میں نے لاکھوں کے بول سہے

قرۃ العین حیدر

میں نے لاکھوں کے بول سہے

قرۃ العین حیدر

MORE BYقرۃ العین حیدر

    خالدہ توفیق درختوں کے جھرمٹ میں نمودار ہو کر سیدھی میری جانب چلی آرہی تھی۔ اس کے بال شانوں پر بکھرے پڑے تھے۔ جن میں اس نے زرد رنگ کے دو جنگلی پھول اڑس رکھے تھے۔ دور سے وہ شانتی نکیتن کی کوئی بنگالی طالب علم معلوم ہو رہی تھی جو آمی کوشی موشی قسم کی باتیں کرتی ہو، لیکن جب وہ قریب پہنچی تو پتہ چلا کہ وہ خالدہ توفیق تھی۔ اور کوشی موشی ہو لو کرنے کے بجائے بہت ہی بڑھیا قسم کی ولایتی زبان بولتی تھی اور جلدی جلدی اس طرح گویا اگلے لمحے اسے ٹرین یا ہوائی جہاز پکڑنے کے لیے بھاگنا ہے۔ مجھ سے اپنا تعارف کرا رہی تھی، ’’میں خالدہ توفیق ہوں۔ میں تمہیں جانتی ہوں تمہیں بھی مجھے جاننا چاہئے۔ علاوہ اور سب باتوں کے آج کل قدیم اردو ادب پر ریسرچ کر رہی ہوں۔‘‘

    ’’بیٹھ جاؤ خالدہ توفیق۔‘‘ میں نے اس سے گرم جوشی کے ساتھ کہااور مجھے اپنے قدیم اردو ادب کے متعلق بتاؤ۔ اور مجھے تمہارے بالوں کے یہ زرد خورد پھول بے حد پسند آئے ہیں۔‘‘ وہ بالوں کو پیچھے سمیٹ کر ایک پتھر پر بیٹھ گئی۔ اور میں نے غوطہ لگانے کے تختے پر الٹے لیٹے لیٹے پہلی نظر میں جیسا کہ لڑکیوں کا قاعدہ ہوتا ہے اس کا مکمل اور مفصل جائزہ لے لیا کہ کس طرح کے کپڑے پہنے ہے۔ ساڑھی کیسی ہے۔ بال کس وضع کے بنائے ہیں۔ اس اثناء میں یقینا اس نے بھی میرا جائزہ لیا ہوگا۔ لیکن اس وقت میں سوچ رہی تھی کہ کالج اگر اس قدر جلد نہ کھلتا تو کیا برائی تھی۔ اور اگر سرے سے کھلتا ہی نہیں جب تو اوربھی کوئی حرج نہ تھا۔ لیکن واقعہ یہ تھا کہ نئی ٹرم شروع ہونے والی تھی۔ اور مجھے جلد ہی اپنی ہرے جنگلوں اور رو پہلی جھیلوں والی اس خوب صورت اور پرسکون وادی کو چھوڑ کر شہر واپس بھاگنے کی تیاری کرنی تھی۔ ہوا کے جھونکے سے لیچیوں اور دیوداروں کے اس جھرمٹ کے پتے آہستہ آہستہ ہل رہے تھے جس کے وسط میں وہ شفاف نیلے پانی اور رنگ برنگے سنگریزوں والا تالاب تھا۔ جس کے غوطہ لگانے کے تختے پر میں الٹی لیٹی تھی اور پیر اوپرآسمان کی طرف اٹھا رکھے تھے۔

    خالدہ توفیق بے حد ترکی قسم کا اور اسمارٹ سا نام تھا۔ مجھ پر تھوڑا سا رعب پڑ گیا اور میں نے تختے کے سرے پر اکڑوں بیٹھتے ہوئے کہا ،’’میری پیاری خالدہ توفیق آؤ میرے ساتھ ایک غوطہ لگاؤ۔‘‘ لیکن اس نے میری بات کاٹ دی اور بالوں کی لٹیں ہٹا کر بولی، ’’نہیں مجھے تمہارا یہ تالاب پسند نہیں آیا۔ میں اس میں تمہارے ساتھ غوطہ نہیں لگاؤں گی۔‘‘ یہ سن کر میرا دل ٹوٹ گیا۔ خالدہ توفیق کو یہ میرا پیارا شفاف نیلے پانی اور رنگ برنگے سنگریزوں والا تالاب پسند نہیں آیا۔ میں دل ہی دل میں ایک گہری ٹھنڈی آہ بھر کے پھر غوطہ لگانے والے تختے پر لیٹ گئی اور پیر اوپر آسمان کی طرف اٹھا دیے۔

    ’’مجھے معلوم ہے ‘‘خالدہ توفیق نے تھوڑی دیر پانی کی سطح کو غور سے دیکھتے ہوئے آہستہ سے کہا۔میں نے مری ہوئی آواز میں پوچھا، ’’کیا؟‘‘

    ’’مجھے وادی کے اس حصے کا راستہ معلوم ہے جہاں ان نیلی پہاڑیوں کے پرے وہ بے حد خوب صورت جھیل ہے جس کے کناروں پر پوست کے سرخ پھول کھلتے ہیں اور گھاس میں ہرے رنگ کے نہایت شکیل ٹڈے کودتے رہتے ہیں۔‘‘ اس نے آہستہ آہستہ جواب دیا۔

    میں نے خوش ہو کر پوچھا، ’’اور اس میں کنول کے پھول ہیں؟ اور سارس اور بطخیں؟ اور کنارے پر کوئی پرانا درخت بھی کھڑا ہے۔ جس کے سائے میں ہم اپنی ناؤ باندھ سکیں؟‘‘

    ’’ہاں اس کے کنارے پر ایک پرانا درخت کھڑا ہے جس کے سائے میں ہم اپنی ناؤ باندھ سکیں۔ اس نے اسی انداز سے یکساں آواز میں میری بات دہرائی اور پھر گھٹنوں میں سردے کرا فیمچیوں کی طرح بیٹھ گئی۔میں خوش ہوئی اور تختے پر سے کود کے اس کے پاس آگئی اور اس جھیل کے تصورمیں مصروف ہوگئی۔ مجھے محسوس ہوتا ہے میں کسی پچھلے جنم میں ایک چھوٹی سی چمکیلے رنگ کی انتہائی خوب صورت مینڈکی تھی اور اپنے گاؤں کی تلیا میں رہا کرتی تھی۔ اور برکھا کی کالی راتوںمیں خوب زور زور سے گایا کرتی تھی۔ اور ہمیشہ زکام بلکہ انفلوئنزا میں مبتلا رہتی تھی۔

    ’’تم می می کو جانتی ہو؟‘‘ خالدہ توفیق نے دفعتاً گھٹنوں میں سے سر اٹھا کر پوستیوں کی طرح پوچھا۔ میں نے سر ہلا کر جواب دیا، ’’نہیں میں می می کو نہیں جانتی۔‘‘

    ’’آؤ میں تمہیں می می سے ملواؤں۔ مجھے وہ راستہ بھی معلوم ہے جو اس کے گھر کی طرف جاتا ہے۔ علاوہ اور سب باتوں کے۔‘‘ اس نے پتھر پر سے اٹھتے ہوئے کہا۔ ہم تالاب کے کنارے پرسے چھلانگ لگا کر پگڈنڈی پر آگیے۔ میں نے اپنے بئے کے جھونجھ ایسے بالوں کو کئی بار خوب زور زور سے جھٹک کر پانی کے چھینٹے چاروں طرف بکھیرے اور سر پر تولیے کا حیدر آبادی صافے ایساگنبد بنا کر جنگل کے خاموش راستے پر خالدہ توفیق کے ساتھ چل دی۔

    ہمارے چاروں طرف گلہریاں تھیں۔ جنگلی طوطے، خرگوش اور جھرمٹ کے سارے پرند لیچیوں کی ٹہنیوں پر اکٹھے ہو کر شور مچا رہے تھے۔ وادی کے نشیب میں گذر کر پہاڑی کے صنوبروں میں گھرے ہوئے ایک چھوٹے سے پرانے سرخ رنگ کی چھت والے گھر کے سامنے پہنچے۔ ایسا گھر جو ہمیں اکثر کرسمس کارڈوں پر سفید برف سے ڈھکا ہوا نظر آتا ہے اور ایسا ہی کوئی پرانا، سرخ چھت اور شیشے کے برآمدوں اور سبز لکڑی کی جالیوں والا درختوں کے جھنڈ میں چھپا ہوا گھر اچانک نظر آکر جانے کیوں یک لخت بڑا اچھا معلوم ہوتا ہے۔ ایسا لگتاہے جیسے ہمیں ساری عمر صرف اسی جگہ پہنچنے کا انتظاررہا ہے۔ اور بالآخر اب کہ ہم یہاں پہنچ گیےہیں۔ بڑی اچھی اچھی باتیں ہوں گی اور عمدہ عمدہ چیزیں ملیں گی۔ چکولیٹ کیک،پریاں، خوب تیز گرم کشمیری چائے، اچھے دوست ،پرانے گیتوں کے ریکارڈ۔

    ہم آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر گیے ۔ وہاں پر ہر طرف نیم شکستہ جاپانی گل دانوں میں زرد پھول سو رہے تھے۔ اور پرانے، چینی ریشم کے بد رنگ اور گھسے ہوئے پردے تھے۔ اور ڈھیروں قدیم و ضع کا آبنوس اور شیشم کا فرینچر۔ تاریک گیلری میں سے گذر کے خالدہ توفیق مجھے جلدی جلدی ایک چوبی فرش والے کمرے میں لے گئی۔ جو پہلی نظر میں دکھائی دیا کہ بیک وقت خواب گاہ اور سٹنگ روم اور اسٹوڈیو اور کھانے کے کمرے اور اسٹڈی کا کام دیتا ہے۔ وہاں خلیجی دریچے کے نزدیک ایک گلابی رنگ کے شکستہ صوفے پر جس میں سے نواڑ اور مونج اور اسپرنگ کے تار باہر نکل آئے تھے۔ می می ٹانگیں اوپر رکھے بیٹھی بے حد محویت سے ایک البم میں تصویریں چپکا رہی تھی۔ ہمیں دیکھ کر اس نے البم ایک طرف رکھ دیا۔

    ’’اس سے ملو۔ اسے میں نے ابھی آدھ گھنٹہ قبل تالاب کے کنارے دوست بنایا ہے جہاں یہ خرگوش اور گلہریوں میں گھری، ایک مینڈکی کی طرح غوطہ لگانے کے تختے پر بیٹھی تھی اورفلسفہ حیات پر غور کر رہی تھی‘‘ خالدہ توفیق نے اس سے کہا۔

    ’’ہوں۔۔۔‘‘ اس نے بھی کاہلی سے کہا اور صوفے کے سرے پر بیٹھ گئی اور بالکل فرش سے جالگی۔ میری ناک میں کہیں سے گرم چوکولیٹ کی خوشبوگھسی۔ اور میں نے چاروں طرف بے حد دل چسپی سے دیکھا۔ مجھے ایسا بھی یاد پڑتا ہے کہ میں اپنے کسی اور جنم میں، مینڈکی کی جون سے پہلے ایک نہایت لالچی قسم کی ایرانی یا انکورہ بلی رہی ہوں گی۔ میں نے سونگھا کہ قریب ہی کہیں کسی کمرے میں چوکولیٹ تیار کی جا رہی ہے۔

    ’’یہ دیکھو بھئی۔۔۔ یہ سرور کی نئی تصویر ہے جو اس نے مجھے دی ہے جب میں پچھلی بار۔۔۔ تزئین کے ہاں دعوت میں گئی تھی۔‘‘ اس نے خالدہ توفیق سے کہا۔ میں نے دل چسپی کے ساتھ اپنی جگہ سے اچک کر البم کو جھانک کر دیکھا۔

    ’’بھئی یہ میرا ایک کزن ہے۔ اس کی چھوٹی بہن تزئین کو