استری کی سانس
استری پہلے سانس لیتی تھی، پھر تھوکتی تھی۔
آپاں رخسانہ اس کے پیچھے لگا سرخ بٹن دباتیں تو اس کے کالے پیٹ میں کوئی چیز گڑگڑاتی۔ پھر نوک کے قریب بنے سوراخوں سے سفید بھاپ نکلتی اور کپڑے پر لیٹ جاتی۔ بھاپ میں کلف، پسینے، گرم لوہے اور جلے ہوئے دھاگے کی ملی جلی بو ہوتی تھی۔
پہلی بار میں نے اس بو کو سونگھا تو مجھے مکئی کے اس دانے کی یاد آئی جو اماں کے توے پر پھٹنے کے بجائے کالا پڑ جاتا تھا۔
’’قریب مت جاؤ‘‘، شازیہ نے کہا، ’’ناک جل جائے گی۔‘‘
میں نے پھر بھی منہ استری کے قریب کر دیا۔
گرم ہوا نتھنوں میں چبھی تو میں پیچھے ہٹ گئی۔ شازیہ ہنسی۔ ہنستے ہوئے اس کے سامنے کے دو دانت ذرا باہر آ جاتے تھے۔ اس نے منہ پر ہاتھ رکھا تو کلائی کی آستین اوپر چلی گئی۔ وہاں گول سا بھورا نشان تھا۔
’’یہ استری نے کیا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
اس نے فوراً آستین نیچے کھینچ لی۔
’’یہاں سب کو کبھی نہ کبھی استری لگتی ہے۔‘‘
’’آپاں رخسانہ کو بھی؟‘‘
’’کام کرو۔‘‘
میں کام نہیں کر رہی تھی۔ میں سفید موتیوں کو ایک پیالی سے دوسری پیالی میں ڈال رہی تھی۔ شازیہ کہتی تھی کہ اسے کام نہیں، مدد کہتے ہیں۔ کام وہ ہوتا ہے جس کے پیسے ملیں۔
ہم شازیہ کو لینے شہر آئے تھے۔
اس کا رشتہ طے ہو چکا تھا۔ لڑکے والوں نے کہلوایا تھا کہ منگنی کے بعد لڑکی کا شہر میں رہنا اچھا نہیں لگتا۔ اماں نے کہا تھا کہ ہم شازیہ کو ساتھ لے جائیں گے اور ماسٹر بشیر سے اس کی دو مہینوں کی باقی اجرت بھی وصول کریں گے۔ انہی پیسوں سے منگنی کا سوٹ، جوتا، مٹھائی اور لڑکے کی ماں کے لیے چادر خریدی جانی تھی۔
ہم صبح کی بس سے آئے تھے۔ کھڑکی کے شیشے پر دھول جمی تھی۔ باہر کھیت، اینٹوں کے بھٹے اور سڑک کے کنارے پڑی سفید بوریاں پیچھے بھاگتی جاتی تھیں۔ ہوا بوریوں کے کھلے منہ میں گھستی تو وہ پھول کر پھر بیٹھ جاتیں۔
میں نے سر اماں کی گود میں رکھا تھا۔
’’شازیہ آپا اب ہمارے گھر رہیں گی؟‘‘
’’شادی تک۔‘‘
’’پھر؟‘‘
’’پھر اپنے گھر چلی جائے گی۔‘‘
’’اس کا اپنا گھر کون سا ہے؟‘‘
اماں نے شیشے سے باہر دیکھا۔
’’جہاں شوہر ہو، عورت کا وہی گھر ہوتا ہے۔‘‘
میں نے خالہ زبیدہ کے بارے میں سوچا۔ خالو تین سال سے کسی دوسری عورت کے ساتھ رہتے تھے، مگر خالہ اب بھی اسی صحن میں تنور گرم کرتی اور اسی چھت کے نیچے سوتی تھیں۔ ان کا گھر پھر کس کا تھا، یہ میں نے نہیں پوچھا۔ بعض سوالوں کے بعد اماں کے ماتھے پر دو سیدھی لکیریں بن جاتی تھیں۔
ماسٹر بشیر کا کارخانہ کپڑے کی مارکیٹ کے اوپر تھا۔ نیچے دکانوں سے رنگین تھان باہر نکلے ہوئے تھے۔ سرخ، سبز، جامنی اور پیلے کپڑے سیڑھیوں کے دونوں طرف لٹک رہے تھے، جیسے دیواروں نے زبانیں نکال رکھی ہوں۔
اوپر ایک لمبا ہال تھا۔ دونوں دیواروں کے ساتھ لڑکیاں اڈوں پر جھکی بیٹھی تھیں۔ کسی کے سامنے سرخ کپڑا کھنچا تھا، کسی کے سامنے سفید، کسی کے سامنے گہرا نیلا۔ ان کی سوئیاں روشنی میں چمک کر غائب ہو جاتی تھیں۔
پنکھے تیزی سے چل رہے تھے، مگر ہوا نیچے نہیں آتی تھی۔ وہ چھت کے قریب کپڑے کی دھول کو گھماتے رہتے تھے۔
شازیہ آخری اڈے کے پاس بیٹھی تھی۔ اس نے ہمیں دیکھا تو یک دم کھڑی ہوگئی۔ اس کے گھٹنے سے موتیوں کی پیالی ٹکرائی۔ سفید موتی فرش پر بکھر گئے۔
’’ہاتھ ہولا رکھا کرو‘‘، آپاں رخسانہ نے کہا، ’’مال تمہارے باپ کا نہیں ہے۔‘‘
شازیہ نے پہلے اماں کو گلے لگایا، پھر میرے گال کو چھوا۔ اس کی انگلیاں ٹھنڈی تھیں۔ اس کا رنگ پہلے سے زیادہ زرد تھا۔ آنکھوں کے نیچے ہلکا سا نیلا پن تھا۔
’’تم موٹی ہوگئی ہو‘‘، اس نے کہا۔
’’میں تو وہی ہوں۔‘‘
’’آئینے میں دیکھا کرو۔‘‘
’’ہمارا آئینہ درمیان سے ٹوٹا ہوا ہے۔ اس میں آدھا چہرہ آتا ہے۔‘‘
اس نے میری ناک دبائی، مگر اس بار نہیں ہنسی۔
ماسٹر بشیر کا دفتر ہال کے آخری سرے پر تھا۔ اس کی دیواریں شیشے کی تھیں۔ شیشے پر کمر کی اونچائی تک دودھیا کاغذ چپکا تھا۔ دفتر میں بیٹھے آدمی کا سر اور کندھے دکھائی دیتے تھے، باقی بدن دھند میں چلا جاتا تھا۔
اماں حساب کی بات کرنے اندر گئیں۔ ماسٹر بشیر نے انہیں کرسی دی۔ مجھے اور شازیہ کو باہر رہنے کا کہا۔
’’دو مہینے پورے نہیں ہوئے‘‘، اس کی آواز آئی، ’’تین چھٹیاں بھی ہیں۔‘‘
’’ایک دن بخار تھا۔ دو دن آنکھیں دکھ رہی تھیں‘‘، اماں نے کہا۔
کیلکولیٹر کی ٹک ٹک ہوئی۔
’’چھٹی کا حساب بیماری سے نہیں ہوتا۔‘‘
پھر کچھ دیر خاموشی رہی۔
’’آج رقم تیار نہیں‘‘، اس نے کہا، ’’رات کو مال نکلنا ہے۔ صبح حساب کر دوں گا۔‘‘
’’ہم دور سے آئے ہیں۔ آخری بس چھے بجے ہے۔‘‘
’’رات یہیں ٹھہر جائیں۔ عورتوں کا کارخانہ ہے، کوئی جنگل نہیں۔‘‘
وہ ہنسا۔ اس کی داڑھی کے دونوں کنارے اوپر اٹھے، مگر آنکھیں ویسی ہی رہیں۔
اس دن ایک دلہن کا سرخ جوڑا مکمل ہونا تھا۔ کپڑے پر سنہری بیلیں بنی تھیں۔ ہر بیل کے سرے پر سبز پتھر لگایا جاتا تھا۔ شازیہ نے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا۔ میں موتی گن کر چھوٹی پیالیوں میں ڈالنے لگی۔ ہر پیالی میں پچاس موتی ہونے تھے۔
میں انچاس تک پہنچ کر اکثر گنتی بھول جاتی۔
’’ایک موتی کم ہو تو دلہن کی شادی رک جاتی ہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’پھر کس چیز سے رکتی ہے؟‘‘
شازیہ نے سوئی کپڑے میں اتاری۔
’’شادی نہیں رکتی۔ لڑکی رک جاتی ہے۔‘‘
’’کہاں؟‘‘
اس نے جواب نہیں دیا۔
دوپہر کے بعد ماسٹر بشیر دفتر سے نکلا۔ اس کے ہاتھ میں نیلی جلد والی کاپی تھی۔
’’سلمیٰ، اپنا حساب دیکھ لو۔‘‘
سلمیٰ کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی۔ عمر میں وہ شازیہ سے بڑی لگتی تھی۔ اس کے دو بچے تھے۔ صبح اس نے بتایا تھا کہ چھوٹے لڑکے کو کھانسی ہے اور دوا کے پیسے نہیں ہیں۔
اس نے سوئی کپڑے میں گاڑ دی۔
’’شام کو دیکھ لوں گی، ماسٹر صاحب۔‘‘
’’شام کو بینک بند ہو جائے گا۔ ابھی آؤ۔‘‘
سلمیٰ نے آپاں رخسانہ کی طرف دیکھا۔ آپاں نے نگاہ جھکا کر استری کے نیچے سفید کپڑا سیدھا کیا۔
سلمیٰ دفتر میں چلی گئی۔
دروازہ بند ہوا۔
دودھیا شیشے کے اوپر اس کا سر دکھائی دیتا رہا۔ وہ پہلے دروازے کے قریب کھڑی تھی۔ ماسٹر اپنی میز کے پیچھے بیٹھا تھا۔ کچھ دیر بعد ماسٹر کا سر غائب ہوا۔ پھر سلمیٰ کا سر بھی شیشے کے اوپر سے نیچے چلا گیا۔
میں نے شازیہ کا بازو چھوا۔
’’وہ دونوں نیچے بیٹھ گئے ہیں؟‘‘
اس نے میری انگلی اپنے بازو سے ہٹا دی۔
’’موتی گنو۔‘‘
دفتر کے اندر کوئی چیز میز سے ٹکرائی۔ پھر کرسی کھسکنے کی آواز آئی۔
استری نے سانس لی۔
آپاں رخسانہ نے اس کا بٹن نہیں دبایا تھا۔ شاید وہ پہلے ہی دبا ہوا تھا۔ بھاپ سفید قمیص پر پھیلتی رہی۔ آپاں نے استری اٹھائی تو کپڑے پر زرد سا دھبہ رہ گیا۔
انہوں نے جلدی سے کڑھائی کا ایک پھول دھبے پر رکھ دیا۔
دفتر کا دروازہ کھلا۔
سلمیٰ باہر آئی۔ اس کا دوپٹہ گردن کے گرد ایک طرف مڑا ہوا تھا۔ وہ اسے درست کیے بغیر اپنے اڈے تک گئی۔ کرسی پر بیٹھتے ہوئے اس کے گھٹنے نے لکڑی کو ٹکر ماری۔ سوئی اٹھائی، مگر دھاگا اس کے ہاتھ سے دو مرتبہ گرا۔
ماسٹر بشیر دروازے میں کھڑا رہا۔
’’دوپہر کے بعد کی چھٹی بھی حساب میں آئے گی‘‘، اس نے کہا۔
سلمیٰ نے سر نہیں اٹھایا۔
’’میرا بچہ بیمار ہے۔‘‘
’’بچے سب کے ہوتے ہیں۔ کام بھی سب نے کرنا ہے۔‘‘
وہ دفتر میں واپس چلا گیا۔
آپاں رخسانہ سفید قمیص سلمیٰ کے پاس لائیں۔ کڑھائی کا پھول دھبے کے اوپر رکھ کر بولیں:
’’یہ یہاں ٹانک دو۔‘‘
سلمیٰ نے پھول دیکھا۔
’’یہ نقشے میں نہیں ہے۔‘‘
’’اب ہے۔‘‘
شام سے کچھ پہلے ایک لڑکی کا بھائی اسے لینے آیا۔ دوسری کی ماں سیڑھیوں کے نیچے سے آواز دیتی رہی۔ لڑکیاں ایک ایک کرکے جانے لگیں۔ کوئی انگلیوں سے گوند کھرچتی، کوئی ٹفن اٹھاتی، کوئی جاتے ہوئے دفتر کے شیشے کی طرف دیکھتی، مگر خدا حافظ نہیں کہتی تھی۔
صرف نسرین رہ گئی۔
نسرین سترہ برس کی تھی۔ اس کے بالوں میں اکثر سفید دھاگے پھنسے رہتے۔ وہ ہر تھوڑی دیر بعد سر کھجاتی اور دھاگا فرش پر گرا دیتی۔ اس دن اسے اپنے چھوٹے بھائی کی اسکول فیس کے لیے پیشگی رقم چاہیے تھی۔
مغرب کی اذان کے بعد وہ خود دفتر کے دروازے پر گئی۔
’’ماسٹر صاحب، وہ ایڈوانس۔۔۔‘‘
’’اندر آؤ۔‘‘
وہ اندر گئی تو دروازہ کھلا رہا۔ ماسٹر بشیر نے نیلی کاپی اس کے سامنے رکھی۔ نسرین کھڑی کھڑی کچھ کہتی رہی۔ پھر ماسٹر نے میری طرف دیکھا اور دروازہ بند کر دیا۔
شازیہ نے مجھے اپنے قریب کھینچ لیا۔
’’چلو کھانا کھاتے ہیں۔‘‘
’’مجھے بھوک نہیں۔‘‘
’’پھر بھی۔‘‘
اس نے بریانی کا ڈبا میرے سامنے رکھا۔ میرے حصے میں گوشت کی ایک بوٹی تھی جس سے سفید ہڈی نکلی ہوئی تھی۔ میں نے چاولوں میں چمچ گھمایا۔
دفتر کے اندر سے نسرین کی آواز آئی:
’’اتنے نہیں۔۔۔‘‘
باقی جملہ سنائی نہیں دیا۔
شازیہ نے ڈبے کا ڈھکن بند کر دیا۔
’’کھانا کیوں بند کیا؟‘‘
اس نے جواب نہیں دیا۔
استری پھر گڑگڑائی۔ آپاں رخسانہ اس کے سامنے کھڑی تھیں، مگر ان کے ہاتھ کپڑے پر ساکت تھے۔ بھاپ نکل کر ہوا میں ٹھہر گئی۔
نسرین باہر آئی تو اس کے بالوں میں سفید دھاگہ نہیں تھا۔ ایک آستین کہنی تک چڑھی ہوئی تھی۔ وہ اسے کھینچ کر نیچے کرتی رہی۔ اس نے کسی کی طرف نہیں دیکھا۔
’’پیسے مل گئے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
شازیہ نے فوراً میرا منہ ہاتھ سے ڈھانپ دیا۔
نسرین اپنے اڈے کے پاس بیٹھ گئی۔ اس کی انگلی میں سوئی چبھی تو خون کا قطرہ کپڑے پر گر گیا۔ آپاں رخسانہ دوڑ کر آئیں۔ انہوں نے کپڑے پر تھوک لگایا اور ناخن سے سرخ نشان رگڑنے لگیں۔
’’یہ نہیں نکلے گا‘‘، نسرین نے کہا۔
’’ٹھنڈے پانی سے نکل جائے گا۔‘‘
’’نہیں نکلے گا۔‘‘
آپاں نے اس کی آستین سیدھی کی۔ پھر اس کے دوپٹے کا ایک کنارہ اٹھا کر دوسرے کندھے پر رکھا۔
نسرین کا بھائی نیچے انتظار کر رہا تھا۔ وہ اپنا تھیلا اٹھا کر چلی گئی۔
ماسٹر بشیر دروازے کے پاس کھڑا بولا:
’’کل آدھا گھنٹہ پہلے آنا۔ ایڈوانس کام سے نکلتا ہے، باتوں سے نہیں۔‘‘
نسرین نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔
اندھیرا ہونے کے بعد ہال میں صرف ہم چار رہ گئے: اماں، شازیہ، آپاں رخسانہ اور میں۔
ماسٹر نے نیچے گودام سے مال نکلوانے کے لیے آپاں رخسانہ کو بلایا۔ آپاں نے تالوں کا گچھا اٹھایا۔ اماں بھی کپڑوں کی گنتی کرانے ان کے ساتھ چلی گئیں۔
’’آدھے گھنٹے کی بات ہے‘‘، آپاں رخسانہ نے کہا۔
جاتے ہوئے انہوں نے شازیہ کو دیکھا۔ پھر دفتر کو دیکھا۔ ان کے ہونٹ ہلے، مگر آواز نہ نکلی۔
سیڑھیوں کے دروازے پر پہنچ کر وہ واپس مڑیں۔ استری کا تار سوئچ سے نکالا۔ پھر کچھ سوچ کر دوبارہ لگا دیا۔
’’گلا مکمل کرنا ہے‘‘، انہوں نے کہا۔
ان کے جانے کے بعد ہال بہت بڑا ہوگیا۔ پنکھوں کی آواز دیواروں سے ٹکرا کر لوٹنے لگی۔ نیچے بازار کے شٹر ایک ایک کرکے گرتے تھے۔ ہر شٹر کے ساتھ فرش ہلتا تھا۔
شازیہ اڈے پر جھکی ہوئی تھی۔ وہ سبز پتھر کو غلط جگہ ٹانک بیٹھی۔ اسے فوراً اتارا اور پھر اسی جگہ لگا دیا۔
دفتر کا دروازہ کھلا۔
ماسٹر بشیر باہر آیا۔ اس کے ہاتھ میں نیلی کاپی تھی۔
’’شازیہ، اپنا حساب دیکھ لو۔‘‘
شازیہ کے ہاتھ رک گئے۔
’’اماں آ جائیں تو۔‘‘
’’اجرت تمہاری ہے یا تمہاری ماں کی؟‘‘
’’وہ بس آنے والی ہیں۔‘‘
ماسٹر نے گھڑی دیکھی۔
’’دو منٹ لگیں گے۔‘‘
یہی بات اس نے نسرین سے بھی کہی تھی یا شاید نہیں کہی تھی۔ مجھے یاد نہیں تھا۔ بعض جملے ایک بار سنائی دیتے ہیں، مگر لگتا ہے وہ پہلے بھی کہے جا چکے ہیں۔
’’گلا مکمل نہیں ہوا‘‘، میں نے کہا۔
ماسٹر نے مجھے دیکھا۔
’’تم کون ہو؟‘‘
’’اس کی بہن۔‘‘
’’خالہ زاد ہے‘‘، شازیہ نے آہستہ سے کہا۔
’’خالہ زاد کو موتی گننے دو۔ تم اندر آؤ۔‘‘
وہ دفتر میں چلا گیا۔ دروازہ کھلا چھوڑ دیا۔
شازیہ نے سوئی کپڑے میں گاڑ دی۔ وہ اٹھی تو اس کے پاؤں کے پاس دھاگے کی ریل لڑھک گئی۔ ریل گھومتی ہوئی استری کی میز کے نیچے چلی گئی۔
میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
’’مت جاؤ۔‘‘
اس نے میری طرف دیکھا۔
’’کیوں؟‘‘
میں جواب نہ دے سکی۔ میں نے سلمیٰ کا ٹیڑھا دوپٹہ، نسرین کی چڑھی ہوئی آستین اور آپاں رخسانہ کی خاموش انگلیاں یاد کیں۔ لیکن وہ تینوں چیزیں میرے ذہن میں الگ الگ پڑی تھیں۔ ان کے درمیان کوئی دھاگا نہیں تھا۔
’’مجھے موتی گننے نہیں آتے‘‘، میں نے کہا۔
’’آتے ہیں۔‘‘
’’میں انچاس پر بھول جاتی ہوں۔‘‘
’’پھر دوبارہ گن لینا۔‘‘
وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر دفتر میں چلی گئی۔
دروازہ بند ہوگیا۔
دودھیا شیشے کے اوپر شازیہ کا سر دکھائی دیتا رہا۔ وہ دروازے کے قریب کھڑی تھی۔ ماسٹر میز کے پیچھے بیٹھا۔ پھر اس نے کرسی پیچھے کی۔ اس کا سر شیشے کے اوپر سے غائب ہوگیا۔
شازیہ وہیں کھڑی رہی۔
ماسٹر نے کچھ کہا۔
شازیہ کا سر ہلا۔
پھر اس کا سر بھی آہستہ آہستہ دودھیا شیشے کے پیچھے نیچے چلا گیا۔
میں نے موتی گننے شروع کیے۔
ایک، دو، تین، چار۔
دفتر کے اندر کرسی کھسکی۔
پانچ، چھ، سات۔
شیشے پر کوئی چیز لگی۔
آٹھ، نو۔
شازیہ نے کہا، ’’اماں آنے والی ہیں۔‘‘
دس۔
ماسٹر نے آہستہ سے کچھ کہا۔
گیارہ، بارہ، تیرہ۔
پھر کوئی آواز نہیں آئی۔
میں انچاس تک پہنچے بغیر گنتی بھول گئی۔
استری نے سانس لی۔
وہ میز پر اکیلی پڑی تھی۔ اس کے پیچھے سرخ بٹن دبا ہوا تھا۔ بھاپ سرخ جوڑے کے دامن پر پھیلتی رہی۔ پہلے کپڑا گہرا ہوا، پھر سنہری تار سکڑنے لگی۔ ایک سبز پتھر اپنی جگہ سے مڑا۔ جلے ہوئے کلف کی بو اٹھی۔
میں اٹھی اور دفتر کی طرف گئی۔
دودھیا شیشے کے نیچے ایک سیاہ جوتا دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے سامنے شازیہ کی چپل کا آدھا کنارہ تھا۔
میں نے دروازے کا دستہ پکڑا۔ وہ اندر سے بند تھا۔
’’آپا؟‘‘
اندر خاموشی ہوگئی۔
’’آپا، استری سانس لے رہی ہے۔‘‘
ماسٹر کی آواز آئی:
’’جا کر بیٹھو۔‘‘
’’کپڑا جل جائے گا۔‘‘
’’شازیہ ابھی آتی ہے۔‘‘
دھواں بڑھ گیا۔
’’آپا!‘‘
میں میز کی طرف دوڑی۔ استری کا دستہ پکڑنا چاہا تو میری انگلی اس کی گرم دھات سے چھو گئی۔ میں چیخی۔ ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔
دفتر کا دروازہ فوراً کھلا۔
شازیہ سب سے پہلے باہر آئی۔ اس کا دوپٹہ ایک کندھے سے اترا ہوا تھا۔ قمیص کا اوپر والا بٹن کھلا تھا۔ اس کے بالوں کی ایک لٹ ہونٹ کے ساتھ چپکی ہوئی تھی۔
اس نے استری اٹھائی۔
سرخ کپڑے پر کالا، چمکتا ہوا نشان پڑ چکا تھا۔ سنہری بیل درمیان سے پگھل گئی تھی۔ دو سبز پتھر ٹیڑھے ہو کر کالے کنارے میں دھنس گئے تھے۔
ماسٹر بشیر اس کے پیچھے کھڑا تھا۔
’’یہ کیا کیا تم نے؟‘‘
شازیہ نے استری سیدھی کھڑی کر دی۔
’’میں اندر تھی۔‘‘
’’بٹن کس نے دبایا تھا؟‘‘
شازیہ نے جواب نہیں دیا۔
’’یہ خود تو نہیں چلتی۔‘‘
میں نے اپنی جلی ہوئی انگلی منہ میں ڈال رکھی تھی۔
’’یہ خود سانس لے رہی تھی‘‘، میں نے کہا۔
ماسٹر نے مجھے دیکھا۔
’’بچوں کو مشینوں کے پاس کون بٹھاتا ہے؟‘‘
وہ شازیہ کی طرف مڑا۔
’’پورا دامن خراب کر دیا۔ قیمت جانتی ہو؟‘‘
شازیہ نے اپنے کھلے بٹن کو بند کرنے کی کوشش کی۔ انگلیاں پھسلتی رہیں۔
ماسٹر نے سرخ کپڑا اٹھا کر اس کی طرف پھینکا۔ جلا ہوا حصہ اس کے سینے سے لگا اور فرش پر گر گیا۔
’’نقصان تمہاری اجرت سے کٹے گا۔‘‘
شازیہ نے بٹن چھوڑ دیا۔
وہ جھکی اور جلا ہوا دامن اٹھا کر گود میں رکھ لیا۔ کالے نشان کے کنارے سخت تھے۔ اس نے ناخن سے انہیں کھرچا۔ باریک سیاہ ذرے اس کی انگلیوں پر جم گئے۔
’’یہ دھل جائے گا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
اس نے سر ہلا دیا۔
’’اس کے اوپر پھول لگا دو‘‘، میں نے کہا، ’’جیسے آپاں نے سفید قمیص پر لگایا تھا۔‘‘
شازیہ نے میری طرف دیکھا۔
اس کی پلکیں آپس میں چپکی ہوئی تھیں۔
’’ہر نشان کے اوپر پھول نہیں آتا۔‘‘
اماں اور آپاں رخسانہ لوٹیں تو ہال میں جلے ہوئے کپڑے کی بو پھیلی تھی۔
آپاں نے دامن دیکھا۔ دونوں ہاتھ سر پر رکھ لیے، مگر کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے پہلے شازیہ کے کھلے بٹن کی طرف دیکھا، پھر دفتر کے دروازے کی طرف۔
ماسٹر بشیر باہر آگیا۔
’’اس نے استری لگا کر چھوڑ دی۔‘‘
’’یہ اندر تھی‘‘، میں نے کہا۔
کسی نے میری طرف نہیں دیکھا۔
’’اندر کیوں تھی؟‘‘ اماں نے پوچھا۔
’’حساب دیکھ رہی تھی‘‘، ماسٹر نے نیلی کاپی اٹھاتے ہوئے کہا، ’’صبح جانا ہے نا۔ سوچا رقم تیار کر دوں۔‘‘
آپاں رخسانہ نے شازیہ کا دوپٹہ اٹھا کر اس کے کندھے پر رکھا۔ ان کی انگلی شازیہ کی گردن سے چھوئی تو شازیہ پیچھے ہٹ گئی۔
آپاں کا ہاتھ ہوا میں رہ گیا۔
’’کتنا نقصان ہے؟‘‘ اماں نے پوچھا۔
’’گاہک بتائے گا۔‘‘
’’اس کی اجرت؟‘‘
’’صبح حساب ہوگا۔‘‘
شازیہ نے جلا ہوا کپڑا اڈے پر پھیلا دیا۔ آپاں رخسانہ نے کڑھائی کا ایک بڑا ٹکڑا نشان پر رکھ کر دیکھا۔ کالا کنارہ دونوں طرف سے باہر نکلا ہوا تھا۔
’’بڑا پھول لے آؤں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
آپاں نے میری طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں کے نیچے کی جلد ڈھیلی تھی۔
’’یہاں کوئی پھول نہیں آئے گا‘‘، انہوں نے کہا۔
رات ہمیں پیکنگ والے کمرے میں سلایا گیا۔ گتے کے ڈبوں، پلاسٹک کی تھیلیوں اور کپڑوں کے گٹھڑوں کے درمیان اماں نے دو چادریں بچھائیں۔
میں اماں اور شازیہ کے درمیان لیٹی۔ شازیہ نے دیوار کی طرف منہ کیا ہوا تھا۔ اس کی پیٹھ سیدھی تھی اور گھٹنے پیٹ تک کھنچے تھے۔
’’بٹن ٹوٹ گیا ہے؟‘‘ اماں نے پوچھا۔
’’ڈھیلا ہے۔‘‘
’’اپنے کپڑوں کا خیال رکھا کرو۔ اگلے مہینے شادی ہے۔‘‘
شازیہ خاموش رہی۔
’’کتنے پیسے بن رہے ہیں؟‘‘
’’صبح پتا چلے گا۔‘‘
’’حساب دیکھا تھا نا؟‘‘
شازیہ نے ہاتھ بڑھا کر میرا بازو پکڑ لیا۔ اس کی ہتھیلی ٹھنڈی اور گیلی تھی۔
’’سو جائیں‘‘، اس نے کہا۔
دروازے کے نیچے سے دفتر کی پیلی روشنی اندر آ رہی تھی۔ کبھی کیلکولیٹر کی ٹک ٹک سنائی دیتی، کبھی کرسی چرچراتی۔
میری انگلی جل رہی تھی۔ شازیہ نے اپنی قمیص کے دامن سے ایک دھاگا کھینچا اور میری انگلی کے گرد لپیٹ دیا۔
’’اب ہوا نہیں لگے گی۔‘‘
اس نے دھاگا اتنا کس دیا کہ انگلی کی پور نیلی پڑنے لگی۔
صبح ماسٹر بشیر نے ہمیں دفتر میں بلایا۔ میز پر نوٹوں کی چھوٹی سی گڈی تھی۔
’’چھ ہزار آٹھ سو۔‘‘
اماں نے رقم دیکھی۔
’’دو مہینوں کے بارہ ہزار تھے۔‘‘
’’چھٹیاں، کھانا، رہائش، پچھلا ایڈوانس اور جوڑے کا نقصان۔‘‘
’’رہائش کیسی؟ یہ تو لڑکیوں کے ساتھ ہال میں رہتی تھی۔‘‘
’’بجلی، پانی اور چائے مفت نہیں آتے۔‘‘
اماں نے نوٹ گننے شروع کیے۔
شازیہ دروازے کے قریب کھڑی رہی۔
’’جوڑے کا کتنا کاٹا؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’پورا نہیں کاٹا۔‘‘
ماسٹر بشیر نے مسکرا کر کہا:
’’تمہاری شادی ہے۔ رعایت کر دی۔‘‘
اس نے جالی والی ٹوپی سر پر رکھ لی۔
’’دعا دینا۔‘‘
آپاں رخسانہ دفتر کے باہر کھڑی تھیں۔ ان کے ہاتھ میں استری کا سرخ بٹن تھا۔ شاید وہ ٹوٹ کر نکل آیا تھا۔ وہ اسے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان گھما رہی تھیں۔
ہم سیڑھیوں سے اترنے لگے تو انہوں نے شازیہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔
’’گھر پہنچ کر کپڑے دھو لینا‘‘، انہوں نے کہا۔
شازیہ نے ہاتھ چھڑا لیا۔
آپاں کچھ دیر اسے دیکھتی رہیں۔ پھر سرخ بٹن اپنی مٹھی میں بند کر لیا۔
بازار ابھی پوری طرح نہیں کھلا تھا۔ شیشوں کے پیچھے دلہنوں کے سرخ جوڑے لٹکے تھے۔ ایک جوڑے پر اتنے موتی تھے کہ نیچے کا کپڑا دکھائی نہیں دیتا تھا۔
’’یہ جل جائے تو کیا کرتے ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
اماں نے میری طرف دیکھا۔
’’نیا لے آتے ہیں۔‘‘
’’پیسے نہ ہوں تو؟‘‘
انہوں نے جواب نہیں دیا۔ ان کے دوپٹے کے کونے میں بندھی رقم چلتے ہوئے ان کی ران سے ٹکراتی رہی۔
بس میں شازیہ کھڑکی کے ساتھ بیٹھی۔ میں اس کے برابر تھی۔ اماں اگلی نشست پر بیٹھ کر بار بار رقم کی گرہ ٹٹول رہی تھیں۔
شہر پیچھے ہٹنے لگا۔
میں نے آہستہ سے پوچھا،
’’سلمیٰ آپا کا دوپٹہ ٹیڑھا کیوں تھا؟‘‘
شازیہ نے باہر دیکھا۔
’’نسرین کی آستین بھی اوپر تھی۔‘‘
اس نے شیشہ بند کر دیا۔
’’آپاں رخسانہ نے دونوں کے کپڑے ٹھیک کیے تھے۔‘‘
شازیہ نے میری جلی ہوئی انگلی اپنے ہاتھ میں لے لی۔
’’گھر جا کر رات کی کوئی بات نہیں کرنا۔‘‘
’’سلمیٰ والی بھی نہیں؟‘‘
’’کوئی بھی نہیں۔‘‘
’’اماں سے بھی نہیں؟‘‘
شازیہ نے اگلی نشست کی طرف دیکھا۔ دوپٹے میں بندھی رقم اماں کی گود پر پڑی تھی۔ ہر جھٹکے سے گرہ ذرا سی اچھلتی، پھر وہیں گر جاتی۔
شازیہ نے میری انگلی کے گرد بندھا دھاگا ایک چکر اور کس دیا۔
گھر پہنچے تو خالہ زبیدہ دروازے پر کھڑی تھیں۔
انہوں نے شازیہ کو سینے سے لگایا اور فوراً پوچھا:
’’رقم پوری ملی؟‘‘
اماں نے دوپٹے کی گرہ کھولی۔
’’جوڑا جل گیا تھا۔ نقصان کاٹ لیا۔‘‘
خالہ نے شازیہ کو دیکھا۔
’’تم سے جلا؟‘‘
شازیہ جوتے اتارتی رہی۔
’’اتنے نقصان کے بعد اس نے کچھ رقم دے دی، یہی بہت ہے‘‘، خالہ نے کہا۔
شازیہ کمرے میں چلی گئی۔
شام کو اس کا منگنی کا سوٹ نکالا گیا۔ ہلکے سبز رنگ کی قمیص تھی۔ گلے پر مشینی کڑھائی بنی تھی۔ اماں نے کہا استری کرنا ضروری ہے۔
ہماری استری بجلی والی نہیں تھی۔ اس میں کوئلے بھرے جاتے تھے۔ ابا نے صحن میں کوئلے سلگائے اور چمٹے سے اٹھا کر استری میں ڈال دیے۔
شازیہ چارپائی پر بیٹھی ناخن کاٹ رہی تھی۔ خالہ چوڑیاں گن رہی تھیں۔
اماں نے سبز قمیص تختے پر پھیلائی اور گرم استری گلے کے پاس رکھ دی۔ دھات کے اندر کوئلہ چٹخا۔ کپڑے سے ہلکا دھواں اٹھا۔
اماں نے فوراً استری اٹھائی۔
گلے کے نیچے چمک دار بھوری لکیر بن گئی تھی۔
’’گرمی زیادہ تھی‘‘، اماں نے کہا۔
خالہ نے قمیص روشنی میں دیکھی۔
’’دوپٹہ اوپر رہے گا تو نظر نہیں آئے گی۔‘‘
’’دھو دوں؟‘‘
’’پھیل جائے گی۔ رہنے دو۔‘‘
انہوں نے قمیص شازیہ کی طرف بڑھائی۔
’’دیکھ لو۔ چھپ جائے گا۔‘‘
شازیہ ناخن کاٹتی رہی۔ ایک ناخن گوشت کے بہت قریب سے کٹ گیا۔ خون کا چھوٹا سا قطرہ نکلا۔ اس نے انگلی منہ میں رکھ لی۔
’’دیکھ تو لو‘‘، خالہ نے پھر کہا۔
شازیہ نے قمیص کی طرف دیکھے بغیر سر ہلا دیا۔
اگلی صبح اماں نے میری اسکول کی قمیص دھو کر دھوپ میں سکھائی۔ دوپہر تک کپڑا اکڑ گیا۔ انہوں نے کوئلے والی استری دوبارہ گرم کی۔
میں تختے کے پاس کھڑی تھی۔
اماں نے کالر سیدھا کیا اور استری اس پر رکھ دی۔
دھات کے اندر کوئلہ چٹخا۔
میں پیچھے ہٹ گئی۔
’’کیا ہوا؟‘‘ اماں نے پوچھا۔
’’اسے اٹھاؤ۔‘‘
’’ابھی تو رکھی ہے۔‘‘
’’یہ سانس لے گی۔‘‘
اماں ہنسیں۔
’’کوئلے کی استری سانس نہیں لیتی۔‘‘
انہوں نے استری کالر سے نیچے سرکائی۔
سوراخوں سے دھواں نکلا اور کلف کی بو کمرے میں پھیل گئی۔
دروازے میں شازیہ کھڑی تھی۔ اس نے سبز منگنی کا سوٹ سینے سے لگا رکھا تھا۔ بھوری لکیر اس کے گلے کے عین نیچے آتی تھی۔
اماں نے استری اٹھائی۔
میری سفید قمیص پر کالر کے نیچے کپڑا بھورا ہو کر سکڑ گیا تھا۔
شازیہ نے اپنے گلے کا بند بٹن چھوا۔
استری کے اندر کوئلہ دیر تک چٹختا رہا۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.