہو کر آیا تھا جب دمسکو سے اس کی دوبارا ملاقات ہوئی ۔ اسے پتہ چلا خوشبو کا بیاہ ہو چکا تھا اور خود اس کا دوست شادی کرنے والا تھا مگر اس کے باپ کو اس کے لئے لڑکی ڈھونڈنے میں دقت ہو رہی تھی کیونکہ ایک چور کی حیثیت سے اس کی شہرت کافی دور تک پھیل گئی تھی۔

    ’کیا شادی کرنا ضروری ہے؟‘ دمسکو نے پوچھا۔

    ’بالکل ۔ذرا سوچو،پیشہ کرنے والیوں پر پیسہ لٹانے سے تو یہ بہتر ہے۔‘‘ پھلندر نے کہا۔ ’تم اپنی بیوی کے ساتھ جب چاہے اور جب تک چاہے سو سکتے ہو اور اس کی پٹائی بھی کر سکتے ہو۔اس سے بہتر انتظام اور کیا ہو سکتا ہے؟‘

    ’شاید تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔‘

    مگر اس کے افیمچی باپ کی رائے دوسری تھی۔ اس نے دبے لفظوں میں اپنے باپ کے سامنے شادی کا ذکر کیا تو وہ ہتھے سے اکھڑ گیا۔ ’اسے کھلاؤگے کیا؟ کوئی ڈھنگ کا کام بھی ہے تمہارے پاس؟ رات رات بھر جانے کہاں مارے مارے پھرتے ہو۔ اور اس چور پھلندر سے تودور ہی رہو تو بہتر ہے۔ مجھے تو وہ انسان سے زیادہ لومڑی نظر آتا ہے۔ایسی بھینگی آنکھیں میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھیں۔ ایسے آدمی کو تو گھوڑے کا چشمہ پہنانا چاہئے۔‘

    ’اگر آپ نے میری شادی نہیں کی تو میں دریا میں کود کر جان دے دوں گا۔‘

    ’جسے دیکھو دریا میں کود کر جان دے رہا ہے۔ دریا ویسے ہی بہت گندا ہو چکا ہے۔‘ اس کا افیمچی باپ ہنسا۔’اس پرتو رحم کھاؤ۔‘

    مگر اس کی دھمکی کام کر گئی تھی۔ اس کے باپ نے گاؤں میں اپنے رشتے داروں کو پیغام بھجوایا۔ کئی جان پہچان والوں سے بات کی، مولیوں اور مشاطاؤںے رابطہ قائم کیا اور محلے کے حجام ٹیمپو میاں کی خدمات بھی حاصل کیں جو فلمی دھن پر حمد ونعت پڑھنے میں نہ صرف اچھی خاصی شہرت رکھتا تھا بلکہ قینچی چلاتے چلاتے رشتوں کی اچھی خاصی جانکاری حاصل کر لیا کرتا ۔ آخر کار دمسکو کے لئے ایک لڑکی مل ہی گئی جو صرف تیرا برس کی تھی اور چارکلاس پاس تھی۔’’وہ اس لئے۔۔۔‘‘ اس کے باپ نے جو ریلوے انجن میں خلاصی تھا اور اس وقت بھی جب وہ مہمانوں کی خاطر داری میں مصروف تھانشے میں ڈول رہا تھا،مہمانوں کو بتایا۔’’۔۔۔کیونکہ اسکول میں چار کلاس تک فیل ہونے کا کوئی رواج ہی نہیں ہے۔‘‘

    ’یاد رکھو،‘ اس کے افیمچی باپ نے کہا۔ ’تم خود اپنا سر اوکھلی میں ڈال رہے ہو۔ اس کے لئے تم مجھے ذمہ دار ٹھہرا نہیں سکتے۔‘

    نکاح کے دن دمسکو کافی پریشان نظر آیا۔ اسے اچانک خوشبو کماری کے ساتھ اپنی ناکامی یاد آ گئی تھی۔اس کا چہرا تاریک پڑتے دیکھ کر اس کا باپ ہنسا۔’یہ پریشانی بالکل صحیح ہے دمسکو۔ہر آدمی شادی سے پہلے اسی طرح گھبراتا ہے۔ خدا کے بندے تم ایک لڑکی سے شادی کر رہے ہو جو اسی مقصد کے لئے بنائی گئی ہے جو تم سوچ رہے ہو اور اسے اسی ڈھنگ سے انجام تک پہنچانا ہے۔ کیا تم جانور سے بھی کمتر ہو؟اسے اتنا پیچیدہ مت بناؤ۔ تمہیں کوئی خراب بیماری تو نہیں؟ تو اس کا بھی علاج ہے۔ تم نے شیلاجت کا نام تو سنا ہوگا۔‘

    تو اس کی شادی ہو گئی اور اس کی سہاگ رات خیر و خوبی کے ساتھ گذر گئی۔ دمسکو اپنی مردانگی پر حیران رہ گیا۔ بعد میں بستر پر خون کے دھبوں کو دیکھ کر اسے یگ گونہ مسرت کا احساس ہوا۔ اس کی بیوی کافی کمسن تھی اور ہم بستری کے دوران اس نے کافی افراتفری مچائی تھی جس نے دمسکو کا دل موہ لیا تھا۔ خود دمسکو کے لئے وہ ایک ایسا کھلونا تھی جس کی کنجی اس کے ہات میں تھی اور وہ جس طرح چاہے اس کے ساتھ کھیل سکتا تھا۔ وہ بھرے پرے بدن والی خوشبو نہ تھی جسمانی معاملات میں جس کی اپنی شرطیں ہوں۔وہ تو وہی کچھ جانتی تھی جو دمسکو اسے سکھا رہا تھا اور ایک استاد کے طور پر دمسکو کے سنکی پن کی کوئی حد نہ تھی۔ دمسکو کے دن پھر گئے۔ اس نے پھلندر کے ساتھ مل کر کئی بڑی چوریاں بھی کیں اور اپنی جورو کو سونے کے گہنے لا کر دئے۔ ان گہنوں کو دیکھ کر اس کا باپ پریشان ہو گیا۔’اس گھر میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا،‘ اس نے چارپائی پر بیٹھے بیٹھے غصہ سے کانپتے ہوئے کہا۔’تم اپنی عورت کو خراب کر رہے ہو۔ وہ بگڑ جائے گی تو تم اسے سنبھال نہیں پاؤگے۔‘

    ؂ رات کو اس نے اپنی بیوی سے، جو گہنے پا کر پھولی نہیں سما رہی تھی اور اپنے شوہر کو ہر طرح سے خوش کرنا چاہ رہی تھی، کہا۔’شادی سے پہلے تم نے کسی مرد کو دیکھا ہے؟‘

    ’بہت سارے مردوں کو۔‘ اس کی کمسن بیوی بولی۔’وہ جنیو کان پر ڈالے مسواک کرتے ہوئے ریل کی پٹریوں سے گذر کر پمپو تالاب جایا کرتے تھے۔‘

    ’میرا مطلب ہے ایسا کوئی مرد جس سے تمہیں واسطہ پڑا ہو،جس نے تمہیں ہات لگایا ہو۔ تم سمجھ رہی ہو نا میں کیا کہہ رہا ہوں یااس کے آگے بھی کہنا پڑے گا؟‘ دمسکو سر کے نیچے ہتھیلی رکھ کربستر پر لیٹا ہوا تھا اور دونوں پپوٹے نصف موندکر معنی خیز نظروں سے اپنی بیوی کی طرف تاک رہا تھا۔

    اس کی بیوی کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔ شاید اس کے ساتھ کوئی واقعہ گذر چکا تھا۔ اس دن سے دمسکو کے اندر اپنی بیوی کے لئے اور بھی کشش بڑھ گئی جس طرح کسی پھل کو پلّو لگ جانا اس بات کا ضامن ہوتا ہے کہ وہ پھل میٹھا ہوگا۔ اب جب کہ وہ بستر پر اپنی جورو کے ساتھ پوری طرح کامیاب ثابت ہوا تھا تو اسے خوشبو کماری کی یاد آ گئی اور وہ اس کی تلاش میں دریا کنارے دھوبی گھاٹ پر منڈلانے لگا جہاں گدھوں کی تعداد کافی کم ہو گئی تھی کیونکہ اب دھوبی موٹر سائکلوں پر کپڑوں کے گٹھر ڈھونے لگے تھے۔ اسی درمیان خوشبو تین بچوں کی ماں بن چکی تھی اور پھلندر ایک بار پھر جیل میں تھا۔کئی مہینوں کی تاکا جھانکی کے بعد ایک دن اس کے صبر کا بند ٹوٹ گیا اور اس نے کھلے عام پھلندر کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹا یا جسے اس کے باپ نے کھولا تھا۔پھلندر کا باپ کافی ڈیل ڈول والا آدمی تھا جس کا نچلا ہونٹ بھاری ہوکر نیچے لٹک رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ہمیشہ سرخ ڈورے تیرا کرتے۔ جب سے اسے پیٹ کی بیماری ہوئی تھی (اس کے ہانڈی جیسے پیٹ میں ہمیشہ گیس کے بگولے چھوٹتے رہتے) اس نے گھاٹ جانا بند کر دیا تھا جسے اب اس کے دونوں بڑے لڑکے سنبھال رہے تھے۔ وہ خود ایک بھجن منڈلی کا ممبر بن گیا تھا جس میں وہ مجیرا بجایا کرتا اور بھنگ کے سونٹے لگاتا ۔

    ’ایک کافی نہ تھا کہ تم آگئے،‘ اس نے خونخوار نظروں سے دمسکو کی طرف دیکھا۔’ایک چور سے پیچھا چھوٹا نہیں کہ دوسرا حاضر۔‘

    ’میں خوشبو سے ملنا چاہتا ہوں۔‘

    ’راکھی بندھوانا ہے ؟‘

    دمسکو ایک پل کے لئے پریشان ہو گیا۔’میں جیل میں پھلندر سے ملنے گیا تھا۔اس نے خوشبوکے بارے میں پوچھا ہے۔ وہ اس کے لئے بہت پریشان ہے ،‘ اس نے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے کہا۔’اس نے سنا ہے اسے سسرال والے بہت ستاتے ہیں۔ کیا میں کچھ کر سکتا ہوں؟‘

    ’ہاں، تم یہاں سے رفو چکر ہو سکتے ہو۔‘

    بوڑھے کے ماتھے کی رگیں پھڑک رہی تھیں جو کسی خطرے کی گھنٹی سے کم نہ تھی۔ شاید اسے دمسکو کی نیت کا پتہ تھا۔ یوں بھی اسے مسلمانوں سے نفرت تھی جو نہ صرف مسجد کے چونگوں پر رات دن اس کی نیند خراب کیا کرتے بلکہ آئے دن گلی کوچوں میں اور سڑکوں کے کنارے غیر قانونی طور پر تقریر اور میلادکی محفلیں سجانے کے عادی تھے جہاں مقررین رات رات بھر مائکوں پرچنگھاڑ لگاکرمحلے والوں کو سونے نہیں دیتے تھے ۔ اسے بیف کی دکانوں سے نفرت تھی جہاں کھلے عام گو ہتیا کا کاروبار چلتا رہتا اور اعلانیہ طور پر گائے کے سر اور دمیں چھپر سے لٹکتی رہتیں۔ اسے ہر داڑھی ٹوپی والے سے نفرت تھی جوانھیں کافر بلاتے اور خود گندگی اور غلاظت کے ڈھیر میں جینے کے باوجود جانے کس احساسِ برترتی کے جذبے کے تحت اکڑ کر چلا کرتے۔ اسے کانوں سے بالی لٹکائے مسلم لڑکوں سے نفرت تھی (اس کے دھندلائے ہوے ذہن میں ہرلڑکا جو برا تھا وہ مسلمان تھا) جوکھلے عام ماں بہن کی گالیاں دیاکرتے اور ہندو لڑکیوں کی طرف بے حیائی سے دیکھا کرتے کیونکہ ان کی اپنی عورتیں برقعے میں ہوتیں۔اس نے کئی چھوٹے بڑے دنگوں میں حصہ لیا تھا۔ اسے یہ بالکل پسند نہ تھا کہ ایک مسلمان کے ساتھ اس کی بیٹی کا ناجائز رشتہ ہو چاہے وہ اس کے لڑکے کا دوست ہی کیوں نہ ہو۔

    پھلندر کے بغیر دمسکو بہت کم چوری کے منصوبے بنا پاتا۔اسے اس پر حیرت تھی کہ چوری سے پہلے پھلندر کیسے کسی خاص گھر کے سلسلے میں اتنی جانکاری حاصل کرلیا کرتاہے۔ ظاہر تھا، ان دنوں اس کی جیب خالی تھی اور اس کی بیوی نے اس ڈر سے کہ وہ دیے ہوئے گہنے واپس نہ مانگ لے اس سے سرد مہری اختیار کر رکھی تھی۔اب وہ جب بھی بستر پر اسے اپنی طرف کھینچتا وہ ایام کا بہانہ بنا کر دوسرے کمرے میں اپنی بچیوں کے پاس چلی جاتی۔ایک دن اس نے دیو دت سے شکایت کی کہ وہ خوامخواہ اس کے معاملے میں ٹانگ اڑانے لگا ہے۔

    ’اور یہی تو کام ہے میرا،‘ دیودت ہنسا۔ ’تمہیں کس نے روکا ہے؟یہ دنیا ہم دونوں کی وجہ سے چل رہی ہے۔ اگر تم نہ رہوگے تو میرا کام کیا ہے؟‘

    تو دمسکو نے اسے خوش کرنے کے لئے ہاتھی دانت کا بنا ایک قیمتی ہےئر بینڈ پیش کیا جسے اس نے ایک اینگلو انڈین طوائف کے گھر سے چوری کے دوران ڈریسنگ ٹیبل سے اٹھا لیا تھا۔ یہ انگریزوں کے زمانے کا ہےئر بینڈ تھا جو عام طور پر نادرات کی دکانوں میں دیکھا جاتا ہے۔’میری رکھیل اسے پسند کرے گی،‘ دیودت نے اسے اپنی جیب کے اندر ڈالتے ہوئے کہا۔’اور میں اس سے کہوں گا کہ یہ ایک چور کا تحفہ ہے۔‘

    ’تم کہہ سکتے ہو تم نے ایک مردہ عورت کے بالوں سے اسے نکالا ہے ،‘ دمسکو نے غصے سے کہا۔’جس میں تم پولس والے ماہر ہو۔‘

    دوسری بار اس نے دیو دت کو ایک لائٹر دیا جو ایک منی پسٹل کی شکل کا تھا اور اس کا ٹریگر دبانے سے آگ کی لپٹ باہر آتی تھی۔ یہ لائٹر اس نے ریس کورس میں گھوڑا دوڑانے والے ایک جوکی کی کار سے میوزک سسٹم چراتے وقت ڈیش بورڈ سے نکال لیا تھا ۔ شیشہ کے اندر اس کیل ڈال کر کار کی کھڑکی کھولنے کا گر اسے پھلندر نے سکھایا تھا۔ دیودت نے اسے اپنی جیب کے اندر رکھ لیا۔’ڈاکٹر نے مجھے سگریٹ پینے سے منع کر رکھا ہے ۔مگر شاید اس کے سبب پھر سے پینے لگوں۔‘

    ’جو تمہیں پینا چاہئے، تاکہ تم کینسر کا شکار ہو کر مر سکو اور تم سے پیچھا چھوٹے۔‘

    اور دمسکو نے جس دن اسے ایک چھوٹا سا قالین تحفے میں دیا جسے اس نے قالین کے ایک گدام سے اس کے دربان کے ساتھ ملی بھگت کر کے دوسرے قالینوں کے ساتھ اڑایا تھا تو دیو دت کے لئے تو یہ حد ہو گئی۔’میری جورو اسے پسند کرے گی۔‘ اس نے قالین واپس رول کرکے ستلی سے باندھتے ہوئے کہا۔’اسے اسی طرح کی چیزیں جمع کرنے کا شوق ہے جو کسی کام کی نہ ہوں۔‘

    ’اور جب تم اپنی جورو سے اکتا جاؤگے تو اسی دری میں لپیٹ کر اسے دریا میں پھینک سکتے ہو۔‘ دمسکو نے کہا۔’جو یقیناًتم نے کرنے کے بارے میں کئی بار سوچا ہوگا۔‘

    ایک دن اس نے دیکھا خوشبو اس کے گھر کی چار دیواری پر ہات رکھے کھڑی ہے اور چنا پھانکتے ہوئے اس کی بیوی کے ساتھ بات کر رہی ہے۔ اس کی دونوں جڑواں بیٹیاں تھوڑے فاصلے پر آنگن میں کھڑی ان کی طرف تاک رہی تھیں۔ یہ ان دونوں کی پہلی ملاقات نہ تھی مگر دمسکو کی بیوی کو پتہ تھا اس کے خوشبو کے ساتھ کس قسم کے تعلقات تھے۔ اس نے دیکھا خوشبو اور بھی موٹی ہو گئی تھی اور اس کے چہرے پر مار کے نشان تھے۔ نہ صرف اس کے کولھے بڑے ہو گئے تھے بلکہ بچوں کو دودھ پلاتے پلاتے اس کے من زور پستان اور بھی بھاری ہو کرلٹک گئے تھے۔

    ’میں واپس سسرال جانے والی ہوں،‘ اکیلا ہونے پر اس نے دمسکو سے کہا۔’کیا ہم اکیلے میں مل سکتے ہیں؟‘

    ’تمہیں پتہ ہے تمہارا باپ تمہارے بارے میں کیا سوچتا ہے؟میں نے سنا ہے وہ گھر میں گنڈاسے کے ساتھ تیار رہتا ہے۔‘

    ’مجھے اس کی پرواہ نہیں۔ ہاں مجھے اس کی پرواہ ہے کہ تم میرے بارے میں کیا سوچتے ہو؟ کہ تم نے بالکل سوچنا بند کر دیا ہے؟‘

    ’تمہیں پتہ چلنا چاہئے اب میں بدل گیا ہوں،‘ دمسکو ہنسا۔ ’میں وہ لڑکا نہیں رہا جسے تم نے خراب کرنے کی کوشش کی تھی۔‘

    ’وہی تو۔ میں دیکھنا چاہتی ہوں تم اب کتنے خراب ہو چکے ہو؟‘خوشبو نے سمجھداری سے مسکراتے ہوئے کہا۔ کسی وجہ سے دمسکو کو خوشبو کی مسکراہٹ اچھی نہیں لگی۔ اسے ایسا لگا جیسے عورت کے معاملے میں اس کے اندر کی خود اعتمادی میں پھر سے اس نے سیندھ لگا دی ہو۔اس رات اطمینان کے لئے اس نے اپنی بیوی کے ساتھ کافی دیر تک ہم بستری کی اور اس کا تردد جاتا رہا۔’اتنے سال ہوگئے،‘ بعد میں ایک سگریٹ سلگاتے ہوئے اس نے اپنی بیوی سے کہا۔’تمہیں نہیں لگتا ہمارے اور بھی بچے ہونے چاہئیں۔‘

    ’ہو جائیں گے، ہو جائیں گے۔‘ اس کی بیوی اس کی چٹکی لیتے ہوئے بولی۔’میں نے تمہیں بچے نہیں دیے ہیں کیا؟بس تم محنت جاری رکھو اور اس چھنال کو بھول جاؤ۔ اور دیکھو کبھی کبھار اپنے باپ کی بھی خبر لے لیا کرو۔ آج وہ تمہیں یاد کر رہے تھے۔‘

    ’میں اسے کیسے بھول سکتا ہوں؟ میری زندگی میں وہ پہلی عورت ہے۔‘ دمسکو نے کہا۔ ’لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ میرے لئے کوئی خاص چیز ہے۔ اور اس بوڑھے کو اب میری ضرورت کیوں پڑنے لگی؟‘

    پھر بھی دوسری صبح وہ ورکشاب کے اندر گیا جہاں اس کا باپ دھول اور مکڑی کے جالوں سے ڈھکی ہوئی دھونکنی کے سامنے چارپائی پربیٹھا ہوا تھا۔اس کے منہ کے اندر اب صرف دو دانت بچے تھے جنھیں چارپائی پر بیٹھا وہ چوسا کرتا۔ افیمچی کے لئے آخری وقت آ چکا ہے، دمسکو نے سوچا اور انتظار کرنے لگا کہ اس کا باپ کچھ کہے۔

    ’مجھے لگتا ہے میں کچھ ہی دنوں کا مہمان ہوں۔‘ بوڑھااپنے داہنے پیر کے بوڑھے انگوٹھے کو دونوں ہاتوں سے پکڑ کر مروڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔’جب بھی یہ انگوٹھا پھڑکتا ہے مجھے پتہ چل جاتا ہے کیا ہونے والا ہے۔‘

    ’کیا ہونے والا ہے؟‘

    ’شاید وقت آ گیا ہے کہ میں دوسری دنیا کے لئے بوریا بستر باندھ لوں۔‘ بوڑھے نے کہا۔’میں کبھی اچھا مسلمان نہیں رہا لیکن تم مجھ سے بھی بد تر نکلے۔ اور اس تمہارے پھلندر کا کیا حال ہے؟‘

    ’جیل میں ہے۔‘

    ’اس کے لئے صحیح جگہ ہے۔ اس معاملے میں تم بد نصیب نکلے۔‘بوڑھا تھوڑی دیر چپ رہا۔ پھر اس نے اپنی لکڑی اٹھائی اور اس کی نوک سے ورکشاپ کی اندرونی کوٹھری کے ٹن کا زنگ کھایا ہوا دروازہ کھٹکھٹا یا۔کوٹھری کے اندر الم غلم سامان بھرے پڑے تھےَ جن کے درمیان رات رات بھرچوہے اور چھچھوندر دوڑا کرتے۔دمسکو نے دروازہ کھولا تو حبس کا ایک بھبھکا باہر آیا اور کئی چھپکلیاں دیوار پر بھاگ نکلیں۔بوڑھا لکڑی ٹیکتا ہوا کوٹھری کے ندر داخل ہوا اور اس نے ایک تجوری نما صندوقچی کوباہر لانے کے لئے کہا جو زمین پر پڑی دھول کھا رہی تھی۔ صندوقچی اس قدر بھاری تھی کہ اسے برامدے تک لانے میں دمسکو کا دم پھول گیا۔’کیا ہے اس کے اندر، کوئی جن؟‘ اسنے چہرا سے پسینہ صاف کرتے ہوئے مسکرانے کی کوشش کی۔صندوقچی پر کوئی قفل نہیں تھا اور اس کے ڈھکن کا ہنڈل اوپر کی طرف لگا ہوا تھا۔ ڈھکن اٹھا نے پر اس نے دیکھا صندوقچی لوہے کی نعلوں سے اوپر تک اٹی پڑی تھی جو ساری کی ساری زنگ کھائی ہوئی تھیں۔ اس کا باپ اپنا بھاڑ سامنہ کھول کر اس کی طرف دیکھ رہا تھا اور اپنے دونوں بچے کھچے دانتوں سے اس طرح مسکرا رہا تھا جیسے اس نے دمسکو کے سامنے قارون کا خزانہ کھول دیا ہو ۔ دمسکونے ہات جھاڑتے ہوئے کہا۔’اب یہ کسی کام کے نہیں ہیں۔‘

    ’گدھے ہو تم۔‘ بوڑھے نے آپے سے باہر ہوتے ہوئے کہا۔’یہ وہ قیمتی نعل ہیں جو تمہاری دنیا بد ل سکتی ہیں۔‘

    ’انھیں کباڑی بھی نہیں خریدنے والا۔‘

    ’گھوڑوں کی نعل کے بارے میں تم کتنا جانتے ہو؟میری بات غور سے سنو بچے،یہاں سے پچھم کی طرف ایک ریلوے اسٹیشن ہے، منٹور، وہاں نواب منٹور کی حویلی ہے۔ تم یہ بکس منٹور کے نواب کو پہنچاسکتے ہو۔ ان کا گھوڑے کا ایک شاندار اصطبل ہے ۔ میں تمہارے دادا کے ساتھ کئی برس وہاں رہ چکا ہوں۔تمہارے دادا نواب کے نہ صرف خاص نعل بند تھے بلکہ ان کے سلوتری کے معاون کے طور پر بھی کام کرتے تھے۔ وہ تمہیں سونے کے سکوں سے مالا مال کر دیں گے۔‘

    میں وہ اسٹیشن دیکھ چکا ہوں۔ وہ ایک اجاڑ سی جگہ ہے جہاں اب ٹرینیں بھی نہیں رکتیں۔وہاں میں نے ایسے کسی نواب کے بارے میں کبھی نہیں سنا۔‘

    ’کیونکہ تمہارے کان گدھے کے ہیں۔‘ بوڑھے نے غصے سے کہا۔’تمہیں اس اصطبل کا رخ کرنا چاہئے۔ وہاں تمہیں ایسے گھوڑے نظر آئیں گے کہ تم خواب و خیال میں بھی نہیں سوچ سکتے۔ خالص عربی ایرانی اورترکی گھوڑوں سے لے کر ہسپانوی مستانگ اور منگولیا کی پونی تک، یہاں تک کہ نواب کے اصطبل میں تمہیں شٹ لینڈ کے ٹٹو اور ہالینڈ کی نسل کے گھوڑے تک دکھائی دیں گے۔‘

    بوڑھے کا دماغ سنک گیا ہے، دمسکو نے جھونپڑی سے باہر آتے ہوئے سوچا۔جانے وہ کس نواب کی بات کر رہا ہے۔ میں تو صرف ایک نواب کو جانتا ہوں جس کی کوتوالی والے علاقے میں اپنی حویلی ہے جس پر سرکار نے بے دخلی کا مقدمہ دائر کر رکھا ہے اور جو اپنی پھٹی ہوئی وردی پہن کر کرایہ داروں سے ادھار مانگا کرتا ہے۔ اس کے دوسرے دن بوڑھا جب اپنی کوٹھری سے باہر نہیں آیا تو دمسکو کی بیوی نے اپنا سینہ پیٹنا شروع کر دیا۔ دمسکو رات بھر شہر کا چکر لگا کر ناکام لوٹا تھا اور اپنی چارپائی پر پڑا خراٹے لے رہا تھا۔ اسے جاگنا اچھا نہ لگا۔کو ٹھری کا دروازہ دستک دیتے ہی کھل گیا۔ بوڑھا اپنی چارپائی پر نہیں تھا۔وہ ایک چار پہیوں والے تختے پر (جس پر وہ گذشتہ کئی دنوں سے کیل اور ہتھوڑے کی مدد سے پہئے لگا رہا تھا) نعل کی صندوقچی رکھے اسے رسی سے کھینچتے ہوئے دریا کے کنارے دھیرے دھیرے اپنی لکڑی ٹیکتا ہوا چل رہا تھا جب دمسکو نے اسے جا لیا اور بڑی مشکل سے سمجھا بجھا کر گھر لے آیا ۔ اس نے اپنے باپ سے وعدہ کیا کہ اس کے مرتے ہی نعل سے بھری صندوقچی کے ساتھ وہ نواب کے دربار میں حاضر ہو جائے گا۔اور جب بوڑھے کو اس بات کا اطمینان ہو گیا تو اس نے اس دارِ فانی سے کوچ کرنے کی ٹھانی۔اس نے دمسکو سے کہا۔’میرے چشم و چراغ، وقت آ چکا ہے کہ میں اپنے گناہوں کی جوابدہی کے لئے اللہ کا سامنا کروں جو بڑا رحیم ہے۔ مجھے صحیح قبرستان میں دفنانا جہاں مجھے گھوڑوں کے ہنہنانے کی آواز سنائی دے۔‘اس نے دمسکو کو ایک اور وصیت کی۔’ اوراگر تم نے یہ چوری کا دھندا بند نہیں کیا تو میں واپس آؤں گا۔ تم توجانتے ہو عالمِ ارواح سے لوگوں کو آنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔یہ دھونکنی دیکھ رہے ہو، یہ تمہارا انتظار کر رہی ہے۔ اور یہ بھٹی ،میں تمہیں وہ جگہ بتا سکتا ہوں جہاں تمہیں اس کے لئے سستہ چارکول مل سکتاہے جو نہ بھی ملے تو کوئی بات نہیں تم کوئلہ سے کام چلا سکتے ہو۔تمہارے جسم میں ایک نعل بند کا خون دوڑ رہا ہے۔ تم خاندانی نعل بند ہو۔تم گھوڑوں سے زیادہ عرصے تک دور نہیں رہ سکتے۔‘

    دمسکو کو ایسے کسی قبرستان کا پتہ نہ تھا جہاں گھوڑے ہنہناتے ہوں یا جس کے آس پاس گھوڑوں کا اصطبل یا چراگاہ ہو۔اس نے سوچا مرنے والوں کے لئے گھوڑوں کا ہنہنانا اور گدھوں کا رینکنا دونوں برابر ہوتا ہے۔ اس لئے جب بوڑھے کو موت آئی تو اس نے اسے ایک ایسے قبرستان میں دفنایا جس میں گدھے اینڈ رہے تھے۔ باپ کی وصیت کے مطابق اس نے کفن کے اندر ایک نعل رکھ دیا تھا۔اور جب یہ سب کچھ ختم ہوا اور جب پھلندر جیل میں تھا اور جب کہ اچانک اس کی بیوی کا حمل ٹھہر گیا تھا اور مجبوراً اسے اپنی شہوانی خواہشات پر لگام ڈالنی پڑی تھی تو اسے خوشبو یاد آگئی۔ ان دونوں کی ملاقات کا پتہ خوشبو کے باپ کو لگنا مشکل تھا کیونکہ وہ دھوبی گھاٹ سے دور دریا کے کنارے ایک دوسری جگہ ملنے لگے تھے جہاں جانوروں کے مردے ڈالے جاتے ۔مگر اب اچانک اسے محسوس ہونے لگا جیسے خوشبو کو اس سے صرف ملنے اور اس کے ساتھ چوری چھپے سنیما دیکھنے، پارک میں بیٹھ کر چوما چاٹی کرنے اور دہی کچوڑی کھانے سے دلچسپی تھی، اس سے آگے وہ ہر بات ٹال جاتی ۔اب جب بھی وہ اس ویران گھر کا ذکر کرتا جس کی کھڑکی سے ہمیشہ گدھے کے مسکراتے ہوئے دانت نظر آتے تو وہ کنی کاٹ جاتی۔

    ’تمہیں کس بات کا ڈر ہے؟‘ دمسکو نے ایک دن کہا۔’کتنے سال ہوگئے۔ تمہارا پتی توتیسری شادی بھی کر چکا۔‘

    ’مجھے تم سے ڈر ہے،‘ وہ بولی۔ ’مجھے نہیں لگتا تم اس کام کے لائق ہو۔‘

    ’اچھا۔ تو پھر میں تمہیں بتا دوں میں ایک اور بچے کا باپ بننے والا ہوں۔‘

    ’واقعی!‘ اسے یقین نہیں آیا۔ مگر دھیرے دھیرے اس کے اندر ایک تبدیلی دکھائی دینے لگی۔ وہ دمسکو سے کترانے لگی ۔ دمسکو نے سوچا،شاید اسے کوئی اور مل گیا ہوگا؟ جانے کیوں اس سوچ کے ساتھ خوشبو کے لئے اس کی بے چینی اور بھی بڑھ گئی۔ ایسا ہی ہوتا ہے، اس نے خود سے کہا، جب کوئی چیز تم سے دور جاتی ہے تو تم اس کے لئے اور زیادہ بے چین ہو اٹھتے ہو۔ خوشبو نے دریا کے کنارے آنا بند کر دیا تھا۔ وہ اس کے گھر کے باہر منڈلانے لگا۔ خوشبو اس کے خوف سے بہت کم نکلا کرتی اور جب بھی باہر آتی یا دریا کل پر کپڑے دھونے بیٹھتی تو ہمیشہ اپنے کسی نہ کسی بچے کے ساتھ دکھائی دیتی۔ مگر ایک دن گھر کوبالکل ویران پا کر دمسکو اندر جا گھسا۔ خوشبو شاید اسی کا انتظار کر رہی تھی۔

    ’چوری کے دھندے نے تمہیں کافی سیانا بنا دیا ہے۔ اس نے بستر پر پڑے پڑے انگڑائی لے کر لہنگا سے اپنے داہنے پیرکا انگوٹھا باہرنکال کر اس سے دمسکو کی طرف اشارا کرتے ہوئے کہا۔’تمہیں پتہ چل جاتا ہے کہ کب کس کا گھر ویران رہتا ہے۔‘

    اس دن خوشبو کو شاید مرد کی ضرورت تھی کیونکہ اس کا سینہ دھونکنی کی طرح پھول رہا تھااور اس کی آنکھوں میں ان تمام برسوں کا خمار ابھر آیا تھاجب اسے مرد سے محروم رہنا پڑا تھا۔دمسکو کے لئے اس سے اچھا موقع اسے پانے کا اور کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ دیر تک خوشبو کے جسم کے ساتھ کھیلتا رہا۔ خوشبو اس کا انتظار کرتی رہی۔ مگر دمسکو گویا واپس پھر سے پرانے دنوں میں لوٹ گیا تھا۔

    ’یہ صرف تمہارے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے؟‘ دمسکو نے اسے جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔

    ’بند بھی کرو،‘ خوشبو نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔’باہر مجھے کچھ لوگوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔میں کہتی ہوں جتنی جلدی ہو سکے بھاگ جاؤ۔‘

    کانپتی انگلیوں سے شرٹ کے بٹن لگاتے ہوئے جب کہ دروازے پر لوگوں کا شور بڑھتا جا رہا تھادمسکو ایک چور کی پھرتی کے ساتھ دیوار پھاند کر بھاگ نکلا۔ اس نے دور سے دیکھا، خوشبو کا باپ کافی لوگ اکٹھا کر چکا تھا۔ دمسکو تو ہات نہ آیا مگر آس پاس کے کئی مسلمانوں کے گھر جلا دئے گئے۔ کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے۔ ایک شخص ہندو فسادیوں سے بھاگنے کے چکر میں دریا کے اندر کود پڑا اور لوہے کے ایک ڈھانچے میں پھنس کر مارا گیا۔ اس کی لاش باہر نکالی گئی تو وہ ایک ہندو نکلا۔ اس بات نے فساد کو اور ہوا دی۔بہت سارے لوگ پولس کی حراست میں لے لیے گئے جن میں دمسکو بھی شامل تھا۔ اسے حیرت تھی کہ پولس کو اس کے بارے میں پتہ کیسے چل گیا تھا جب کہ اسے بھاگتے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ وہ کئی ہفتے حاجت میں بند رہا۔ پھر سیاسی پارٹیاں نمودار ہوئیں، امن کمیٹیاں بنیں اور سارے لوگ رہا کر دئے گئے۔ جیل سے چھوٹ کر دمسکو نے دیکھا دنیا کوئی خاص بدلی نہ تھی گرچہ پھلندر ابھی تک جیل کی ہوا کھارہا تھا۔ مگر جانے وہ کس جیل میں تھا؟اس نے پھر سے چوری شروع کر دی اور جیسا کہ اس کے ساتھ ہوا کرتا تھا، اس کی ملاقات پھر سے دیو دت سے ہو گئی۔

    ’تو تم نے جیل کی ہوا کھا لی،‘ دیو دت نے اسے سگریٹ دیتے ہوئے کہا۔’ کیا وہ اتنی کراری عورت تھی۔ تمہارے اپنے دھرم کی عورتیں مر گئیں کیا؟‘

    ’اب کون نقاب اٹھا اٹھا کر عشق لڑاتا پھرے۔‘

    ’میں سب سمجھتا ہوں،‘ دیو دت ہنسا۔’اس کے فسادی باپ کو بہانہ چاہئے تھا اور تم اس کے جال میں پھنس گئے۔ تمہیں خبر بھی ہے تم جس عورت کے ساتھ تھے خود اس نے پولس کو تمہارا نام بتایا تھا۔ شاید اس کے لوگوں نے اسے دھمکایا ہو۔تمہیں ہوشیار رہنا چاہئے۔ شہر کی ہوا ابھی تک ٹھیک نہیں ہوئی ہے۔ دھرم آدمی کو جانور بنا دیتا ہے۔‘

    ’خوشبو ایسی عورت نہیں ہے۔‘دمسکو نے غصے سے کہا۔’وہ تو سسرال میں جلتے جلتے رہ گئی۔ ‘مگر اب اسے بھی خوشبو پر شبہ ہونے لگا تھا۔ایک دن وہ پھلندر کا گھر گیا۔ دروازہ ہر بار کی طرح اس کے باپ نے کھولا ۔دمسکو کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اچانک پھلندر کا باپ بالکل بوڑھا ہو گیا تھا۔نہ صرف اس کی ایک آنکھ میں چھالا پڑ چکا تھا اور کان کی لووں اور بھووں پر اگے ہوئے بال سفید ہو گئے تھے بلکہ اسے کھڑے ہونے کے لئے ایک لکڑی کا سہارا بھی لینا پڑرہاتھا۔شاید وہ زندگی کا سامنا کرتے کرتے تھک چکا تھا۔’تم پھر آ گئے،‘ اس نے کہا۔’اس بار مارے جاؤگے بچے۔‘

    ’میں پھلندر کے بارے میں جاننے آیا ہوں۔ وہ میرا دوست ہے اور آپ ہمیں ملنے سے روک نہیں سکتے۔‘

    ’اسے چھوٹنے میں ابھی ایک برس اور ہے۔‘

    ’یہ تو اچھی خبر ہے۔ آپ کو بتاشے باٹنے چاہئیں۔‘ اس نے بوڑھے کی آنکھوں میں بے خوفی سے دیکھتے ہوئے کہا۔’آپ کو صرف دنگا کروانا ہی آتا ہے کہ لڑکیوں کے بارے میں بھی سوچتے ہیں؟‘

    ’تمہیں اس سے مطلب؟‘

    ’گھر میں بیاہتا لڑکی کو بٹھا کر رکھوگے تو میرے جیسے لوگ تو آئیں گے ہی۔‘بوڑھے کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا چھوڑ کر وہ چل پڑا ۔

    وہ اطمینان سے چل رہا تھا جیسے بوڑھے کا انتظار کر رہا ہو کہ وہ اس کے پیچھے آئے اور کوئی فتنہ کھڑا کرے۔ مگربوڑھا اپنی جگہ کھڑا دھندلی آنکھوں سے اس کی طرف تاکتا رہا۔

    اپنی تیسری لڑکی کی پیدائش سے دمسکو کو کوئی حیرت نہیں ہوئی تھی۔اس نے سوچا، ہم جیسے برے لوگوں کے ساتھ اور کیا ہو سکتا ہے۔ پچھلے فساد کو دو سال بیت چکے تھے۔ مگر الیکشن کے آتے ہی شہر کی ہوا ایک بار پھر سے گرم ہو گئی تھی اور طرح طرح کی افواہیں گشت کرنے لگی تھیں۔ دمسکو کے محلے میں مسلمانوں کے جھونپڑوں اور چھوٹے موٹے کھپریل کے مکانوں کے بیچ نیم کے درختوں سے ڈھکا ایک چھوٹا سا تالاب تھا جو دراصل برسات کے پانی کے ساتھ ساتھ گھروں سے بہہ کر آنے والے نالوں کے سبب بن گیا تھا۔اس تالاب کے عین کنارے ایک دو منزلہ عمارت واقع تھی جو ایک ہندو وکیل کی تھی۔چونکہ اس کے زیادہ تر موکل مسلمان تھے اپنے ایک موکل کی سستی زمین خرید کر اس نے مسلمانوں کے محلے میں اپنا دو منزلہ گھر بنالیا تھا۔ دمسکو اپنا جیل جانا بھولا نہ تھا۔ وہ اس کا بدلہ وکیل سے لینا چاہتا تھا۔اسی دوران شہر میں ایک دو چھوٹے موٹے واقعات ہو گئے تھے۔ سڑکوں پر ملیٹری کے جوان گشت کرنے لگے تھے۔ دمسکو شام ہوتے ہی نیم کے درخت کی سب سے اونچی شاخ پر جا بیٹھتا جو وکیل کی دوسری منزل کی بالکنی سے لگی ہوئی تھی اور سگریٹ پیتے ہوئے کھڑکیوں کے اندر نظررکھا کرتا۔گرچہ وہ پوری طرح پتوں میں چھپا رہتا مگر اس کے وہاں ہونے کا نہ صرف پورے محلے کوعلم تھا بلکہ خود وکیل کو اس

    کاپتہ تھا۔ اس نے دمسکو کو بچپن سے دیکھا تھا اور اسے معلوم تھا کہ اپنے باپ کے بر عکس جو پرانے دنوں میں وکیل کے گھوڑوں کے نعل لگایا کرتا، دمسکو نے چوری کا پیشہ اختیار کر رکھا تھا۔ وہ خود دمسکو کے دادا کی عمر کا تھا۔ وہ کھڑکی کے پاس آتا اورپتوں کے اندر چھپے ہوئے دمسکو کو ملامت کرتا۔

    ’تمہیں شرم آنی چاہئے ،میں تم لوگوں کو تمہارے دادا کے دنوں سے جانتا ہوں۔ اور پھر ہم پڑوسی نہیں ہیں کیا؟‘

    ’یہ آپ کس سے بات کر رہے ہیں؟میں تو یہاں ہوں ہی نہیں۔‘

    بوڑھا وکیل تھوڑی دیر تک پتوں کی طرف رخ کئے کھڑا رہتا جو بڑی دانشمندی سے ہلنا بند کر دیتے ۔ پھر وہ کہتا’ تمہارا ارادہ کیا ہے برخوردار؟‘

    دمسکو اسے کبھی نہ بتاتا کہ اس کا ارادہ کیا ہے کیونکہ اسے خود اس کا پتہ نہیں تھا۔وہ صرف اتنا جانتا تھا کہ شہر میں اگر فساد ہو گیا تو وہ وکیل کے گھر میں داخل ہو جائے گا۔

    ’کس لئے؟‘ جیسے وکیل کو اسکے منصوبے کا علم ہو۔’تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ میرے پاس ایک بندوق ہے۔‘

    دمسکو ہنستا۔’آپ نے اسے کبھی چلا یا بھی ہے کہ صرف دنیا کو دکھانے کے لئے ہر سال اسے تھانہ لے جاتے ہو۔‘ کیونکہ ایک بار اپنے باپ کے کہنے پر وہ وکیل کی بندوق ڈھو کر لائسنس کے رینیول کے لئے تھانہ لے گیا تھا۔

    ’تم چاہتے کیا ہو؟‘بوڑھے کو غصہ آ جاتا۔’میں چاہوں تو پولس میں اطلاع دے سکتا ہوں۔مگر تم میرے محلے کے آدمی ہو، اور میں یہ نہیں چاہتا۔‘

    ’میں جا رہا ہوں۔‘دمسکو پیڑ سے اتر آتا ۔ مگر نیچے اتر کر وہ چلا کر یہ کہنا کبھی نہ بھولتا کہ وہ پھر سے لوٹ کر آئے گا اور بڑھؤکو چاہئے کہ وہ اپنی کھڑکی کھلی رکھے۔

    ’تم چاہو تو میں تمہیں کچھ پیسے دے سکتا ہوں۔‘ اگلی بار وکیل نے پتوں سے کہا جن کے اندر سے سگریٹ کا دھواں باہر آ رہا تھا ۔اسی درمیان اس نے کچھ شاخیں چھنٹوا دی تھیں جو بالکنی تک پہنچتی تھیں۔

    ’کتنے؟‘

    ’تم کہو۔‘ وکیل ہنسا۔’کیونکہ مجھے یقین ہے بہت جلد تم چوری کرتے ہوئے پکڑے جاؤگے اور ضمانت کے لئے میرے پاس آؤ گے تو میں اپنا سارا پیسہ وصول لوں گا۔‘

    ’مجھے پیسہ نہیں چاہئے۔‘دمسکو ہنسا۔’اگر مجھے پیسہ چاہئے ہوتا تو آپ کے گھر میں اب تک چوری نہ کر چکا ہوتا۔ میں نے ایسا اس لئے نہیں کیا کیونکہ مجھے محلے میں آنکھ کا پانی بچا کر رکھنا ہے۔‘

    مگر پھر چور دمسکو کی دلچسپی اس معاملے سے دھیرے دھیرے ختم ہو نے لگی کیونکہ الیکشن کے گذرتے ہی فسادکا بازار سرد ہو گیا تھا۔ایک دن اس کی بیوی نے جو ایک بار پھر سے حمل سے تھی ،کہا کہ بوڑھا لوٹ آیا ہے۔ اس نے ورکشاپ سے کھٹر پٹر کی آواز سنی تھی۔ یہ پرانے لوگ، دمسکو نے سوچا، یہ کبھی اپنی بات نہیں بھولتے! اس نے اسے ٹالنے کی کوشش کی۔مگر اسے لگاتار کئی رات تک آنگن سے گھوڑوں کے ہنہنانے کی آواز سنائی دی ۔ وہ جب بھی دروازہ کھولتاآواز غائب ہو جاتی۔ اسے کہیں پر کوئی گھوڑا نظر نہ آتا۔ ایک رات جب کہ وہ پیشاب کرنے کے لئے دیوار کی طرف جا رہا تھا اس نے ورکشاپ کے برامدے سے سندان پر ہتھوڑے گرنے کی آواز سنی۔برامدے پر آ کر اس نے دیکھا سندان تو اپنی جگہ کھڑا تھا مگرہتھوڑے اور دوسرے اوزار ادھر ادھر بکھرے پڑے تھے۔ اس نے مسکراکر سوچا ،بڈھا اپنی چال چل رہا ہے ۔سندان پر ہتھوڑے کے واقعے کے بعد کئی ہفتے تک بالکل خاموشی چھائی رہی تو اس نے دل ہی دل میں اپنے آپ سے کہا، یہ اورکچھ نہیں اس کے دماغ کا فتور ہے۔مگرایک روز آدھی رات کے وقت، جب کہ بچی بلا وجہ روئے جا رہی تھی اور دمسکو باہر نکلنے کے بارے میں سوچتے سوچتے اچانک سو گیا تھا ، اس کی بیوی نے جھنجوڑ کر اسے جگا دیا۔وہ کھڑکی سے ورکشاپ کی طرف اشاراکر رہی تھی جس کے اندر روشنی ہو رہی تھی ۔ وہاں سے دھونکنی کے تیز چلنے کی آوازآ رہی تھی ۔اس کی دونوں بیٹیاں اپنے مشترکہ بستر پر بیٹھی ایک دوسرے سے لپٹی ہوئی کانپ رہی تھیں۔ڈرتے ڈرتے اس نے دروازہ کھولا ۔ اسے لگا ورکشاپ کے برامدے سے کوئی گذرا تھا۔’کون ہے؟ اس نے چلا کر کہا۔ وہ اتنا ڈرا ہوا تھا کہ اسے خود اپنی آواز کسی دوسرے کی لگ رہی تھی۔ ’تم کسے آواز دے رہے ہو؟ وہاں تو کوئی بھی نہیں ہے۔‘ اسے اپنی بیوی کی آواز سنائی دی جو لالٹین اٹھائے اس کے پیچھے کھڑی تھی۔ لالٹین تھامے ہوئے وہ محتاط قدموں سے چلتا ہوا ورکشاپ کے برامدے تک آیا تو اس نے دیکھا کوٹھری تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی اور اندر سے کسی دھونکنی کی آواز نہیں آ رہی تھی ۔ اسے قفل کھولنے کی ہمت نہیں ہوئی ۔دوسری صبح ٓوہ لوگ ورکشاپ کے اندر داخل ہوئے تو انھوں نے دیکھا، چولھا ٹھنڈا پڑا تھااوراس کے سینخچوں پر جمی برسوں پرانی راکھ پر چوہوں کی مینگنیاں پڑی تھیں ۔ خود دھونکنی کی چرمی تھیلی اور لٹکتی زنجیر سے مکڑی کے جالے لپٹے ہوئے تھے جن سے مکڑی کے انڈے اور مردہ کیڑے مکوڑے لٹک رہے تھے ۔صاف ظاہر تھا انھیں برسوں سے ہات نہیں لگایا گیا تھا

    ’یہ اس پرانے صندوق کے سبب ہے۔ بورھا اپنا کھیل کھیل رہا ہے۔‘ دمسکو نے اپنی بیوی سے کہا۔’مجھے چاہئے کہ اس سلسلے میں بوڑھے سے اپنا کیا گیا وعدہ پورا کروں۔‘

    دوسرے دن وہ بس میں بیٹھ کرمنٹور کے اسٹیشن کے باہر اترا جس کی پٹریوں سے اب ٹرینوں کاگذرنا بند ہو چکاتھا۔ اس میں اب صرف لوہے کے زنگ کھائے ہوئے ڈھانچے کھڑے تھے جن کی دیواروں کی پتریاں چرا لی گئی تھیں اورفرش پر جہاں کبھی غلہ اور سیمنٹ اتارے جاتے، مقامی لڑکے جوا کھیل رہے تھے۔اس جگہ سے تھوڑی دور اسے پٹریوں کا جال نظر آیا جہاں پرکہیں کہیں ٹرینیں کھڑی تھیں۔ ان پٹریوں کے جال سے پرے خاردارجھاڑیوں سے ڈھکے ڈھلان اور کائی سے ڈھکے تالاب تھے جہاں ہر طرف سے فضلوں کی تیز باس آ رہی تھی ۔ اس ویرانے میں اسے ایک میل تک چلنا پڑا تب کہیں جا کر اسے نواب منٹور کی حویلی کا کھنڈر نظر آیا۔اس کی زیادہ تر چھتیں بیٹھ چکی تھیں ، دیواروں سے شہد کی مکھیوں کے بڑے بڑے چھتے لٹک رہے تھے اور صاف ظاہر ہو رہا تھا اب یہ کھنڈر چمگادڑ اور سانپوں کے مسکن بن چکے تھے ۔خود اصطبل جو میدان کے ایک کنارے اپنے بچے کھچے ستونوں پر کھڑا تھا نصف سے زیادہ زمیں بوس ہو چکا تھا ۔ اس کی منہدم شدہ دیواروں پر گھاس اگی ہوئی تھی ، اینٹوں سے طفیلی پودے نکل آئے تھے جن میں سے کئی کافی تناور درخت کی شکل اختیار کر چکے تھے جب کہ سیڑھیوں اور ناندوں پر جن سے کبھی گھوڑے پانی پیا کرتے ہوں گے اونٹ کٹاروں کا قبضہ ہو چکا تھا۔ میدان میں بکریاں اور بھینسیں گھاس چر رہی تھیں اور دھوبی رسیوں پر کپڑے سکھا رہے تھے۔وہ حویلی کے اندر گیا تو اس نے دیکھا اس کی دیواروں اور ستونوں پر مقامی لوگوں نے پتھر سے کھرچ کھرچ کر فحش تصویریں بنارکھی تھیں بلکہ ایک جگہ تو اسے فرش پر ایک مانع حمل کی تھیلی بھی نظر آئی جس سے پتہ چل رہا تھا کہ آس پاس کی طوائفیں اپنے گاہکوں کے ساتھ یہاں آیا کرتی ہوں گی یا پھر لڑکے گاؤں کی لڑکیوں کو ورغلا کر یہاں لایا کرتے ہوں گے۔بڈھا جانے کس زمانے کی بات کر رہاتھا، دمسکو نے سوچا۔اچھا ہوا جو میں صندوقچی کے ساتھ نہیں آیا ورنہ مقامی لوگ جانے کیا سوچتے!

    اس نے جب اپنی بیوی کو یہ بات بتائی تو اس نے مشورہ دیا کہ وہ نعل سے بھری صندوقچی نالے میں پھینک آئے۔’تم خود یہ کام کیوں نہیں کر لیتی؟‘ دمسکو نے کہا۔’تم تینوں ماں بیٹیاں اسے اٹھا کر کہیں پھینک کیوں نہیں آتیں؟یا شاید کوئی لوہار انھیں خرید لے اور تمہیں کچھ پیسے مل جائیں۔‘

    مگر اس کی بیوی کو ورکشاپ میں داخل ہونے کی ہمت نہ تھی۔ اس نے چپی سادھ لی۔ شاید اب بوڑھے کو بھی تشفی ہو گئی تھی کیونکہ اب اس نے انھیں پریشان کرنا بند کر دیا تھا۔اسی درمیان دمسکو نے کئی اچھی چوریاں کیں۔ اب اسے پھلندر کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ وہ خود اس کام میں ماہر ہو گیا تھا۔ایک اچھی بات یہ ہو گئی تھی کہ دیو دت کاتبادلہ کسی دوسرے تھانے میں ہو گیا تھا۔شروع شروع میں اسے دیودت کے بغیر بڑی راحت کا احساس ہوا جیسے وہ ایک لمبی قید سے آزاد ہو گیا ہومگر پھر اسے اس کی یاد ستانے لگی۔ آخر کار ایک دن اس نے اسے ایک دور کے تھانے میں ڈھونڈ ہی نکالا۔

    ’کیسے ہو لڑکے؟‘ دیو دت تھانے کے کنویں پر اپنا لنگوٹ دھو رہا تھا۔ اس کی گل موچھوں کے بال سفید ہونے لگے تھے اور آدھا سر گنجا ہو جانے کے سبب وہ کافی صحتمند نظر آ رہا تھا۔لنگوٹ تھانے کی چار دیواری پر پھیلا کر وہ اسے بارک کے اندر لے گیا۔’میرے بغیر کہیں تم سدھر تو نہیں گئے ہو؟‘ اس نے دمسکو کے لئے کانچ کے گلاس میں رم انڈیلتے ہوئے کہا۔’اگر کسی پریشانی میں پڑ گئے تو مجھے بتانا۔ میرے بہت سارے ساتھی اب بھی پرانے تھانے میں موجود ہیں۔‘

    ’تمہارے بغیر میں کسی پریشانی میں کیسے پڑ سکتا ہوں۔‘ دمسکو نے رم کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا۔’لیکن تمہارا یہاں کام کیا ہے؟‘

    ’بس بیٹھے بیٹھے پادتارہتا ہوں۔‘ دیو دت ہنسا۔’ہر تھانے میں تمہارے جیسے چور کہاں ملتے ہیں۔‘

    اس رات وہ شہر کی سڑکوں پر مارا مارا پھرا کیا۔ جاڑا آ چکا تھا جس کے سبب لوگ گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے بند کر کے سونے لگے تھے۔صبح وہ خالی ہاتھ گھر لوٹا تو اس نے دروازے پر تالا جھولتے دیکھا۔اس کے سسر کا انگریزوں کے زمانے کا ریلوے کوارٹر تھوڑی ہی دوری پر واقع تھا۔ اس کی بیوی اور بچوں نے اسے دیکھتے ہی گھیر لیا۔’اب میں اس گھر میں اس وقت تک نہیں جا سکتی جب تک تم اپنے باپ کے کارخانے سے نجات نہیں حاصل کر لیتے۔‘ اس کی بیوی نے کہا۔’آخر بات کیا ہے؟‘ اس نے جھنجلا کر پوچھا۔’کیا پھر سے بوڑھے نے پریشان کیا؟‘’تو کیا میری مت ماری گئی ہے کہ اپنا گھرچھوڑ کرکسی کنکھجورے کی طرح اس سرکاری کھنڈر میں رہنے چلی آ ؤں۔ تم خود جا کر کیوں نہیں دیکھتے؟‘

    اپنے بیوی بچوں کے ساتھ وہ گھر لوٹا تو اس کی نظر اس چیز پر پڑی جس پر پہلی بار کسی کی نظر نہیں پڑسکتی تھی۔ اس کے باورچی خانے کا سارا چھپر نعلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ خود لوہے کی خالی صندوقچی باورچی خانے کی کھڑکی کے باہر گندے پانی کے منحنی گڈھے کے کنارے الٹی پڑی تھی۔’یہ بوڑھے کا نہیں بلکہ کسی گاؤ دی چور کا کارنامہ ہے۔‘ دمسکو نے مسکراتے ہوئے کہا۔’اس نے بکس چرانے کی کوشش کی ہوگی اور ان بیکار کی نعلوں کو دیکھ کر طیش میں آ کر انھیں چھپر پر پھینک کر بھاگ گیا ہوگا۔‘

    ’بھلے آدمی ، یہ ابا کی روح تھی،روح۔وہ ساری رات چھپر پر نعل پھینکتے رہے۔ تم تو تھے نہیں، ہم نے اور بچیوں نے کتنے سورے پڑھے، کتنی دعائیں مانگیں، مگر بڈھے کو کون سمجھائے۔ وہ ساری رات گالیاں بکتے ہوئے چھپرپر نعل پھینکتے رہے۔وہ تو خیر ہو ہمارے مرغے سلمان خان کا کہ اس نے بانگ دے کر انھیں بھاگنے پر مجبور کر دیا۔‘

    بیوی کی بات نے دمسکو کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ اس نے چھپر پر چڑھ کر تمام نعل اکٹھا کئے اور انھیں ایک بورے میں بھر کر بڑے نالے کی پلیا کے نیچے چھپا آیا ۔چونکہ اسے ڈر تھا کہ اگر بوڑھے کی روح نے اس واقعے کو کسی دوسرے انداز سے لے لیا توشاید وہ طوفان کھڑا کر دے اور اسے یہ نعل پھر سے واپس لانا پڑے اس نے خالی صندوقچی ورکشاپ کے اندر چھپا دی ۔’تم ٹھیک کہتی تھی۔‘ اس نے اپنی بیوی سے کہا۔ ’یہ مجھے پہلے ہی کر دینا چاہئے تھا۔اب ہم آرام سے رہ سکتے ہیں۔‘

    ’میں اس وقت تک یہاں نہیں آسکتی جب تک تم کارخانے کو یہاں سے ہٹا نہ دو۔ یوں بھی اب اس میں ٹن کی مورچہ کھائی ہوئی چادر وں اور دیوار کے نام پر گھن کھائی ہوئی مٹی کے علاوہ رکھا کیا ہے؟ مجھے پورا یقین ہے بوڑھا دھونکنی کے اندر چھپا بیٹھا ہے۔وہ وہیں سے باہر آتا ہے۔‘پھر اس نے اپنے بڑے سے پیٹ کو جس کے اندراس کا چوتھا بچہ پل رہا تھا دونوں ہاتوں سے تھام کر کہا۔’میں ایسے گھر میں بچہ نہیں جن سکتی جس پر بد روحوں کا سایہ ہو۔‘

    ’اب میں کیا کر سکتا ہوں۔‘ دمسکو تھک کر برامدے پر بیٹھ گیا۔اسے اپنی بیوی پر غصہ آ رہا تھاجو اس برے وقت میں اس کا ساتھ چھوڑ کر میکے جا رہی تھی۔ بیوی کے جانے کے بعد وہ کئی دن تک گھر سے باہر نہ نکلا۔آخر کار ایک دن نئے ارادے کے ساتھ اس نے اس مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی ۔اس نے درگاہ سے پانی لاکرسارے گھر کا صحن اپنے ہاتوں سے دھویا، ورکشاپ کے ایک ایک سامان کی صفائی کی، مولوی صاحب کو بلا کر میلاد پڑھوائی، مدرسے کے بچوں کے ذریعے سات بار کلام پاک ختم کروایا، فقیروں کو کھانا کھلایا اور چراغی کے طور پر انھیں موٹی رقم عطا کی اور جب اسے پورا یقین ہو گیا کہ کارخانہ پوری طرح سے پاک ہو چکا ہے اس نے اپنی بیوی کو گھر لانے کی کوشش کی۔ اسے اس کی ان حرکتوں کی خبر مل چکی تھی۔’اگر بد روحوں سے اتنی آسانی سے نجات حاصل کی جاسکتی تو اتنے سارے مولوی مولانا کب کے بیکار ہو چکے ہوتے۔‘ اس کی بیوی بولی۔’میری سمجھ میں نہیں آتا اس کارخانے میں کیا رکھا ہے۔ تم اس سے پیچھا کیوں نہیں چھڑاتے؟‘

    ’اگر میں نے ایسا کیا تو بڑھؤ میرے دادا کو جگا دیں گے۔ پھر معاملہ اور بھی بگڑ جائے گا۔ تم نہیں جانتیں وہ کتنے جلالی انسان تھے۔گھوڑے تک انھیں دیکھتے ہی خود بخود اپنے کھْرپیش کر دیتے تھے۔اور یقین کرو یہ افواہ نہیں تھی۔ میں نے اپنی آنکھوں سے انھیں بقرعید کے دن محلے کی بڑی بڑی گایوں کو جن سے قصائی بھی ہار مان لیتے، پچھاڑتے دیکھا ہے۔‘

    ’ٹھیک ہے۔ پھر تم اپنے گھرپر رہو ، میں اپنے باپ کے گھر جاتی ہوں۔‘

    ’تمہیں یہاں نہیں رہنا ہے نہ رہو۔‘ دمسکو نے غصے سے چلا کر کہا۔’یہی ٹھیک رہے گا۔تم اپنے باپ کے گھر پڑی رہو۔ تم بھی خوش اور بڑھؤکی آتما بھی خوش ۔‘

    اس دن وہ واپس گھر جانے کی بجائے سارا دن شہر میں آوارہ گردی کرتا پھرا۔ سورج ڈوب رہا تھا جب اس نے طوائفوں کے محلے کا رخ کیا جہاں ایک ادھیڑ عمر کی طوائف کے ساتھ جس سے کنوارے پن کے دنوں سے اس کی شناسائی تھی اور جس نے مباشرت کے سارے طریقے اسے سکھائے تھے بہت دیر تک اپنا وقت خراب کیا ۔ بعد میں اس نے شراب خانے کی راہ لی جہاں دیر رات تک وہ شراب پیتا رہا۔آج وہ خود کو بالکل اکیلا محسوس کر رہا تھا اور اسے اپنے دوست پھلندر کی یاد آ رہی تھی۔ وہ لوگ اسی شراب خانے میں ملا کرتے تھے۔وہ میز پر شراب کے گلاس کو دونوں ہاتوں سے تھامے سر جھکائے بیٹھا اسی کے بارے میں سوچ سوچ کر جذباتی ہو رہا تھا کہ ویٹر نے اس کی میز پرپانی کی بوتل رکھتے ہوئے اس کے کان میں سرگوشی کی’وہ اوپر کے کمرے میں بیٹھا ہے۔‘

    ’کون؟‘ایک پل کے لئے وہ بھول گیا کہ ویٹرپھلندر کے بارے میں بتا رہا تھا۔

    ’تمہارا دوست ، اور کون۔‘ ویٹر نے جواب دیا۔’وہ جیل سے باہر آچکا ہے نا۔‘

    دمسکو لڑکھڑاتا ہوا اوپر پہنچا۔ مگر پھلندر جا چکا تھا۔اس نے میز پر اپنی بےئر کی بوتل آدھی خالی چھوڑ دی تھی۔ شاید اس نے اسے دیکھ لیا تھا اور اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔

    وہ گھر پہنچا تو بری طرح نشے میں تھا۔دروازہ کھولنے کے بعد اسے یہ بھی یاد نہ رہا کہ اس نے چابی تالے کے سوراخ میں ہی چھوڑدی تھی ۔ بستر پر گرتے ہی اسے گہری نیند آگئی ۔اس نے خواب میں دیکھا وہ اور پھلندر چوری کے سامان بغل میں دبائے ایک پرانی سرکاری عمارت کی چھت پر کھڑے تھے جہاں سے پھلندر اسے نیچے کودنے کی ہدایت دے رہا تھا۔

    ’میں کہاں کودوں؟‘ وہ بار بار کہہ رہا تھا۔ ’یہاں پر کوئی زمین تو ہے ہی نہیں۔‘

    جانے کیا وقت ہو رہا ہوگا جب پیشاب کے دباؤسے اس کی نیند کھل گئی ۔ اس کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ باہر چاندنی چھٹکی ہوئی تھی جس میں کچھ لوگ کھڑے سرگوشیوں میں باتیں کر رہے تھے۔ وہ باہر آیا تو اسے آنگن میں تین سفید گھوڑے نظر آئے جن کے پاس کچھ انسانی ہیولے کھڑے تھے ۔ ابھی وہ ان لوگوں کو سمجھ بھی نہ پایا تھا کہ ورکشاپ نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی جس میں تیز روشنی ہو رہی تھی۔ کوٹھری کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور اندر سے دھونکنی کے چلنے کی تیز آواز آ رہی تھی۔وہ کوٹھری کے دروازے پر

    پہنچاتو اس نے دیکھا ایک شخص بھٹی پر جھکا ہوا ایک سرخ نعل کو زنبور کی مدد سے انگاروں پر الٹ پلٹ رہا تھا ۔دھونکنی خود بخود چل رہی تھی جیسے اس پر کسی بد روح کا قبضہ ہو۔اس کی آہٹ پر اس شخص نے سر اٹھا کر دیکھا۔

    ’دمسکو، تم صحیح وقت پر آئے ہو۔‘ یہ اس کا افیمچی باپ تھا، بالکل چنگااور چست جیسے اسے اس کے حصے کی افیم مل گئی ہو۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اب اس کے سارے دانت بھی واپس آ گئے تھے جو موتی کی طرح چمک رہے تھے۔’تم لوگ اسے دیکھ رہے ہو۔‘ بوڑھے نے باہر لوگوں کی گڈ مڈ ہوتی پرچھائیوں کو مخاطب کیا جو آپس میں کھلکھلا کر ہنس رہے تھے سرگوشیاں کر رہے تھے، اندر کا نظارا دیکھنے کے لئے ایک دوسرے پر گرے جا رہے تھے۔’یہ میرا بیٹا ہے دمسکو۔ بہت دم ہے اس میں۔لیکن اسے ہر گدھے کی طرح آسان کام کرنے کی لت ہے۔ کیا تم لوگ اسے میرے لئے پکڑسکتے ہو؟مجھے اس کا علاج کرنا ہے۔‘

    ابھی دمسکو کچھ سمجھ بھی نہ پایا تھا کہ چار مضبوط ہاتوں نے اسے جکڑ لیا اور برامدے پر لا کر چاروں خانے چت لٹا دیا۔وہ لوگ اسے زمین پر جکڑے ہوئے کھلکھلا کر ہنس رہے تھے جب کہ آزاد ہونے کے لئے وہ غراتے ہوئے اوپر نیچے ہورہا تھا ۔ وہ تقریباً خود کو آزاد کر چکا تھا جب اس کے چہرے پر پانی کا زور دار چھپاکہ پڑا اور اس کی آنکھوں میں تارے ناچ اٹھے ۔وہ واپس دیکھنے کے قابل ہواتو اسے اپنے چہرے کی جلد پر تیز آنچ کا احساس ہوا۔ اس نے پلکوں کو جھپکتے ہوئے دیکھا زنبور کی نوکوں میں پھنسی لوہے کی ایک گرم نعل کا نیم ہالہ اپنی غیض بھری سرخی کے ساتھ اس کے چہرے سے چھہ انچ کے فاصلے پر تمتما رہاتھا جس کے پیچھے اس کے باپ کی سرخ آنکھیں انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں۔زنبور کے دباؤ سے چنگاریاں نعل سے اڑ اڑ کر بوڑھے کی داڑھی پر گر رہی تھیں ۔’تمہیں یاد ہے دمسکو، میں نے کیا کہا تھا تم سے؟ مگر تم نے چوری بند نہیں کی۔ تو میں کیا کرتا اگر لوٹ کر نہ آتا۔تمہیں تو پتہ ہے ایک روح کو اس دنیا میں آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔‘

    پھلندر بستر پر ننگا لیٹا ہوا تھا جب خوشبو نے اندھیرے میں ہات بڑھا کر اسکے چہرے کو اپنی مسالے کی مہک سے شرابور انگلیوں سے سہلاتے ہوئے کہا،’تمہارے دوست کا کیا حال ہے؟ میں تم دونوں کو کبھی ساتھ نہیں دیکھتی؟‘

    ’اس نے میرا دل توڑا ہے۔‘پھلندر نے اس کا ہات چہرے سے جھٹک دیا۔ شہوانی خواہش کے مٹتے ہی اسے ہمیشہ اپنی بہن کے بھدے جسم سے نفرت ہو جاتی ۔’تمہیں پتہ ہے، وہ ایک بار بھی مجھ سے ملنے جیل نہیں آیا۔‘

    ’اس میں اس بے چارے کا کیا قصور۔‘ خوشبو اٹھ کر بیٹھ گئی ۔ اس نے انگڑائی لے کر اپنا ہات برا کی طرف بڑھایا جو تکیہ پر پڑا تھا۔ اس کے دونوں ننگے پستان پسینہ میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ ’تمہیں ایک بار اس سے ملنا چاہئے۔‘ برا پہنتے پہنتے اس نے ہنس کر اس کی طرف دیکھا اور اپنے دونوں ہات پیچھے لے جا کر ہک لگاتے ہوئے بولی۔’تمہیں اس سے مل کر یقین نہیںآئے گا۔. تمہارا دوست اب ایک دیکھنے کی چیز ہے۔‘

    پھلندر اٹھ کر بستر پربیٹھ گیا۔ خوشبو کے جانے کے بعد وہ دیر تک اندھیرے میں بیٹھا دیوار کو گھورتا رہا۔

    دمسکو کا گھر ہمیشہ کی طرح اپنی جگہ موجود تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ آج نہ صرف اس کا لوہے کا پھاٹک پاٹوں پاٹ کھلا ہواتھا بلکہ آنگن میں دو گھوڑے بھی کھڑے تھے جن کے سائیس زمین پر بیٹھے بیڑی پی رہے تھے۔اسے ورکشاپ کے اندر دمسکو نظر آیا۔ وہ سر پر ایک صافہ باندھے بھٹی کے سامنے بیٹھا دھونکنی کی زنجیر کھینچ رہا تھا اور چمٹے کی مدد سے کوئلے پر گرم ہوتی ہوئی نعل کو الٹ پلٹ رہا تھا۔ اس کے گال پر ہلکی ہلکی گھنگریالی داڑھی اگ آئی تھی جو پھلندر کے لئے بالکل نئی چیز تھی جس کے سبب دمسکو کا چہرا کافی بڑاہو گیا تھا۔پھلندر کو دیکھ کر وہ مسکرایا۔اس نے زنجیر چھوڑ دی،لوہے کی صندوقچی کا ڈھکن بند کر دیا جس میں پرانی نعلیں بھری ہوئی تھیں اور پھلندرکی طرف لوہے کا ایک اسٹول کھسکاتے ہوئے کہا ۔’کیا دیکھ رہے ہو پھلندر؟شاید تم حیران ہو کہ میں اپنے باپ دادا کے دھندے میں پھر سے کیسے واپس آ گیا؟

    پھلندر اسٹول پر بیٹھا اس کی طرف ایک ٹک دیکھ رہا تھا۔ اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اس آدمی سے زندگی میں پہلی بار مل رہا ہو۔

    ’تو چلو تمہاری پریشانی دور کئے دیتے ہیں۔‘ دمسکو ہنسا اور اس نے ایک جھٹکے سے اپنے سر سے صافہ اتار دیا۔ پھلندرکی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اور اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔دمسکوکی پیشانی پر نعل کا ایک زبردست نشان ابھرا ہوا تھا جس کا کھلا ہوا سرا نیچے ابرووں کی طرف تھا۔’ نعل کا یہ نشان دیکھ رہے ہو۔‘ دمسکو نے ابھرے ہوئے نشان پر انگلی پھیرتے ہوئے کہا۔’ ایسا نشان تم نے زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔تم ہی بتاؤکیا اس نشانی کے ساتھ اب میں تمہارے دھندے میں شامل ہو سکتا ہوں؟ کیا اس دنیا میں میرے پاس اب چھپنے کے لئے کوئی جگہ ہے؟وہ لوگ ایسا ہی کرتے ہیں۔ وہ اپنی آنے والی نسلوں کا اسی طرح خیال رکھتے ہیں۔وہ پہلے تو تمہیں آگاہ کرتے ہیں، سمجھاتے ہیں اور جب تم نہیں سمجھتے تو تمہیں اپنے طریقے سے سیدھے راستے پر لاتے ہیں۔ اب مجھ سے یہ مت پوچھنا یہ نشان کیسے بنا ورنہ میں وہ کہانی سنانے پر مجبور ہو جاؤں گا جس پر تم کبھی یقین نہیں کرنا چاہوگے۔تمہارے لئے بس اتنا جاننا کافی ہے کہ اس نے مجھے انسان بنا دیا۔ اگر تمہیں میری بات کا یقین نہیں تو میں کیا کر سکتا ہوں۔‘

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY