سفید موتی

علی اکبر ناطق

سفید موتی

علی اکبر ناطق

MORE BYعلی اکبر ناطق

    وہ ہم سے پانچ گھر چھوڑ کے رہتا تھا لیکن یہ بات میں نہیں جانتا تھا۔ مَیں تو اُسے سکول میں دیکھتا ہے۔ اُس دن بالکل یہی موسم تھا، اکتوبر کے آغاز کا۔ تب دھوپ میں گرمی نہیں تھی۔ وہ کھلے گراونڈ میں کُرسی پر بیٹھا، اتنا پُرسکون تھا، جتنا کوئی خزاں رسیدہ درخت ہو سکتا ہے۔ پُشت کو کرسی پر ٹکا کر، دونوں پاؤں زمین پر سیدھے رکھے، اُس کی نظر آسمان کی بلندی پر دائرے میں اُڑتی اُن دو چیلوں پر تھی، جو ہر چکر کے بعد مزید بلند ہو جاتیں اور اب وہ نُقطوں کے برابر رہ گئیں تھیں۔ میں اُس کے پیچھے کچھ فاصلے پر کھڑا، اُسے دیکھتا رہا۔ مجھے یقین تھا، مَیں اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاؤں گا۔ جب وہ سفید موتی جیب سے نکالے گا تو میں ضرور دیکھ لوں گا لیکن کافی دیر کھڑے رہنے کے باوجود ایسا نہ ہوا۔ وہ ہر طرف سے ساکت، دونوں بازو کُرسی کی دستیوں پر رکھے رہا۔

    البتہ اب اُس کی نظر چیلوں سے ہٹ کر، سکول کی چاردیواری سے باہر، آموں کے باغ کی طرف مُڑ گئیں، جہاں رنگ رنگ کے پرندے سبز پتوں میں جھول رہے تھے اور تین بچے اُچھل اُچھل کر آم کی موٹی شاخوں سے اُلٹے سیدھے ہو کر لٹکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مَیں دل ہی دل میں اُس پر تلملا نے لگا۔ آخر وہ کیوں اپنا ہاتھ جیب کی طرف لے جا کر انڈے کے برابر کا سفید مو تی نہیں نکالتا۔ اِسی بے دھیانی میں آگے ہوتا گیا۔ نہ جانے کب اُس نے میرے قدموں کی چاپ سُن لی۔ اُسی وقت اُس نے مُڑ کر دیکھا۔ میں چار قدم پر تھا، اُس کے دیکھتے ہی بھاگ اُٹھا اور ہانپتا ہوا اپنی کلاس میں آ گیا، جو ایک دوسرے گراونڈ میں گھاس کے فرش پر بیٹھی تھی۔ کلاس میں داخل ہوکر مَیں لڑکوں کے درمیان میں بیٹھ گیا۔

    سکول کافی بڑا تھا۔ بہت بڑا، لیکن چار دیواری چھوٹی تھی۔ اتنی چھوٹی کہ تین فٹ کا بچہ مضافات کو دیکھ سکتا تھا۔ سامنے کی مسجد کے اُونچے منار اور اُن کے سفید گُنبدوں پر بیٹھے اور اُڑتے ہوئے کبوتر ایک طرح سے سکول کا حصہ تھے۔ چار دیواری کے ارد گرد ہری فصلوں کے پھیلے ہوئے کھیت اور بڑے باغوں کے سیاہ جھرمٹوں کا سایا یوں سکو ل میں چلا آتا کہ گرانڈوں کی سبز گھاس سے مل کر اُس میں طلسم پیدا ہو جاتا اور وہ طلسم دھوپ کو اپنے حصار میں لے لیتا۔

    مُجھے سکول میں تیسرا سال تھا۔ اس عرصے میں کبھی نہیں دیکھا، وہ اساتذہ کے پاس بیٹھا ہو یا اُس نے سٹاف روم کا رُخ کیا ہو۔ مَیں نے اُسے کسی اُستاد کے ساتھ سلام لیتے یا ہاتھ ملاتے بھی نہیں دیکھا۔ بس کُرسی پر، کسی گراونڈ کے دور کونے میں خموش بیٹھا، آسانی سے نیلے، بھورے اور کالے بادلوں والے آسمان کو دیکھتا رہتا۔ کبھی کتاب کھول کے پڑھنے لگ جاتا، جسے وہ گھر سے لانا نہ بھولتا۔ بعض اوقات سکول کے مغربی کونے میں چہل قدمی شروع کر دیتا، جہاں ایک چھوٹا سا پلاٹ تھا۔ اُس میں چوکیداروںٍ نے سبزیاں کاشت کر رکھی تھیں۔ وہ اُن کا رکوع کی حالت میں ہو کر اور اپنی لاٹھی کو سبزیوں کی جڑوں میں مار مار کر باریکی سے جائزہ لیتا، مگر چوکیداروں سے بول چال کو راستہ نہ دیتا۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا، یہ کون ہے؟ کلاس لیتے یا بچوں کو پڑھاتے مَیں نے اُسے نہیں دیکھا۔ لیکن میرے لیے حیرانی کی بات یہ تھی کہ سکول کے اُستاد اور سب لڑکے اُس کو اُستاد کے لقب سے ہی منسوب کرتے۔ پتا نہیں کیوں؟

    اُن دنوں کلاسیں بھی گراونڈ میں لگتی تھیں۔ کُھلے آسمان تلے۔ ایسا نہیں کہ کمرے نہیں تھے۔ بس استاد اور بچے گراونڈ کو ہی ترجیح دیتے۔ اُس کو مَیں نے کبھی پڑھاتے نہیں دیکھا، پھر بھی سکول سے ناغہ نہ کرتا۔ کسی سے سلام نہ دُعا۔ بس کُرسی پر خموش بیٹھا ہے اور گھنٹوں بیٹھا ہے۔ البتہ گراونڈ اورکُرسی کا زاویہ بدلتا رہتا تھا۔ ساٹھ کنال رقبے کے سکول میں، وہ کبھی ایک کونے میں ہوتا، کبھی دوسرے کونے میں۔ مجھے اُس کے ڈھونڈنے میں دقت پیش نہ آتی۔ مَیں اُسے کیوں ڈھونڈتا تھا؟ یہ مَیں نہیں جانتا، مگر اُسے جب تک ایک نظر دیکھ نہ لیتا، طبیعت بے قرار رہتی۔ مَیں نے کبھی اُس سے بات بھی نہیں کی۔ نزدیک بھی نہیں گیا۔ ہر کوئی جانتا تھاکہ اُس کے پاس ایک انڈے کے برابر سفید رنگ کا موتی ہے اور اُس موتی میں ایک جِن بند ہے۔ وہ جِن اُسے لوگوں کے راز اور غیب کی باتیں بتاتا ہے اور گیت بھی سناتا ہے۔ کچھ نے تو یہ تک دعوہ کیا کہ اُنہوں نے اُستاد فضل حسین کو خود بھی کئی بار گنگناتے سُنا ہے۔

    اُس جن نے اِسے بہت سارا خزانہ بھی دیا تھا، جو اِس نے اپنے گھر میں گڑھا کھود کر چھپا رکھا تھا۔ کیونکہ وہ چاہتا ہے، اُس کے بیٹے بڑے ہوں تو اُسے نکال لیں۔ یہ موتی وہ ایک ڈبیا میں چھپا کے دائیں جیب میں رکھتا ہے اور کسی کو نزدیک نہیں آنے دیتا، نہ خود کسی کے قریب جاتا ہے۔ کئی لڑکوں نے اُس کے بیٹوں سے (جو اِسی سکول میں پڑھتے تھے) اُس موتی کے بارے میں پوچھنا چاہا لیکن وہ بھی اِتنا ہی بے خبر تھے جتنا کہ عام لڑکے۔ اُن کا کہنا تھا، اُن کی والدہ نے ابا جی کے برتن، کمرہ اور بستر الگ کر رکھا ہے۔ اس لیے اُنہیں اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں۔ اِتنا ضرور ہے کہ اُس کے پاس پھٹی پُرانی کتابوں کا ایک ڈھیر ہے، جس میں عجیب و غریب باتیں لکھی ہیں۔ دلچسپی سے یکسر خالی۔ مکمل نا سمجھ آنے والی۔ بڑے بیٹے کا کہنا تھا، سفید موتی اُن پُرانی کتابوں میں کہیں چھُپا کر رکھا ہو تو اور بات ہے، ورنہ پورے گھر میں موجود نہیں۔

    میری شدید خواہش تھی، مَیں وہ انڈے کے برابر سفید موتی دیکھوں لیکن جِن سے ڈرتا تھا۔ دو تین بار، جب وہ کرسی چھوڑ کر ہی چہل قدمی کے لیے آگے پیچھے ہوا، مَیں بھاگ کر کُرسی کے پاس جا کھڑا ہوا مگر مجھے وہاں سوائے گھاس کے تنکوں اور کرسی کے، کوئی چیز نظرنہ آئی۔ کُرسی کو ہلا کر اُس کے پایوں کے نیچے دیکھنے کی مجھے جرات نہ ہوئی کہ کہیں نیچے جِن نہ بیٹھا ہو۔ اُس کے پاس جِن کے موجود ہونے کی ایک اور دلیل بھی تھی کہ اُس سے سب سکول کے ماسڑ ڈرتے تھے اور اُس کا نام آتے ہی باادب ہو جاتے حالانکہ اِتنا کمزور تھا کہ دس سال کا بچہ بھی اُسے چت کر لے۔ بالکل ہڈیوں کا ڈھانچا۔ چلتے ہوئے اکثر لڑکھڑا جاتا۔ مَیں ایک دفعہ سائنس ڈیپارٹمنٹ کی لیبارٹری میں ایسے ہی چلا گیا۔ وہاں ایک آدمی کی ہڈیوں کا پنجر پڑا ہوا تھا، اُستاد فضل حسین کو دیکھ کر اکثر مجھے لگتا کہ وہی پنجر کپڑے پہن کر آ گیا ہے۔ اس کے باوجود میں نے کئی بار دیکھا، جو بھی اُستاد سکول میں تھا، وہ چاہے بوڑھا داڑھی والا یا جوان مونچھوں والا تھا، وہ اُ س کے کبھی قریب نہیں آتا تھا۔ سٹاف روم میں البتہ چائے بنتی تو چوکیدار اُس کے لیے بھی لے آتا جسے وہ بغیر شکریے کے قبول کر لیتا۔ یا وہ چوکیدار حاضری رجسڑ لا کر حاضری لگوا لیتا۔ مجھے اُس کو مسلسل اِس حالت میں دیکھ کر مکمل یقین ہو چکا تھا کہ وہ سکول میں در اصل کسی کو نہیں پہچانتا۔ مگر اُس کو سب جانتے ہیں۔

    جس دن مَیں نے اُس کے پیچھے جا کر دیکھنے کی کوشش کی، یہ اُس سے دوسرے دن کی بات ہے۔ مَیں اپنی کلاس میں بیٹھا ریاضی کی ایک مشق کر رہا تھاکہ لنگڑا چوکیدار، جو اُسے چائے دے کر آیا تھا، اُس نے میرا نام لیا اور کہا، مُنشی فضل حسین صاحب بلاتے ہیں۔ اُس وقت میری عمر محض سات سال تھی۔ مجھے نہیں معلوم اُس وقت میری حالت کیا ہوئی۔ دل میں یہ شدید خواہش پیدا ہوئی کہ ریاضی پڑھا نے والا اُستاد کہہ دے، لڑکا کلاس چھوڑ کر نہیں جا سکتا مگر ایسا نہ ہوا۔ اُستاد نے میری طرف دیکھا، جیسے اُٹھنے کا حکم دے رہا ہو اور میں مردہ ٹانگوں کے ساتھ اُٹھ کر چوکیدار کے پیچھے چلنے لگا۔ بھاگنے کی طاقت اول تو ٹانگوں میں تھی نہیں، دوم اُس کا جِن مجھے ایک قدم نہ بڑھنے دیتا۔ چند لمحوں میں ہم وہاں جا پہنچے اور آج یہ پہلا دن تھا، جب میں اُس کے اِتنا قریب کھڑا تھا کہ اُس سفید موتی کی خوشبو لے سکتا تھا لیکن اب اُس کا خیال ڈر کی وجہ سے محو ہوگیا۔ چوکیدار جا چکا تھا۔ پچاس قدم کے دائرے میں اب نہ تو کوئی کلاس تھی، نہ لڑکا تھا، نہ اُستاد۔ فقط وہ تھا اور میں مجرموں کی طرح سامنے کھڑا تھا۔ مجھے اس بات کی حیرانی بالکل نہیں تھی کہ اُس نے میرا نام کیسے جانا۔ ظاہر ہے جِن کے لیے یہ مشکل بات نہیں تھی۔

    اُس کے کہ چہرے کی بجائے وہاں باریک ہڈیاں تھیں لیکن اُن کے اُوپر جلد اتنی نرم اور سفید تھی کہ ہڈیاں بُری معلوم نہیں ہوتی تھیں۔ ہاتھوں کی ناڑیں نیلی اورماس کے نیچے کی تہیں ہڈیوں کو مزید واضح کر رہیں تھیں۔ آنکھیں چمکدار تھیں لیکن زیادہ ہی اندر کو دھنس چُکی تھیں، جن کے نیچے سیاہ ہلکے بھی پڑ گئے تھے۔ بال سارے سر پر موجود تھے مگر اِتنے کم کہ کنپٹیوں کی درزیں صاف دیکھ سکتا تھا۔ سر پر دوپلًی ٹوپی بھی جما کر آتا لیکن وہ چلتے وقت ہی سر پر رکھتا تھا۔ جیسے ہی کُرسی پر بیٹھتا، ٹوپی اُتار لیتا۔ مجھے اُس سے آنکھیں ملانے میں مشکل پیش آ رہی تھی اورمَیں مسلسل سکول کی دیوار کے ساتھ کچی سڑک پر جاتے اُس چرواہے کو دیکھ رہا تھا، جو بے شمار بھیڑوں کو ہانکتا ہوا سکول کے عقب میں موجود نہر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ بھیڑوں کے گزرنے سے غبار اور بُو کی ہلکی لہر ہمارے ناکوں کو چھو نے لگی۔ یہ بھیڑیں اور چرواہا اتنی خاموشی سے گزر رہے تھے جیسے ان کے قدموں کے نیچے روئی بندھی ہو۔ اُسی لمحے میں نے سوچا، یہ چرواہا کیسا آزاد ہے کہ اُسے منشی فضل حسین نے اپنے سامنے حاضر نہیں کیا۔

    بیٹے بیٹھ جاؤ۔

    یہ آواز منشی فضل حسین کی بجائے کہیں غیب