Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پریمی

آغا گل

پریمی

آغا گل

MORE BYآغا گل

    بہت دنوں سے جمال مکان بنانے کا سوچ رہا تھا۔ کیونکہ مشترکہ خاندان کا نظام ٹوٹا جا رہا تھا۔ کچھوے کی طرح سبھی اپنے اپنے خول میں بند ہوئے جاتے تھے۔ گنگا جمنی نظام ڈوبا تو امیر غریب الگ الگ ہو کر بٹتے ہی چلے گئے۔ خالہ ماسی والا محلہ کلچر ٹانگے کی طرح غائب ہو گیا، شائد وہ کچھ اور تساہل کرتا کہ اسکے استاد کو اچانک ہی ریٹائر کر کے سرکاری بنگلہ خالی کرنے کا حکم دیا۔سید خلیل انگریزی ادب کے پروفیسر اور اردو افسانہ کے بے تاج بادشاہ تھے۔ وہ دوڑتا ہوں استاد کے ہاں پہنچا۔ سرکاری اسٹاف غائب تھا۔ پروفیسر نے خود ہی گیٹ کھولا۔ فیملی کراچی جا چکی تھی۔ وہ کچھ دیر ویران بنگلے میں گفتگو کرتے رہے، پھر جمال انہیں ساتھ لے کر نکلا کہ کچھ گھمائے پھرائے، باتوں میں لگائے، کہیں کافی پلائے۔ محکمے نے اسے سوزوکی ڈبہ دے رکھا تھا۔ دل شاعر کی مانند نازک جیسے گتے سے بنا ہو، مگر دو سے چار پہیوں پر آنے کے لیئے اس نے جو محنت کی تھی، اس کے پیش نظر یہ ڈبہ بھی غنیمت تھا۔ گاڑیوں کا خواجہ سراء تھا رکشہ اور گاڑی کا ستوانسا، ​پروفیسر نے بتایا کہ لیکچرز ایسوسی ایشن نے تقریب میں صدارت کے لیئے مدعو کیا تھا، پرنسپل سر یا ب ڈگری کالج تھے۔ یوں بھی سینئر موسٹ تھے۔ پہلے تو ڈائریکٹر نہ لگنے دیا۔ پھر سوچا کہ راستہ صاف کر دیا جائے۔ پوری سازش کے تحت تقریب ترتیب دی گئی۔ لیکچراروں نے تنقید کی کہ سرکار ان کا خیال نہیں رکھتی۔ صرف بھٹو نے پانچ سالانہ ترقیاتیاں ایک ساتھ دے کر ان کی اشک شوئی اور حوصلہ افزائی کی تھی۔ انہی خیالات کا اظہار پروفیسر نے صدارتی تقریر میں کیا۔ سازش کے تحت ساری تقریریں گورنر جنرل رحیم الدین کے حضور پیش کرتے ہوئے استدعا کی کہ ان کی سرکوبی کی جائے ورنہ دیگر محکمے بھی واویلا مچائیں گے۔ ساتھ ہی شوکاز لگانے کی درخواست تھی۔ رحیم الدین فوجی تھا اس نے سوچا کہ جب اجازت طلب کر رہے ہیں۔ بہتر سویلین قانون جانتے ہیں تو کیا قباحت ہے۔مقررین کو شوکاز لگ گئے۔ پلان کے مطابق سبھی نے معافی نامے داخل کرکے جان بچائی جبکہ پروفیسر ایس خلیل کا موقف تھا کہ جو کچھ کہا سچ کہا۔ کسی معذرت یا معافی تلافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیا وہ اپنے موقف سے محض اس لیئے پسپائی اختیار کریں کہ نوکری کا سوال ہے؟انہیں فوری طور پر ریٹائر کرتے ہوئے بنگلہ بھی ڈی سی کو ئٹہ کو الاٹ کر دیا۔تاکہ طاقتور پوزیشن کے باعث بنگلہ بھی خالی ہو جائے۔ جمال کو بہت تاسف ہوا، بہت دیر تعلیمی زوال پہ گفتگو ہوتی رہی۔واپسی پہ پروفیسر نے گاڑی رکوا کر تندور سے روٹی خرید ی تو جمال شرم سے پانی پانی ہو گیا۔ انگریزی ادب کا پروفیسر، ڈگری کالج کا پرنسپل اخبار میں روٹی لیئے آیا۔ اسے علم ہوتا تو خود ہی پیک کر ا کے روٹی لے آتا۔ پروفیسر نے گیٹ سے ہی رخصت کر دیا۔​مضبوط انسان کو کسی لفظی ہمدردی کی ضرورت نہیں تھی۔ البتہ ایک نصیحت ضرور کی”میرا مشورہ ہے کہ جیسے تیسے اپنا مکان بنا لو۔ ساری زندگی سرکاری بنگلوں میں رہا، زمین بھی سستی تھی، میٹریل بھی۔ مگر مجھے خیال نہ آیا۔ اب میرا ذاتی مکان بھی نہیں۔ تم میرے شاگرد ہو میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ فوری طور پرمکان بنالو، چاہے قرضہ لے کر۔“ جمال نے اس ویران سنسان بیابان بنگلے میں استاد کو چھوڑا تو دل بجھ سا گیا۔کیسی دنیا ہے کیسا معاشرہ جو کل تک واری صدقے ہوا جاتا آج پہچانے سے انکاری تھا۔

    اگلے ہی روز اس نے ایک پرانے افسر سے رائے لی۔ جس نے پروفیسر کی رائے سے اتفاق کیا”آجکل افسری کرائے کا منجی بستر ہے۔ ہر افسر کی اپنی کار،بیوی اور مکان ہونا چاہیے۔ تھڑا چھاپ لغڑی وزیر مشیر بن کر آتے ہیں نوکری بھی قلی گیری بن گئی ہے۔ یہ لغڑی افسروں کو ذاتی ملازم سمجھتے ہیں۔ پہلے افسرتاج برطانیہ کے باوقار ملازم ہوا کرتے تھے۔“

    جمال کے والد نے بخوشی ایک پلاٹ اس کے نام منتقل کردیا۔ باراں دیدہ، افسر گزیدہ افسر تھے جانتے تھے کہ شادی کے بعد بھائی تربور بنتے برادر یوسف بن جاتے ہیں۔اور ان کی بیویاں بھی باہم سینگ اڑانے لگتی ہیں۔ ان کی بیویاں اپنے اپنے گھروں میں ہی خوش رہتی ہیں۔ بیوی اور بلی گھر کی فادار ہوا کرتی ہے۔

    دوستوں کو علم ہوا تو ہر ایک اپنے قابل رشک تجربے کے ساتھ ٹپک پڑا دوستوں نے قابلِ قدر مشورہ دیا کہ آفسر ہی کیا جو ٹھیکیدار سے مکان بنوائے مزدور مستری عام مل جاتے ہیں۔ سرکاری ٹھیکیداروں سے سستا سریا سیمنٹ اور خشت دلوا دیں گے۔ وہ پل وغیرہ سے جو سریا بچاتے ہیں مارکیٹ میں کم قیمت پر بیچ کر دوہرا فائیدہ اٹھاتے ہیں۔ ان سے رابطہ ہوا اور ٹھیکیداری موبائیل پر چلنے لگے۔ دفتر سے گھر جا کر کھانا کھاتا لباس بدل کر شلوار قمیض جاگر پہن وہ زیر تعمیر مکان پہ چلا آتا۔ بلا تکلف ریت پر بیٹھ کر مزدوروں، مستریوں سے بات چیت حساب کتاب کرتا۔ یہ الگ بات ہے کہ شخصیت کے باعث وہ مالک ہی دکھائی دیتا دیواریں آٹھ فٹ تک پہنچ چکی تھیں۔ چھت کے لیے سریا خریدنا تھا۔ مگر بجٹ آؤٹ ہو چکا تھا، ادھار تو خاصہ لے چکا تھا۔ اب کس کا در تاکے وہ سوچا کرتا۔ ایک روز وہ ریت پہ بیٹھا حساب کتاب جوڑ رہا تھا۔ دیہاڑی دار مزدور اور راج جا چکے تھے۔ اچانک ہی ایک عورت اندر داخل ہوئی چونکہ چوکاٹھ دروازے لگانے کی نوبت نہیں آئی تھی۔ دل عاشق کی طرح آنے جانے کی راہیں کھلی تھیں۔ ایک خاتون دندناتی ہوئی داخل ہوئی۔

    ”اے مسٹر! میں یہ گھر دیکھنا چاہتی ہوں۔“

    وہ احتراماً اٹھ کھڑا ہوا، ”ضرور! آئیے“

    کوئی ساٹھ برس کی رہی ہوگی۔ سمے اس کی سکن نچوڑ کر نگل گیا تھا Cutaneous Love سے کب کی نکل چکی تھی، جیسے خشک سالی کا مارا ہوا سیب، اندر ہی اندر سمٹتا ہوا۔ حسن کے کسی چیدغ کا خشک ریتیلا پتھر عمر کے ساتھ بھاگتی ہانپ سی گئی، ڈھیلی کمانیوں والی تھی۔ کمانیوں کو تڑ لگائی جاتی تو کچھ برس اور چل جاتی۔ اس نے گھوم پھر کر زیرِ تعمیر مکان کا جائزہ لیا۔ وہ گھومتی پھری کیونکہ باہر سڑک کی جانب راستے کھلے تھے۔ چیخ و پکار اور بھاگ نکلنے کے راستے کھلے تھے۔ جس کے باعث وہ پر اعتماد تھی۔ جمال مودب سا ساتھ چل رہا تھا۔

    ”آپ یہ مکان بنا رہے ہیں؟“

    جمال نے ادب سے جواب دیا، ”میڈم میں ہی ٹھیکیدار ہوں۔ دیکھا کتنا اعلیٰ کام ہے۔“

    میڈم نے کسی راج کی طرح چنائی دیکھی، ”میں بھی اپنا مکان بنوانا چاہتی ہوں۔ آپ بنا دیں گے؟“

    جمال نے فوری حامی بھر لی، ”یہی تو میرا کام ہے۔“

    میڈم نے تعارف کرایا، ”میرا نام جمیلہ سلطانہ ہے۔ میں نرسنگ ہاسٹل کی انچارج ہوں۔“

    جمال تو فلاش میں بھی شارپنگ اور فلوک مارنے کا عادی تھا۔

    ”ماشاء اللہ! کیا حسب حال نام ہے شخصیت کے مطابق۔ واقعی آپ جمیلہ بھی ہیں اور سلطانہ بھی۔ آپ کا گھر بناتے ہوئے مجھے خوشی ہوگی۔“

    بہت دنوں بعد جمیلہ کا منہ میٹھا ہوا تھا۔ شائد صدیوں بعد اس نے یہ فقرہ سنا تھا۔ اب تو نوجوان بھی چوڑی گلی میں پچھواڑے ہاتھ لگانے چھونے کی کوشش نہ کرتے۔ ”پڑھے لکھے لگتے ہو“ جمیلہ نے شاہانہ انداز میں لاپرواہی سے سوال کیا۔ وہ آنکھیں ملائے بغیر ہی گفتگو کر رہی تھی۔جمال نے آہ بھری ”انگریزی ادب اور سیاسیات میں ماسٹرز ڈگری کے باوجود نوکری نہیں ملی تو ٹھیکیداری شروع کر دی، کیا کروں! زندہ بھی تو رہنا ہے۔ اپنے دفتر میں لگوا لیں۔“

    جمیلہ مسکرائی، ”کیوں مڈ وائف بننے کا شوق ہے۔“

    جمیلہ نے مربیانہ انداز میں دعوت دی، ”کل بارہ بجے میرے دفتر آنا۔ گیٹ پر بتا دوں گی۔“

    جمال نے کچی گولیاں نہیں کھیلی تھیں، اس نے مارکیٹ بڑھائی ”دو روز بعد آ سکوں گا۔ اس کے علاوہ بھی کام چل رہے ہیں۔“

    جمیلہ جھولتے بیرنگوں کے ساتھ رخصت ہوئی۔ تو جمال دوبارہ حساب جوڑنے لگا۔ جمیلہ اسے رند علی کی بیری لگی تھی جسے جھاڑنے سے شائد کچھ مل ہی جاتا۔

    دو روز بعد وہ نرسنگ ہاسٹل پہنچا۔ جس کے بورڈ سے مردوں کا داخلہ منع ہے مٹا دیا گیا تھا۔ کوئٹہ وال رات میں دیوار پہ چڑھ کر کبھی پیش لگا کر مُردوں کا داخلہ منع ہے بنا دیتے۔ کبھی اسی رنگ سے نا لکھ جاتے صبح بورڈ پہ لکھا ہوتا،نا مردوں کا داخلہ منع ہے۔ تنگ آ کرخواتین نے مردوں کے خلاف تعصب ختم کر دیا۔وہ بورڈ ہی ہٹا دیا۔ ​گیٹ پہ ایک ختم الدین چوکیدار آیا جیسے 1935 نے زلزلے سے سالم نکالا ہو اس کے بال تو کیا ابروبھی سفید تھے۔ اس قدر تھکا ہوا تھا کہ خود اسکی چوکیداری ضروری تھی، چل چلاؤ کے دن تھے۔اس نے مسکرا کر چوکیدار کو سلام کیا۔

    ”حضور کا نام کیا ہے؟“

    چوکیدار نےدھانہ کھول دیا جیسے مسکرا رہا ہو مگر چہرہ پتھریلا ہی رہا۔

    ”حضور کا نام ہے حضرت۔۔۔“ جمال نے روکا

    ”میرا مطلب ہے آپ کا نام نامی اسم گرامی“ وہ حالات کے تحت بے تکلف ہونے کے لیئے درباری زبان بولنے لگتا۔ چوکیدار نے دوبارہ منہ کھولا کیونکہ مسکراہٹ پھر بھی نہ اتر پائی تھی ”فضل دین“

    جمال نے ہاتھ ملاتے ہتھیلی میں پیوست نوٹ فضل دین کی ہتھیلی سے چپکا دیا۔ جمال تو شارپر تھا۔ کارڈ بھی مداری کی طرح ادھر ادھر کرنا جانتا تھا۔ نوٹ کی طاقت سے اچانک ہی فضل دین کا چہرہ کھل اٹھا بڑھاپہ سمٹ گیا۔ نوٹ کا کرنٹ سخت ہوتا ہے۔ جس کے جھٹکے سے چوکیدار جاگ اٹھا۔

    ”فضل دین! بزرگو میڈم جمیلہ کو جا کر بتاؤ کہ ٹھیکیدار آیا ہے۔“

    فضل دین کو حیرت ہوئی ”میرا خیال تھا کہ کسی نرس کو بلوانا ہے۔ میڈم نے دو روز پہلے ہی بتایا۔ آج بھی کئی بار دریافت کیا تھا۔ چلیئے۔“

    فضل دین گیٹ سے گزارتے ہوئے راہداری سے گزرتا ویٹنگ روم میں لے آیا۔ تھانوں ریلوے اسٹیشنوں بوڑھی عورتوں کی طرح ساری سرکاری عمارتیں ایک سی ہوا کرتی ہیں۔ جنہیں لیپاپوتی سے کچھ خوش وضع بنانے کی ناکام کوششیں کی جاتی ہے۔

    فضل دین اسے بٹھا کر راہداری میں آگے بڑھ گیا۔ کچھ دیر بعد جمیلہ چلی آئی عقب میں فضل دین تھا۔ جو سلام کر کے کھسک گیا وہ تعلقات کی نوعیت سمجھ نہیں پایا تھا کہ مائی صاحبہ سے کیوں ملنے آیا ہے۔

    جمیلہ کے لیئے جمال احتراماً اٹھ کھڑا ہوا۔ حال احوال کے بعد اس نے ڈرامے میں رنگ بھرنے کے لیئے پلاٹ کے سائز اور مکان کے نقشے کی بات چھیڑ ی۔ مگر پلاٹ کے بجائے وہ جمال سے ادھر ادھر کی باتیں کرتی رہی۔ اتنے میں چائے آگئی۔ جمیلہ نے اسکا چہرہ غور سے دیکھا۔

    ”پہلے سپ پر ہی تم نے برا سا منہ بنایا ہے، شاید تمہیں چائے پسند نہیں آئی۔“

    جمال نے کپ میز پہ رکھ دیا ”آپ کی خاطر زہر مار کر لوں گا لوگ تو احترام میں زہر بھی پی لیتے ہیں۔“ اس نے محبت کے بجائے احترام کا لفظ استعمال کیا تھا کہ کہیں کلو پطرہ اتنی بے تکلفی پہ برہم ہی نہ ہو جائے، خلاف توقع جمیلہ کھل اٹھی، ”میرا پورشن آرام دہ ہے چلو اپنے ہاتھوں سے چائے بنا کر دوں گی۔ یہ کینٹین کی چائے تو ایسی ہی ہوتی ہے۔ جمال آپ کی بجائے مجھے تم بولا کرو۔“

    جمال بھی اٹھ بیٹھا ”آپ، آپ بول کر میرا منہ بھی تھک گیا تھا۔ محبت، اپنائیت میں تم بولا جاتا ہے۔ اگر تم مزید کرم فرمائی کرو تو کافی بنا دو۔“

    جمیلہ کے پاس دو کمرے تھے ساتھ ہی Kitchenette تھا۔کمروں کا ماحول گھروں سا تھا۔ شائد وہ بہت دنوں سے مقیم تھی۔ جمیلہ نے کافی کے لیئے ملازم دوڑایا۔ پھر دونوں نے مل کر کافی بنائی۔ جمیلہ کو کافی بنانے کا تجربہ نہ تھا۔ کافی کا مگ پکڑ کر صوفے پر بیٹھنے کی بجائے جمال پلنگ پہ آ بیٹھا اور بے تکلفی سے سرہانے سے سر لگا کر بیٹھ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ جمیلہ اسکی ہر ادا برداشت کرے گی جمیلہ نے خفگی سے دیکھا، ”یہ کیا بدتمیزی ہے۔“

    جمال نے سنی ان سنی کر دی ”ٹھیکیداری بہت مشکل کام ہے تھک جاتا ہوں۔“

    جمال اسے مارخور سمجھا تھا۔ مگر وہ چکور نکلی۔ شکاری چکور کی آواز پہ پوزیشن بدل بدل کر تعاقب کرتے ہیں۔ تاوقتکہ وہ رینج میں آ جائے اگر چکور نہ چہچائے تو رنگ کے باعث ماحول میں یوں مدغم رہتا ہے کہ دکھائی بھی نہ دیتا اور جب اُڑان بھرتا ہے تو پروں سے بجنے والی سیٹی سی اس کی پوزیشن بتاتی ہے۔ چکور کا چہچنا عورت کابولنا اسے ایک لگتا۔ چکور کی طرح عورت بھی بولنے سے پہچانی جاتی ہے۔ رینج میں آنے نہ آنے کا بھی پتہ چل جاتا ہے۔ وہ جمیلہ کو بولنے پر اُکساتا رہا تھا۔ جمیلہ کو بہت دنوں بعد اپنا ہم زبان ملا تھا۔ تعلیم یافتہ جس پہ بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ ٹھیکیدار ہونے کے باوجود خوش گفتار تھا۔ اس کی باتوں میں دلچسپی لے رہا تھا۔ اکڑے اکڑے بے جان چہروں میں وہ ایک اچھا انسان لگ رہا۔ اتنی بے تکلفی سے بیڈ کے سرہانے سے ٹیک لگانے کے باوجود اس نے شکاری نظروں سے نہ تاکا آنکھوں میں Scanner بھی نہیں تھا۔ نہ ہی اس کی نگاہیں کسی ایک راؤنڈ اباؤٹ پہ رکی تھیں۔ جمیلہ تنہائی کے گرداب سے نکل آئی جو کسی جاتو کی طرح بال پھیلائے دانت نکوسے دیکھتی رہتی بس دیکھتے ہی چلی جائے۔ دوپہر میں جب چھٹی ہوتی وہ دفتر سے نکل کر اپنے کمروں کی جانب بڑھتی تو اسے خوف سا آنے لگتا پھر وہی طویل دن، صدیوں پہ پھیلی راتیں، کروٹیں بدلتے بھی نہ گزرتیں۔ جمیلہ کو جمال کے آنے سے طاقت سی ملی تھی۔مگر وہ خود کو کمزور بھی ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی کہ روند کر نکل جائے۔ وہ لدگشت کی طرح پر اسرار بنی رہنا چاہتی تھی محض بھرم قائم رکھنے کے لیے، ورنہ اس کا ہاتھ پکڑ کر التجا کرتی۔ رک جاؤ، مت جاؤ۔ جمیلہ نے من کی کے جی۔کی بچی کا گلہ دبا دیا۔ لیکن دوپہر کے کھانے کے لیئے ضد بھی کی۔ جمال بھی یوں بے تکلف ہو گیا تھا۔ جیسے بچپن سے اس کے ساتھ کیکلی کھیلتا رہا ہو۔​وقت اچانک ہی سست پڑ گیا تھا۔ جیسے بائیس وہیلر ٹرالر ریں ریں کرتا کوژ ک کی گولائیاں عبور کر رہا ہو۔ جمال نے قہقہہ لگاتے ہوئے بے تکلفی سے رائے دی۔

    ”تم کوئٹہ کی پہاڑی سلیپنگ بیوٹی ہو۔ میں تمہیں دوبارہ جگاؤں گا۔ مگر حالانکہ میں شہزادہ نہیں ٹھیکیدار ہوں۔“

    اسے جمیلہ سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ عورتوں سے رومانوی فقرے ایسے ہی بولتا جیسے وہ بچپن میں پہاڑے یاد کیا کرتا۔ جیسے طوطے کو دیکھ کر یوں ہی میاں مٹھو کہنے کو جی چاہتا، جمیلہ پرستان کی انچارج تھی!

    جمیلہ نے اسے کلائی کی گھڑی یوں تحفہ دی کہ اپنے ہاتھوں سے پہنا بھی دی۔ گھڑی نئی نہیں تھی۔ مگر جمال نے ظاہر نہ ہونے دیا۔ نہ ہی اس نے کوئی سوال کیا۔ اس ایک ہی ملاقات میں ان کی دوستی ہوگئی۔ آنے والے دنوں میں وہ اپنی مارکیٹ بڑھانے کیلئے مصروفیت کےبہانے بناتا رہا۔ جیسے سکھر کا پل بنا رہا ہوں۔ شٹرنگ لگانا، چنائی، دروازے اور جانے کیا کیا۔ کیونکہ دفتر کے بعد وہ گھر آتا کھانا کھاتا لباس بدلتا اور زیرِ تعمیر مکان پر جا کر کام مکمل کراتا۔ اس کی بچیاں چھوٹی تھیں، مگر پھر بھی خوش تھیں کہ ان کا اپنا مکان بن رہا ہے، ایسے میں جمیلہ کے لیے جمعہ سے پہلے وقت نکالنا مشکل تھا۔اس مرلی محکمہ میں رشوت کے امکانات بھی نہ تھے۔ جبکہ مکان کی چھت بھی ڈالنا تھا، اس نے سوچا کہ جمیلہ اکیلی ہے۔ اتنی تنخواہ کیا کرتی ہوگی۔ اس سے ادھار مانگ کر دیکھوں، کیا پتہ رقم مل ہی جائے۔ ملکی معیشت بھی ادھار پر چل رہی ہے۔ جمال نے فون پر اپنے آنے کی اطلاع دی تھی۔ جمیلہ نے والہانہ استقبال کیا۔ وہ خوب تیار ہوئی تھی، کھانا بھی بنا رکھا تھا۔

    ”اتنے دن کہاں رہے بے ایمان۔ تم کیا ICU کے ٹھیکیدار ہو ایک گھنٹے کے لیئے بھی نہیں آ سکے تھے؟“

    جمال تاویلیں پیش کر رہا تھا۔ کھانے کے بعد اس نے جمیلہ سے مالی دشواری کا ذکر ہے کہ بل پھنسے ہوئے ہیں۔ وہ ادھر ادھر رقم کے لیے پھرتا رہا۔ مگر کام نہ بنا۔ جمیلہ نے رقم سنی تو کچھ دیر توقف کیا اور پھر کہا وہ رقم ادھار دے سکتی ہے۔ کب تک لوٹائے گا۔

    جمیلہ ایک رابطہ رکھنا چاہتی تھی، اس کے پاس کوئی پلاٹ نہیں تھا اور نہ ہی وہ کسی اکیلے مکان میں رہنے کا حوصلہ رکھتی تھی۔ اتنے بھرے پرے ہاسٹل میں بھی شامیں اداس ہوا کرتیں۔ سہ پہر میں اداسی، ویرانی، اکیلاپن anxiety چہار غاش،تکا تو، چلتن سے رینگ رینگ کر اترنے لگتی۔ کلیجا چباتے شام ہوتی تو دوبارہ کسی مم کی طرح پہاڑوں کا رخ کرتی، اسے امید تھی کہ مقروض ہونے کے باعث جمال زیادہ ارتباط رکھے گا۔ آتا جاتا رہے گا۔ جمال نے وعدہ کیا کہ تین ماہ میں ہی رقم لوٹا دے گا۔ وہ زیادہ محبت سے پیش آنے لگا تھا۔ شہر کے حالات چونکہ خراب تھے۔ اس نے موبائیل پر بیوی کو بتایا کہ کہیں مصروف ہے شام کو آئے گا۔

    جمیلہ نے اشارہ کیا کہ شام کی بجائے رات کو دیر سے آؤں گا کہہ دو۔ جمال نے فقرہ بڑھا دیا۔ کافی کے مگ ہاتھوں میں لیئے کر وہ ایک ساتھ بیڈ پہ آ بیٹھے۔جمیلہ نے اسے دردناک کہانی سنائی کہ بچپن میں اس کی والدہ فوت ہوگئی، بھائی بھی چھوٹا تھا۔ اسکول سے لوٹتے تو گھر لاک ہوتا، وہ پاس پڑوس میں بیٹھ جاتے۔ کبھی تو ہمدردی میں پڑوسی انہیں کھانا کھلا دیتے۔ کچھ پڑوسی محض بیٹھنے کی جگہ دیتے۔ دونوں بہن بھائی پانی پی پی کر والد کی راہ دیکھتے۔ موٹر سائیکل رکنے کی آواز آتی والد تالہ کھولتے تو دونوں بہن بھائی بستے اٹھائےبھوک سے بیکل گھر میں داخل ہوتے، پھر والد اگلی صبح تک ان کے ساتھ ہی رہتے۔صبح تیار کروا کے اسکول کی وین میں بھجوا کر خود دفتر کا رخ کرتے۔دفتر والوں کو ہمدردی تھی۔ دیر سویر کا نہ پوچھتے۔

    سوتیلی ماں کے روائیتی کردار سے بچوں کو بچانے کے لیئے کبھی دوسری شادی کا سوچا بھی نہ۔ سمے گزرتا رہا دونوں جوان ہو گئے والد ریٹائر ہوئے تو گھر کو تالہ لگانے کا رواج بدلا۔ دور کے ایک چچا جو امریکی شہری بن چکے تھے چاہتے تھے کہ بیٹی کی شادی کسی مسلمان سے کریں۔ انہوں نے جمیلہ کے بھائی نصیر کو امریکہ بلوا لیا۔ کاروبار میں شریک کر لیا۔ پھر یوں ہوا کہ سُر اور بیوی ٹریفک حادثہ کے شکار ہو گئے۔

    نصیر ایک بار پھر اکیلا رہ گیا۔ ادھر والد بھی راہی عدم ہوئے۔ دونوں بہن بھائی اکیلے ہی رہ گئے۔ مگر اب نہ تو ان پاس بستے تھے اور وہ بچپن کہ ہاتھ تھامے پانی پیتے ہوئے بھوک سے لڑتے پڑوسیوں کے گھر میں بیٹھے والد کی راہ دیکھیں۔ اسی دوران جمیلہ نے لو میرج کر لی۔ نصیر نے باپ کی طرح جہیز دیا۔ خوب رقم بھجوائی۔ اگرچہ کاروباری ذمہ داریوں کے باعث خود شامل نہ ہو سکا۔ جمیلہ کا شوہر کیرل چیس مین کی طرح فراڈی ثابت ہوا۔ اس نے حساب لگایا تھا کہ نصیر بہت کچھ دے گا۔ کاروبار کی رقم کے لیئے ان کا آبائی مکان بھی بیچ ڈالا دو برس میں ہی سب کچھ لوٹ کر چکمہ دے کر فرار ہو گیا۔ جمیلہ نے ملازمت کر لی بھائی کی مدد سے وہ مکان تو خرید سکتی تھی، مگر ہاسٹل میں تحفظ بھی تھا، مینگ لاجنگ اور دن بھر خواتین سے ملنا جلنا۔ اسے اپنے والد اور بھائی کے علاوہ دنیا کے تمام مردوں سے نفرت ہوتی چلی گئی۔ برسوں کے بعد جمال کو ریت پہ بیٹھے حساب جوڑتے دیکھا تو اس پر بہت ترس آیا، جیسے اس کا بچپن لوٹ آیا ہو۔ وہ پرواہ کیے بغیر ہی زیرِ تعمیر مکان میں داخل ہو گئی، کہانی سن کر جمال کا دل بجھ گیا۔ اس نے ادھار لینے سے انکار کر دیا کہ کہیں نہ کہیں سے رقم مل ہی جائے گا، وہ اسے مزید دکھ نہیں دینا چاہتا تھا، کیونکہ ادھار واپس دینے کا اسکا کوئی ارادہ نہ تھا۔ عورتوں کو مخبوط الحواس مرد ہی ادھار لوٹاتے ہیں۔ یا ایڈی پس کمپلیکس کے مارے ہوئے۔ مگر جمیلہ ادھار دینے پر بضد تھی”میرا بھائی جو ڈالر بھجواتا ہے، روپے سے ضرب کھا کر کافی بڑھ جاتے ہیں۔“

    جمال نے کھل کر سوال کیا۔ ”تم اس رقم کے بدلے مجھ سے کیا چاہو گی۔“

    ​جمیلہ نے بھی توقف نہ کیا، ”میری تنہائی دور کر دو۔ وہ خوف وہ اکیلا پن جو مجھے گھیرے رہتا ہے، اور مجھے دو Attention - Affection - Company

    جمال نے کسی بنیئے کی طرح حساب جوڑا ”ٹھیک ہے، مگر میں پھر رقم واپس نہیں کروں گا۔“ جمیلہ نے اثبات میں سر ہلایا۔ جمال نے سوچا کہ کیسی دنیا ہے، جہاں بڑی عمر کے مرد کم عمر لڑکوں کو، عمر کی عمر رسیدہ عورتیں نوجوان مردوں کو دوست بناتی ہیں۔ اپنے بہتر مستقبل کے لیے جمال کو بھی یہ شوگر ممّی حلق سے اتارنا تھی، خرینگڑی کی طرح۔ قا ش قاش!

    جمیلہ نے بینک کو تحریری ہدائیت دے رکھی تھی کہ اس کا کوئی چیک ادا نہ کیا جائے۔ وہ خود چیک لائے تو رقم ادا کی جائے۔ اسی جناتی کھڑکھڑاتے سوزوکی ڈبے میں وہ بینک گئے۔ جمال نےپرائیویٹ نمبر پلیٹ بھی بنوا رکھی تھی۔ پرائیویٹ نمبر پلیٹ لگانا خاندان بھر کو موٹر سائیکل پہ لاد لینا غُربت کی علامت ہے۔ جو ٹانسل کی طرح ہر شریف کو لاگو رہتی ہے۔ چادر کے مطابق پاؤں سمیٹتا رفتہ رفتہ اپاہج ہو جاتا ہے۔ رقم وصول کرنے کے بعد ​جمیلہ نے کسی اچھے سے ریسٹورینٹ میں لنچ لینے کی فرمائیش کی۔ وہ اتنی رقم دے چکی تھی کہ جمال کھڈی کباب کا آرڈر بھی دے سکتا تھا۔ پھر اس نے جمال کو اچھا سا سوٹ خرید دیا۔ سہ پہر میں وہ ہاسٹل پہنچے تو جمال بیڈ پہ ڈھیر ہو گیا۔ اس رقم اور عنائیات کی قیمت اب اسے ادا کرنا تھی۔ وہ ذہنی طور پر بارٹر سسٹم کے لیے تیار تھا۔ ایک ہاتھ لے ایک ہاتھ دے۔ چت بھی میری پٹ بھی میری آنکھیں چھت میں گڑی ہوں یا تکیے میں فرق پڑتا ہے۔ریلوے کے ڈیزل انجن کی طرح پتہ نہیں چلتا کہ سیدھا کدھر سے ہے۔​

    جمیلہ کی مالی امداد سے مکان تیار ہو گیا،پھر وہ اپنی مختصر سی فیملی نئے گھر میں لے آیا۔ لیکن اسے بڑی الجھن ہوئی۔ کیونکہ چھت ڈلنے کے باوجود جمیلہ کی تنہایاں دور نہیں ہوئی تھیں۔ جانے یہ تنہایاں تھیں کہ وقت کی اینجوگرافی سے پڑے گھٹیا Stent کبھی کبھی اس کی طبیعت اوب جاتی۔دل گھبرانے لگتا۔​جمیلہ اسے اپنی پراپرٹی سمجھنے لگی تھی، کچھ کچھ Schizophrenic بھی تھی۔ کبھی وہ جمال سے بچوں والا سلوک کرتی کبھی خود کاکی بن جاتی کبھی کوہِ مردار کی مم کی طرح شوہر بنا کر پھل کھلاتی۔ پاؤں چاٹتی رہتی کہ پٹو لہراتے ہوئے فرارہی نہ ہو جائے۔ جو امریکی ڈالر ہر ماہ بھائی بھجواتا وہ ملکی کرنسی میں جمال کی جیب میں اتر جاتے۔ جمال کے محکمے میں گریڈ انیس سے رشوت کے دروازے کھلتے۔ پھر کسی جمیلہ کی ضرورت نہ رہتی۔ وہ بدستور ٹھیکیدار ہی بنا ہوا تھا۔ جمیلہ کو بھی لانگ ڈرائیو کے لیئے بولان لے جاتا۔ کیونکہ بولان کی آنکھیں ہیں، زبان نہیں، سوال نہیں کرتا، نہ ہی کسی کو کچھ بتاتا ہے،بولان میں لوگ بھی کم کم ہوتے ہیں۔

    جس روز پرموشن کا آرڈر آیا، مبارکبادوں کا سلسلہ چل نکلا۔ بچے بھی خوش ہوئے۔ تعلیم کے باعث انہیں کراچی لے جانا ممکن نہ تھا۔ کیونکہ کراچی جا کر بھی نچلا نہ بیٹھتا۔ انیس والے افسر کا دھڑن تختہ کر کے پنجاب بھجوا دیتا۔ پنجاب سے فقیروں اور افسروں کو تانتا بندھا رہتا۔ جمیلہ کو اس نے بتایا کہ ویش جا رہا ہے وہاں عمارتوں کی لکڑی آئی ہے۔ خرید کر جلد ہی لوٹ آئے گا۔ جمیلہ نے یوں تو اسکی جھولی بھردی مگر لپٹ لپٹ گئی کہ مت جائے۔ طالبان کا قبضہ ہے۔ مگر جمال کہاں رکنے والا تھا۔

    کراچی جاتے ہی جمال نے سم بدلوا لی۔ جمیلہ اب اسے کبھی بھی ڈھونڈ نہ پاتی اپنا نام، پتہ، کاروبار سبھی کچھ فیک بتا رکھا تھا۔ یوں بھی جمیلہ اسی ہاسٹل میں قید رہنا پسند کرتی۔ برسوں پہلے سر پہ پرکار رکھ کر دائرہ لگا چکی تھی۔ جس کے اندر وہ تھی،اس کا بھائی اور جمال۔

    کراچی حسب معمول حسین و جوان تھا۔ گہما گہمی، مشاعرے، ادبی تقریبات،جب وہ کراچی میں قید با مشقت بھوگ کر لوٹا تو ایک اہم افسر تھا۔ پانچ دروازوں والی 3400 سرکاری پراڈو ایئرپورٹ پر خوشامدی افسروں کے جلو میں موجود تھی۔افسروں نے کسی مقدس کتاب کی طرح اسکا بریف کیس تھاما، ہر نیا گریڈ ایک نئی زندگی کا نقیب ہوا کرتا ہے۔

    چند روز بعد اس نے اپنا وفادار ملازم حمام باد گر کی خبر لانے بھجوایا کہ وہی پچھل پیری دوبارہ نہ آن برسے۔ پتہ چلا کہ فضل دین کنٹریکٹ سے نکالا گیا تو ملتان چلا گیا۔ جمیلہ بھی ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ پر چل رہی تھی۔ اسے بھی چلتا کیا۔ شائد بھائی کے پاس امریکہ چلی گئی۔ جمال کو خدشہ تھا کہ اسکی سرکاری مصروفیات اخباری خبروں کے باعث چلی ہی نہ آئے۔ اس نے سکون کا سانس لیا۔

    کچھ ہی دن میں اسکا دوست ڈاکٹر حنیف خلجی ملنے چلا آیا۔ دونوں ہی اسکول کے زمانہ سے پکے دوست تھا، حنیف بھی بڑا ہینڈ سم تھا اسی کے باوجود وہ کبھی رقیب نہ بنے۔ بلکہ خاموشی سے ڈیٹ پر ریسٹورینٹ میں ایک دوسرے کا بل بھی ادا کر جاتے۔ جس سے حسینہ مزید متاثر ہوتی کہ ہوٹل والے بل بھی نہیں لیتے۔

    ”زوئے ایک امیر عورت کے بیڈ روم میں تمہارا تصویر لگا ہوا ہےام اس کا علاج کرتا ہے۔خانہ آباد تم پر ٹکر ٹکر تھا اے خر عاشق ہے۔“

    جمال کو حیرت ہوئی، ”عورت کون تھا۔ جو امارا اوپر عاشق ہے۔“

    حنیف نے انکشاف کیا، ”اس کا نام جمیلہ ہے۔ اس کا بھائی امریکہ میں تھا، وہ مر گیا۔ سارا جائیداد کا جمیلہ وارث تھا۔ کروڑ پتی بن گیا۔ پورا کریم پلازہ خرید لیا۔ اور ڈیفنس میں کلاس کا بنگلہ، خانہ آباد کا لاٹری نکل آیا۔ سارا نوکر یں بھی عورتیں ہیں، سوائے چوکیداروں کے۔“

    جمال نے ماتھا پیٹ لیا۔ ”یار ہم بھی خرتاوانی ہے۔“ اس نے جمیلہ کی پوری داستان اور اپنے فرار کی کہانی سنائی۔ اسے بہت صدمہ ہوا کہ سونے کی چڑیا ہاتھ سے نکل گئی۔سینئر سٹی زن چڑیا ہی سہی ! کروڑ پتی بنتے بنتے رہ گیا۔ وہ کف افسوس ملنے لگا۔

    ڈاکٹر حنیف نے تسلی دی کہ ڈاکٹر تو مردہ کو زندہ کر دیتا ہے، بنددل چلا دیتا ہے۔ مگر کچھ مال پانی لگانا ہوگا اور چند دعوتیں!۔جمال نے فوراً ہی وعدہ کر لیا۔ گرمجوشی سے ہاتھ ملایا۔ زوئے ایسا شکل بناؤ ناجوڑ مافک کہ تمہارا بکری گم ہے“ اگلے روز حنیف اسے سینی ٹوریم لے گیا۔ ایم۔ایس دوست ہی تھا۔ جمال کو آفیسر وارڈ میں داخل کرتے ہوئے ایک کمرے میں لٹا دیا گیا۔ایم۔ایس نے میٹرن کو ان کے سامنے ہی ہدائیت کی۔

    ”میری حسین نرسوں کو حنیف اور جمال کے شر سے بچائے رکھنا۔ کسی بدشکلی کی ڈیوٹی لگانا۔“

    جمال نے چہرہ بیماروں سا بنایا، آہ و زاری کھانسی کرنے لگا دوائیاں بھی سجا دی گئی تھیں ڈرپ کا اسٹینڈ آ کسیجن سلینڈر بھی رکھ دیا۔

    سہ پہر میں کراؤن کار لیئے جمیلہ اور حنیف آئے جمیلہ کے ہاتھ میں سہارے کی چھڑی تھی دولت چہرے پر لشکار ے مار رہی تھی محبت کے علاوہ اس کی ہر چیزبمعہ بینائی کمزور ہو چکی تھی۔ وہ کسی کی پرواہ کیئے بغیر ہی بیڈ پر پہلو میں سمائے جمال کے سینے پہ سر رکھ کے آنسو بہانے لگی۔

    ”میں نے کہا بھی تھا مت جاؤ طالبان کے ملک! کیا حالت بنا دی قید میں!! میں تمہیں ہسپتال میں مرنے نہیں دوں گی۔ چلو گھر۔“

    جمال نے اسے بانہوں میں جکڑ لیا۔ ”جمیلہ میری جمیلہ مجھے امید نہیں تھی کہ اس جنم میں تمہیں دیکھ سکوں گا۔ مجھے اپنی بانہوں میں مرنے دو۔“

    جمیلہ ہچکیاں لے کے رو رہی تھی۔ ”میں تمہیں مرنے نہیں دوں گی ڈاکٹر میری ساری دولت لگا کے اسے بچا لو۔“

    ڈاکٹر حنیف نے شفقت سے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے ڈاکٹر نہ دلاسہ دیا۔ ”یہ دوائیوں سے گزر چکا ہے۔ آپ کی محبت ہی اسے نئی زندگی دے سکتی ہے۔“ پھر حنیف نے گھور کے اشارہ کیا۔ کھانسی تو کرو۔

    ایم ایس دوڑتا چلا آیا۔ ”میڈم کیا کر رہی ہیں اس کی حالت خطرناک ہے گھر نہ لے جائیں۔“حنیف سامنے آ کھڑا ہوا۔

    ”میڈم آپ کی خاطر جان پر کھیل جاؤں گا۔ میں ایم ایس کو روکوں گا۔ اسے لے جائیں۔“

    کھانستا ہوا جمال کار کی پچھلی سیٹ پر ڈھیر ہوا۔ دونوں پریمی ہسپتال کے عملے کو دھکے دیتے کار میں LAMA ہو گئے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے