مرے ہوئے آدمی کی لالٹین

صدیق عالم

مرے ہوئے آدمی کی لالٹین

صدیق عالم

MORE BYصدیق عالم

    کہانی کی کہانی

    اس کہانی میں زندگی کو ایک ایسے تھیٹر کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو ناجائز ہے۔ وہ ایک سال بعد گاؤں لوٹ رہا تھا کہ اس کی شادی ہونے والی تھی۔ اس کے گھر والوں نے اس کے لئے دور کے ایک گاؤں میں ایک لڑکی دیکھ رکھی تھی۔ لڑکی والے بہت غریب تھے مگر لڑکی بلا کی خوبصورت تھی۔ وقت ضائع کئے بغیر ان کی شادی کر دی گئی۔ جب اس کے سارے پیسے ختم ہو گئے تو اسے شہر لوٹنا پڑا۔ مگر اب شہر میں اس کا دل نہیں لگتا تھا۔ وہ صبح شام اور کبھی کبھی دن میں بھی اپنی بیوی سے موبائل پر بات کر لیا کرتا تھا۔ یہ موبائل چوری کی تھی جسے اس نے بہت سستی قیمت پر خرید کر اپنی بیوی کو دی تھی۔ اس کی بیوی نے کبھی اس سے گھر آنے کی فرمائش نہیں کی۔ صرف ایک بار اس نے دبے لفظوں میں کچھ کہنا چاہا مگر کچھ سوچ کر چپ ہو رہی۔ اس نے بار بار کریدنے کی کوشش کی مگر وہ ٹال گئی۔ پھر ایک دن اسے اپنی بیوی کی موبائل بند ملی۔

    ہر کوئی چننے پر مجبور تھا

    مگر وہ کون تھا جو دہشت کا انتخاب کرتا؟

    جیمس ہلمن (خواب اور پاتال)

    وہ اپنا گاؤں جا رہا تھا۔ اسے ٹرین میں اچھی سیٹ ملی تھی جس کے لئے اسے قلی کو دس روپئے الگ سے دینے پڑے تھے۔ اس کے اورکھڑکی کے بیچ صرف ایک آدمی حائل تھا مگر وہ آسانی سے باہر بھاگتے مناظر کا لطف لے سکتا تھا۔ اسے گاؤں چھوڑے تقریباً دو برس ہو گئے تھے اور وہ خوش تھا۔ اس لئے نہیں کہ وہ ایک لمبے عرصے کے بعد چھٹی پر گاؤں لوٹ رہا تھا بلکہ اس لئے بھی کہ اس نے اپنی شادی کے لئے مناسب رقم اکٹھی کر لی تھی اور اسے امید تھی کہ گاؤں پہنچتے ہی ایک ہفتے کے اندر اندر اس کی شادی ہو جائے گی۔

    ’’تم بہت خوش دکھائی دے رہے ہو۔‘‘ کھڑکی والے مسافر نے کہا۔ وہ درمیانے قد کا ایک ادھیڑ عمر کاآدمی تھا ۔ اس کا چہرا لمبوترا تھا، پیشانی پر گہری سلوٹیں تھیں اور ٹھوری کے نیچے کنٹھ کی ہڈی غیر معمولی طور پرابھری ہوئی تھی۔ گھنے خاکستری بالوں کے نیچے اس کی تھکی ہوئی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ وہ ایک ذہین انسان تھا۔ اس نے معمولی قیمت کے کرتے پاجامے پہن رکھے تھے اور اس کی گردن سے لپٹا ہوا دھاری دار مفلر کافی پرانا تھا ۔ اس کی کینوس کی تھیلی جو اندر کے سامان کے سبب کسی حاملہ عورت کے پیٹ کی طرح پھولی ہوئی تھی دونوں کھڑکیوں کے بیچ ہْک سے لٹک رہی تھی۔’’مگر میں دیکھ رہا ہوں یہ خوشی صرف گاؤں لوٹنے کی نہیں ہے۔ کہیں تم شادی کے بارے میں تو نہیں سوچ رہے ہو؟‘‘

    اسے حامی بھرنے میں شروع شروع میں ہچکچاہٹ کا احساس ہوا۔ آخر وہ دونوں کمپارٹمنٹ میں اکیلے مسافر تو نہیں تھے۔ پھر اس نے سوچا یہ آدمی بلا کا ذہین ہے۔ اگر میں جھوٹ بولا تو پکڑا جاؤں گا۔ تو اس نے اثبات میں سر ہلایا اور معاملے کو ختم کرنے کی کوشش کی۔

    ’’گرچہ تمہاری شادی کی عمر ہو چکی ہے بلکہ کچھ برس پہلے ہی تمہیں یہ کام کر لینا چاہئے تھا مگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو ہر گز یہ کام نہ کرتا۔‘‘ مسافر نے کہا اور اس نے اپنی تھیلی اتار کر اس سے المونیم کی ایک لالٹین برآمد کی۔’’اسے دیکھ رہے ہو۔‘‘ اس نے لالٹین کو اوپر اٹھاکر اس کی چمنی کی طرف اشارا کیا جس پر دھویں کا نشان تھا۔’’یہ میرے ایک رشتے دار کی ہے۔ اس نے شادی کی اور بلا وجہ مارا گیا۔ اب یہ لالٹین ہمیشہ میرے ساتھ رہتی ہے تاکہ مجھے یاد دلاتی رہے کہ شادی انسان کی کتنی بڑی بے وقوفی ہے۔‘‘

    ڈبے میں زیادہ تر دیہات کے لوگ بیٹھے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ آدمی کہنا کیا چاہ رہا تھا۔ ایک آدھ کے ذہن میں کچھ سوالات کلبلائے تو تھے مگر اس آدمی کی آنکھوں سے جھلکتی ذہانت سے مرعوب ہو کر انھوں نے خاموشی سادھ لی تھی۔ تو چونکہ یہ باتیں اس سے کہی جا رہی تھیں گاؤں لوٹنے والے شخص پر یہ ذمہ داری آن پڑی کہ وہ دوسرے مسافروں کی خاموشی کے پیچھے کے سوال کی نمائندگی کرے۔

    ’’آپ کے رشتے دار کی کوئی کہانی ہے جس کا سمبندھ اس لالٹین سے ہے؟‘‘

    ’’نہیں نہیں۔ ایک سیدھے سادے آدمی کی کیا کہانی ہو سکتی ہے بھلا؟‘‘ اجنبی ہنسا۔ ’’وہ تو پیدائشی بد نصیب تھا۔ لیکن یہ میرا دعویٰ ہے کہ جو کوئی اس لالٹین کا مالک ہوگا یہ اسے شادی جیسی آفت سے دور رکھے گی۔‘‘

    اب گاؤں لوٹنے والے کے دل میں گھبراہٹ پیدا ہو گئی۔ کیا واقعی وہ ایسی کوئی غلطی کرنے جا رہا ہے۔ مگر ایک لالٹین کی اتنی بساط کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ انسان کو شادی سے روک سکے۔ اس نے لالٹین کی طرف غور سے دیکھا جسے دوسرے مسافر نے اپنی گود پر رکھ لیا تھا اور اس کی طرف عجیب نظروں سے تاک رہا تھا۔ یہ ایک کم قیمت کی پرانی لالٹین تھی جس کے تیل کے ڈھکن پر زنگ کا نشان تھا مگر برنر سے نکلے ہوئے فتیلے کی زبان کچھ اس طرح مڑی ہوئی تھی کہ پتہ چلانا مشکل تھا وہ وقتاً فوقتاً استعمال میں رہتی بھی ہوگی یا نہیں۔ پھر اچانک اسے یاد آیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ شادی کے ارادے سے گاؤں جا رہا ہو اور عین ایک ایسے آدمی سے اس کا واسطہ پڑجائے جس کے پاس شادی کے خلاف ایک ٹھوس کہانی ہو! اس نے شک بھری نظروں سے اجنبی کی طرف دیکھا جس نے جواباً مسکراکر اس کا کندھا تھپتھپایا۔’’گھبراؤ مت۔ تم شوق سے شادی کر سکتے ہو۔ میں تمہیں یہ لالٹین یوں بھی دینے والا نہیں۔ تم ابھی اس کے لئے تیار نہیں ہو۔ شاید تمہارے لئے یہی بہتر ہوگا کہ تم اپنے تجربے کے راستے دنیا کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرو۔‘‘

    چند اسٹیشن بعد اجنبی اپنی تھیلی کے ساتھ ٹرین سے اتر گیا۔ بینچ پر بیٹھے مسافروں نے دیکھا ، یہ ایک ویران پلیٹ فارم تھا جس پر بیر کا ایک واحد پیڑ کھڑا تھاجو نہ صرف سرخ و زرد بیروں سے لدا ہوا تھا بلکہ اس کی ایک شاخ سے تار کا ایک پنچ گونی پنجڑا بھی لٹک رہ تھا جس کے اندر ایک سبز رنگ کا طوطا اپنی ایک ٹانگ پرکھڑا تھا ۔ اس کے سبز پنکھ اور سرخ چونچ پکے ہوئے بیروں کے ساتھ ایک عجیب ہم آہنگی پیدا کر رہے تھے۔

    گھر لوٹ کر وہ اس واقعہ کو بھول گیا۔ اس کے گھر والے اسے دیکھ کر بہت خوش تھے۔ انھوں نے اس کے لئے دور کے ایک گاؤں میں ایک لڑکی دیکھ رکھی تھی ۔ وہ بہت ہی غریب لوگ تھے مگر لڑکی بلا کی خوبصورت تھی۔ وقت ضائع کئے بغیر ان کی شادی کر دی گئی۔ یہ لڑکی کافی خوش مزاج اور کم گو نکلی۔ اس نے اس کے جسم کا بھرپور لطف اٹھا یا ۔ دیکھتے دیکھتے ایک ماہ کا عرصہ گذر گیا اور وہ دن آ گیا جب اسے شہر لوٹنا تھا کیونکہ اس کی چھٹی ختم ہو رہی تھی۔ شاید وہ شہر نہ لوٹتا مگر اس کا کیا کیا جائے کہ اس کے سارے پیسے ختم ہو گئے تھے اور جس غریبی سے تنگ آ کراس نے شہر کا رخ کیا تھا وہ پھر سے اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا خاص طور پر جب اس پر ایک نئی ذمہ داری آ گئی ہو۔اس کی بیوی دوسرے لوگوں کے ساتھ اسے اسٹیشن چھوڑنے آئی۔ وہ بہت اداس تھی اور لگاتار روتے رہنے کے سبب اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں گرچہ اب اس نے خود پر قابو پا لیا تھا ۔

    ’’تم گھبراؤ مت۔‘‘ اس نے اپنی بیوی کو دلاسا دیا۔ ’’میں ہر ماہ کم از کم ایک بار آنے کی ضرور کوشش کروں گا۔‘‘

    واپسی پر اسے کھڑکی کے کنارے جگہ مل گئی ۔ وہ راستہ بھر اداس نظروں سے درختوں کو پیچھے کی طرف بھاگتے دیکھتا رہا۔ اسے یہ سوچ کر حیرت ہورہی تھی کہ یہ وہی پیڑ تھے جو گاؤں آتے وقت پھولوں اور چڑیوں سے لدے ہوئے تھے۔ پھر ان تیس دنوں میں ایسا کیا ہو گیا تھا کہ وہ ساری چڑیاں غائب ہو گئی تھیں، سارے پھل پھول عنقا ہو گئے تھے؟ ایسا لگ رہا تھا جیسے ٹرین کسی دوسرے راستے سے شہر واپس لوٹ رہی ہو۔

    وہ شہر آ توگیاتھا مگر اب شہر میں اس کا دل نہیں لگتا تھا۔ وہ صبح شام اور کبھی کبھی دن میں بھی اپنی بیوی سے موبائل پر ایک آدھ بار بات کر لیا کرتا۔ یہ موبائل چوری کی تھی جسے اس نے بہت سستی قیمت پر اپنی بیوی کو خرید کر دی تھی۔ اس کی بیوی نے کبھی اس سے گھر آنے کی فرمائش نہیں کی۔ صرف ایک بار اس نے کچھ کہنا چاہا مگر کچھ سوچ کر چپ ہو رہی۔ اس نے بار بار کریدنے کی کوشش کی مگر وہ ٹال گئی۔ پھر ایک دن اسے اپنی بیوی کی موبائل بند ملی۔ اس نے بار بار کوشش کی مگر اس سے رابطہ قائم نہ کر پایا۔ اس کے اپنے گھر میں کوئی موبائل نہ تھی۔ اس نے اپنے گاؤں کے ایک پہچان والے کو فون کیا۔ اس نے اس کا گھر جا کر اس کے باپ سے اس کی بات کروائی جس سے اسے پتہ چلا کہ اس کی بیوی میکے گئی ہوئی ہے۔ اسے اپنے سسرال میں کسی دوسرے فون کا علم نہ تھا۔ یوں بھی اس کے سسرال والے بہت ہی غریب اور ان پڑھ لوگ تھے۔ ایک ماہ تک جب اس کی بیوی کا فون نہیں آیا تو اس نے منیجر سے ایک ہفتہ کی چھٹی مانگی۔ منیجر کے پاس اس کی جگہ کوئی دوسرا آدمی نہ تھا۔ اسے چھٹی ملنے میں ایک ماہ کا عرصہ لگ گیا۔ مگر عین گاؤں جانے سے ایک ہفتہ قبل اس پر ڈینگو کا حملہ ہوا اور اسے سرکاری اسپتال میں داخلہ لینا پڑا۔ وہ اس حملے سے مرتے مرتے بچا۔ اسپتال سے برخاست ہونے پر وہ اتنا کمزور ہو چکا تھا کہ سفر کے قابل نہ تھا۔اس کے ساتھ ایک اور مصیبت بھی آن پڑی تھی۔اس کی بچت کا ایک بڑا حصہ نہ صرف ختم ہو گیا تھا بلکہ اسے اپنی نوکری سے بھی ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ اس کی طبیعت تھوڑی درست ہوئی تو اس نے ایک دوسری نوکری ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ اسے ایک نوکری مل تو گئی مگر اس میں پیسہ برائے نام تھا اور نوکری نئی ہونے کے سبب اسے چھٹی ملنا بھی دشوار تھا۔ مجبوراً اس نے گاؤں لوٹنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے سوچا، شاید یہ انتظام قدرت کی طرف سے ہے۔ اب اسے گاؤں میں ہی گذارا کرنا ہوگا۔ اسے اپنی بیوی کی فکر بھی ستا رہی تھی۔

    اس بار اس کا سفر کافی ویران تھا۔ جاڑا ختم ہو چکا تھا مگر ہوا میں اب بھی خنکی تھی جس کے جھونکے خزاں کی آمد کا پتہ دے رہے تھے۔ مگر ٹرین کے اسٹیش سے چھوٹتے ہی اچانک موسلا دھار بارش ہو گئی اور مسافروں کوایسا محسوس ہونے لگا جیسے جاڑا پھر سے واپس آ گیا ہو ۔ کھڑکی پر اپنی داہنی کہنی ٹکائے ہوئے وہ ان ننگے درختوں کی طرف دیکھ رہا تھا جن کے پتے بارش نے گرا دئے تھے ۔ ڈبے میں بہت کم مسافر تھے۔ ٹرین چھوٹے موٹے اسٹیشنوں میں رک تو رہی تھی مگر کسی ڈبے سے نہ کوئی مسافر اتر رہا تھا نہ کوئی چڑھ رہا تھا۔ میدان اور کھیتوں میں ساذ ونادر ہی کوئی دکھائی دے جاتا۔کھڑکی کی سلاخوں سے برفیلا پانی ٹپک رہا تھا۔اسے اپنی بیوی کی یاد آ نے لگی۔ وہ جتنا گاؤں کے قریب ہوتا جا رہا تھا اس کے گدرائے ہوئے بدن کے تصور سے اس کا دل دھڑک رہا تھا۔اس کے پاس تھوڑے سے ہی پیسے بچے تھے۔ گاؤں میں کام ملنا آسان نہ تھا۔ اسے اس بات کی فکر بھی تھی۔ ٹرین ایک اسٹیشن میں کچھ زیادہ دیر تک رک گئی۔ اس نے دیکھا یہ وہی ویران اسٹیشن تھا جس میں بیر کے درخت سے طوطے کا پنجڑا لٹک رہا تھا۔ مگر اس بار اس میں ایک بھی بیر نہ تھا۔ درخت کے زیادہ تر پتے جھڑ کر اس کی جڑوں پر جو انسانی انگلیوں کی طرح پلیٹ فارم کے کنکریٹ کے فرش پر پھیلی ہوئی تھیں جمع ہو گئے تھے ۔ خود پنجڑا طوطے سے خالی تھا۔ اس نے اسٹیشن کا نام یاد کر لیا۔ ٹرین روانہ ہونے کے لئے سیٹی بجا چکی تھی جب ایک مسافر ہلکی ہکی بوندا باندی سے بچتے ہوئے اپنی تھیلی کے ساتھ کمپارٹمنٹ کے اندر داخل ہوا۔وہ اس کے روبرو بیٹھ گیا اور رومال نکال کر اپنا چہرا اور ہات پونچھتے ہوئے اس سے مخاطب ہو ا۔

    ’’میں تمہیں یاد ہوں؟‘‘

    اسے یاد آ گیا۔

    ’’آپ وہی ہیں نا جن کے پاس مرے ہوئے آدمی کی لالٹین تھی؟ آپ اسی جگہ رہتے ہیں؟‘‘

    ’’وہ لالٹین اب بھی میرے پاس ہے۔اور تم ٹھیک سمجھے۔ میرا گاؤں یہاں سے دو کوس دور ہے۔ ہم لوگ اسی اسٹیشن سے آنا جانا کرتے ہیں۔‘‘وہ آدمی مسکرا رہا تھا۔ ’’تو تم نے شادی کر لی۔ اور تم اپنی شادی سے خوش ہو۔‘‘

    ’’بالکل۔‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’اور میں اپنی بیوی سے ملنے جا رہا ہوں۔‘‘ اس نے اپنی نوکری چھوٹ جانے کی بات اجنبی کو نہیں بتائی۔

    ’’سب ٹھیک ہے تو ٹھیک ہے۔‘‘ اجنبی نے باہر تاکتے ہوئے کہا ۔

    ’’آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟‘‘ اس نے اجنبی کی طرف اچنبھے سے دیکھا۔

    ’’تم اپنی اداسی کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہو اس لئے۔ تم اپنے دل کی بات مجھ سے چھپا رہے ہو۔‘‘

    ’’میں نے بتایا نا سب کچھ ٹھیک ہے۔‘‘

    ’’سب کچھ ٹھیک ہے تو ٹھیک ہے۔‘‘

    اپنے گاؤں کا اسٹیشن پہنچنے تک اس نے اجنبی سے کوئی بات نہیں کی۔ اجنبی صرف خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا۔ اس نے اسے ٹرین سے سامان اتارنے میں مدد دی اور ٹرین جب اسٹیشن سے روانہ ہورہی تھی تو دروازے پر کھڑے کھڑے چلا کر کہا۔’’یاد رکھنا۔ میرے پاس ایک ایسی لالٹین ہے جو تمہارے کام آ سکتی ہے۔‘‘

    گاؤں کے راستے پر چلتے ہوئے وہ اس اجنبی کے بارے میں سوچتا رہا۔ جانے وہ کیا کہنا چاہتا تھا۔ اس کے گھر میں بڑی خامشی تھی۔ اس کے والدین نے بیٹے سے بہت کم باتیں کیں۔ ایسا لگ رہا تھا وہ لوگ کچھ چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔ دوسری صبح وہ بس میں بیٹھ کر اپنا سسرال روانہ ہوگیا۔ بس دھول اڑاتے ہوئے چل رہی تھی۔ ایک جگہ جہاں درختوں کے ایک جھنڈ کے باہر جانوروں کا ہاٹ لگا ہوا تھا بس کچھ دیر کے لئے رک گئی ۔ بس سے باہر نکل کر سڑک کے کنارے وہ اپنی کمر سیدھی کر رہا تھا کہ اسے اپنا بڑا سالہ دکھائی دیا جو ایک جوڑی بیل کے ساتھ چل رہا تھا۔ اس نے بھی اسے دیکھ لیا اور کترا کر نکل جانا چاہا۔ اس نے اسے آوازیں دیں، کچھ دور تک اس کا پیچھا بھی کیا مگر وہ درختوں کے جھنڈ میں غائب ہو گیا۔ چونکہ بس کے اندر اس کا سامان رکھا ہوا تھا اسے واپس لوٹنا پڑا۔ اس عجیب واقعے نے اسے حیران کر دیا۔بس اسے ایک برساتی نالا کے کنارے چھوڑ کر چلی گئی۔نالا سوکھا پڑا تھا جس کی جھاڑیاں ہوا میں جھانجر بجا رہی تھیں۔نالے کے کنارے اوبڑ کھابڑ راستوں پر ا سے اپنے سوٹ کیس کے ساتھ ایک کوس چلنا پڑا جب اسے اپنا سسرال نظر آیا۔ یہ ایک ویران سا گاؤں تھا جہاں زیادہ تر کھپچ کی ٹٹریاں تھیں یا پھوس کے چھپر۔ تقریباً تمام گھروں کی دیواریں مٹی کی تھیں جن کے زیادہ تر کواڑ گل چکے تھے۔یہ ایک بہت ہی بچھڑا ہوا علاقہ تھا ۔ یہا ں نہ اسپتال تھا، نہ راستہ ، بجلی تھی نہ پانی۔ایک طرح سے یہ جگہ ملک کے اندر ہوتے ہوئے بھی ملک کے نقشے سے خارج تھی۔ وہاں سب کو پتہ تھا کہ وہ اس گاؤں کا داماد ہے مگر آج ہر آدمی اس سے نظریں چرا رہا تھا۔ مٹھائی کی دکان سے وہ گڑ کی مٹھائی خرید رہا تھا جب اس نے محسوس کیا، دکاندار اس سے کچھ کہنے کی کوشش کر رہا تھا۔مگر اس سے نظریں ملتے ہی وہ چپ ہو گیا۔اس کے سسر کی موت شادی سے کئی برس قبل سانپ کے کاٹنے سے ہو گئی تھی اور اس کا صرف ایک بڑا سالہ تھا جسے وہ جانوروں کے ہاٹ میں چھوڑ آیا تھا۔ اس کی ساس اسے دیکھ کر رونے لگی۔ اسنے بتایا کہ پچھلے چار مہینے سے اس کی بیوی کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ وہ جس دن اپنے سسرال سے آخری بار لوٹی تھی اس کے دوسرے ہفتے گھر سے غائب پائی گئی ۔ تب سے لے کر آج تک اس کی کوئی خبر نہ تھی۔ انھوں نے پولس چوکی میں رپورٹ لکھوا دی تھی۔ اس نے چوکی جانے کی ٹھانی جو سات کوس دور تھی۔ وہ اپنے بڑے سالے کی سائکل چلا کر چوکی پہنچا۔ افسر کم عمر کا تھا اور نوکری پر بحال ہوئے اسے ایک سال بھی نہیں ہوا تھا۔اسے جب پتہ چلا کہ وہ لڑکی کا شوہر ہے تو اس نے افسوس کے ساتھ اس کی طرف دیکھا اور چائے سے اس کی خاطر کی۔

    ’’اب تک کی چھان بین سے ہم کسی بھی نتیجہ پر پہنچ نہیں پائے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں وہ ایسی لڑکی نہیں تھی کہ کسی کے ساتھ بھاگ جائے۔ اور یہ اغوا کا معاملہ بھی نہیں لگتا۔ اس طرف پھروتی کے واقعات نہیں ہوتے۔ تلاش جاری ہے۔ تم دونوں کے درمیان سب کچھ ٹھیک تو تھا؟‘‘

    اس نے بتایا کہ شادی کے بعد وہ صرف اکیس دن ایک ساتھ رہے تھے اور اسے اپنی بیوی میں کچھ غلط دکھائی نہیں دیا تھا۔ خود یہ مدت اتنی قلیل تھی کہ کسی جھگڑے کی شروعات بھی نہیں ہو سکتی تھی۔ افسر نے اسے بتایا کہ آس پاس کے تھانوں اور چوکیوں کو لڑکی کی تصویر اور تفصیل بھیج دی گئی ہے۔ کوئی خبر ملی تو اس کے سسرال والوں کو دے دی جائے گی۔ اس کے لئے بہتر ہے کہ اپنے سسرال سے رابطے میں رہے۔وہ چوکی سے باہر آ رہا تھا جب پھاٹک پر کھڑے سنتری نے جس کے بائیں کندھے سے رائفل لٹک رہی تھی کھینی بناتے بناتے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا ۔ :’’باگیوں کے گاؤں ما کوئی بیاہ کرے ہے بھلا۔‘‘ اس نے اسے کھینی دیتے ہوئے کہا۔’’ کھبصورت جورو ہی سب کچھ ہؤ کا؟‘‘

    اس نے کوئی جواب نہ دیا۔

    وہ اپنا سسرال واپس لوٹا تو اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ صرف اسے اپنے بڑے سالے کا رویہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ وہ اس کاانتظار کرنے لگا۔ وہ چار دن تک ٹھہر گیا مگر وہ واپس نہیں لوٹا۔ تو اس نے اپنی ساس سے اجازت لی اور اپنا گاؤں لوٹ آیا۔ وہ اپنے گھروالوں سے نظریں ملا نہیں پا رہا تھا۔

    ’’اب تم کاکروگے؟‘‘ اس کے باپ نے پوچھا۔

    ’’میرے پاس فالحال کوئی نوکری نہیں ہے۔‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’تھوڑا دن دیکھ لیتے ہیں۔‘‘

    وہ اپنے باپ کو کام میں مدددینے لگا۔ لیکن ان لوگوں کے پاس زیادہ زمینیں نہیں تھیں۔وہ اپنے گھر کے سامنے اپنے چھوٹے سے تالاب کے کنارے سبزی اگاتے تھے۔ ان کے کھیت گاؤں سے کچھ دوری پر تھے جن کے لئے ڈیپ ٹیوب ویل سے پانی خریدنا پڑتا تھا۔یوں بھی پانی کی قلت کے سبب علاقے کے زیادہ تر کسانوں کی زمینیں سوکھی پڑی تھیں۔ جو تھوڑا بہت پانی نکلتا وہ پردھان اور اس کے حواری اپنے کھیتوں میں لے جاتے تھے۔ان لوگوں کے پاس جانور بھی کم تھے۔ اتنا کام نہ تھا کہ دو آدمی کی ضرورت پڑے۔ ایک دن اس نے اپنی بیوی کا ٹن کا بکس پلنگ کے نیچے سے کھینچ کر باہر نکالا اور اس کا قفل توڑ کر اس کے اندر رکھے شادی کے رنگین کپڑے باہر نکالنے لگا۔ بکس کے کھلتے ہی ہلدی اور سستے کافور کی مہک کمرے میں پھیل گئی تھی۔ وہ کپڑوں کو ترتیب سے بستر پر سجاتا جا رہا تھا کہ اس کی نظر اندر رکھے شادی کے تازہ البم پر پڑی۔شادی کی تصویروں پر انگلیاں پھیرتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ وہ کپڑوں کو واپس بکس کے اندرسجارہا تھا کہ ایک پوسٹ کارڈ کی جسامت کی سیاہ و سفید عکسی تصویر نیچے گر پڑی جو کسی لڑکے کی تھی ۔ لڑکا خوبصورت تھا۔ اس کی مسیں بھیگ رہی تھیں۔ اس کے چہرے پر ایک بہت ہی معصوم مسکراہٹ تھی۔ اس تصویرکو ہاتھ میں تھام کروہ دنگ رہ گیا۔ اس نے تصویرکی بات کسی کو نہیں بتائی اور اپنا سسرال روانہ ہو گیا۔ اس بار اس کے بڑے سالے نے اسے دیکھ کر کترانے کی کوشش نہیں کی۔ اسے معلوم ہوا وہ پرلے سرے کا بے وقوف تھا اور پچھلی بارمیلے میں اسے دیکھ کر ڈر گیا تھا ۔ یہی نہیں، وہ چھہ کوس دور دوسرے گاؤں میں اپنے ایک رشتے دار کے گھر رک گیا تھا تاکہ اس کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس نے جب اپنی ساس کو لڑکے کی تصویر دکھائی تو وہ زار و قطار رونے لگی۔ یہ اس کے چھوٹے بیٹے کی تصویرتھی جو آٹھ ماہ قبل ہیضہ کا شکار ہو کر مر گیا تھا۔اسے حیرت ہوئی کہ شادی کے وقت یہ بات ان لوگوں سے چھپائی گئی تھی۔

    وہ واپس گاؤں لوٹا تو پہلے سے زیادہ پریشان تھا۔ اس نے فیصلہ کیا وہ گاؤں میں نہیں رہ سکتا۔ اس نے گھر والوں کو اپنا موبائل نمبر دیا اور کہا کہ اگر اس کی بیوی کی کوئی اطلاع ملے تو وہ لوگ گاؤں کے پبلک بوتھ کے ذریعے اسے خبر کر دیں۔

    ’’آخر تم کب تک انتظار کروگے۔‘‘ اس کے باپ نے کہا۔ ’’ وہ نہ ملی تو ساری زندگی اکیلے رہوگے کا؟‘‘

    ’’کچھ مہینے تو انتظار کرنا ہی ہوگا۔‘‘ اس نے کہا۔ اس نے شہر آ کر ایک دوسری نوکری جوائن کر لی جس میں پیسہ کم تھا۔ اس کے پاس کوئی چارا بھی تو نہ تھا۔ یوں بھی وہ کسی کام میں مصروف رہنا چاہتا تھا۔

    جاڑاپھر سے لوٹ آیا تھا۔ پلیٹ فارم پر کھڑا بیر کا درخت سرخ و زرد بیروں سے لدا ہوا تھا۔ اس میں لٹکتے پنجڑے میں اب ایک بلبل زرد کھڑی تھی۔ اس کا چنا اور پانی اسٹیشن ماسٹر کا اردلی ہر روز بدل دیا کرتا۔ اگر بیر کا موسم ہو تو کبھی کبھار ایک آدھ کچا یا پکا بیر بھی پنجڑے کے اندر ڈال دیتا جس پر بلبلِ زرد اپنی چونچ سے نشان لگایا کرتی۔وہ پست قد کا ایک بھاری چہرے والا آدمی تھا جس کے بھووں پر کثرت سے بال اگے ہوئے تھے۔پہلے وہ گیٹ مین کے عہدے پر فائض تھا۔ مگر پندرہ سال پہلے خراب صحت کا بہانہ بنا کر اس نے اپنا تبادلہ اس اسٹین میں کروا لیا تھا۔

    ’’ہلدی رام، کبھی تو بولا کرو۔‘‘ وہ جب بھی پنجڑے کا دروازہ کھولتا چڑیا سے بات کرتا۔ ٹرین کی روانگی کے لئے گھنٹی بجا کر وہ اس وقت تک ٹرین کو دیکھتا رہتا جب تک وہ کھیتوں کے درمیان نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتی۔ بعد میں وہ اسٹیشن ماسٹر کے کمرے کے باہر اپنے اسٹول پر بیٹھا کھینی بنایا کرتا یا ملاقاتیوں کے لئے دروازے پر پڑی چق ہٹایا کرتا۔ پچھلے پندرہ برس سے اس کا اس اسٹیشن سے تبادلہ نہیں ہوا تھا۔ لوگوں کا کہنا تھا جب بھی اس کے تبادلے کا پروانہ آتا وہ ڈیڑھ سو میل دور ڈوژنل آفس جا کر رو گا کر، بابوؤں کوپیسہ کھلا کر اسے منسوخ کروا لیتا۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ یہ نکسلیوں کا علاقہ تھا اور کوئی بھی دوسرا آدمی اس کی جگہ آنا نہیں چاہتا تھا۔ چونکہ اس کا کوارٹر اسٹیشن کے بالکل قریب تھا جہاں وہ اپنی رکھیل کے ساتھ رہتا تھا اسے اس انتظام سے سہولت تھی۔وہ شادی شدہ تھا یا غیر شادی شدہ کسی کو اس کا علم نہ تھا۔ وہ صرف ہر ماہ تنخواہ کے دوسرے دن اسٹیشن کے باہر واقع ڈاک گھر میں جا کر کچھ پیسے اپنا گھر بھیج دیتا اور بس۔

    اس دن وہ برابر والے کمرے میں اسٹیشن ماسٹر کے لئے اسٹو وپر چائے ابال رہا تھا کہ اس نے کھڑکی سے اس آدمی کو لالٹین کی تھیلی کے ساتھ ٹرین سے برآمد ہوتے دیکھا۔ اسٹوو بند کرکے وہ اسٹیشن ماسٹر کی ہدایت کاانتظار کرنے لگا تاکہ ٹرین کی روانگی کی گھنٹی بجا سکے۔بہت دیر ہو گئی اور اسے کوئی اجازت نہ ملی تو اس نے سوچا وہ مال گاڑی جو اسٹیشن سے تھوڑی دیر قبل گذری تھی شاید سامنے کے اسٹیشن پر اٹکی پڑی ہو۔ وہ اسی حالت میں برامدے پر چھپر سے لٹکتے آہنی ریلنگ کے سامنے کھڑا تھا جس پر چوٹ لگا کر وہ مسافروں کو ٹرین کی آمد یا روانگی کی اطلاع دیا کرتاجب وہ آدمی تھیلی لٹکائے ہوئے اس کے پاس آیا۔ ہمیشہ کی طرح اس نے گردن سے دھاری دار مفلر لپیٹ رکھا تھا۔

    ’’کیسے ہو تم؟‘‘ اس نے اردلی سے کہا۔’’وہ طوطا، تم نے اس کا خیال نہیں رکھا۔‘‘

    ’’میں ایک دن اس کا دروازہ بند کرنا بھول گیا۔‘‘ اردلی نے شرمندگی کے ساتھ کہا۔

    ’’مجھے حیرت ہے تم نے اتنی آسانی سے اسے کھو دیا۔‘‘ اجنبی نے کہا۔’’ایک قید چڑیا پنجڑے سے باہر آکر بھی پنجڑے سے زیادہ دور نہیں جاتی۔‘‘

    ’’میں نے اس کی بہت تلاش کی۔‘‘ اردلی نے کہا۔’’مجھے لگتا ہے اسے صاحب کا بلا اٹھا کر لے گیا ہوگا۔ بڑا کمینہ بلا ہے ۔ وہ پلیٹ فارم پر ہمیشہ گھوما کرتا ہے اور ان دونوں بہت خوفناک ہو گیا ہے۔‘‘

    ’’یہ چڑیا صرف دیکھنے میں خوبصورت ہے۔‘‘ اجنبی نے پنجڑے کی طرف اشارا کیا جس میں بلبلِ زرد اپناسر پروں کے اندر دفن کئے کھڑی تھی۔ ’’اس میں طوطے جیسی بات نہیں۔‘‘

    ’’دو دن پہلے اس کا جوڑا اچانک مر گیا۔ تب سے وہ ہمیشہ اداس رہتی ہے۔تمہیں اپنا آدمی ملا؟‘‘ اردلی نے اس کی تھیلی کی طرف اشارا کیا ۔

    ’’مجھے میرا آدمی مل چکا ہے، صرف ابھی وہ اس کے لئے تیار نہیں ہے۔‘‘ اجنبی نے کہا۔ ’’مجھے لگتا ہے، تمہارا گھنٹی بجانے کا وقت ہو گیا ہے۔‘‘

    وہ ٹھیک کہہ رہا تھا، اسٹیشن ماسٹر نے اردلی کو بلانے کے لئے ٹیبل پر رکھی دستی گھنٹی بجائی تھی۔

    اجنبی چلتا ہوا بیر کے درخت کے پاس گیا اور پنجڑے میں بند چڑیا کی طرف غور سے دیکھنے لگا۔کھانے اور پینے کے خانوں میں رکھے المونیم کے کٹورے لبالب بھرے ہوئے تھے مگر چڑیا کو ان سے کو ئی دلچسپی نہیں تھی۔ اسے ان دنوں کی یاد آئی جب گاؤں دیہات اور اس کے آس پاس کے جنگلوں میں امن تھااور وہ ندی نالوں کو پھلانگتے ہوئے اونچی نیچی چٹانوں کے درمیان اپنے دوستوں کے ساتھ گھوما کرتا۔ انھیں ایسا لگتا جیسے یہ آسمان اور اس کے نیچے کی زمین اور کھیت زندہ رہنے کے لئے کافی تھے۔ بھوک ان دنوں بھی تھی، گاہے بگاہے قتل اور رہزنی کے واقعات بھی پیش آتے، میلوں ٹھیلوں میں ایک آدھ فساد بھی ہو جایا کرتے، مگر خوف کا یہ ماحول نہ تھا۔ اب لوگ جنگلوں سے کتراتے ہیں، اسٹیشن پر مسافروں کی بھیڑ کم ہو گئی ہے۔ زیادہ تر ہاٹ اور میلے سنسان ہو گئے ہیں۔ سورج ڈوبتے ہی لوگ اپنے گھروں کو لوٹ جانا چاہتے ہیں۔ صرف وہ مرے ہوئے آدمی کی لالٹین اٹھائے اپنے آدمی کی تلاش میں بے خوف وہ خطر آزادی سے گھوما کرتا ہے۔اسے جنگل میں گھومتے ان نہ نظر آنے والے ہتھیار بند لوگوں کا پتہ تھا جو اس پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ وہ ان کا سامنا کرنے کے لئے بے چین تھا۔ گرچہ اس کے پاس پوچھنے کے لئے کوئی سوال نہ تھامگر اسے اس بات کا احساس بھی تھا کہ وہ ایسے لو گ نہ تھے جن سے سوال پوچھے جا سکتے تھے۔ اس کی ملاقات نیم فوجی دستوں سے بھی ہو جاتی جو اسے شبہ کی نظرسے دیکھا کرتے۔ وہ ان کی چھاونی کے سامنے سے بلا خوف گذرا کرتا جہاں خاردار تاروں کے اندر ریت کے بنکر وں میں فوجی جوان کمانڈو لباس میں گھوما کرتے۔جانے کیوں اسے گھونسلوں میں بیٹھے بندوق دھاری جوانوں کے چہرے کافی افسردہ نظر آتے۔ ان تمام چیزوں سے کہیں پر کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا، وہ خود سے کہتا۔ جینا آج بھی انسان کی مجبوری ہے اور مرنا تو ایک معمولی سی بات ہے۔ صرف ہم اس لئے مر نہیں جاتے کیونکہ اس سے کہیں پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

    اس نے اردلی کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ ٹرین پلیٹ فارم چھوڑ چکی تھی مگر ابھی اس نے رفتار نہیں پکڑی تھی۔

    ’’ایک دن وہ میری تلاش میں آئے گا۔‘‘ اجنبی نے کہا۔’’تمہیں پتہ ہے تمہیں کیا کرنا ہے؟‘‘

    ’’اچھی طرح۔‘‘اردلی نے اسے کھینی دیتے ہوئے کہا۔’’میں نے اچھی چائے بنائی ہے۔ تم پینا چاہوگے؟‘‘

    ’’نہیں رہنے دو۔‘‘ اس نے تھیلی پیٹھ سے لٹکا لی۔’’تمہارے اسٹیشن ماسٹر کو یہ اچھا نہ لگے گا۔‘‘

    ’’تم غلط سمجھتے ہو۔‘‘ اردلی نے کہا۔’’اسے تمہارا آنا برا نہیں لگتا۔ تم جانتے ہو جیسا دن کال پڑا ہے۔ وہ تم سے بات کرنے کی مصیبت مول لینا نہیں چاہتا۔ مگر وہ تمہیں پسند کرتا ہے۔‘‘

    ’’یہ نئی بات بتائی ہے تم نے۔ اور تم جو میرے ساتھ بات کرتے ہو؟‘‘

    ’’میرا معاملہ الگ ہے۔‘ اردلی ہنسا۔ ’’میں ایک اردلی ہوں جو لوگوں کو نظر نہیں آتا۔‘‘

    ’’تم ان دنوں کو کیسے بھول سکتے ہو جب تم گیٹ مین تھے اور ڈاکو آئے دن تمہیں اغوا کر نے کی کوشش کرتے؟‘‘

    ’’برے دن گذر جاتے ہیں۔‘‘

    ’’تم ٹھیک کہتے ہو۔ خیر اب مجھے جانا چاہئے۔‘‘

    وہ پلیٹ فارم سے اتر کر پٹریاں پھلانگتے ہوئے ڈھال چڑھنے لگا۔ تھیلی پیٹھ پر لٹکائے وہ پتلی پگ ڈنڈی پر احتیاط سے چل رہا تھا۔ اردلی اپنی جگہ کھڑا اسے درختوں کے جھنڈ میں غائب ہوتے دیکھتا رہا جہاں سے وہ ہمیشہ نمودار ہوا کرتا۔

    جنگل اپنی ازلی خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا جس میں دونوں کے بھاری قدموں سے چلنے کی آواز خلل ڈال رہی تھی ۔ وزنی بوٹوں کے نیچے خشک پتے چرمرا رہے تھے ،سوکھی ٹہنیاں چٹخ رہی تھیں اور زمین میں پیدا ہونے والی دھمک سے جاگ کر مٹی میں ملبوس چلپاسے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔دونوں کمانڈو لباس میں تھے۔ ان کے کاندھوں سے لٹکتی رائفلوں کی بٹ پر لگے پیتل کے ٹکڑے لالٹین کی روشنی میں رہ رہ کر چمک اٹھتے۔ لالٹین کو سامنے والے نے اپنے بائیں ہاتھ سے اوپر اٹھا رکھی تھی جس کی کمزور روشنی میں راستہ کسی سانپ کی کینچلی کی طرح کھلتا جا رہا تھا۔ روشنی کے ہالے کے باہر گھپ اندھیرا تھا۔ کبھی کبھاران کی آواز سے درخت کی چھال سے چپکے کسی پرندے کی آنکھ کھل جاتی اور وہ چینخ پڑتا جیسے اس نے کوئی برا سپنا دیکھا ہو۔

    ’’جانوروں کے بغیر اب جنگل ویران ہو گئے ہیں۔‘‘ لالٹین بردارنے کہا ۔ اس نے سر پر ایک فوجی کیپ ڈال رکھی تھی ۔وہ اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے اندھیرے میں گھور رہا تھا جیسے اپنی بینائی کی مدد سے اندھیرے کی پرت کو اتارنا چاہتا ہو۔ پیچھے والے نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا ۔ دراصل یہ بات اس سے کہی بھی نہیں گئی تھی۔ دھیرے دھیرے پیڑ بلند ہوتے گئے،ان کے نیچے کی جھاڑیاں گنی ہوتی چلی گئیں۔درخت کی پھیلی ہوئی ننگی شاخوں پر کہیں کہیں کسی الو کی آنکھ چمک اٹھتی ۔ اوپر آسمان میں ستارے کافی صاف اور روشن نظر آ رہے تھے ۔گرچہ یہ گرمی کا موسم تھا مگر ہوا میں خنکی تھی جو ان جنگلوں میں عام طور پر اس وقت ہو جایا کرتی ہے۔تھوڑے فاصلے پر کچھ لوگوں کے ہیولے نظر آنے لگے۔ یہ ان کا آؤٹ پوسٹ تھا۔ وہ موبائل ٹاسک فورس کے آدمی تھے اور پہرا دے رہے تھے۔ انھوں نے ہاتھ ملا کر ایک دوسرے کو الوداع کہا۔وہ کیمپ کے قریب پہنچ گئے تھے جس کی روشنیاں تتلیوں کی مانند چمک رہی تھیں۔ دو بہت ہی نیچی چھولداریاں نصب تھیں جوجھاڑیوں اور پھول پتوں سے نائلن کے جال کی مدد سے تقریباً ڈھک دی گئی تھیں۔میز پر بیٹری سے جلنے والا ایک لیمپ رکھا تھا جس کی دھیمی روشنی میں کھانا کھایا جا رہا تھا ۔ انھیں دیکھ کر ایریا کمانڈر اپنی چھولداری سے باہر نکل آیا۔ اس کے پیچھے فوجی لباس میں ایک کمسن لڑکی برآمد ہوئی تھی۔وہ اتنی خوبصورت تھی کہ لگ رہا تھا اس کے ہالے میں آس پاس کے پیڑ پودے روشن ہو اٹھے ہوں۔ وہ میز کے سامنے رکھی کرسی کی پشت کو تھام کر کھڑی ہو گئی اور

    ایک ٹک ان تینوں کی طرف دیکھنے لگی۔ نو وارد لالٹین میز پر رکھ کراپنی جیب سے ایک کاغذ نکالنے لگا جو کئی تہوں میں لپٹا ہوا تھا۔

    ’’تم نے نقشہ ٹھیک سے تیار کیا ہے؟‘‘ایریا کمانڈرنے نقشہ میز پر پورا کھول لیا تھا اور آنکھیں سکوڑ کرروشنی میں اس کا جائزہ لے رہا تھا۔ ’’تمہیں یقین ہے جب تک ہم اپنا کام انجام دیں گے ہمارے مخبر ہمارے ساتھ ہوں گے؟ یا وہ پکڑے نہیں جائیں گے؟‘‘

    ’’وہ گاؤں کے سیدھے سادے کسان ہیں۔‘‘ لالٹین بردار نے کہا۔ اس نے پیچ گھما کر لالٹین بجھا دی کیونکہ اب اس کی روشنی اضافی نظر آ رہی تھی۔’’بہت کم بولنے والے ۔ہم ان پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ وہ اگر پکڑے گئے تو ان کے پاس کہنے کے لئے کچھ زیادہ نہیں ہے۔‘‘

    ’’ایسی ہی ایک مہم میں ہم نے دکشنا کے چھوٹے بھائی کو کھو دیا تھا، تمہیں یاد ہے؟‘‘

    ’’وہ معاملہ دوسرا تھا۔ ہمیں اتنی کم عمر کے بچے کو اس مہم میں نہیں بھیجنا چاہئے تھا۔ وہ پولس فورس کے لئے آسان نشانہ ثابت ہوا۔‘‘وہ میز سے ایک روٹی اٹھا کر اس کے ٹکڑے کرنے لگا۔’’وہ ایک اچھا لڑاکا ثابت ہوتا۔ ہم یہ دکشنا کو دیکھ کر بھی کہہ سکتے ہیں۔‘‘ اس نے لڑکی کی طرف اشارا کیا۔کمانڈر بجھی ہوئی لالٹین اٹھا کر اس کا جائزہ لے رہا تھا۔

    ’’اسے تم لوگوں نے کہاں سے حاصل کیا؟‘‘

    ’’اس کے لئے ہمیں ایک آدمی کو مارنا پڑا۔‘‘

    ’’تم نے لالٹین کے لئے ایک آدمی کو مار ڈالا؟‘‘

    ’’ہم بہت دنوں سے اس پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ وہ ہمیشہ یہ تیل سے بھری لالٹین اپنی تھیلی میں لئے گھوما کرتا۔ وہ یقیناًکوئی پولس کا مخبر تھا۔‘‘

    ’’مخبر لالٹین لے کر گھوما نہیں کرتے۔‘‘ اس نے لالٹین میز پر رکھ دی اور اٹھ کر چھولداری کی طرف جانے لگا ۔وہ چھولداری کا پردا ہٹاٹے ہٹاتے رک گیا اور کچھ سوچنے لگا۔ آخر کار اس نے لا پرواہی سے اپنے کندھے اچکائے۔’’ویسے اس لڑائی میں ان بے مطلب کے خون خرابے سے چھٹکارا ممکن بھی نہیں۔‘‘

    لڑکی ایک خالی کرسی پر بیٹھ کر دیر تک ان لوگوں کو روٹی کھاتے دیکھتی رہی۔ وہ چھولداری کے اندر آئی تو ایریا کمانڈر ایک فولڈنگ چےئر پر بیٹھا نقشے کا جائزہ لے رہا تھا جسے اس نے بستر پر پھیلادیا تھا۔اس کے ابرو عینک کے اوپر کمان کی طرح تنے ہوئے تھے۔ اس کے ہونٹوں کے بیچ ایک بیڑی سلگ رہی تھی۔

    ’’ہم کچھ دنوں کے لئے گھر جانا چاہتے ہیں۔‘‘

    ’’تمہیں ڈر نہیں لگتا؟ راستے میں بڑا دریا پڑتا ہے جہاں ملیٹری چھاؤنی ہے۔‘‘

    ’’پچھلی بار ہم ماں کو بیمار چھوڑ کر آئے تھے۔من بہت گھبرا وت ہے۔‘‘

    ’’پھر تو جانا چاہئے۔‘‘ وہ دھیرے دھیرے دھویں میں ڈوبتا جا رہا تھا۔ اس نے نقشے کو تہہ کرنا شروع کر دیا۔ وہ لڑکی کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا۔ ’’اگر تم لوٹ کر نہ آؤ تو میں سمجھ سکتا ہوں۔ مگر تمہیں پولس سے ہونشیار رہنا چاہئے، خاص طور پر جب وہ پولس کی وردی میں ہوں۔‘‘

    ’’ہم لوٹ آویں گے۔‘‘

    ’’اگر صبح صبح جانا ہے تو ابھی سو جانا چاہئے۔‘‘

    آسمان اب بھی تاریک تھا جب اسے اٹھا دیا گیا۔ اس نے اپنے سامان ایک ساڑی پر رکھ کر اس کی گٹھری بنائی، کپڑے بدلے۔ اب وہ گاؤں کی ایک ان پڑھ شادی شدہ لڑکی تھی جس نے مانگ میں سیندور سجا رکھا تھا۔ جنگل سے نکلتے نکلتے تارے ماند پڑ نے لگے ۔ کھیتوں کی طرف سے ٹھنڈی ہوا بہہ رہی تھی ۔ پرندوں کی ایک ڈارتیزی سے پروں کو گردش دیتے ہوئے اس کے سر کے اوپر سے گذری۔شاید وہ سورج نکلنے سے قبل اپنی منزل تک پہنچنا چاہتے تھے۔دریا تک پہنچتے پہنچتے آسمان بالکل صاف ہو گیاتھا۔ ملیٹری کیمپ پر بڑی چہل پہل تھی۔ کھڈ کے کنارے کچے راستے پر کینوس سے ڈھکے کئی ملیٹری کے ٹرک کھڑے تھے۔ جگہ جگہ فوجی لباس میں جوان نظر آ رہے تھے۔ یہ نیم فوجی دستہ کے لوگ تھے۔انھوں نے اس کی طرف گرسنگی سے دیکھا ۔ دو جوان اس کے پیچھے پیچھے ناؤ تک بھی آئے جو مسافروں، سائکلوں اور جانوروں سے تقریباً نصف بھر چکی تھی۔ وہ کنارے کھڑے ایک دوسرے سے فحش مذاق کر تے رہے تھے ۔ وہ ناؤ کی روانگی سے پہلے واپس لوٹ گئے۔ لڑکی سر جھکائے لالٹین کے ہیٹ نما ڈھکن کو دیکھ رہی تھی جس کے نیچے کے منحنی روشندانوں پر کالکھ کے نشان تھے ۔لالٹین کو اس نے ناؤکے پیندے پر اپنے پیروں کے بیچ کھڑی کر دی تھی۔ دوسرے کنارے اتر کر کھیتوں کے درمیان دو کوس کی مسافت طئے کرنے کے بعد اسے اپنا گاؤں نظر آیا۔ سورج آسمان پر آ چکا تھا۔ دھوپ میں کافی تپش تھی۔اسے ابھی سے پسینہ اپنے برا کے اندر بہتا محسوس ہو رہا تھا۔

    گھر پر ماں اکیلی تھی۔اسے دیکھ کر اس کا چہرا پیلا پڑ گیا۔اس کے دونوں کان کی لویں پھولی ہوئی تھیں۔ اس کا بڑا بھائی ہمیشہ کی طرح گھر پر نہیں تھا۔

    ’’ایسے کھلم کھلا کاہے آتی ہو مّیا؟‘‘ ماں کہنی بستر پر رکھ کر اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی۔’’تمہیں کچھ ہو وو گیا تو؟‘‘

    ’’لیٹی رہو ناماں۔ہم تمہرے واسطے ہی توآتے ہیں۔‘‘

    ’’ہمرا سمئے پورا ہو چکا گڑیا۔ ہم کو پتہ نہیں ہم کاہے لا جیوت ہیں۔ تم کب تک رہوگی؟‘‘

    ’’سوچت ہیں شاید اب ہم واپس نہ جئیب۔‘‘ وہ بولی۔ ’’تمرا کیا وچار ہے؟‘‘

    ’’اپنا سسرال لوٹ جابٹیا۔‘‘ اس کی ماں بولی۔’’ تمہرے گھر والے بہت دکھی ہیں۔ داماد بھی دو بار آ چکے ہیں۔ چھٹکے کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔میں نے جھوٹ کہہ دیاکہ وہ آٹھ ماہ ادھر ہیضہ سے مر گیلو ہے۔تم اپنے پتی کے سنگ شہر کاہے کو نہیں چلی جاتی؟‘‘

    ’’تمہیں لگت ہے اب ہم وہاں لوٹ کر جا سکتے ہیں؟‘‘ اس کی ماں خاموش رہی۔’’ ای ان لوگوں کے لئے ٹھیک ہوگاکا؟‘‘ عین اس وقت اس کا بھائی واپس لوٹ آیا۔ وہ شدید غصے میں تھا۔

    ’’اس کا اس طرح کھلم کھلا آنا اچھا ہے کا؟‘‘ اس نے اپنی ماں سے کہا۔’’پولس اس کے بارے میں کئی بار پوچھ چکی ہے۔ انھیں اب سندیہہ ہونے لگا ہے۔‘‘

    ’’میں یہاں رکنے کے لئے نہیں آئی ہوں۔‘‘ لڑکی بولی۔ وہ اپنے بھائی کی طرف پیار بھری نظروں سے تاک رہی تھی۔ ’’اور تم بیاہ کیوں نہیں کر لیتے ببا؟اس گھر کو ایک ناری کی ضرورت ہے۔‘‘

    اس کے بھائی نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ دیوار کی طرف چہرا کر کے بیٹھ گیا اور رونے لگا۔

    سورج افق سے تھوڑا اوپر کانسے کی طرح تمتما رہا تھا جب لڑکی اپنی گٹھری اور لالٹین کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی۔

    ’’تم جا رہی ہو مّیا؟‘‘ اس کی ماں کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

    ’’ہاں۔ ہم نہیں چاہتے ہمرے کارن تم لوگوں پر کونو مصیبت آئے۔ اور ماں۔۔۔‘‘اس نے دروازے سے چہرا موڑتے ہوئے کہا۔’’۔۔۔ ببا کا جلد بیاہ کرادو۔ ببا ، تم گھاٹ تک میرے ساتھ آ رہے ہو نا؟‘‘

    ’’بالکل بہنا۔ مجھے تمہارے ساتھ جانا اچھا لگتا ہے۔‘‘

    دریا بہت جلد شرو ع ہو جاتا تھا۔مگر گاؤں سے گھاٹ تک پہنچنے کے لئے انھیں کھیت کی پتلی منڈیروں پر جن میں جگہ جگہ کانٹے دار جھاڑیاں اگئی ہوئی تھیں احتیاط سے دو کوس چلنا پڑتا۔ آسمان میں پرندے بلا رہے تھے۔ کھیتوں میں سنّا ٹا تھا۔دور کے جنگلوں اور گھروں سے کہاسا سفید دھواں کی طرح پھیلنے لگا تھا جب ببا نے اچانک رک کر اپنی بہن کی طرف دیکھا۔

    ’’دکشنا، تمہیں یاد ہے جب ہم پہاڑی نالے میں تیر سے مچھلیوں کاشکار کرتے تھے؟‘‘

    ’’پانی کے اندر مچھلیوں کو مارنا آسان کام نہیں ببا۔ شاید ہم لوگ ان دنوں مورکھ تھے۔‘‘

    ’’مگر ہم ایک آدھ مچھلی تو پکڑ ہی لیتے تھے نا؟‘‘ وہ مسکرا رہا تھا۔ ’’ اور وہ چودھرائن کا چھپر جہاں لوکی کی بیلوں میں گلہری اور بلیاں گھوما کرتیں، کتنی آسانی سے تم پتوں کے اندر چھپ جاتیں ۔ ایک دن تو ہم لوگ تمہیں بھول ہی گئے تھے۔‘‘

    ’’تم کبھی بڑے نہیں ہوگے ببا۔‘‘ لڑکی نے پیار سے اپنے بھائی کی طرف دیکھا۔اس کی آنکھوں کے کونے گیلے ہو رہے تھے۔’’تم مجھے بہت یاد آؤگے۔‘‘

    ’’تمہارے ہاتھ میں یہ لالٹین کیسی ہے دکشنا؟ میں نے کبھی تمہیں کسی لالٹین کے ساتھ نہیں دیکھا۔‘‘

    ’’جنگل تک پہنچتے پہنچتے اندھیرا ہو جاتا ہے۔‘‘ اس نے کہا۔’’اور تم اس کی طرف مت دیکھو۔ یہ ایک مرے ہوئے آدمی کی لالٹین ہے۔‘‘

    وہ فیری گھاٹ پر پہنچ گئے تھے جہاں ابھی ابھی ایک ناؤ آ کر لگی تھی اور اس سے مسافر ، سائکلیں اور جانور باہر آ رہے تھے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY