Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سرخ حاشیے

محمد عامر حسینی

سرخ حاشیے

محمد عامر حسینی

MORE BYمحمد عامر حسینی

    بارش اس روز جامعہ کی پرانی عمارتوں پر اس طرح گر رہی تھی جیسے کسی نے شہر کی ساری مٹی کو ایک ہی رات میں دھو ڈالنے کا فیصلہ کر لیا ہو۔ اشاعتی مرکز کے عقبی دروازے پر کھڑا ٹرک بھیگ رہا تھا اور اس کے اندر کتابوں کے چھیالیس ڈبے اپنی واپسی کا انتظار کر رہے تھے۔

    ہر ڈبے پر سفید کاغذ کی ایک پرچی چسپاں تھی،

    ’’اشاعت عارضی طور پر معطل۔ صنفی سلامتی کی سند منسوخ۔‘‘

    مہرالنساء نے پہلے ڈبے کا کنارہ پکڑا تو گیلا گتّا اس کی انگلیوں کے نیچے دب گیا۔ اس نے ہاتھ فوراً پیچھے کھینچ لیا۔ اندر کی کتابیں اگر بھیگ جاتیں تو الزام اسی پر آتا۔ اس عمارت میں کاغذ ہمیشہ آدمی سے زیادہ قیمتی سمجھا جاتا تھا، سوائے اس وقت کے جب آدمی کسی بڑے ادیب کا مخطوطہ ہو۔

    ’’احتیاط سے‘‘، اوپر برآمدے سے آواز آئی۔

    ڈاکٹر سائرہ ندیم سیڑھیوں کے سرے پر کھڑی تھیں۔ سیاہ چھتری بند کرکے انہوں نے دروازے کے ساتھ ٹکا دی تھی۔ ان کے بالوں کی چند لٹیں بارش کی نمی سے ماتھے پر چپکی ہوئی تھیں، مگر کپڑے، فائل اور آواز تینوں اپنی جگہ خشک تھے۔

    مہرالنساء نے جواب نہیں دیا۔ وہ جانتی تھی، احتیاط کا حکم ہمیشہ اس شخص کو دیا جاتا ہے جو وزن اٹھا رہا ہو۔

    دو مزدوروں نے ڈبا اندر رکھا۔ گتے کی تہہ فرش سے رگڑی تو ایسی آواز نکلی جیسے کسی نے دیوار پر ناخن پھیر دیا ہو۔ سائرہ نے بے اختیار گردن موڑی۔ اشاعتی مرکز کے داخلی ہال میں دیوار بھر اونچی الماریوں کے شیشوں کے پیچھے وہ کتابیں سجی تھیں جنہیں جامعہ اپنی تہذیبی خدمت کہا کرتی تھی۔ بعض کے مصنف زندہ تھے اور ہر سال اپنا تعارف نئے سرے سے لکھواتے تھے۔ بعض مر چکے تھے اور ان کے وارث ان کے نام کے گرد دیوار بنائے بیٹھے تھے۔

    واپس آنے والی کتاب بھی ایک مردہ ادیب کی تھی۔

    دھوپ کے بند کمرے

    فرید مسعود کا غیر مطبوعہ ناول

    سرورق پر ایک دروازہ بنا تھا جس کے نیچے سے روشنی کی باریک لکیر نکل رہی تھی۔ چھپائی سے پہلے یہ تصویر سب کو پسند آئی تھی۔ اب وہی دروازہ کسی تفتیشی کمرے کا دروازہ معلوم ہوتا تھا۔

    سائرہ نے ایک نسخہ ڈبے سے نکالا۔ کتاب کے گرد شفاف پلاسٹک ابھی موجود تھا۔ انہوں نے ناخن سے پلاسٹک چاک کیا اور ابتدائی صفحات تیزی سے پلٹے۔ تیسرے صفحے پر ان کا اپنا نام تھا،

    صنفی و اخلاقی مطالعہ: ڈاکٹر سائرہ ندیم

    نام کے نیچے نیلی مہر ثبت تھی،

    متن تدریس اور عام اشاعت کے لیے موزوں ہے۔

    اس مہر پر سرخ سیاہی سے ایک ترچھی لکیر کھینچ دی گئی تھی۔

    مہرالنساء نے کتاب ان کے ہاتھ میں دیکھ کر نظریں جھکا لیں۔

    ’’کس نے واپسی وصول کی؟‘‘ سائرہ نے پوچھا۔

    ’’میں نے۔‘‘

    ’’رپورٹ کہاں ہے؟‘‘

    ’’آپ کی میز پر رکھ دی ہے۔‘‘

    ’’کسی نے ڈبے کھولے؟‘‘

    ’’نہیں۔‘‘

    سائرہ نے اسے دیکھا۔ ’’یہ پلاسٹک؟‘‘

    ’’وہ نسخہ الگ آیا تھا۔ شکایت کرنے والی طالبہ نے بھیجا ہے۔‘‘

    سائرہ کے ہاتھ میں کتاب کچھ ہلکی پڑ گئی۔

    ’’نام؟‘‘

    ’’رپورٹ میں ہے۔‘‘

    ’’تم نے پڑھی؟‘‘

    ’’رپورٹ میرے پاس اندراج کے لیے آئی تھی۔‘‘

    یہ جواب تھا بھی اور نہیں بھی۔

    سائرہ کتاب لے کر اپنے کمرے کی طرف چل دیں۔ ان کے جوتوں کے نیچے فرش پر بارش کے چھوٹے چھوٹے نشانات بنتے گئے۔ مہرالنساء نے کچھ دیر انہیں جاتے دیکھا، پھر اگلا ڈبا اٹھانے کے لیے جھک گئی۔

    اسے یاد آیا، تین ماہ پہلے یہی کتاب پہلی بار مرکز میں آئی تھی تو کسی نے اس پر ہاتھ رکھنے سے پہلے دستانے پہنے تھے۔ فرید مسعود کی وفات کو ستائیس برس ہو چکے تھے۔ ناول ان کے بیٹے کے گھر کی ایک بند الماری سے ملا تھا۔ ہاتھ سے لکھے ہوئے سات سو سے زیادہ صفحات، سیاہی کے دو رنگ، کئی جگہ کٹے ہوئے جملے اور حاشیوں میں باریک نسوانی خط۔

    ادبی دنیا نے مخطوطہ ملنے سے پہلے ہی اسے شاہکار کہنا شروع کر دیا تھا۔

    سائرہ نے اپنے کمرے کا دروازہ بند کیا اور شکایتی رپورٹ کھولی۔

    طالبہ کا نام زینب رؤف تھا۔ شعبۂ اردو میں ایم فل کی طالبہ۔ اس کا تحقیقی موضوع تھا، ’’بعد از تقسیم شہری ناول میں عورت کی خاموشی‘‘۔ اس نے لکھا تھا کہ ناول کے مطالعے کے دوران ایک مخصوص باب نے اس میں شدید اضطراب پیدا کیا۔ باب میں ایک پندرہ سالہ گھریلو ملازمہ کو گھر کا ادھیڑ عمر مالک رات کے وقت اپنے کمرے میں بلاتا ہے۔ واقعہ مکمل طور پر بیان نہیں ہوتا، مگر اگلی صبح لڑکی کے چلنے، بیٹھنے اور پانی سے خوف کھانے کی کیفیت پیش کی گئی ہے۔ راوی اس مرد کے جملوں کو طنز، خود فریبی اور مذہبی تبرک کے ساتھ نقل کرتا ہے، مگر متن میں لڑکی کا نام صرف ایک بار آتا ہے۔

    طالبہ نے لکھا تھا،

    ’’یہ سوال نہیں کہ ناول میں جنسی تشدد کیوں دکھایا گیا۔ سوال یہ ہے کہ لڑکی کی تکلیف مرد کردار کی نفسیاتی گہرائی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوئی، جبکہ اس کا اپنا وجود ایک بند دروازے کے پیچھے چھوڑ دیا گیا۔‘‘

    نیچے ایک اور سطر تھی،

    ’’اشاعتی مرکز کی صنفی سلامتی کی سند نے اس خاموشی کو ادبی طور پر محفوظ قرار دے دیا ہے۔‘‘

    سائرہ نے کاغذ میز پر رکھ دیا۔

    کمرے میں کھڑکی کے پاس رکھی برقی کیتلی سے ہلکی سی سیٹی نکل رہی تھی۔ وہ اٹھیں، پلگ بند کیا، مگر چائے نہیں بنائی۔ میز پر ناول کا وہ نسخہ پڑا تھا جس پر ان کے دستخط تھے۔ انہوں نے صفحہ ۲۸۷ کھولا۔

    وہ باب انہیں یاد تھا۔

    انہوں نے اسے تین بار پڑھا تھا۔ پہلی بار معمول کے مطابق، دوسری بار بطور صنفی ممتحن، تیسری بار اس خوف کے ساتھ کہ کہیں دوسری قرأت پہلی سے مختلف نہ نکل آئے۔

    باب میں مالک مکان کی آواز اتنی نفرت انگیز تھی کہ سائرہ کو یقین ہوا تھا، مصنف اس کے اندر چھپی غلاظت بے نقاب کر رہا ہے۔ اس مرد کے مذہبی جملوں، اس کی نرمی، ہاتھ دھونے اور بیوی کے سامنے معمول کی گفتگو میں جو تضاد تھا، وہ کسی بھی اخلاقی قاری کو اس کے خلاف کھڑا کر دیتا تھا۔ سائرہ نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا،

    ’’متن جنسی تشدد کو نہ تو رومانوی بناتا ہے، نہ اس کی اخلاقی تطہیر کرتا ہے۔ متاثرہ لڑکی کی خاموشی اس عہد کی طبقاتی اور صنفی بے زبانی کی علامت ہے۔‘‘

    اب یہی جملہ انہیں اپنے کمرے کی دیوار پر لکھا ہوا محسوس ہوا۔

    خاموشی علامت تھی، یا مصنف کی سہولت؟

    انہوں نے کتاب کے حاشیے دیکھے۔ مطبوعہ نسخے میں حاشیے شامل نہیں کیے گئے تھے۔ مخطوطے کی تدوین کے دوران انہیں ’’غیر متعلق گھریلو نوٹس‘‘ قرار دے کر الگ کر دیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ مدیر عارف کمال نے کیا تھا، اور سائرہ نے اس وقت اعتراض نہیں کیا تھا۔

    دروازہ کھٹکا۔

    عارف کمال اندر آئے۔ ان کی عمر ستر کے قریب تھی، مگر وہ اپنی پشت اس طرح سیدھی رکھتے تھے جیسے عمر کو بھی ادارے کے ضابطے کے مطابق چلنا چاہیے۔ سفید بال، پتلی گردن، سرمئی واسکٹ اور ہاتھ میں چمڑے کا فولڈر۔ وہ چالیس برس سے مدیر تھے اور پچھلے دس برس سے یہ کہتے آ رہے تھے کہ اب نئے لوگوں کو آگے آنا چاہیے، بشرطیکہ نئے لوگ ان کی طرح سوچتے ہوں۔

    ’’تو کتاب واپس آگئی‘‘، انہوں نے کرسی کھینچتے ہوئے کہا۔

    ’’آپ کو خبر تھی؟‘‘

    ’’صبح ناشر کا فون آیا تھا۔ آپ نے اٹھایا نہیں۔‘‘

    ’’میں راستے میں تھی۔‘‘

    ’’انہوں نے کہا ہے، جب تک کمیٹی دوبارہ جائزہ نہیں لیتی، ترسیل بند رہے گی۔‘‘

    سائرہ نے شکایت ان کی طرف بڑھا دی۔

    عارف نے عینک لگائی، صفحہ پڑھا، پھر بہت آہستہ کاغذ میز پر رکھ دیا۔

    ’’طالب علم اب کتاب نہیں پڑھتے، اپنا زخم پڑھتے ہیں۔‘‘

    ’’بعض اوقات کتاب ہی زخم کھولتی ہے۔‘‘

    ’’کھولنا اور پیدا کرنا الگ چیزیں ہیں۔‘‘

    ’’سند دینے والے کے لیے یہ فرق ہمیشہ اتنا آسان نہیں ہوتا۔‘‘

    عارف نے انہیں دیکھا۔ ’’آپ اپنی رپورٹ واپس لینا چاہتی ہیں؟‘‘

    سائرہ نے فوراً جواب نہیں دیا۔

    ’’میں رپورٹ دوبارہ دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘

    ’’وہی بات ہے۔‘‘

    ’’نہیں۔‘‘

    ’’اداروں میں اکثر نہیں اور ہاں کے درمیان صرف زبان کا فرق ہوتا ہے۔ نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے۔‘‘

    سائرہ نے کرسی کی پشت سے ٹیک ہٹا لی۔

    ’’مخطوطے کے حاشیے کہاں ہیں؟‘‘

    عارف کے چہرے پر کوئی واضح تبدیلی نہیں آئی، مگر ان کے ہاتھ نے فولڈر کا کنارہ کچھ زیادہ مضبوطی سے تھام لیا۔

    ’’آرکائیو میں۔‘‘

    ’’مطبوعہ متن میں کیوں شامل نہیں کیے گئے؟‘‘

    ’’کیونکہ وہ ناول کا حصہ نہیں تھے۔‘‘

    ’’یہ کیسے طے ہوا؟‘‘

    ’’تحریر، سیاہی، زبان اور جگہ سے۔‘‘

    ’’کس نے طے کیا؟‘‘

    ’’میں نے۔ یہی میرا کام تھا۔‘‘

    ’’وہ کس کے لکھے ہوئے تھے؟‘‘

    عارف نے عینک اتار دی۔

    ’’گھریلو یادداشتیں، خریداری کے حساب، بچوں کی دوائی، مہمانوں کی فہرست۔ غالباً فرید صاحب کی اہلیہ کے۔‘‘

    ’’غالباً؟‘‘

    ’’ستائیس سال پرانے مخطوطے میں ہر لفظ کا نکاح نامہ نہیں ملتا۔‘‘

    سائرہ نے طالبہ کی رپورٹ دوبارہ اٹھائی۔

    ’’اس باب کے حاشیے میں کیا تھا؟‘‘

    ’’مجھے یاد نہیں۔‘‘

    سائرہ نے پہلی مرتبہ ان کی آواز میں جلدی محسوس کی۔

    ’’آپ کو سات سو صفحات کی ترتیب یاد ہے، ہر باب کا ابتدائی اور آخری جملہ یاد ہے، لیکن اسی باب کے حاشیے یاد نہیں؟‘‘

    عارف مسکرائے۔ ’’آپ مجھ پر مقدمہ چلا رہی ہیں؟‘‘

    ’’میں متن دوبارہ دیکھ رہی ہوں۔‘‘

    ’’متن شائع ہو چکا ہے۔‘‘

    ’’واپس بھی آ چکا ہے۔‘‘

    کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔

    عارف نے فولڈر کھولا۔ اس میں اخباروں کے تراشے تھے۔ ناول کی اشاعت کے اعلان، فرید مسعود کی ادبی عظمت، گم شدہ شاہکار کی بازیافت اور مرکز کی تاریخی خدمت کے عنوانات۔

    ’’آپ سمجھتی ہیں مسئلہ صرف ایک باب ہے؟‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’اس کتاب کے ساتھ تین سال کی محنت، جامعہ کا نام، ناشر کا سرمایہ، خاندان کی رضامندی اور ایک مردہ ادیب کی شہرت جڑی ہے۔‘‘

    ’’ایک زندہ طالبہ بھی۔‘‘

    ’’طالبہ کو کتاب بند کرنے کا حق تھا۔‘‘

    ’’ہمیں اسے محفوظ قرار دینے کا حق کس نے دیا؟‘‘

    عارف نے جھک کر میز پر پڑی نیلی مہر دیکھی۔

    ’’آپ نے خود۔‘‘

    سائرہ نے ان کی طرف دیکھا۔ اس ایک جملے میں الزام کم، حقیقت زیادہ تھی، اور حقیقت کا وزن ہمیشہ الزام سے زیادہ ہوتا ہے۔

    عارف اٹھ کھڑے ہوئے۔

    ’’حاشیے دیکھ لیجیے۔ لیکن یاد رکھیے، ہر حاشیہ متن نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی گھر کی عورتیں مصنف کے کاغذ پر صرف اس لیے لکھ دیتی ہیں کہ انہیں اپنا کاغذ میسر نہیں ہوتا۔‘‘

    وہ چلے گئے۔

    دروازہ بند ہونے کے بعد سائرہ نے دیر تک اس جملے کو سنا۔

    گھر کی عورتیں مصنف کے کاغذ پر لکھ دیتی ہیں۔

    یا مصنف گھر کی عورتوں کی زندگی پر؟

    آرکائیو عمارت کے تہہ خانے میں تھا جہاں موبائل فون کے اشارے ختم اور کاغذ کی بو گہری ہو جاتی تھی۔ مہرالنساء نے چابیوں کا حلقہ میز سے اٹھایا تو اس کے ساتھ بندھی پیتل کی چھوٹی تختی بجی۔

    ’’فرید مسعود، ذخیرہ نمبر سترہ‘‘، سائرہ نے کہا۔

    مہرالنساء نے انہیں دیکھا۔ ’’اصل مخطوطہ؟‘‘

    ’’اور الگ کیے گئے حاشیے۔‘‘

    وہ دونوں سیڑھیاں اترنے لگیں۔ دیواروں پر نمی کے پرانے دھبے تھے۔ ہر تیسرے زینے پر بلب جل رہا تھا، باقی دو زینے نیم تاریکی میں رہتے تھے۔ نیچے پہنچ کر مہرالنساء نے لوہے کا دروازہ کھولا۔ اندر ہوا سرد اور خشک تھی۔

    الماری نمبر سترہ کے سامنے وہ رک گئی۔

    ’’رجسٹر پر دستخط کریں۔‘‘

    سائرہ نے قلم اٹھایا۔

    رجسٹر میں آخری اندراج تین ماہ پرانا تھا۔ نام: عارف کمال۔ مقصد: حتمی موازنہ۔ واپسی کا وقت درج نہیں تھا۔

    ’’یہ خانہ خالی کیوں ہے؟‘‘

    ’’مجھے معلوم نہیں‘‘، مہرالنساء نے کہا۔

    ’’تم ریکارڈ رکھتی ہو۔‘‘

    ’’میں وہی لکھتی ہوں جو مجھے بتایا جائے۔‘‘

    یہ جملہ سائرہ کو صبح کے جواب کی طرح لگا، مگر اس بار اس میں تھکن زیادہ تھی۔

    الماری کھلی تو اندر سرمئی ڈبوں کی قطار تھی۔ ہر ڈبے پر سفید لیبل۔ مہرالنساء نے تیسرا ڈبا نکالا۔ اس میں مخطوطے کے صفحات پیلے لفافوں میں بند تھے۔ ایک اور پتلا ڈبا الگ رکھا تھا:

    غیر متنی مواد

    مہرالنساء نے اسے میز پر رکھا۔

    سائرہ نے ڈھکن اٹھایا۔

    اندر چھوٹے چھوٹے کاغذ، خریداری کی فہرستیں، دوا کے نسخے، بچوں کی فیس کی رسیدیں، کپڑے کے ناپ، باورچی خانے کا حساب اور بعض صفحات کی عکسی نقول تھیں جن کے کناروں پر سرخ سیاہی سے عبارت لکھی ہوئی تھی۔

    پہلا حاشیہ،

    ’’یہ آدمی وضو کے بعد ہاتھ بہت دیر تک دیکھتا ہے۔ شاید اسے یقین نہیں کہ پانی نے سب دھو دیا ہے۔‘‘

    سائرہ کے ہاتھ رک گئے۔

    یہ خریداری کا حساب نہیں تھا۔

    انہوں نے دوسرا صفحہ اٹھایا،

    ’’لڑکی کا نام سلیمۃ ہے۔ تم نے پھر اسے ’نوکرانی‘ لکھا ہے۔ نام لکھنے سے کردار خراب نہیں ہوتا۔ تمہاری سہولت خراب ہوتی ہے۔‘‘

    سائرہ نے مہرالنساء کی طرف دیکھا۔

    وہ پہلے ہی حاشیہ پڑھ چکی تھی۔ اس کے چہرے پر حیرت نہیں تھی۔

    تیسرا حاشیہ،

    ’’وہ اگلی صبح پانی سے نہیں ڈرتی۔ وہ اس کمرے سے گزرنے سے ڈرتی ہے جس میں سب جانتے ہیں اور کوئی نہیں جانتا۔‘‘

    چوتھا،

    ’’تم اس کے چلنے کا انداز لکھ سکتے ہو، اس کی آواز کیوں نہیں؟‘‘

    پانچواں،

    ’’میں نے اس سے بات کی ہے۔ تم نے نہیں۔‘‘

    سائرہ کی انگلیوں کے نیچے کاغذ لرزنے لگا۔

    ’’یہ کس نے لکھا؟‘‘

    مہرالنساء نے سرخ سیاہی کی طرف دیکھا۔ ’’فہرست میں ’اہلیہ کے گھریلو نوٹس‘ لکھا ہے۔‘‘

    ’’نام؟‘‘

    ’’رفعت جہاں۔‘‘

    ’’کیا وہ لکھتی تھیں؟‘‘

    ’’فہرست میں ان کا پیشہ درج نہیں۔‘‘

    سائرہ نے مزید کاغذ نکالے۔ بعض پر ناول کے جملوں کے متبادل تھے۔ کہیں کسی عورت کردار کا مکالمہ بڑھایا گیا تھا، کہیں مرد راوی کی تشریح کاٹنے کی تجویز تھی، کہیں صرف ایک سوالیہ نشان۔ بعض حاشیے غصے میں لکھے گئے تھے، بعض میں تحریر اتنی باریک تھی جیسے لکھنے والی کاغذ سے جگہ مانگ رہی ہو۔

    ایک صفحے پر فرید مسعود کا اصل جملہ تھا،

    ’’سلیمہ نے سر جھکا لیا، جیسے عورتیں ایسے وقت میں کرتی ہیں جب ان کے پاس کہنے کو کچھ نہ ہو۔‘‘

    سرخ حاشیہ،

    ’’عورتیں سر اس وقت بھی جھکاتی ہیں جب سننے والے کے پاس سننے کو کچھ نہ ہو۔‘‘

    مطبوعہ ناول میں اصل جملہ موجود تھا۔ حاشیہ غائب تھا۔

    ’’عارف صاحب نے یہ سب دیکھا تھا؟‘‘ سائرہ نے پوچھا۔

    ’’ہر صفحے کی الگ فہرست انہوں نے بنوائی تھی۔‘‘

    ’’کس سے؟‘‘

    ’’مجھ سے۔‘‘

    اب سائرہ نے مہرالنساء کو پوری طرح دیکھا۔

    ’’تم نے انہیں بتایا نہیں کہ یہ غیر متنی مواد نہیں؟‘‘

    مہرالنساء نے کاغذ واپس ترتیب سے رکھا۔

    ’’میں نے کہا تھا۔‘‘

    ’’انہوں نے کیا جواب دیا؟‘‘

    ’’کہ مدیر متن بچاتا ہے، گھریلو جھگڑے نہیں۔‘‘

    ’’تم نے مجھ سے کیوں نہیں کہا؟‘‘

    مہرالنساء کی آنکھیں پہلی بار سرد ہوئیں۔

    ’’آپ نے پوچھا نہیں۔‘‘

    ’’میں نے پوری فائل مانگی تھی۔‘‘

    ’’آپ کو وہ فائل دی گئی تھی جسے مکمل کہا گیا۔‘‘

    ’’اور تم جانتی تھیں کہ وہ مکمل نہیں۔‘‘

    ’’آپ بھی جانتی تھیں کہ کتاب ایک مرد کے نام سے آرہی ہے، جبکہ حاشیوں میں دوسری آواز ہے۔ آپ نے یہ نہیں پوچھا کہ دوسری آواز کس کی ہے۔‘‘

    سائرہ نے کچھ کہنا چاہا، مگر جملہ ان کے اندر ہی رہ گیا۔

    مہرالنساء نے دھیرے سے کہا، ’’اس عمارت میں لوگ مجھ سے ہر روز پوچھتے ہیں کہ کون سا ڈبا کہاں رکھا ہے۔ کبھی کسی نے نہیں پوچھا کہ ڈبے کے اندر کیا رہ گیا۔‘‘

    تہہ خانے کی سردی اچانک زیادہ محسوس ہونے لگی۔

    سائرہ نے ایک اور لفافہ کھولا۔ اس پر لکھا تھا،

    باب اٹھارہ، حذف شدہ صفحات

    اندر چار صفحات تھے۔ تحریر فرید مسعود کے ہاتھ کی تھی، مگر درمیان درمیان میں سرخ سیاہی سے جملے شامل تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے دو آدمی ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوں اور ایک دوسرے کے جملوں کے درمیان سانس لے رہے ہوں۔

    حذف شدہ حصے میں سلیمہ بولتی تھی۔

    وہ کسی عدالت میں بیان نہیں دے رہی تھی، نہ اپنی مصیبت کی مکمل داستان سنا رہی تھی۔ وہ باورچی خانے میں گھر کی بڑی بیٹی سے بات کر رہی تھی۔ آٹا گوندھتے ہوئے، چولہے کی آگ سے آنکھیں بچاتے ہوئے، عام جملوں میں۔ وہ کہتی تھی کہ اس گھر میں سب دروازے اندر کی طرف کھلتے ہیں، تاکہ باہر جانے والا پہلے ایک قدم پیچھے ہٹے۔ وہ ہنستی بھی تھی۔ ایک جگہ اس نے مالک مکان کے عربی تلفظ کی نقل اتاری تھی۔ دوسری جگہ اس نے کہا تھا کہ وہ اپنی اجرت سے نیلا دوپٹہ خریدے گی، ایسا نیلا جو اس گھر کی کسی دیوار پر نہ ہو۔

    حاشیے میں سرخ سیاہی سے لکھا تھا،

    ’’اسے صرف تکلیف نہ دو۔ اسے ذوق بھی دو۔ انسان صرف اپنے زخم سے نہیں بنتا۔‘‘

    سائرہ نے آخری صفحہ پلٹا۔

    نیچے فرید مسعود کی نیلی سیاہی،

    ’’یہ حصہ ناول کی سنجیدگی توڑ دیتا ہے۔‘‘

    اس کے نیچے سرخ جواب،

    ’’نہیں، یہ تمہاری سنجیدگی توڑتا ہے۔‘‘

    مہرالنساء نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا، ’’مطبوعہ نسخے میں یہ چاروں صفحے نہیں ہیں۔‘‘

    ’’مجھے معلوم ہے۔‘‘

    ’’اب معلوم ہے۔‘‘

    سائرہ نے اس کی طرف دیکھا۔ یہ لڑکی، جسے وہ ہمیشہ آرکائیو معاون کہتی تھیں، اس وقت انہیں کسی گواہ کی طرح نظر آرہی تھی۔ مگر گواہ بھی وہی بنتا ہے جسے عدالت بولنے دے۔

    ’’تم رفعت جہاں کے بارے میں کیا جانتی ہو؟‘‘

    ’’زیادہ نہیں۔‘‘

    ’’جو جانتی ہو، بتاؤ۔‘‘

    مہرالنساء نے ایک فائل نکالی۔

    ’’ان کی وفات فرید مسعود سے چھے سال پہلے ہوئی۔ تعلیمی اسناد میں بی اے۔ شادی سے پہلے دو کہانیاں ایک خواتین کے رسالے میں شائع ہوئیں۔ شادی کے بعد کوئی تحریر ان کے نام سے نہیں۔‘‘

    ’’وہ رسالے مل سکتے ہیں؟‘‘

    ’’ایک شمارہ یہاں ہے۔ دوسرے کا سراغ نہیں۔‘‘

    ’’کہانیاں کیسی ہیں؟‘‘

    مہرالنساء نے کندھے اچکائے۔ ’’آپ نقاد ہیں۔‘‘

    سائرہ کو پہلی بار اس کے لہجے میں طنز سنائی دیا۔

    ’’تم نے پڑھی ہیں؟‘‘

    ’’جی۔‘‘

    ’’اور؟‘‘

    ’’ان میں عورتیں بہت بولتی ہیں۔ شاید اسی لیے بعد میں انہیں گھر کے حاشیوں میں لکھنا پڑا۔‘‘

    اوپر کہیں دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔ تہہ خانے کی دیواریں ہلکی سی لرزیں۔

    سائرہ نے سرخ حاشیوں کا ڈبا بند نہیں کیا۔

    ’’یہ مواد کل کمیٹی کے سامنے جائے گا۔‘‘

    مہرالنساء نے فوراً کہا، ’’اصل؟‘‘

    ’’عکسی نقول۔‘‘

    ’’اصل یہاں رہیں گے۔‘‘

    ’’ضرور۔‘‘

    ’’اور رفعت جہاں کا نام؟‘‘

    سائرہ خاموش رہیں۔

    مہرالنساء نے کہا، ’’کتاب پر؟‘‘

    ’’اس کا فیصلہ تحقیق کے بعد ہوگا۔‘‘

    ’’تحقیق پہلے بھی ہوئی تھی۔‘‘

    ’’نام شامل کرنے کے لیے قانونی ثبوت چاہیے۔‘‘

    ’’نام حذف کرنے کے لیے کیا چاہیے تھا؟‘‘

    سائرہ نے اس بار جواب دیا۔

    ’’ایک مدیر کا یقین۔‘‘

    مہرالنساء نے سرخ حاشیوں پر ہاتھ رکھا۔ ’’اور واپس لانے کے لیے؟‘‘

    سائرہ نے ڈبے کے اندر رکھے اس جملے کو دیکھا،

    اسے صرف تکلیف نہ دو۔ اسے ذوق بھی دو۔

    ’’شاید ایک مدیر کا یقین کافی نہیں ہوگا‘‘، انہوں نے کہا۔

    اگلی صبح کمیٹی کا اجلاس شیشے کی دیواروں والے کمرے میں ہوا۔ باہر راہداری سے ہر شخص انہیں دیکھ سکتا تھا، مگر اندر کی آواز باہر نہیں جاتی تھی۔ جامعہ نے اس کمرے کو شفافیت کی علامت کے طور پر بنوایا تھا۔ شیشے کے پیچھے لوگ اکثر زیادہ احتیاط سے جھوٹ بولتے تھے۔

    میز کے ایک سرے پر سائرہ، دوسرے پر عارف کمال بیٹھے تھے۔ درمیان میں شعبۂ نفسیات کی ڈاکٹر ناہید، قانون کے استاد ڈاکٹر فواد، ناشر کا نمائندہ اور طلبہ کی منتخب رکن زینب رؤف۔

    زینب بہت کم عمر دکھائی دیتی تھی، شاید اس لیے کہ اس کے سامنے سب لوگ اپنے عہدوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ اس کے بال سادہ چوٹی میں بندھے تھے، میز پر نوٹس کی جگہ ناول کا نشان زدہ نسخہ تھا۔

    مہرالنساء دیوار کے قریب اضافی کرسی پر بیٹھی تھی۔ سرکاری فہرست میں اسے ’’ریکارڈ معاون‘‘ لکھا گیا تھا۔

    عارف نے اجلاس شروع ہوتے ہی کہا، ’’ہمیں دو مختلف مسائل الگ رکھنے ہوں گے۔ ایک طالبہ کی نفسیاتی تکلیف، دوسرا ایک ادبی متن کی حیثیت۔‘‘

    زینب نے فوراً سر اٹھایا۔

    ’’میری شکایت نفسیاتی علاج کی درخواست نہیں۔‘‘

    ’’میں نے ایسا نہیں کہا۔‘‘

    ’’آپ نے میری قرأت کو میری تکلیف میں بدل دیا۔‘‘

    ڈاکٹر ناہید نے قلم میز پر رکھا۔

    ’’کسی متن سے تکلیف ہونا اس قرأت کو کم معتبر نہیں بناتا، لیکن تکلیف اپنے آپ میں ادبی فیصلہ بھی نہیں۔‘‘

    زینب نے کہا، ’’میں نے پابندی کا مطالبہ نہیں کیا۔ میں نے پوچھا تھا، مرکز نے اسے محفوظ کس بنیاد پر کہا۔‘‘

    سائرہ نے اپنی رپورٹ کا صفحہ کھولا۔

    ’’یہ سوال درست ہے۔‘‘

    عارف نے ان کی طرف دیکھا۔

    سائرہ نے سرخ حاشیوں کی عکسی نقول میز پر رکھ دیں۔

    ’’یہ مواد اصل مخطوطے سے الگ کیا گیا تھا۔‘‘

    عارف نے فوراً کہا، ’’کیونکہ یہ مصنف کے متن کا حصہ نہیں۔‘‘

    ’’اس کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔‘‘

    ’’تحریر مختلف ہے۔‘‘

    ’’مگر متن سے براہِ راست مکالمہ کرتی ہے۔‘‘

    ’’ہر حاشیہ تصنیف نہیں ہوتا۔‘‘

    ’’ہر حذف بھی تدوین نہیں ہوتا۔‘‘

    کمرے میں پہلی بار مکمل خاموشی ہوئی۔

    زینب نے پہلا حاشیہ پڑھا۔ اس کی انگلی دوسرے صفحے پر رکی، جہاں لکھا تھا، ’’لڑکی کا نام سلیمۃ ہے۔‘‘

    اس نے بہت آہستہ کہا، ’’یہی تو میں کہہ رہی تھی۔‘‘

    عارف نے اس کی طرف دیکھا۔

    ’’آپ وہ بات کہہ رہی تھیں جو کسی اور نے پہلے لکھی۔ اس سے آپ کی قرأت مضبوط ہوتی ہے، لیکن ناول کی ملکیت تبدیل نہیں ہوتی۔‘‘

    ’’ملکیت؟‘‘ زینب نے پوچھا۔

    ’’ادبی ملکیت۔‘‘

    ’’کیا آواز بھی ملکیت ہوتی ہے؟‘‘

    ’’قانون میں ہوتی ہے‘‘، ڈاکٹر فواد نے مداخلت کی۔ ’’اگر رفعت جہاں نے صرف تدوینی مشورے دیے تو شریک مصنفہ نہیں۔ اگر انہوں نے بڑے حصے لکھے تو معاملہ مختلف ہے۔ ہمیں تحریری تقابل، تاریخ اور اصل مسودے کی تہوں کا جائزہ لینا ہوگا۔‘‘

    ناشر کے نمائندے نے بے چینی سے پوچھا، ’’اس میں کتنا وقت لگے گا؟‘‘

    کسی نے اس کی طرف نہیں دیکھا۔

    سائرہ نے حذف شدہ چار صفحات زینب کے سامنے رکھے۔

    زینب نے پڑھنا شروع کیا۔ جب وہ نیلے دوپٹے والے جملے تک پہنچی تو اس کے چہرے کی سختی کچھ ڈھیلی پڑی۔ اس نے صفحہ بند نہیں کیا، مگر آنکھیں اٹھا لیں۔

    ’’مطبوعہ کتاب میں یہ کیوں نہیں؟‘‘

    عارف نے کہا، ’’کیونکہ ناول کی ساخت میں یہ حصہ زائد تھا۔‘‘

    ’’زائد کس کے لیے؟‘‘

    ’’متن کے لیے۔‘‘

    مہرالنساء نے دیوار کے پاس سے کہا، ’’یا مصنف کے لیے؟‘‘

    سب نے اس کی طرف دیکھا۔ شاید پہلی بار انہیں یاد آیا کہ کمرے میں ایک اور شخص بھی موجود ہے۔

    عارف کی آواز سرد ہوگئی۔

    ’’ریکارڈ معاون سے جب ضرورت ہوگی، سوال کیا جائے گا۔‘‘

    سائرہ نے کہا، ’’انہیں بات مکمل کرنے دیں۔‘‘

    مہرالنساء نے چند لمحے سائرہ کو دیکھا، پھر بولی،

    ’’اصل فہرست میں یہ صفحات باب اٹھارہ کا حصہ تھے۔ بعد میں انہیں ’غیر متنی مواد‘ میں منتقل کیا گیا۔ منتقلی کے حکم پر عارف صاحب کے دستخط ہیں۔‘‘

    عارف نے میز پر انگلیاں رکھیں۔

    ’’کیونکہ مصنف نے خود انہیں کاٹا تھا۔‘‘

    ’’مصنف نے ایک لکیر کھینچی تھی‘‘، مہرالنساء نے کہا، ’’مگر صفحات مخطوطے میں اسی جگہ رکھے تھے۔ آپ نے انہیں الگ ڈبے میں منتقل کیا۔‘‘

    ’’یہ آرکائیوی ترتیب کا معاملہ ہے۔‘‘

    ’’ترتیب بھی معنی بدلتی ہے۔‘‘

    سائرہ نے محسوس کیا، یہ جملہ وہ خود کہنا چاہتی تھیں، مگر مہرالنساء نے ان سے پہلے کہہ دیا۔

    عارف اب صرف مہرالنساء کو دیکھ رہے تھے۔

    ’’آپ نے اپنی ملازمت کے دائرے سے باہر جا کر متن کی تشریح شروع کر دی ہے۔‘‘

    مہرالنساء نے جواب دیا،

    ’’میں برسوں سے دوسروں کی تشریح کے ڈبے اٹھا رہی ہوں۔ کچھ لفظ ہاتھ پر لگ ہی جاتے ہیں۔‘‘

    ڈاکٹر فواد نے کھنکار کر گفتگو کو قانونی دائرے میں واپس لانے کی کوشش کی، مگر زینب نے کتاب بند کر دی۔

    ’’میں سند کی منسوخی واپس نہیں چاہتی‘‘، اس نے کہا۔

    ناشر کا نمائندہ چونکا۔ ’’آپ ہی کی شکایت پر کتاب رکی ہے۔‘‘

    ’’میں نے کتاب رکوانے کے لیے شکایت نہیں کی تھی۔‘‘

    ’’مگر اب یہی ہوا ہے۔‘‘

    ’’تو آپ لوگوں نے ایک بار پھر میری بات کو اپنے مطلب کے لیے استعمال کیا۔ پہلے میری تکلیف کو سند کے خلاف ثبوت بنایا، اب میری واپسی کو اشاعت کے حق میں ثبوت بنائیں گے۔‘‘

    سائرہ نے اسے دیکھا۔ زینب کی آواز بلند نہیں تھی، مگر کمرے کی شیشے کی دیواریں جیسے کچھ اور شفاف ہوگئیں۔

    ’’آپ کیا چاہتی ہیں؟‘‘ سائرہ نے پوچھا۔

    زینب نے سرخ حاشیوں کی طرف اشارہ کیا۔

    ’’میں چاہتی ہوں، کتاب وہ نہ رہے جو آپ نے چھاپی۔ لیکن یہ بھی نہیں چاہتی کہ اسے اس طرح بند کر دیا جائے جیسے اس کے اندر کوئی خطرناک بیماری ہو۔ میں چاہتی ہوں قاری دیکھے کہ ایک متن کیسے بنتا ہے، کون بولتا ہے، کس کا جملہ رہ جاتا ہے، کس کا نام نکل جاتا ہے۔‘‘

    عارف نے تلخی سے کہا، ’’تو ناول کو عدالتی فائل بنا دیا جائے؟‘‘

    زینب نے جواب دیا، ’’آپ نے پہلے ہی اسے ایک مرد کی تنہا عظمت کی یادگار بنا دیا تھا۔‘‘

    سائرہ کے سامنے اب تین چیزیں تھیں: ان کی اپنی نیلی مہر، رفعت جہاں کے سرخ حاشیے اور کتاب کی جلد پر بند دروازہ۔

    انہیں فیصلہ کرنا تھا۔

    کتاب کی اشاعت بحال کر دی جاتی تو ان کی پہلی رپورٹ اپنی خامیوں سمیت قائم رہتی۔ اشاعت مستقل روک دی جاتی تو فرید مسعود کے متن کے ساتھ رفعت جہاں کی آواز بھی دوبارہ ڈبے میں بند ہو جاتی۔ شریک مصنفہ کا نام فوری شامل کیا جاتا تو قانونی اور تحقیقی بنیاد ابھی نامکمل تھی۔ صرف حاشیے بطور ضمیمہ چھاپے جاتے تو رفعت کی آواز ایک بار پھر اصل متن کے کنارے پر رہتی۔

    کسی بھی انتخاب میں کوئی نہ کوئی دوبارہ حاشیے میں جاتا تھا۔

    سائرہ نے نیلی مہر اپنے سامنے کھینچی۔

    ’’موجودہ سند منسوخ رہے گی‘‘، انہوں نے کہا۔

    ناشر کے نمائندے نے بے اختیار سانس چھوڑا۔

    ’’لیکن کتاب ممنوع قرار نہیں دی جائے گی۔ موجودہ ایڈیشن واپس لیا جائے گا۔ نیا تحقیقی ایڈیشن تیار ہوگا، جس میں اصل مخطوطے کی تدوینی تاریخ، حذف شدہ صفحات، سرخ حاشیے اور ملکیت کا غیر حتمی سوال قاری کے سامنے رکھا جائے گا۔ سرورق پر صرف فرید مسعود کا نام نہیں ہوگا۔‘‘

    عارف سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔

    ’’پھر کس کا نام ہوگا؟‘‘

    ’’جب تک تحقیق مکمل نہیں ہوتی، سرورق پر لکھا جائے گا: فرید مسعود کا مخطوطہ، رفعت جہاں کے حاشیوں کے ساتھ۔‘‘

    عارف نے بہت دیر تک انہیں دیکھا۔

    ’’یہ تصنیف کی توہین ہے۔‘‘

    ’’یا تصنیف کی تاریخ۔‘‘

    ’’آپ ایک مردہ ادیب کا نام مشتبہ بنا رہی ہیں۔‘‘

    سائرہ کی آواز اس بار نرم تھی۔

    ’’شاید نام پہلے ہی مکمل نہیں تھا۔‘‘

    اجلاس ختم ہونے کے بعد سب لوگ الگ الگ سمتوں میں چلے گئے۔ ناشر کا نمائندہ فون پر کسی کو نقصان کا تخمینہ بتانے لگا۔ ڈاکٹر فواد نے قانونی نوٹ جمع کیے۔ زینب نے سرخ حاشیوں کی نقل مانگی، مگر سائرہ نے کہا، پہلے اجازت نامہ تیار ہوگا۔

    عارف سب سے آخر میں اٹھے۔

    دروازے کے پاس پہنچ کر انہوں نے سائرہ سے کہا، ’’آپ سمجھتی ہیں آپ نے ایک عورت کا نام بچا لیا۔ ممکن ہے آپ نے صرف ایک ناول تباہ کیا ہو۔‘‘

    سائرہ نے جواب نہیں دیا۔

    وہ شیشے کے پار انہیں جاتے دیکھتی رہیں۔ راہداری میں لوگوں کو ان کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی، صرف ہونٹ ہلتے نظر آتے تھے۔

    مہرالنساء نے میز سے نیلی مہر اٹھائی۔

    ’’یہ کہاں رکھوں؟‘‘

    سائرہ نے مہر کی طرف دیکھا۔ اس کے نیچے الٹے حروف میں وہی عبارت تھی جو تین ماہ پہلے انہیں یقین کی طرح صاف دکھائی دی تھی:

    متن تدریس اور عام اشاعت کے لیے موزوں ہے۔

    ’’ابھی دراز میں رکھ دو‘‘، انہوں نے کہا۔

    مہرالنساء نے دراز کھولی۔ اندر کئی دوسری مہریں تھیں: منظور، نامنظور، نظرثانی، محدود اشاعت، صرف تحقیق کے لیے۔

    اس نے نیلی مہر ان سب کے درمیان رکھ دی، مگر دراز بند نہیں کی۔

    ’’آپ نے میری بات آج کیوں سنی؟‘‘ اس نے پوچھا۔

    سائرہ نے کچھ دیر سوچا۔

    ’’شاید اس لیے کہ آج تم نے اجازت کا انتظار نہیں کیا۔‘‘

    مہرالنساء نے دراز پر ہاتھ رکھا۔

    ’’اور پہلے؟‘‘

    سائرہ نے شیشے کی دیوار میں اپنا عکس دیکھا۔ میز کے اس طرف وہ سربراہ تھیں، اس طرف ایک عورت جس کے دستخط کسی دوسری عورت کی آواز کے اوپر لگے ہوئے تھے۔

    ’’پہلے مجھے یقین تھا کہ سننا بھی میرے اختیار میں ہے۔‘‘

    مہرالنساء نے دراز آہستہ سے بند کر دی۔

    نیچے تہہ خانے میں سرخ حاشیوں کا ڈبا اپنی جگہ موجود تھا۔ اوپر عقبی دروازے کے پاس کتابوں کے چھیالیس ڈبے ابھی تک رکھے تھے۔ بارش رک چکی تھی، مگر گتے کے کناروں میں نمی باقی تھی۔

    شام کو مہرالنساء نے آخری بار رجسٹر کھولا اور ذخیرہ نمبر سترہ کے سامنے نئی سطر لکھی،

    مواد واپس رکھا گیا۔ ترتیب زیرِ نظر ہے۔

    وہ کچھ دیر قلم روکے رہی، پھر ’’زیرِ نظر‘‘ کے نیچے سرخ سیاہی سے ایک باریک لکیر کھینچ دی۔

    یہ لکیر کسی جملے کو کاٹ نہیں رہی تھی۔

    اس کے نیچے جگہ بنا رہی تھی۔

    مگر جگہ بنانا اور کسی کو اس جگہ تک پہنچنے دینا دو الگ باتیں تھیں۔

    اگلی صبح سات بج کر سترہ منٹ پر جامعہ کے ادبی مرکز کی ویب گاہ پر ایک مختصر اعلامیہ جاری ہوا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ فرید مسعود کے غیر مطبوعہ ناول دھوپ کے بند کمرے کے موجودہ ایڈیشن کی تقسیم ’’تدوینی اور تحقیقی وجوہ‘‘ کی بنا پر روک دی گئی ہے۔ کسی شکایت، طالبہ، رفعت جہاں، حذف شدہ صفحات یا سرخ حاشیوں کا ذکر نہیں تھا۔

    سات بج کر انتیس منٹ پر اعلامیے کا عکس سماجی ذرائع ابلاغ پر پہنچ گیا۔

    آٹھ بجے تک فرید مسعود کو اردو ادب کی تاریخ سے مٹانے کی سازش شروع ہو چکی تھی۔

    نو بجے تک یہ سازش مغربی مالیاتی اداروں، جامعات میں پھیلی مرد دشمنی، نئی نسل کی کم علمی، ادب سے ناواقف نفسیاتی مریضوں اور ’’ہر کتاب سے اپنی ذاتی تکلیف تلاش کرنے والی لڑکیوں‘‘ سے جوڑی جا چکی تھی۔

    دس بجے ایک معروف کالم نگار نے لکھا،

    ’’آج فرید مسعود کی باری ہے، کل غالب اور میر عدالت کے کٹہرے میں ہوں گے۔‘‘

    تحریر کے نیچے کسی نے پوچھا کہ فرید مسعود کا ناول ابھی شائع ہی کہاں ہوا تھا کہ اسے غالب اور میر کے ساتھ کھڑا کر دیا گیا۔ جواب میں اسے ادب دشمن، تہذیب سے نابلد اور غیر ملکی ایجنڈے کا حصہ قرار دے دیا گیا۔

    ساڑھے دس بجے ایک تانیثی مطالعاتی گروہ نے بیان جاری کیا کہ ادبی مرکز نے بالآخر ایک ’’شدید عورت دشمن متن‘‘ کے خلاف کارروائی کی ہے۔ بیان میں ناول کے اس باب کو، جس میں سلیمۃ کے ساتھ جنسی تشدد کا اشارہ تھا، ’’مرد ادیب کی لذت پسند نگاہ‘‘ کی مثال قرار دیا گیا۔ بیان لکھنے والوں میں سے کسی نے مکمل مخطوطہ نہیں دیکھا تھا۔ انہیں زینب کی شکایت کے دو اقتباسات اور سماجی ذرائع پر گردش کرتے تین صفحات ملے تھے۔

    گیارہ بجے زینب کے نام سے ایک جعلی کھاتا بنا۔ اس پر لکھا گیا،

    ’’ہمیں مردوں کا لکھا ہوا پورا کلاسیکی ادب دوبارہ جانچنا ہوگا۔‘‘

    اصل زینب اس وقت اپنی ماں کے ساتھ سرکاری ہسپتال کی قطار میں کھڑی تھی۔ اس کی ماں کے گھٹنوں کا معائنہ ہونا تھا۔ موبائل مسلسل بج رہا تھا، مگر اس نے خاموش کر رکھا تھا۔ اسے خبر نہ تھی کہ وہ ایک ہی صبح میں ادب دشمن، مرد دشمن، مغربی ایجنٹ، بہادر تانیثی کارکن اور قومی سطح کی متاثرہ عورت بن چکی ہے۔

    ساڑھے گیارہ بجے ڈاکٹر سائرہ ندیم کو وائس چانسلر کے دفتر سے فون آیا۔

    ’’آپ سے بارہ بجے ملاقات طے کی گئی ہے۔‘‘

    ’’کس سلسلے میں؟‘‘

    ’’مرکز کے اعلامیے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے بارے میں۔‘‘

    ’’کیا عارف صاحب بھی ہوں گے؟‘‘

    دوسری طرف چند لمحے خاموشی رہی۔

    ’’انہیں بھی بلایا گیا ہے۔‘‘

    سائرہ نے فون رکھا تو ان کی میز پر سرخ حاشیوں کی عکسی نقول پھیلی ہوئی تھیں۔ رات وہ انہیں گھر نہیں لے گئی تھیں۔ خوف تھا کہ کسی کاغذ کا گم ہونا، کسی تصویر کا باہر نکلنا یا کسی لفظ کا سیاق سے الگ ہونا اب محض تحقیقی غلطی نہیں رہے گا۔

    کھڑکی کے شیشے پر بارش کے خشک قطرے سفید نشان چھوڑ گئے تھے۔ باہر دھوپ تھی، مگر آسمان میں نمی کی وہ میلی تہہ باقی تھی جو بارش کے بعد شہر کے اوپر کچھ دیر ٹھہری رہتی ہے۔

    سائرہ نے دراز کھولی۔ نیلی مہر وہیں پڑی تھی۔

    انہوں نے اسے ہاتھ میں اٹھایا، پھر واپس رکھ دیا۔

    رات سے ایک پرانا واقعہ ان کے ذہن میں بار بار لوٹ رہا تھا۔ وہ واقعہ جسے انہوں نے برسوں ایک علمی فیصلے کے نیچے دبا رکھا تھا۔

    سترہ سال پہلے وہ اسی جامعہ میں نئی لیکچرار تھیں۔ ان کی پہلی تحقیقی کتاب شائع ہونے والی تھی۔ موضوع تھا: ’’اردو ناول میں عورت کے جسم کی نمائندگی۔‘‘ کتاب کے ایک باب میں انہوں نے ایک معروف ترقی پسند ادیب کے ناول کا تجزیہ کیا تھا۔ ان کا استدلال تھا کہ متن بظاہر عورت کے استحصال کو بے نقاب کرتا ہے، لیکن بعض مقامات پر راوی کی نگاہ اسی جسمانی لذت میں شریک ہو جاتی ہے جسے وہ اخلاقی طور پر رد کرنا چاہتا ہے۔

    مسودہ پڑھنے والے سینئر استاد نے ان سے کہا تھا،

    ’’آپ کا نکتہ ذہین ہے، مگر ابھی آپ کی عمر اس ادیب سے لڑنے کی نہیں۔‘‘

    سائرہ نے پوچھا تھا، ’’علمی دلیل کی بھی عمر ہوتی ہے؟‘‘

    استاد مسکرائے تھے۔

    ’’دلیل کی نہیں، دلیل دینے والے کی ہوتی ہے۔‘‘

    انہوں نے باب سے سات صفحات نکال دیے تھے۔

    کتاب شائع ہوئی، انعام ملا، اور حذف شدہ صفحات ان کے کمپیوٹر کے ایک پرانے فولڈر میں رہ گئے۔ کچھ برس بعد وہی استاد ایک کانفرنس میں ان کی ’’تانیثی جرأت‘‘ کی تعریف کر رہے تھے۔ سائرہ نے اس روز پہلی بار سمجھا تھا کہ ادارے عورت کی آواز کو ہمیشہ بند نہیں کرتے؛ کبھی اسے اتنی مقدار میں جاری رکھتے ہیں جتنی ان کی عمارت کے لیے خطرناک نہ ہو۔

    صنفی سلامتی کا مرکز قائم کرنے کی تجویز بھی اسی تجربے کے برسوں بعد انہوں نے دی تھی۔ انہیں یقین تھا کہ اگر واضح اصول، تربیت یافتہ قاری اور رسمی جواب دہی کا نظام موجود ہو تو کسی نوجوان محققہ کو وہ سات صفحات حذف نہیں کرنے پڑیں گے جو انہوں نے کیے تھے۔

    اب ان کی میز پر ایک دوسری عورت کے سرخ حاشیے پڑے تھے، اور ان کے اپنے دستخط اس متن پر ثبت تھے جس سے وہ حاشیے الگ کیے گئے تھے۔

    دروازہ کھلا۔ مہرالنساء اندر آئی اور ایک بھورا لفافہ میز پر رکھ دیا۔

    ’’یہ رجسٹر کے ساتھ ملا ہے۔‘‘

    ’’کیا ہے؟‘‘

    ’’رفعت جہاں کے رسالے والی کہانی کی نقل۔‘‘

    سائرہ نے لفافہ کھولا۔ اندر بارہ صفحات کی عکسی نقل تھی۔ سرخی تھی،

    دوسرا دروازہ

    رفعت جہاں

    اشاعت کا سال فرید مسعود کی شادی سے دو برس پہلے کا تھا۔

    ’’تم نے اسے کل کیوں نہیں دکھایا؟‘‘ سائرہ نے پوچھا۔

    ’’کل آپ نے حاشیے مانگے تھے۔‘‘

    ’’یہ بھی اسی تحقیق کا حصہ ہے۔‘‘

    ’’اب ہے۔ پہلے نہیں تھا۔‘‘

    مہرالنساء کا جواب تلخ نہیں تھا۔ شاید اسی لیے سائرہ کو زیادہ چبھ گیا۔

    انہوں نے پہلا صفحہ پڑھنا شروع کیا۔ کہانی ایک ایسے گھر کے بارے میں تھی جس کے تمام دروازے اندر کی طرف کھلتے تھے۔ گھر کی نئی بہو ہر بار باہر نکلنے سے پہلے ایک قدم پیچھے ہٹتی۔ ابتدا میں اسے یہ محض تعمیر کی خرابی لگتی، پھر آہستہ آہستہ اسے معلوم ہوتا کہ گھر کے ہر تعلق میں باہر جانے سے پہلے عورت کو پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔

    سائرہ نے سر اٹھایا۔

    ’’یہی استعارہ حذف شدہ باب میں ہے۔‘‘

    ’’جی۔‘‘

    ’’نیلے دوپٹے کا ذکر بھی؟‘‘

    ’’صفحہ آٹھ پر۔‘‘

    رفعت کی کہانی میں نیلا دوپٹہ ایک لڑکی اپنی پہلی اجرت سے خریدتی تھی۔ وہ کہتی تھی، ’’میں ایسا رنگ پہنوں گی جو اس گھر کی کسی دیوار پر نہیں۔‘‘

    وہی جملہ سلیمۃ کے مکالمے میں تھا۔

    سائرہ نے پوری کہانی تیزی سے پڑھی۔ کئی جملے، منظر اور علامتیں فرید مسعود کے ناول میں مختلف صورتوں میں موجود تھیں۔ یہ لفظ بہ لفظ نقل نہیں تھی۔ کہیں خیال تبدیل ہوا تھا، کہیں منظر وسیع، کہیں عورت کی آواز مرد راوی کی تشریح میں بدل گئی تھی۔ لیکن مشابہت اتفاق سے زیادہ تھی۔

    ’’عارف صاحب نے یہ رسالہ دیکھا تھا؟‘‘

    ’’ان کے بنائے ہوئے ابتدائی کتابیاتی نوٹ میں اس کا ذکر ہے۔‘‘

    ’’پھر اسے تحقیقی فائل میں کیوں شامل نہیں کیا گیا؟‘‘

    مہرالنساء نے کہا، ’’وہی آپ ان سے پوچھیے گا۔‘‘

    سائرہ نے کہانی کا آخری صفحہ بند کیا۔

    ’’تم میرے ساتھ وائس چانسلر کے دفتر چلو گی۔‘‘

    مہرالنساء کے چہرے پر پہلی بار گھبراہٹ آئی۔

    ’’مجھے نہیں بلایا گیا۔‘‘

    ’’اب بلایا جائے گا۔‘‘

    ’’میرا معاہدہ اگلے مہینے ختم ہو رہا ہے۔‘‘

    ’’یہ بات وہاں بھی کہو۔‘‘

    مہرالنساء نے ہلکا سا سر ہلایا۔

    ’’معاہدہ ختم ہونے سے پہلے سچ بولنے اور معاہدہ بڑھنے کے بعد سچ بولنے میں فرق ہوتا ہے۔‘‘

    ’’تم چاہتی کیا ہو؟‘‘

    ’’یہ سوال آپ مجھ سے کل بھی پوچھ سکتی تھیں۔‘‘

    ’’میں آج پوچھ رہی ہوں۔‘‘

    مہرالنساء نے کھڑکی کی طرف دیکھا۔ باہر ہال میں کتابوں کے ڈبے اب بھی رکھے تھے۔ عملے نے انہیں ایک طرف سجا دیا تھا تاکہ داخلی راستہ کھلا رہے۔ سفید پرچیاں ابھی چسپاں تھیں۔

    ’’میں چاہتی ہوں میرا نام اس کام میں درج ہو جو میں نے کیا ہے‘‘، اس نے کہا۔ ’’میں نے مخطوطے کے سات سو صفحات ترتیب دیے، سیاہیوں کی فہرست بنائی، حاشیوں کو الگ شناخت کیا، رسالے تلاش کیے۔ حتمی کتاب میں میرا نام شکریے کی فہرست کے آخر میں بھی نہیں۔ لیکن اب جب تنازع پیدا ہوا ہے تو مجھے گواہی کے لیے آگے کیا جا رہا ہے۔‘‘

    سائرہ نے کچھ کہنا چاہا، مگر مہرالنساء نے بات جاری رکھی۔

    ’’میں رفعت جہاں نہیں ہوں۔ مجھے کسی مردہ عورت کی علامت نہ بنائیے۔ میں ملازم ہوں، مجھے تنخواہ چاہیے، معاہدہ چاہیے اور اپنے کام کا نام چاہیے۔‘‘

    کمرے میں خاموشی ہوگئی۔

    سائرہ نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ مہرالنساء کو بھی کسی مشکل متن کی طرح پڑھ رہی تھیں۔ اس کے الفاظ میں اپنے نظریے کی تصدیق تلاش کرتے ہوئے۔

    ’’تم ٹھیک کہتی ہو‘‘، انہوں نے کہا۔

    مہرالنساء کے چہرے پر اطمینان نہیں آیا۔

    ’’ٹھیک کہنا کافی نہیں۔‘‘

    ’’نئے تحقیقی ایڈیشن کی تدوینی ٹیم میں تمہارا نام ہوگا۔‘‘

    ’’بطور کیا؟‘‘

    سائرہ رک گئیں۔

    یہی وہ چھوٹا سا سوال تھا جس میں اداروں کی پوری عمارت چھپ جاتی تھی۔ معاون؟ محققہ؟ آرکائیو مرتب؟ شریک مدیرہ؟ ہر لفظ کے ساتھ اختیار، اجرت اور علمی ملکیت بدل جاتی تھی۔

    ’’بطور معاون مدیرہ اور آرکائیوی محققہ‘‘، سائرہ نے کہا۔

    ’’تحریری طور پر؟‘‘

    ’’آج۔‘‘

    مہرالنساء نے پہلی بار سیدھا ان کی طرف دیکھا۔

    ’’پھر میں چلوں گی۔‘‘

    وائس چانسلر کا دفتر جامعہ کی نئی عمارت میں تھا۔ پرانی عمارت کے پتھر، لکڑی اور نمی کے مقابلے میں یہاں شیشہ، فولاد اور بے بو ہوا تھی۔ استقبالیہ پر بیٹھی خاتون نے مہرالنساء کو دیکھ کر پوچھا،

    ’’یہ بھی اجلاس میں ہیں؟‘‘

    سائرہ نے کہا، ’’یہ آرکائیوی محققہ ہیں۔‘‘

    مہرالنساء نے ایک لمحے کے لیے ان کی طرف دیکھا۔ عہدہ ابھی کسی کاغذ پر نہیں آیا تھا، مگر زبان میں پہلی بار جگہ بنا رہا تھا۔

    اجلاس میں وائس چانسلر، رجسٹرار، شعبۂ قانون کے سربراہ، تعلقات عامہ کی ڈائریکٹر، عارف کمال اور سائرہ موجود تھے۔ عارف پہلے سے بیٹھے تھے۔ ان کے سامنے اخباروں کے تراشوں کے بجائے ایک موٹی نیلی فائل تھی۔

    وائس چانسلر نے رسمی سلام کے بعد کہا،

    ’’ہم اس بحث کے علمی پہلو کی قدر کرتے ہیں، لیکن جامعہ اس وقت ایک بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک طرف ہم پر سنسرشپ کا الزام ہے، دوسری طرف عورت دشمن متن کی سرپرستی کا۔‘‘

    تعلقات عامہ کی ڈائریکٹر نے کہا، ’’مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا اعلامیہ بہت مبہم تھا۔ ہر فریق نے اسے اپنے حق میں پڑھ لیا۔‘‘

    عارف نے کہا، ’’اعلامیہ مبہم نہیں تھا، معاملہ نامکمل تھا۔ اصل غلطی یہ ہوئی کہ کتاب کی تقسیم شکایت آتے ہی روک دی گئی۔‘‘

    سائرہ نے کہا، ’’تقسیم صرف شکایت پر نہیں، تدوینی مواد کے اخفا سامنے آنے کے بعد روکی گئی۔‘‘

    ’’اخفا؟‘‘ عارف نے لفظ دہرایا۔ ’’یہ قانونی الزام ہے۔‘‘

    ’’تو اسے تدوینی حذف کہہ لیجیے۔‘‘

    ’’ہر حذف سازش نہیں ہوتا۔‘‘

    ’’ہر حذف غیر جانب دار بھی نہیں ہوتا۔‘‘

    وائس چانسلر نے میز پر ہاتھ رکھا۔

    ’’ہمیں شخصی مناظرہ نہیں چاہیے۔ حل چاہیے۔‘‘

    سائرہ نے بھورا لفافہ کھولا اور رفعت جہاں کی کہانی کی نقول سب کے سامنے رکھ دیں۔

    ’’یہ حل سے پہلے مسئلے کی نئی صورت ہے۔ رفعت جہاں کی ایک شائع شدہ کہانی اور ناول کے حذف شدہ صفحات میں نمایاں متنی مماثلت ہے۔‘‘

    عارف کا چہرہ پہلی بار واقعی بدل گیا۔

    ’’آپ نے یہ کہاں سے حاصل کی؟‘‘

    مہرالنساء نے کہا، ’’جامعہ کے اپنے ذخیرے سے۔‘‘

    قانون کے سربراہ نے صفحات کا سرسری جائزہ لیا۔

    ’’یہ معاملہ شریک تصنیف، ماخذی اثر یا غیر منسوب استفادے تک جا سکتا ہے۔ ابھی قطعی نتیجہ ممکن نہیں۔‘‘

    رجسٹرار نے فوراً پوچھا، ’’فرید مسعود کے وارث کیا اقدام کر سکتے ہیں؟‘‘

    ’’وہ اشاعت روکنے، ہرجانے یا بدنامی کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ رفعت جہاں کے وارث بھی حقوق کا دعویٰ کر سکتے ہیں، بشرطیکہ قانونی وراثت اور مصنفانہ نسبت ثابت کریں۔‘‘

    وائس چانسلر نے سائرہ کی طرف دیکھا۔

    ’’آپ نے ابتدائی جائزے میں یہ مواد کیوں نہیں دیکھا؟‘‘

    سوال سادہ تھا۔ جواب نہیں۔

    سائرہ چاہتیں تو کہہ سکتی تھیں کہ انہیں نامکمل فائل دی گئی۔ وہ عارف کی تدوینی ذمہ داری، آرکائیو کی درجہ بندی اور ادارہ جاتی طریقۂ کار کا حوالہ دے سکتی تھیں۔ یہ سب درست بھی ہوتا۔

    انہوں نے کہا،

    ’’کیونکہ میں نے مطبوعہ ہونے والے متن کو مکمل متن فرض کر لیا تھا۔ میں نے یہ نہیں پوچھا کہ حاشیے کس نے لکھے، کیا حذف ہوا اور تدوین کا اختیار کس کے پاس تھا۔ یہ میری علمی کوتاہی تھی۔‘‘

    رجسٹرار نے فوراً نوٹ لکھا۔

    اعتراف جب ادارے میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے دستاویز بنتا ہے۔

    وائس چانسلر نے پوچھا، ’’کیا اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنی سابقہ سند واپس لے رہی ہیں؟‘‘

    ’’جی۔‘‘

    ’’اور مرکز کی سربراہ کے طور پر اپنی ذمہ داری؟‘‘

    سائرہ نے محسوس کیا، کمرے کی ہوا اچانک خشک ہوگئی ہے۔

    ’’میں ذمہ داری قبول کرتی ہوں۔‘‘

    ’’استعفا؟‘‘

    یہ لفظ تعلقات عامہ کی ڈائریکٹر نے نہیں کہا، مگر ان کی آنکھوں میں موجود تھا۔

    عارف نے پہلی بار سائرہ کے حق میں بات کی۔

    ’’غلط یا نامکمل علمی فیصلے کا حل استعفا نہیں، نظرثانی ہے۔ اگر ہر نقاد اپنی پہلی غلطی پر منصب چھوڑ دے تو جامعات میں صرف وہ لوگ بچیں گے جو کبھی اپنی غلطی مانتے نہیں۔‘‘

    سائرہ نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا۔

    عارف نے نظر نہیں ملائی۔

    وائس چانسلر نے کہا، ’’آپ اس عمل میں خود بھی شریک تھے، پروفیسر صاحب۔‘‘

    ’’میں تدوین کا ذمہ دار تھا، صنفی سند کا نہیں۔‘‘

    ’’اور حاشیوں کی درجہ بندی؟‘‘

    ’’میرا فیصلہ تھا۔‘‘

    ’’رفعت جہاں کی کہانی آپ کے علم میں تھی؟‘‘

    عارف نے نیلی فائل کھولی۔ اس میں خط، کتابی نوٹ اور پرانے رسالوں کی فہرستیں تھیں۔

    ’’تھی۔‘‘

    اب کمرے میں کسی قلم کی آواز بھی نہ آئی۔

    ’’پھر آپ نے اسے حتمی تحقیقی مقدمے میں شامل کیوں نہیں کیا؟‘‘ وائس چانسلر نے پوچھا۔

    عارف نے رفعت کی کہانی کے پہلے صفحے کو دیکھا۔

    ’’کیونکہ میں فرید مسعود کو جانتا تھا۔‘‘

    ’’یہ تو شامل کرنے کی زیادہ بڑی وجہ تھی۔‘‘

    ’’یا نہ کرنے کی۔‘‘

    سائرہ نے کہا، ’’واضح کیجیے۔‘‘

    عارف نے کچھ دیر دونوں ہاتھ فائل پر رکھے۔ ان کی انگلیوں کی جلد باریک اور شفاف تھی۔

    ’’فرید میرے استاد نہیں تھے، مگر انہوں نے مجھے ادبی دنیا میں داخل کیا۔ میری پہلی کتاب کا دیباچہ لکھا۔ جب کسی رسالے میں میرا نام نہیں چھپتا تھا، وہ مدیر کو خط لکھتے تھے۔ ان کے گھر میں میری آمدورفت تھی۔ رفعت آپا کو بھی جانتا تھا۔‘‘

    یہ پہلی بار تھا کہ انہوں نے رفعت جہاں کے نام کے ساتھ کوئی رشتہ ظاہر کیا۔

    ’’وہ لکھتی تھیں؟‘‘ سائرہ نے پوچھا۔

    ’’شادی سے پہلے۔ شادی کے بعد بھی، مگر شائع کم ہوئیں۔ فرید صاحب ان سے مسودے پڑھواتے تھے۔ بحث کرتے، جھگڑتے، کبھی ان کے جملے لے لیتے، کبھی پورے صفحے رد کر دیتے۔ اس زمانے میں ہم اسے ادبی رفاقت کہتے تھے، شریک تصنیف نہیں۔‘‘

    ’’رفعت جہاں کیا کہتی تھیں؟‘‘

    عارف نے تلخی سے مسکرایا۔

    ’’ہم نے کبھی سنجیدگی سے پوچھا نہیں۔‘‘

    یہ اعتراف کمرے میں اس طرح گرا جیسے کسی اونچی الماری سے پرانی کتاب فرش پر آ پڑے۔

    انہوں نے فائل سے ایک خط نکالا۔

    ’’یہ رفعت آپا نے مجھے فرید صاحب کی وفات کے بعد لکھا تھا۔‘‘

    سائرہ نے خط لیا۔ کاغذ کے کنارے زرد تھے۔ تحریر وہی سرخ حاشیوں والی باریک اور جھکی ہوئی لکھائی تھی۔

    ’’عارف میاں، فرید کے کاغذ سنبھال کر رکھنا۔ ان میں میرے بھی کئی برس بند ہیں۔ مجھے اس بات پر اصرار نہیں کہ ہر جملے پر میرا نام لکھا جائے، مگر یہ جھوٹ مت بننے دینا کہ وہ کمرے میں اکیلا لکھتا تھا۔‘‘

    نیچے تاریخ تھی۔ رفعت کی وفات سے چار ماہ پہلے۔

    سائرہ نے خط میز پر رکھ دیا۔

    ’’آپ نے یہ خط تحقیقی فائل میں کیوں نہیں رکھا؟‘‘

    عارف نے کہا، ’’کیونکہ میں بزدل تھا۔‘‘

    کمرے میں موجود سب لوگوں نے شاید کسی پیچیدہ علمی جواب کی توقع کی تھی۔ سادہ جواب نے انہیں بے آرام کر دیا۔

    عارف نے بات جاری رکھی۔

    ’’فرید صاحب کے بیٹے نے مخطوطہ دیتے وقت صاف کہا تھا کہ خاندان کسی شریک مصنف، گھریلو تنازع یا نجی خط و کتابت کو کتاب کا حصہ نہیں بننے دے گا۔ جامعہ کو مخطوطہ اسی شرط پر مل رہا تھا۔ مجھے لگا، اگر میں رفعت آپا کا سوال اٹھاؤں گا تو پورا ذخیرہ خاندان واپس لے جائے گا۔ میں نے سوچا، پہلے ناول بچا لیا جائے۔ باقی بعد میں۔‘‘

    مہرالنساء نے کہا، ’’بعد میں کب؟‘‘

    عارف نے اس کی طرف دیکھا۔

    ’’شاید میں خود بھی نہیں جانتا تھا۔‘‘

    ’’تو آپ نے ایک عورت کی آواز کو مستقبل کے نام پر مؤخر کر دیا۔‘‘

    ’’ہاں۔‘‘

    سائرہ نے پہلی بار عارف کی خاموشی میں صرف اقتدار نہیں، خوف بھی دیکھا۔ مگر خوف کسی عمل کا سبب ہو سکتا تھا، بری الذمہ ہونے کا ثبوت نہیں۔

    وائس چانسلر نے خط پڑھا۔

    ’’یہ باہر گیا تو جامعہ پر مواد چھپانے کا الزام آئے گا۔‘‘

    تعلقات عامہ کی ڈائریکٹر نے فوراً کہا، ’’ہم اسے رضاکارانہ علمی نظرثانی کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔‘‘

    مہرالنساء نے بے اختیار ان کی طرف دیکھا۔

    ’’رضاکارانہ؟‘‘

    ’’میرا مطلب ہے، جامعہ نے خود مواد دریافت کیا اور تحقیقی عمل شروع کیا۔‘‘

    ’’مواد نے خود کو دریافت نہیں کیا‘‘، مہرالنساء نے کہا۔

    رجسٹرار نے ناگواری سے پوچھا، ’’آپ کا عہدہ؟‘‘

    سائرہ نے جواب دیا، ’’نئے تحقیقی ایڈیشن کی معاون مدیرہ اور آرکائیوی محققہ۔‘‘

    رجسٹرار نے اپنی فائل میں نام لکھا۔

    ’’تقرری کا حکم؟‘‘

    ’’آج جاری ہوگا۔‘‘

    وائس چانسلر نے سائرہ کی طرف دیکھا، پھر مہرالنساء کی طرف۔

    ’’جاری کر دیجیے۔ لیکن فی الحال اس اجلاس کی کوئی دستاویز باہر نہیں جائے گی۔‘‘

    سائرہ نے کہا، ’’زینب کی شکایت پہلے ہی باہر ہے۔‘‘

    ’’شکایت باہر ہے، خط نہیں۔‘‘

    ’’اور اگر خاندان یا کوئی اور فریق اسے پہلے جاری کر دے؟‘‘

    عارف نے کہا، ’’فرید کے خاندان کے پاس اس خط کی نقل نہیں۔‘‘

    ’’آپ کو یقین ہے؟‘‘

    ’’مجھے تھا۔‘‘

    جملہ مکمل ہونے سے پہلے سائرہ کا فون میز پر لرزا۔

    زینب کا پیغام تھا،

    میڈم، کیا آپ نے رفعت جہاں کا خط دیکھا ہے؟ اس کی تصویر سماجی ذرائع ابلاغ پر آگئی ہے۔

    پیغام کے نیچے ایک ربط تھا۔

    سائرہ نے کھولا۔

    رفعت جہاں کے خط کی دھندلی تصویر ایک گمنام ادبی صفحے پر شائع تھی۔ سرخی تھی،

    فرید مسعود کا شاہکار یا بیوی کی چوری شدہ تحریر؟ جامعہ نے تاریخی جعل سازی چھپائی

    تصویر میں خط کے نیچے آرکائیو کی مہر بھی واضح تھی۔

    سب کی نگاہیں مہرالنساء پر گئیں۔

    اس نے پہلے سائرہ کو دیکھا، پھر میز پر پڑے خط کو۔

    ’’میں نے نہیں بھیجا۔‘‘

    رجسٹرار نے کہا، ’’آرکائیو تک رسائی کس کس کی تھی؟‘‘

    ’’مجھ سمیت سات افراد کی۔‘‘

    ’’کل اصل مواد کس نے نکالا؟‘‘

    ’’میں نے۔ ڈاکٹر سائرہ کے حکم پر۔‘‘

    ’’اور تصویر؟‘‘

    ’’میں نے عکسی نقل تیار کی تھی۔‘‘

    کمرے کی فضا بدل گئی۔ چند لمحے پہلے مہرالنساء ایک آرکائیوی محققہ تھی۔ اب وہ دوبارہ عارضی ملازم بن گئی تھی جس کے پاس حساس مواد کی چابی تھی۔

    سائرہ نے یہ تبدیلی سب کے چہروں پر دیکھی۔

    ’’کسی نتیجے پر نہ پہنچیں‘‘، انہوں نے کہا۔

    رجسٹرار نے جواب دیا، ’’ہم صرف حفاظتی اقدام کریں گے۔ آرکائیو تک ان کی رسائی عارضی طور پر معطل کر دی جائے۔‘‘

    ’’کس ثبوت پر؟‘‘

    ’’تحقیق مکمل ہونے تک۔‘‘

    مہرالنساء ہنسی نہیں، مگر اس کے ہونٹوں پر ایسی حرکت ہوئی جیسے ہنسی کسی بہت پرانی تھکن سے ٹکرا کر رک گئی ہو۔

    ’’مواد میں نے ڈھونڈا، نام کسی اور کا تھا۔ مواد باہر گیا، شک مجھ پر ہے۔ کم از کم ادارہ اپنی ترتیب میں مستقل ہے۔‘‘

    وائس چانسلر نے سخت لہجے میں کہا، ’’اسے شخصی نہ بنائیں۔‘‘

    مہرالنساء نے جواب دیا، ’’میرے لیے تو یہ ہمیشہ شخصی رہا ہے۔ میری ملازمت، میرا نام، میری رسائی۔ ادارے کے لیے فائل ہے۔‘‘

    سائرہ نے کہا، ’’ان کی رسائی معطل نہیں ہوگی۔‘‘

    رجسٹرار نے چونک کر دیکھا۔ ’’آپ حفاظتی ضابطے روک نہیں سکتیں۔‘‘

    ’’تو میری رسائی بھی معطل کریں۔ اصل مواد میں نے بھی دیکھا ہے۔ عارف صاحب نے بھی۔‘‘

    عارف نے فوراً کہا، ’’اور وہ خط برسوں میرے پاس رہا۔ اگر شک رسائی کی بنیاد پر ہوگا تو فہرست مجھ سے شروع ہونی چاہیے۔‘‘

    وائس چانسلر نے دونوں کو دیکھا۔ ان کے چہرے پر وہ تھکن تھی جو اس وقت آتی ہے جب علمی مسئلہ انتظامی اختیار کی حد سے باہر جانے لگے۔

    ’’کسی کی رسائی ابھی معطل نہیں ہوگی۔ معلوماتی نظام کی جانچ کی جائے گی۔ آپ سب اس دوران کوئی بیان جاری نہیں کریں گے۔‘‘

    سائرہ نے کہا، ’’خاموشی اب بیان سے زیادہ خطرناک ہوگی۔‘‘

    ’’جامعہ اپنا سرکاری مؤقف تیار کرے گی۔‘‘

    ’’کتنی دیر میں؟‘‘

    تعلقات عامہ کی ڈائریکٹر نے کہا، ’’اڑتالیس گھنٹے۔‘‘

    مہرالنساء نے دھیرے سے کہا، ’’اڑتالیس گھنٹوں میں ایک مردہ عورت کو چور، شریک مصنفہ، مظلوم بیوی اور ادبی نابغہ سب کچھ بنایا جا چکا ہوگا۔‘‘

    کوئی جواب نہ آیا۔

    اجلاس ختم ہوا تو باہر دھوپ بہت تیز تھی۔ نئی عمارت کی شیشے کی دیواریں روشنی کو واپس اچھال رہی تھیں۔ سیڑھیوں کے نیچے چند طالب علم موبائل لیے کھڑے تھے۔ انہیں خبر مل چکی تھی کہ متعلقہ افراد اندر ہیں۔

    ایک لڑکے نے سائرہ کو دیکھتے ہی پوچھا،

    ’’میڈم، کیا جامعہ نے فرید مسعود پر پابندی لگا دی ہے؟‘‘

    ایک لڑکی نے ساتھ ہی سوال کیا،

    ’’کیا رفعت جہاں اصل مصنفہ تھیں؟‘‘

    تیسری آواز آئی،

    ’’کیا شکایت کرنے والی طالبہ نے کتاب پڑھی بھی تھی؟‘‘

    سائرہ چند لمحے سیڑھی پر رکی رہیں۔ ان کے پیچھے عارف، مہرالنساء اور رجسٹرار تھے۔ ہر شخص دوسرے کے جواب کا انتظار کر رہا تھا۔

    سائرہ نے کہا،

    ’’اس وقت صرف اتنا ثابت ہے کہ جو کتاب ایک مرد کی تنہا تصنیف کے طور پر پیش کی گئی، اس کی تخلیقی تاریخ میں ایک عورت کی مسلسل اور اہم آواز موجود تھی۔ ہم اس آواز کی نوعیت، حد اور حق کا تحقیقی تعین کریں گے۔ کتاب پر پابندی نہیں لگائی گئی۔ موجودہ ایڈیشن اس لیے واپس لیا گیا ہے کہ وہ اپنے بننے کی تاریخ چھپاتا ہے۔‘‘

    لڑکے نے پوچھا، ’’کیا آپ اپنی پہلی رپورٹ غلط مانتی ہیں؟‘‘

    ’’نامکمل۔‘‘

    ’’غلط یا نامکمل؟‘‘

    سائرہ نے اسے دیکھا۔ سوال میں جارحیت تھی، مگر حق بھی۔

    ’’نامکمل فیصلہ بعض اوقات غلط نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ میری رپورٹ نے یہی کیا۔‘‘

    موبائل کیمروں نے یہ جملہ محفوظ کر لیا۔

    شام تک وہ جملہ الگ الگ سرخیوں کے ساتھ گردش کر رہا تھا،

    ’’تانیثی نقاد نے اپنی غلطی مان لی

    جامعہ کی ماہر نے شاہکار کو غلط طور پر محفوظ قرار دیا۔‘‘

    فرید مسعود کے خلاف ثبوت نامکمل، رپورٹ واپس

    ادب کے اخلاقی سرٹیفکیٹ کی ناکامی

    کسی سرخی میں رفعت جہاں کا مکمل نام نہیں تھا۔

    مہرالنساء رات کو گھر پہنچی تو اس کی ماں سلائی مشین کے سامنے بیٹھی تھی۔ کمرے میں پنکھا چل رہا تھا، مگر گرمی کپڑے کی تہوں اور دیواروں میں پھنسی ہوئی تھی۔ دو کمروں کے اس مکان میں مہرالنساء، اس کی ماں اور چھوٹا بھائی رہتے تھے۔ بھائی شام کی شفٹ میں ادویات کی دکان پر کام کرتا تھا۔

    ماں نے مشین روکی۔

    ’’ٹی وی والے تمہاری جامعہ دکھا رہے تھے۔‘‘

    ’’ہماری جامعہ روز کچھ نہ کچھ دکھاتی ہے۔‘‘

    ’’تمہارا نام تو نہیں آیا؟‘‘

    مہرالنساء نے بیگ میز پر رکھا۔

    ’’اب شاید آئے۔‘‘

    ماں کی انگلی سوئی کے قریب رک گئی۔

    ’’اچھی بات ہے؟‘‘

    مہرالنساء نے جواب دینے سے پہلے پانی پیا۔

    ’’پتا نہیں۔‘‘

    ماں نے کپڑا تہہ کیا۔ ’’نام آنا اچھی بات تب ہوتا ہے جب اس کے ساتھ تنخواہ بھی آئے۔ تمہارے ابا کے نام پر محلے کی تختی لگی تھی۔ علاج کے پیسے پھر بھی نہیں آئے تھے۔‘‘

    مہرالنساء نے مسکرانے کی کوشش کی۔

    ’’میرا عہدہ بدل رہا ہے۔‘‘

    ’’پکا ہو رہا ہے؟‘‘

    ’’نہیں۔ کام کا نام بدل رہا ہے۔‘‘

    ’’تو کام وہی، تنخواہ وہی؟‘‘

    ’’شاید زیادہ ہو۔‘‘

    ’’شاید سے بجلی کا بل نہیں بھرتا۔‘‘

    مہرالنساء نے بیگ سے رفعت کی کہانی کی نقل نکالی۔ ماں نے عنوان پڑھا۔

    ’’یہ وہی بی بی ہیں جن کا آج ذکر تھا؟‘‘

    ’’جی۔‘‘

    ’’ان کے بچے نہیں تھے؟‘‘

    ’’تھے۔‘‘

    ’’پھر انہوں نے ماں کا نام کیوں نہیں بتایا؟‘‘

    ’’شاید انہیں بھی پوری بات معلوم نہیں تھی۔‘‘

    ماں نے عینک لگا کر پہلا صفحہ دیکھا۔

    ’’یا معلوم تھی اور فائدہ باپ کے نام میں تھا۔‘‘

    مہرالنساء نے ان کی طرف دیکھا۔

    ماں نے کندھے اچکائے۔ ’’اس میں کتاب پڑھنے والی کیا بات ہے؟ گھر میں بھی یہی ہوتا ہے۔ اچھی چٹنی بنے تو تمہارے ابا کہتے تھے ہمارے گھر کی ترکیب ہے۔ خراب ہو تو کہتے تمہاری ماں نے سکھائی ہوگی۔‘‘

    مہرالنساء ہنس پڑی۔ اس روز پہلی بار۔

    ماں نے کہانی واپس کی۔

    ’’نام کے پیچھے مت بھاگنا۔ اپنا حق لکھوا لینا۔ نام لوگ تقریر میں لے لیتے ہیں، حق کاغذ پر ہوتا ہے۔‘‘

    مہرالنساء نے سر ہلایا۔

    اسی وقت شہر کے دوسرے سرے پر عارف کمال اپنے گھر کی چھت پر کھڑے فرید مسعود کے پوتے سے فون پر بات کر رہے تھے۔

    ’’آپ نے ہمیں دھوکا دیا، عارف صاحب‘‘، دوسری طرف سے آواز آئی۔

    ’’میں نے آپ کے خاندان کا مخطوطہ محفوظ کیا۔‘‘

    ’’اور اب میری دادی کو ان کے شوہر کے مقابل کھڑا کر دیا۔‘‘

    عارف نے آنکھیں بند کر لیں۔ برسوں سے وہ خاندان کے رشتوں کو ادبی ناموں سے جانتے تھے، فرید صاحب، رفعت آپا، وارث، خاندان۔ اچانک ’’دادی‘‘ کے لفظ نے رفعت کو کسی کی گھریلو یادداشت میں واپس رکھ دیا تھا۔

    ’’ہم قانونی نوٹس بھیج رہے ہیں‘‘، فرید کے پوتے نے کہا۔ ’’جامعہ مخطوطہ فوراً واپس کرے۔ کوئی نیا ایڈیشن ہماری اجازت کے بغیر نہیں آئے گا۔‘‘

    ’’مخطوطہ عطیہ کیا جا چکا ہے۔‘‘

    ’’شرائط کے ساتھ۔‘‘

    ’’شرائط ادبی تاریخ کو جھوٹ بنانے کی اجازت نہیں دیتیں۔‘‘

    دوسری طرف ہنسی آئی۔

    ’’یہ بات آپ کو ستائیس برس بعد یاد آئی؟‘‘

    عارف کے پاس جواب تھا، مگر دفاع نہیں۔

    فون بند ہوا تو وہ چھت کی منڈیر کے پاس رکھی پرانی کرسی پر بیٹھ گئے۔ سامنے شہر کی روشنیاں تھیں۔ نیچے ان کے مطالعہ گاہ میں فرید مسعود کی کتابوں کی پوری الماری تھی۔ ہر کتاب کے پہلے صفحے پر مصنف کے دستخط اور کوئی نہ کوئی جملہ،

    ’’عارف کے لیے، جو لفظ کی قدر جانتا ہے۔‘‘

    ’’عارف کے لیے، جس سے بہتر قاری کم ملتے ہیں۔‘‘

    ’’عارف کے لیے، اختلاف کے باوجود محبت کے ساتھ۔‘‘

    انہوں نے سوچا، کیا اچھا قاری وہ ہوتا ہے جو ادیب کے متن کو بچائے، یا وہ جو اس کے نام سے بھی متن کو بچا سکے؟

    رات گئے انہوں نے نیلی فائل دوبارہ کھولی۔ رفعت کا خط اصل میں صرف ایک نہیں تھا۔

    دوسرا خط انہوں نے کبھی کسی کو نہیں دکھایا تھا۔

    اس میں رفعت نے لکھا تھا،

    ’’فرید نے سلیمۃ کے صفحات نکال دیے ہیں۔ کہتا ہے لڑکی کے بولنے سے ناول کا مرکز بٹ جاتا ہے۔ میں نے کہا، مرکز تمہارا آدمی ہے، اس لیے ہر آواز تمہیں بکھراؤ لگتی ہے۔ اس نے ہنس کر کہا، تم اپنی کہانی لکھ لو۔ میں نے اسے نہیں بتایا کہ میں برسوں سے اسی کی کتاب میں اپنی کہانی لکھ رہی ہوں۔‘‘

    خط کے آخر میں ایک سطر تھی،

    ’’اگر کبھی یہ ناول چھپے تو دیکھنا، میرے سرخ جملے مکمل مٹ نہ جائیں۔ مٹانا بھی ایک طرح کی اشاعت ہے؛ آدمی صرف وہی مٹاتا ہے جس کے دکھائی دینے کا خوف ہو۔‘‘

    عارف نے خط میز پر رکھ دیا۔

    وہ جانتے تھے، اگلے روز یہ خط سائرہ کے حوالے کرنے کے بعد ناول کی تاریخ ہمیشہ کے لیے بدل جائے گی۔ یہ بھی جانتے تھے کہ اسے مزید چھپانا اب صرف فرید سے وفاداری نہیں ہوگا، اپنی جوانی، اپنے فیصلے اور اپنے نام کی حفاظت ہوگی۔

    صبح ہونے سے کچھ پہلے انہوں نے سائرہ کو ایک مختصر پیغام لکھا،

    میرے پاس رفعت آپا کا ایک اور خط ہے۔ اسے دیکھے بغیر کوئی حتمی فیصلہ نہ کیجیے۔

    پیغام بھیجنے کے بعد وہ دیر تک روشن پردے کو دیکھتے رہے۔

    نیچے مطالعہ گاہ میں فرید مسعود کی کتابیں بند تھیں۔

    مگر پہلی بار عارف کو محسوس ہوا کہ بند کتابیں خاموش نہیں ہوتیں۔ ان کے اندر وہ تمام آوازیں بھی سانس لیتی رہتی ہیں جنہیں مدیر، خاندان، قاری اور خود مصنف غیر متعلق قرار دے چکے ہوتے ہیں۔

    سائرہ نے عارف کا پیغام صبح پانچ بج کر بارہ منٹ پر دیکھا۔

    وہ رات بھر سو نہیں سکی تھیں۔ کبھی رفعت کا پہلا خط ذہن میں کھل جاتا، کبھی مہرالنساء کا جملہ سنائی دیتا کہ وہ کسی مردہ عورت کی علامت نہیں، ایک زندہ ملازم ہے جسے تنخواہ، معاہدہ اور اپنے کام کا نام چاہیے۔ کبھی وہ سرخیاں یاد آتیں جنہوں نے ایک ہی دن میں رفعت کو مظلوم نابغہ، فرید کو ادبی چور اور زینب کو کتابوں پر پابندی لگوانے والی لڑکی بنا دیا تھا۔

    عارف کا پیغام پڑھ کر وہ بستر سے اٹھ گئیں۔

    کھڑکی کے باہر فجر سے پہلے کی نیلاہٹ تھی۔ سامنے والے مکان کی چھت پر پانی کی ٹینکی کے گرد کبوتر ابھی خاموش بیٹھے تھے۔ سائرہ نے باورچی خانے میں جاکر چائے بنائی، مگر پہلا گھونٹ لیتے ہی محسوس کیا کہ دودھ خراب ہے۔ انہوں نے کپ سنک میں انڈیل دیا۔

    فون دوبارہ بجا۔

    اس بار مہرالنساء کا پیغام تھا،

    میرا تقرری نامہ ابھی جاری نہیں ہوا۔ رجسٹرار کے دفتر سے کہا گیا ہے کہ معاملہ تحقیق کے بعد دیکھا جائے گا۔

    سائرہ نے فوراً لکھا،

    میں آج بات کرتی ہوں۔ کام جاری رکھو۔

    پیغام بھیجنے کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ آخری جملہ حکم کی طرح سنائی دیتا ہے۔ انہوں نے دوسرا پیغام لکھا،

    میرا مطلب ہے، آج مرکز آنا تمہارے لیے محفوظ اور ممکن ہو تو آؤ۔ فیصلہ تمہارا ہے۔

    کچھ دیر بعد جواب آیا،

    آؤں گی۔ اصل مواد وہاں ہے۔

    عارف آٹھ بجے مرکز پہنچے۔ ان کے ہاتھ میں وہی نیلی فائل تھی، مگر آج انہوں نے سرمئی واسکٹ نہیں پہن رکھی تھی۔ سفید قمیص کے کالر پر ایک طرف ہلکی سی سلوٹ تھی۔ سائرہ نے پہلی بار انہیں ایسے دیکھا جیسے وہ دفتر آنے سے پہلے آئینے کے سامنے نہ رکے ہوں۔

    مہرالنساء پہلے سے کمرے میں موجود تھی۔ اس نے میز کے ایک سرے پر عکسی نقول، آرکائیوی فہرست اور رسالے میں شائع رفعت کی کہانی ترتیب سے رکھ دی تھی۔ سامنے خالی کاغذ پر سرخی لکھی تھی،

    متنی نسبت اور تدوینی تاریخ کے ابتدائی شواہد

    عارف نے یہ سرخی پڑھ کر پوچھا، ’’یہ کس کی رپورٹ ہے؟‘‘

    ’’ہماری‘‘، مہرالنساء نے کہا۔

    ’’ہماری سے مراد؟‘‘

    ’’مرکز کی تحقیقی ٹیم۔‘‘

    عارف نے سائرہ کی طرف دیکھا۔

    سائرہ نے کہا، ’’مہرالنساء معاون مدیرہ اور آرکائیوی محققہ کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں۔‘‘

    ’’تقرری ہوگئی؟‘‘

    مہرالنساء نے جواب دیا، ’’زبان میں ہوگئی ہے، کاغذ پر باقی ہے۔‘‘

    عارف نے اپنی کرسی کھینچ لی۔

    ’’اداروں میں اصل تقرری کاغذ پر ہوتی ہے۔ زبان پر تو لوگ وزیر بھی بن جاتے ہیں۔‘‘

    ’’اسی لیے آج کاغذ بھی ہوگا‘‘، سائرہ نے کہا۔

    عارف نے نیلی فائل کھولی اور دوسرا خط میز پر رکھ دیا۔

    اصل خط پہلے خط سے زیادہ بوسیدہ تھا۔ درمیان کی تہہ پر کاغذ ریشے ریشے ہو رہا تھا۔ رفعت کی تحریر بعض جگہ دھندلا گئی تھی، مگر سرخ سیاہی اب بھی پہچانی جا سکتی تھی۔

    مہرالنساء نے دستانے پہن لیے۔

    ’’اس کی آرکائیوی فہرست میں کوئی اندراج نہیں۔‘‘

    عارف نے سر جھکا لیا۔ ’’کیونکہ یہ میرے ذاتی کاغذات میں تھا۔‘‘

    ’’خط آپ کے نام ہے؟‘‘

    ’’جی۔‘‘

    ’’لیکن موضوع مخطوطہ ہے۔‘‘

    ’’جی۔‘‘

    ’’اور لکھنے والی نے اسے محفوظ رکھنے کی ہدایت دی ہے۔‘‘

    عارف نے اس کی طرف دیکھا۔

    ’’آپ سوال پوچھ رہی ہیں یا فرد جرم پڑھ رہی ہیں؟‘‘

    مہرالنساء نے خط کو شفاف غلاف میں رکھتے ہوئے کہا، ’’میں یہ طے کر رہی ہوں کہ اسے کس ذخیرے میں درج کیا جائے۔‘‘

    سائرہ نے خط پڑھنا شروع کیا۔ وہی عبارت سامنے آئی جس کا ایک حصہ عارف نے رات پیغام میں بتایا تھا،

    ’’فرید نے سلیمۃ کے صفحات نکال دیے ہیں۔ کہتا ہے لڑکی کے بولنے سے ناول کا مرکز بٹ جاتا ہے۔ میں نے کہا، مرکز تمہارا آدمی ہے، اس لیے ہر آواز تمہیں بکھراؤ لگتی ہے۔ اس نے ہنس کر کہا، تم اپنی کہانی لکھ لو۔ میں نے اسے نہیں بتایا کہ میں برسوں سے اسی کی کتاب میں اپنی کہانی لکھ رہی ہوں۔‘‘

    مگر خط یہاں ختم نہیں ہوتا تھا۔

    اگلے پیراگراف میں رفعت نے لکھا تھا،

    ’’یہ بھی سچ ہے کہ کتاب صرف میری نہیں۔ بعض کرداروں کو میں اس سے بہتر نہیں لکھ سکتی تھی۔ اس کے مرد اپنے جھوٹ کے اندر اس طرح چلتے ہیں جیسے انہیں راستہ یاد ہو، حالانکہ وہ ہر موڑ پر کھوئے ہوئے ہوتے ہیں۔ میں اس کے آدمیوں کو سمجھتی ہوں، مگر ان کے اندر اتنی دیر نہیں رہ سکتی۔ وہ رہ سکتا ہے۔ شاید اسی لیے ہم ایک دوسرے کے کاغذ پر لکھتے رہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کس جملے کا پہلا لفظ کس نے لکھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب کتاب چھپے گی تو کمرے میں صرف ایک کرسی دکھائی جائے گی۔‘‘

    سائرہ نے پڑھنا روک دیا۔

    یہ خط فرید کو محض چور اور رفعت کو پوشیدہ مصنفہ قرار دینے کی آسان کہانی کو توڑ رہا تھا۔ ان کے درمیان تخلیقی کشمکش تھی، اقتدار کا عدم توازن بھی، مگر ساتھ ہی ایک ایسی ادبی شراکت بھی جس میں سرحدیں ہر وقت واضح نہیں تھیں۔

    خط کے آخری حصے میں لکھا تھا،

    ’’میں فرید کے برابر اپنا نام لکھوانے کا مطالبہ نہیں کر رہی۔ برابر کا لفظ بھی عجیب ہے، جیسے تخلیق ترازو پر رکھی جا سکتی ہو۔ میں چاہتی ہوں، جب کبھی یہ مسودہ کھلے تو میرے حاشیے ساتھ رہیں۔ قاری کو دکھائی دے کہ کتاب نے اپنی آخری صورت کسی ایک ذہن میں نہیں پائی۔ اگر میرے جملے اسے کمزور لگیں تو وہ انہیں رد کر دے، مگر پہلے انہیں دیکھ تو لے۔‘‘

    مہرالنساء نے آہستہ سے پوچھا، ’’تو وہ شریک مصنفہ کا نام نہیں چاہتی تھیں؟‘‘

    عارف نے کہا، ’’اسی وجہ سے میں نے ان کا نام شامل نہیں کیا۔‘‘

    سائرہ نے فوراً جواب دیا، ’’وہ اپنا نام مٹانے کا اختیار بھی آپ کو نہیں دے رہیں۔ وہ حاشیے ساتھ رکھنے کو کہہ رہی ہیں۔‘‘

    ’’میں نے سوچا تھا، بعد کے تحقیقی ایڈیشن میں۔‘‘

    ’’مگر پہلے ایڈیشن کے مقدمے میں آپ نے لکھا کہ فرید مسعود نے یہ ناول اپنی زندگی کے آخری برسوں میں تنہائی سے لڑتے ہوئے تخلیق کیا۔‘‘

    عارف کے چہرے پر تھکن پھیل گئی۔

    ’’ادبی مقدمے میں ہر گھریلو گفتگو شامل نہیں کی جاتی۔‘‘

    مہرالنساء نے کہا، ’’آپ نے گفتگو شامل نہیں کی، مگر تنہائی ایجاد کر دی۔‘‘

    عارف نے تیز نگاہ سے اسے دیکھا، پھر اپنی فائل کی طرف جھک گئے۔

    ’’آپ دونوں کو لگتا ہے میں نے یہ سب فرید صاحب کی عظمت بچانے کے لیے کیا۔ شاید کیا بھی۔ مگر ایک اور خوف تھا۔ اگر میں رفعت آپا کو شریک آواز کے طور پر سامنے لاتا تو لوگ ناول پڑھنے کے بجائے یہ فیصلہ کرتے کہ اصل مصنف کون ہے۔ اب وہی ہو رہا ہے۔ کسی نے پورا خط نہیں پڑھا، مگر انہیں چور اور مظلوم کے کردار بانٹ دیے گئے ہیں۔‘‘

    سائرہ نے کہا، ’’آپ نے لوگوں کے غلط پڑھنے کے خوف سے درست مواد چھپا دیا۔‘‘

    ’’اور آپ لوگوں کے غلط پڑھنے کے خوف سے کتاب واپس منگوا چکی ہیں۔‘‘

    سائرہ خاموش ہوگئیں۔

    عارف کا جملہ درست تھا۔ کتاب کی تقسیم روکنا فوری احتیاط تھی، مگر اس میں وہی اختیار شامل تھا جس پر وہ دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہی تھیں۔ ایک ادارہ یہ فیصلہ کر رہا تھا کہ قاری کو کب اور کس صورت میں متن تک رسائی ملے گی۔

    مہرالنساء نے دونوں کی طرف دیکھا۔

    ’’شاید مسئلہ یہی ہے کہ آپ دونوں قاری کو ہمیشہ کسی نہ کسی خطرے سے بچانا چاہتے ہیں۔ ایک نامکمل تاریخ سے، دوسرا تکلیف دہ متن سے۔ اس دوران قاری کو مکمل چیز دیکھنے ہی نہیں دیتے۔‘‘

    کمرے میں خاموشی ہوگئی۔

    عارف نے پوچھا، ’’پھر آپ کا حل کیا ہے؟ سب کاغذ ایک ساتھ چھاپ دیے جائیں؟ نجی خط، دوائی کی فہرست، میاں بیوی کے جھگڑے؟‘‘

    ’’نہیں۔ ہر کاغذ متن نہیں۔ لیکن جو کاغذ متن کی صورت بدلتا ہے، اسے غیر متعلق بھی نہیں کہا جا سکتا۔‘‘

    ’’یہ فیصلہ کون کرے گا؟‘‘

    مہرالنساء نے کہا، ’’ایک شخص نہیں۔ اور فیصلہ آخری بھی نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

    سائرہ نے اس کی رپورٹ اپنی طرف کھینچی۔

    ’’ہمیں زینب کو بلانا ہوگا۔‘‘

    عارف نے ناگواری سے کہا، ’’وہ طالبہ ہے، متنی محقق نہیں۔‘‘

    ’’وہ پہلی قاری ہے جس نے اس حذف کو محسوس کیا۔‘‘

    ’’محسوس کرنا ثبوت نہیں۔‘‘

    ’’ثبوت دیکھنے کا حق ضرور پیدا کرتا ہے۔‘‘

    زینب مرکز پہنچی تو اس کے ساتھ ایک نوجوان وکیل بھی تھا۔ اس نے تعارف کرایا،

    ’’یہ میری بڑی بہن مریم ہیں۔ قانونی نمائندہ نہیں، صرف اس لیے آئی ہیں کہ بعد میں کوئی یہ نہ کہے میں نے سمجھ کر رضامندی نہیں دی۔‘‘

    عارف نے زیر لب کہا، ’’اب ہر ادبی قرأت کے ساتھ وکیل بھی ہوگا۔‘‘

    مریم نے سن لیا۔

    ’’جب ادارے ہر جملے کو قانونی خطرہ سمجھنے لگیں تو قاری وکیل ساتھ لانے لگتا ہے۔‘‘

    زینب نے دوسرے خط کی نقل پڑھی۔ وہ کافی دیر خاموش رہی۔ پھر اس نے پہلے شکایتی خط میں لکھا اپنا جملہ دہرایا،

    ’’میں نے کہا تھا سلیمۃ کی تکلیف مرد کردار کی نفسیاتی گہرائی کے لیے استعمال ہوئی ہے۔ اب معلوم ہوتا ہے، کسی نے اس اعتراض کو متن کے اندر ہی لکھا تھا۔‘‘

    عارف نے کہا، ’’اور مصنف نے اسے رد کیا تھا۔‘‘

    ’’کچھ حصہ رد کیا، کچھ استعمال کیا۔‘‘

    ’’یہی تو مصنف کا اختیار ہے۔‘‘

    زینب نے پوچھا، ’’مصنف کون؟‘‘

    عارف نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا، ’’اسی سوال نے پوری کتاب کھا لی ہے۔‘‘

    ’’کتاب کو سوال نہیں کھا رہا‘‘، مہرالنساء نے کہا، ’’وہ یقین کھا رہا ہے جس کے ساتھ آپ نے ایک نام لکھا تھا۔‘‘

    زینب نے حذف شدہ صفحات دوبارہ پڑھے۔ اس بار اس نے سلیمۃ کی ہنسی، نیلے دوپٹے اور مالک کے عربی تلفظ کی نقل پر زیادہ دیر نظر رکھی۔

    ’’میں اپنی شکایت میں ایک جگہ غلط تھی‘‘، اس نے کہا۔

    سائرہ نے پوچھا، ’’کہاں؟‘‘

    ’’میں نے لکھا تھا متن سلیمۃ کو آواز نہیں دیتا۔ آواز لکھی گئی تھی۔ اسے آخری متن سے نکالا گیا۔‘‘

    ’’نتیجہ تو وہی رہا‘‘، مریم نے کہا۔

    ’’قاری کے لیے ہاں۔ مگر ذمہ داری کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ مصنف نے لکھا، پھر کاٹا۔ کسی دوسرے نے اعتراض کیا، پھر حاشیے الگ ہوئے۔ مدیر نے انہیں غیر متنی کہا۔ ادارے نے مطبوعہ صورت کو مکمل مانا۔ یہ ایک جملہ غائب کرنے والے ایک شخص کی کہانی نہیں۔‘‘

    سائرہ نے پہلی بار محسوس کیا کہ زینب اس بحث میں صرف شکایت کنندہ نہیں رہی۔ وہ متن کو ان سب سے زیادہ احتیاط سے پڑھ رہی تھی۔

    ’’تم اب کتاب کی تقسیم کے بارے میں کیا سوچتی ہو؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔

    زینب نے کہا، ’’پرانا ایڈیشن واپس لینا درست ہے، کیونکہ وہ خود کو حتمی اور مکمل ظاہر کرتا ہے۔ مگر اگر نیا ایڈیشن صرف یہ ثابت کرنے کے لیے شائع ہوا کہ رفعت عظیم تھیں اور فرید مجرم، تو وہ بھی جھوٹ ہوگا۔‘‘

    عارف نے پہلی بار اس کی طرف پوری توجہ سے دیکھا۔

    ’’اور صنفی سلامتی کی سند؟‘‘

    زینب نے میز پر پڑی نیلی مہر دیکھی۔

    ’’یہی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ کوئی متن محفوظ نہیں ہوتا۔ بعض متون تکلیف دیتے ہیں، بعض تکلیف چھپاتے ہیں، بعض قاری کی تکلیف کو زبان دیتے ہیں۔ آپ زیادہ سے زیادہ یہ بتا سکتے ہیں کہ متن میں کیا ہے، کیسے لکھا گیا اور اس کی تاریخ کیا ہے۔ یہ نہیں کہ قاری کے لیے محفوظ ہے۔‘‘

    سائرہ نے دراز کھول کر نیلی مہر باہر نکالی۔

    مہر میز پر رکھی تو سب کی نظریں اس پر جم گئیں۔

    یہ چھوٹی سی چیز تھی۔ لکڑی کا دستہ، نیچے ربڑ کے الٹے حروف۔ مگر اسی نے چھیالیس ڈبوں میں بند ہزاروں نسخوں کو ایک ادارہ جاتی یقین دیا تھا۔

    عارف نے کہا، ’’اگر سند ختم ہوگئی تو مرکز کا جواز کیا رہ جائے گا؟‘‘

    سائرہ نے جواب دیا، ’’شاید مرکز کو اپنا جواز بدلنا ہوگا۔‘‘

    ’’اور آپ کا عہدہ؟‘‘

    ’’وہ بھی۔‘‘

    اسی دن دوپہر کو فرید مسعود کے خاندان کا قانونی نوٹس پہنچ گیا۔ نوٹس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ جامعہ چوبیس گھنٹوں کے اندر مخطوطے اور تمام متعلقہ نجی خطوط تک عوامی رسائی بند کرے، رفعت جہاں کو شریک مصنفہ یا معاون لکھاری کے طور پر پیش کرنے سے گریز کرے، موجودہ ایڈیشن کی تقسیم بحال کرے یا تمام نسخے خاندان کے حوالے کرے، خط کے افشا کی تحقیقات کرے اور فرید مسعود کی ادبی شہرت کو نقصان پہنچانے پر وضاحت جاری کرے۔

    نوٹس کے ساتھ خاندان کا تحریری بیان تھا،

    ’’رفعت جہاں ایک باوقار گھریلو خاتون تھیں جنہوں نے اپنے شوہر کے ادبی کام میں بیوی کی حیثیت سے تعاون کیا۔ اس گھریلو تعاون کو شریک تصنیف قرار دینا ازدواجی تعلق کو موجودہ نظریاتی تصورات کی روشنی میں مسخ کرنا ہے۔‘‘

    مہرالنساء نے بیان پڑھ کر کہا، ’’جب عورت کا کام نام مانگے تو وہ گھریلو تعاون بن جاتا ہے۔‘‘

    عارف نے کہا، ’’اور جب ہر گھریلو گفتگو کو تصنیف کہا جائے تو تخلیق کا مفہوم ختم ہو جاتا ہے۔‘‘

    ’’اس خط میں کسی نے ہر گفتگو کو تصنیف نہیں کہا۔‘‘

    ’’سماجی ذرائع ابلاغ پر یہی کہا جا رہا ہے۔‘‘

    سائرہ نے دونوں کو روکا۔

    ’’ہم سماجی ذرائع کے شور کی بنیاد پر نہ رفعت کو مصنفہ بنائیں گے، نہ فرید کو بری کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ قانونی نوٹس کے باوجود مواد کی تحقیق کیسے جاری رہے۔‘‘

    مہرالنساء نے آرکائیوی معاہدہ نکالا۔

    ’’میں نے عطیے کی اصل شرائط دیکھی ہیں۔‘‘

    اس نے صفحہ میز پر پھیلا دیا۔

    ’’خاندان نے مخطوطہ جامعہ کو مستقل تحفظ، تحقیق اور محدود اشاعتی حقوق کے ساتھ دیا تھا۔ شرط یہ ہے کہ نجی خاندانی معلومات بلا ضرورت شائع نہیں ہوں گی، مگر تدوینی تاریخ، مصنفانہ عمل اور مخطوطے سے براہِ راست متعلق دستاویزات تحقیق کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔‘‘

    عارف نے معاہدہ لیا۔

    ’’یہ ضمیمہ میں نے نہیں دیکھا۔‘‘

    ’’کیونکہ یہ مرکزی فائل میں نہیں تھا۔ جائیداد اور عطیات کے ریکارڈ میں تھا۔‘‘

    سائرہ نے پوچھا، ’’تمہیں کیسے ملا؟‘‘

    ’’فرید مسعود کے نام سے نہیں۔ ذخیرہ نمبر سترہ کی منتقلی کے اندراج سے۔‘‘

    عارف نے پہلی بار ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، ’’آپ واقعی آرکائیو میں کام کرتی ہیں۔‘‘

    مہرالنساء نے جواب دیا، ’’کبھی کبھی لفظ ہاتھ پر لگ ہی جاتے ہیں۔‘‘

    معاہدے نے مخطوطہ خاندان کو واپس کرنے کا فوری خطرہ کم کر دیا، مگر بحران ختم نہیں ہوا۔ جامعہ کی مجلس عاملہ نے اگلے روز ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔

    اجلاس شروع ہونے سے پہلے سائرہ کو رجسٹرار نے الگ کمرے میں بلایا۔

    میز پر دو کاغذ رکھے تھے۔

    پہلا مرکز کی طرف سے جاری کیے جانے والے نئے اعلامیے کا مسودہ تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ ابتدائی غلط فہمی دور ہوگئی ہے، ناول میں کوئی ایسا مواد نہیں جو اس کی اشاعت روکنے کا جواز بنے، اور تدوینی اختلافات پر ایک علمی ضمیمہ بعد میں شائع کیا جائے گا۔

    دوسرا سائرہ کی طرف سے دیا جانے والا بیان تھا،

    ’’میری ابتدائی رپورٹ کو سیاق سے الگ پیش کیا گیا۔ میں متن کی اشاعت کے حق کی مکمل حمایت کرتی ہوں اور موجودہ تنازعے کو آزادیٔ اظہار کے خلاف مہم بنانے کی مذمت کرتی ہوں۔‘‘

    سائرہ نے دونوں کاغذ پڑھ کر پوچھا، ’’یہ کس نے لکھا ہے؟‘‘

    رجسٹرار نے کہا، ’’قانونی اور تعلقات عامہ کی ٹیم نے۔ اس سے معاملہ پرسکون ہو جائے گا۔‘‘

    ’’اس میں رفعت جہاں کے حاشیوں کا ذکر نہیں۔‘‘

    ’’تحقیق جاری رہے گی۔‘‘

    ’’مہرالنساء کے کردار کا ذکر نہیں۔‘‘

    ’’عملے کے نام سرکاری اعلامیوں میں شامل نہیں ہوتے۔‘‘

    ’’اور صنفی سند؟‘‘

    ’’مرکز آئندہ زیادہ احتیاط کرے گا۔‘‘

    سائرہ نے دوسرا کاغذ میز پر رکھ دیا۔

    ’’میں یہ بیان جاری نہیں کروں گی۔‘‘

    رجسٹرار نے آواز نرم کر لی۔

    ’’ڈاکٹر سائرہ، بات سمجھنے کی کوشش کریں۔ آپ نے خود تسلیم کیا ہے کہ ابتدائی رپورٹ نامکمل تھی۔ ہم اسی غلطی کو درست کر رہے ہیں۔‘‘

    ’’ایک نامکمل رپورٹ کی جگہ نامکمل اعلامیہ رکھ کر؟‘‘

    ’’ہر تحقیق عوامی تماشہ نہیں بن سکتی۔‘‘

    ’’یہ پہلے ہی عوامی ہے۔‘‘

    ’’تبھی تو ذمہ داری سے بند کرنا ضروری ہے۔‘‘

    سائرہ نے پوچھا، ’’اگر میں دستخط نہ کروں؟‘‘

    رجسٹرار نے پہلے کاغذ کو سیدھا کیا۔

    ’’مرکز کی سربراہی ایک انتظامی عہدہ ہے۔ مجلس عاملہ کسی دوسرے فرد کو عبوری ذمہ داری دے سکتی ہے۔ آپ بطور استاد اور محقق کام جاری رکھیں گی۔‘‘

    ’’یعنی عہدہ چھوڑ دوں، مگر اعلامیے پر اعتراض نہ کروں؟‘‘

    ’’میں نے یہ نہیں کہا۔‘‘

    ’’اداروں میں اکثر نہ کہنے اور کہنے کے درمیان صرف زبان کا فرق ہوتا ہے۔ نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے۔‘‘

    رجسٹرار نے انہیں دیکھا۔ شاید انہیں یاد نہیں تھا کہ یہی جملہ کبھی عارف نے کہا تھا۔

    ’’آپ جذباتی ہو رہی ہیں۔‘‘

    سائرہ نے مسکرا کر پوچھا، ’’یہ لفظ مرد ساتھی کے لیے بھی استعمال کرتے؟‘‘

    رجسٹرار نے فوراً کہا، ’’براہ کرم ہر انتظامی اختلاف کو صنفی مسئلہ نہ بنائیں۔‘‘

    ’’میں اسے صنفی مسئلہ نہیں بنا رہی۔ میں صرف دیکھ رہی ہوں کہ زبان کتنی جلدی اپنا پرانا راستہ ڈھونڈ لیتی ہے۔‘‘

    وہ دونوں کاغذ میز پر چھوڑ کر باہر آگئیں۔

    مجلس عاملہ کا اجلاس تین گھنٹے جاری رہا۔ خاندان کا وکیل تصویری رابطے پر موجود تھا۔ عارف نے دونوں خطوط، حاشیوں اور حذف شدہ صفحات کی تفصیل بیان کی۔ مہرالنساء نے آرکائیوی معاہدہ، مخطوطے کی مختلف سیاہیوں اور صفحات کی نقل و حرکت کا ریکارڈ پیش کیا۔ زینب کو باضابطہ رکن نہیں سمجھا گیا، مگر سائرہ کے اصرار پر اسے شکایت کنندہ قاری کی حیثیت سے مختصر بیان کی اجازت ملی۔

    زینب نے کہا،

    ’’میں نے کسی کتاب پر پابندی کا مطالبہ نہیں کیا۔ میں نے اس سند پر اعتراض کیا تھا جو ادارے نے قاری کی طرف سے صادر کی۔ اب معلوم ہوا ہے کہ سند صرف متن کی اخلاقی حیثیت پر نہیں، متن کی نامکمل صورت پر بھی دی گئی تھی۔ میں چاہتی ہوں کتاب شائع ہو، مگر اپنی دراڑوں، حذف اور اختلاف کے ساتھ۔‘‘

    خاندان کے وکیل نے پوچھا، ’’کیا آپ ادبی تدوین کی ماہر ہیں؟‘‘

    ’’نہیں۔‘‘

    ’’تو آپ کس بنیاد پر یہ مطالبہ کر رہی ہیں؟‘‘

    ’’اسی بنیاد پر جس پر مجھے پہلے کہا گیا تھا کہ تکلیف ہوئی ہے تو کتاب بند کر دو۔ میں قاری ہوں۔ کتاب میرے لیے شائع ہو رہی تھی۔‘‘

    وکیل نے کہا، ’’قاری کو متن ملتا ہے، مصنف کا باورچی خانہ نہیں۔‘‘

    عارف نے پہلی بار خاندان کے نمائندے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا، ’’جب باورچی خانے کے جملے متن میں منتقل ہوں تو وہ صرف باورچی خانہ نہیں رہتا۔‘‘

    اجلاس کے دوران تین تجاویز سامنے آئیں۔

    پہلی یہ کہ موجودہ ایڈیشن فوری طور پر بحال کیا جائے اور تحقیقی اختلاف بعد کے مقالوں پر چھوڑ دیا جائے۔

    دوسری یہ کہ کتاب کی اشاعت غیر معینہ مدت تک روک دی جائے، جب تک قانونی طور پر مصنفانہ نسبت طے نہ ہو۔

    تیسری، جو سائرہ، مہرالنساء، زینب اور بالآخر عارف نے مشترکہ طور پر پیش کی، یہ تھی کہ موجودہ ایڈیشن منسوخ کیا جائے، مگر متن کو بند نہ رکھا جائے۔ اس کے بجائے ایسا تنقیدی ایڈیشن تیار ہو جس میں فرید مسعود کے مرکزی مخطوطے کی آخری ترتیب، رفعت جہاں کے متعلقہ حاشیے، حذف شدہ صفحات، دونوں خطوط کے صرف ادبی و تدوینی طور پر ضروری حصے، مختلف نسخوں کا تقابلی تعارف اور مصنفانہ نسبت کا غیر حتمی سوال صاف طور پر قاری کے سامنے رکھا جائے۔

    سرورق پر کتاب کا عنوان برقرار رہے، مگر مصنف کی جگہ عبارت ہو،

    فرید مسعود کا مخطوطہ

    رفعت جہاں کے حاشیوں اور حذف شدہ متن کے ساتھ

    نیچے تدوین کے نام:

    عارف کمال، سائرہ ندیم، مہرالنساء قریشی

    عارف نے اپنا نام سب سے آخر میں رکھنے کی درخواست کی۔

    مہرالنساء نے کہا، ’’ترتیب حروف تہجی سے ہونی چاہیے، توبہ کے درجے سے نہیں۔‘‘

    عارف کے ہونٹوں پر پہلی بار کھلی مسکراہٹ آئی۔

    مجلس عاملہ کے ایک رکن نے اعتراض کیا،

    ’’اس صورت میں ہر قاری اپنی مرضی کا ناول بنا لے گا۔‘‘

    سائرہ نے جواب دیا، ’’قاری ہمیشہ ایسا کرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہوگا کہ اس بار ہم اسے وہ صفحات بھی دیں گے جو پہلے چھپائے گئے تھے۔‘‘

    دوسرے رکن نے پوچھا، ’’اور صنفی سلامتی کی سند؟‘‘

    سائرہ نے نیلی مہر میز پر رکھ دی۔

    ’’میں تجویز کرتی ہوں کہ یہ نظام ختم کیا جائے۔‘‘

    کمرے میں سرگوشی ہوئی۔

    ’’آپ اپنے ہی قائم کردہ مرکز کا بنیادی کام ختم کرنا چاہتی ہیں؟‘‘ وائس چانسلر نے پوچھا۔

    ’’میں اس کام کی وہ صورت ختم کرنا چاہتی ہوں جس میں ادارہ کسی کتاب کو محفوظ یا غیر محفوظ قرار دیتا ہے۔ مرکز متن کے صنفی، طبقاتی اور تاریخی سیاق کے بارے میں مطالعاتی نوٹ تیار کر سکتا ہے۔ قاری کو پیشگی معلومات، تدریسی رہنمائی اور شکایت کا طریقہ دے سکتا ہے۔ لیکن کوئی مہر یہ ضمانت نہیں دے سکتی کہ متن نقصان نہیں پہنچائے گا، اور نہ یہ کہ تکلیف دینے والا متن لازماً ناقابلِ مطالعہ ہے۔‘‘

    ’’پھر مرکز کا نام؟‘‘

    زینب نے کہا، ’’نام بدلنے سے پہلے کام بدلنا چاہیے۔‘‘

    اس بار کسی نے اسے خاموش نہیں کرایا۔

    بحث کے اختتام پر رائے شماری ہوئی۔

    تنقیدی ایڈیشن کی تجویز معمولی اکثریت سے منظور ہوگئی۔

    صنفی سلامتی کی سند فوری طور پر معطل کر دی گئی۔ اس کے مستقل مستقبل کا فیصلہ نئی علمی کمیٹی پر چھوڑا گیا۔

    سائرہ کو مرکز کی سربراہی سے تین ماہ کے لیے الگ کرکے تحقیقی ایڈیشن کی ذمہ داری سونپی گئی۔ سرکاری طور پر یہ ’’مفادات کے ممکنہ تصادم سے بچاؤ‘‘ تھا۔ غیر سرکاری طور پر سب جانتے تھے کہ جامعہ انہیں سزا بھی دینا چاہتی ہے اور ان کے علم سے فائدہ بھی اٹھانا چاہتی ہے۔

    مہرالنساء کا ایک سالہ باقاعدہ معاہدہ منظور ہوا۔ عہدہ:

    آرکائیوی محققہ و معاون مدیرہ

    تنخواہ اس رقم سے کم تھی جو سائرہ نے تجویز کی تھی، مگر پہلے سے زیادہ تھی۔ مہرالنساء نے معاہدہ پڑھتے ہوئے صرف ایک تصحیح کروائی۔ اس میں لکھا تھا کہ وہ ’’سینئر مدیران کی ہدایات کے مطابق آرکائیوی مواد فراہم کرے گی۔‘‘

    اس نے جملہ بدلوا کر لکھوایا،

    ’’آرکائیوی اصولوں اور تحقیقی ضرورت کے مطابق مواد کی شناخت، ترتیب اور تشریح میں حصہ لے گی۔‘‘

    رجسٹرار نے پوچھا، ’’ایک جملے سے کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘

    مہرالنساء نے کہا، ’’بعض اوقات پوری کتاب کا۔‘‘

    تنقیدی ایڈیشن کی تیاری میں سات ماہ لگے۔

    ان سات مہینوں میں کسی ایک فریق کو اپنی خواہش کے مطابق مکمل فتح نہ ملی۔

    فرید مسعود کے خاندان نے عدالت میں درخواست دائر کی۔ عدالت نے اشاعت پر مستقل پابندی نہیں لگائی، مگر نجی خطوط کے غیر متعلق حصے شائع کرنے سے روک دیا۔ خاندان کے بعض افراد نے رفعت جہاں کی تخلیقی شرکت تسلیم کی، بعض نے اسے ’’ازدواجی معاونت‘‘ کہا، اور ایک پوتی نے پہلی بار اپنی دادی کی باقی نوٹ بکس مرکز کے حوالے کر دیں۔

    ان نوٹ بکس نے مسئلہ حل نہیں کیا، مزید پیچیدہ کر دیا۔

    بعض صفحات فرید کے ناول کے ابتدائی خاکے تھے۔ بعض رفعت کی اپنی کہانیوں کے منصوبے۔ کچھ مقامات پر فرید کی نیلی سیاہی رفعت کے سرخ جملوں کے اوپر تھی، کچھ جگہ رفعت نے فرید کا پورا پیراگراف کاٹ کر اپنا منظر لکھا تھا۔ کہیں دونوں نے ایک ہی کردار کے دو مختلف انجام تجویز کیے تھے۔ ایک صفحے پر صرف یہ مکالمہ درج تھا،

    نیلی سیاہی، ’’وہ گھر چھوڑ کر نہیں جائے گی۔‘‘

    سرخ سیاہی، ’’تمہیں کیسے معلوم؟‘‘

    نیلی، ’’کیونکہ ناول یہیں رہتا ہے۔‘‘

    سرخ، ’’عورت ناول کے لیے نہیں رہتی۔‘‘

    نیلی، ’’پھر کہانی ختم ہو جائے گی۔‘‘

    سرخ، ’’شاید اس کی کہانی وہیں سے شروع ہو۔‘‘

    یہ طے کرنا ممکن نہ تھا کہ اس مکالمے کے بعد کون ہنسا ہوگا، کون ناراض ہوا، یا کس نے کاغذ تہہ کرکے دراز میں رکھ دیا۔

    عارف نے نئے مقدمے میں اپنے پرانے تدوینی فیصلے کی وضاحت لکھی۔ پہلے مسودے میں انہوں نے خود کو حد سے زیادہ مجرم بنایا تھا۔ لکھا تھا کہ انہوں نے ادبی تاریخ کے خلاف دانستہ خیانت کی۔

    مہرالنساء نے حاشیے میں لکھا،

    ’’یہ اعتراف بھی آپ کو کہانی کا مرکزی کردار بنا رہا ہے۔ مسئلہ صرف آپ کی بزدلی نہیں، وہ نظام بھی ہے جس میں رفعت کا کام نام کے بغیر معمول سمجھا گیا۔‘‘

    عارف نے کئی منٹ اس جملے کو دیکھا، پھر اپنا پورا پیراگراف کاٹ دیا۔

    نئے متن میں انہوں نے لکھا،

    ’’میں نے اس دور کے ایک عام تدوینی مفروضے کے مطابق مصنف کی آخری منتخب ترتیب کو اصل متن سمجھا اور حاشیوں کو ثانوی مواد قرار دیا۔ یہ فیصلہ محض تکنیکی نہ تھا۔ اس کے پیچھے مصنف کی وحدت، مرد ادیب کی انفرادی عظمت اور گھریلو عورت کی غیر رسمی محنت کے بارے میں وہ تصورات موجود تھے جنہیں اس وقت میں نے غیر جانب دار سمجھا۔‘‘

    زینب نے کتاب کے آخر میں قاری کا نوٹ لکھنے کی پیشکش قبول کی، مگر شرط رکھی کہ اسے ’’متاثرہ طالبہ‘‘ کے طور پر متعارف نہ کرایا جائے۔

    اس نے لکھا،

    ’’کسی متن کی تکلیف دہ حیثیت ہمیشہ اس کے خلاف ثبوت نہیں، مگر قاری کی تکلیف کو اس کی کم علمی کہہ کر رد کرنا بھی تنقید نہیں۔ یہ ایڈیشن ہمیں کسی ایک درست قرأت تک نہیں پہنچاتا۔ یہ صرف اتنا کرتا ہے کہ وہ دروازے دکھا دیتا ہے جنہیں پہلے دیوار سمجھ لیا گیا تھا۔‘‘

    سائرہ نے صنفی سلامتی کے اپنے پرانے نظام پر ایک طویل خود تنقیدی مقدمہ لکھا۔ انہوں نے اپنے سترہ سال پہلے حذف کیے گئے سات صفحات بھی دوبارہ پڑھے۔ کچھ حصے اب انہیں خام اور فیصلہ کن لگے، مگر انہوں نے انہیں صرف اس لیے رد نہیں کیا کہ وہ ان کی نوجوان آواز تھی۔ انہوں نے ان پر نئے حاشیے لکھے اور اپنی اگلی کتاب میں دونوں صورتیں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔

    مرکز کا نام بدل کر مرکز برائے ادب، طاقت اور قرأت رکھ دیا گیا۔

    نئی تختی لگانے کے دن ایک صحافی نے سائرہ سے پوچھا،

    ’’کیا اس کا مطلب ہے آپ تانیثی تنقید سے دست بردار ہوگئی ہیں؟‘‘

    سائرہ نے کہا،

    ’’نہیں۔ شاید اب اسے زیادہ سنجیدگی سے لیتی ہوں۔ جو تنقید اپنی طاقت کو نہیں دیکھتی، وہ صرف دوسروں کا محاسبہ کرتی ہے۔‘‘

    ’’اور کیا ہر متنازع کتاب کو اسی طرح حاشیوں کے ساتھ شائع کیا جائے گا؟‘‘

    ’’نہیں۔ ہر کتاب کی تاریخ مختلف ہے۔ کوئی ایک نسخہ سب پر نافذ نہیں ہوگا۔‘‘

    ’’پھر معیار کیا ہے؟‘‘

    سائرہ نے تختی کی طرف دیکھا جس کے حروف ابھی تازہ تھے۔

    ’’شاید پہلا معیار یہی ہے کہ ہم اپنے معیار کو آخری نہ سمجھیں۔‘‘

    صحافی کو یہ جواب سرخی کے لیے کمزور لگا۔ اس نے دوبارہ پوچھا،

    ’’سادہ الفاظ میں؟‘‘

    سائرہ مسکرا دیں۔

    ’’سادہ الفاظ ہمیشہ سادہ حقیقت نہیں بناتے۔‘‘

    تنقیدی ایڈیشن چھپ کر آیا تو اس کے چھیالیس نہیں، صرف بارہ ڈبے تھے۔ ناشر نے پہلے محدود تعداد میں چھاپنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کتاب پہلے سے زیادہ موٹی تھی۔ سرورق پر وہی بند دروازہ تھا، مگر اب اس کے نیچے سے نکلنے والی روشنی کی لکیر سرخ تھی۔ جلد کے اندر شفاف کاغذ کا ایک اضافی ورق تھا جس پر نیلی اور سرخ تحریر کی دو باریک لکیریں ایک دوسرے کو کاٹنے کے بجائے ساتھ ساتھ چلتی تھیں۔

    کتاب کا اجرا کسی بڑے ہوٹل یا آراستہ ہال میں نہیں ہوا۔ مرکز کے مطالعہ گاہ میں ایک عوامی قرأت رکھی گئی۔ شرط یہ تھی کہ مقررین کتاب کی تعریف یا مذمت میں تقاریر نہیں کریں گے۔ صرف منتخب متن پڑھیں گے اور اپنے انتخاب کی وجہ بتائیں گے۔

    عارف نے فرید کا وہ حصہ پڑھا جس میں مالک مکان وضو کے بعد دیر تک اپنے ہاتھ دیکھتا ہے۔

    مہرالنساء نے رفعت کا حاشیہ پڑھا،

    ’’شاید اسے یقین نہیں کہ پانی نے سب دھو دیا ہے۔‘‘

    زینب نے سلیمۃ کے نیلے دوپٹے والا حذف شدہ حصہ پڑھا۔

    فرید مسعود کی پوتی نے اپنی دادی کی نوٹ بک سے ایک جملہ پڑھا،

    ’’گھر میں لکھی ہوئی بات کو گھر کی بات کہہ کر چھوڑ دینا بھی ایک ادبی فیصلہ ہے۔‘‘

    سائرہ نے کچھ نہیں پڑھا۔ وہ آخری قطار میں بیٹھی لوگوں کے چہرے دیکھتی رہیں۔ کسی کے چہرے پر غصہ تھا، کسی پر اطمینان، کچھ لوگ صفحات کی ترتیب سے پریشان تھے۔ ایک عمر رسیدہ ادیب نے ساتھ بیٹھے شخص سے کہا کہ اب ناول پڑھنے کے لیے وکیل اور ماہر آثار قدیمہ دونوں درکار ہوں گے۔ ایک نوجوان لڑکی نے جواب دیا کہ پہلے بھی درکار تھے، بس انہیں مصنف کہا جاتا تھا۔

    قرأت کے بعد سوالات شروع ہوئے۔

    کسی نے پوچھا، ’’آخر اصل ناول کون سا ہے؟‘‘

    عارف نے کہا، ’’فرید کی آخری ترتیب ایک اصل ہے، مگر واحد حقیقت نہیں۔‘‘

    کسی نے پوچھا، ’’کیا رفعت شریک مصنفہ تھیں؟‘‘

    مہرالنساء نے کہا، ’’شواہد تخلیقی شرکت ثابت کرتے ہیں، مگر اس شرکت کی حد کو ایک لفظ میں بند کرنا مشکل ہے۔ اسی لیے شواہد کتاب میں موجود ہیں۔‘‘

    کسی نے زینب سے پوچھا، ’’کیا اب یہ ناول عورت دشمن نہیں رہا؟‘‘

    زینب نے جواب دیا،

    ’’حاشیے شامل ہونے سے ناول پاک نہیں ہوگیا۔ صرف اس کی عورت دشمنی، اس کی مزاحمت اور اس کی تدوینی تاریخ ایک دوسرے کے ساتھ دکھائی دینے لگی ہیں۔‘‘

    ایک طالب علم نے سائرہ سے پوچھا، ’’کیا آپ اب اس کتاب کو محفوظ سمجھتی ہیں؟‘‘

    مطالعہ گاہ میں ہلکی سی ہنسی پھیلی۔

    سائرہ نے کہا، ’’میں اب کسی کتاب کو محفوظ کہنے کی ذمہ داری نہیں لوں گی۔‘‘

    ’’تو پڑھیں کیسے؟‘‘

    ’’دوسروں کو خاموش کیے بغیر، اور یہ سمجھے بغیر کہ ہم خود متن سے باہر کھڑے ہیں۔‘‘

    تقریب ختم ہونے کے بعد لوگ کتابیں خریدنے کے لیے قطار میں لگ گئے۔ چند افراد نے احتجاجاً کتاب نہ خریدنے کا اعلان کیا۔ ایک ادبی تنظیم نے اسی شام بیان جاری کیا کہ جامعہ نے ایک عظیم مرد ادیب کی کتاب کو نظریاتی تجربہ گاہ بنا دیا ہے۔ دوسری تنظیم نے کہا کہ رفعت جہاں کا نام سرورق پر فرید کے برابر نہ لکھنا عورت کی تخلیقی محنت کی نئی توہین ہے۔

    کسی فریق کو مکمل اطمینان نہیں ملا۔

    شاید یہی پہلا اشارہ تھا کہ کتاب کسی ایک مہم کا اشتہار نہیں بنی۔

    رات کو مطالعہ گاہ بند ہونے کے بعد مہرالنساء نے فروخت کے باقی نسخے گنے۔ سائرہ نے کرسیوں کو میزوں کے نیچے کرنے میں اس کی مدد کی۔

    ’’یہ کام اب بھی میری ذمہ داری میں ہے؟‘‘ مہرالنساء نے پوچھا۔

    سائرہ رک گئیں، پھر سمجھ کر مسکرائیں۔

    ’’نہیں۔ میں صرف مدد کر رہی ہوں۔‘‘

    ’’فرق کیسے معلوم ہوگا؟‘‘

    ’’شاید اس سے کہ تم مجھے روک سکتی ہو۔‘‘

    مہرالنساء نے ایک کرسی ان کے ہاتھ سے لے لی۔

    ’’پھر یہ رہنے دیں۔ صفائی والا عملہ صبح کرے گا۔‘‘

    دونوں نے ہال کی روشنیاں بند کیں۔

    عقبی دروازے کے قریب وہ جگہ خالی تھی جہاں سات ماہ پہلے چھیالیس ڈبے بھیگتے ہوئے واپس آئے تھے۔ سفید پرچیاں، جن پر صنفی سلامتی کی سند منسوخ ہونے کا اعلان تھا، اب ایک فائل میں محفوظ تھیں۔ مہرالنساء نے انہیں ضائع نہیں ہونے دیا تھا۔ اس کے مطابق غلط فیصلوں کا ریکارڈ بھی درست فیصلوں جتنا ضروری ہوتا ہے۔

    وہ دونوں تہہ خانے میں گئیں۔

    الماری نمبر سترہ کے سامنے نئے ڈبے رکھے تھے۔ ایک میں فرید کا اصل مخطوطہ، دوسرے میں رفعت کے حاشیے، تیسرے میں خطوط اور نوٹ بکس، چوتھے میں مختلف تدوینی مراحل کی نقول۔

    ہر ڈبے پر کسی ایک نام کے بجائے مواد کی نوعیت لکھی تھی۔

    مہرالنساء نے رجسٹر کھولا۔ تنقیدی ایڈیشن کی تیاری مکمل ہونے کے بعد آج پہلا باقاعدہ اندراج ہونا تھا۔

    اس نے لکھا،

    ذخیرہ نمبر سترہ۔ مواد نئی ترتیب کے مطابق محفوظ کیا گیا۔ مصنفانہ اور تدوینی نسبت متعدد سطحوں پر مشتمل ہے۔ تحقیق جاری ہے۔

    سائرہ نے آخری الفاظ پڑھے۔

    ’’تحقیق جاری ہے؟ کتاب تو شائع ہوگئی۔‘‘

    مہرالنساء نے قلم بند نہیں کیا۔

    ’’کتاب شائع ہونے سے تحقیق ختم ہوجاتی ہے؟‘‘

    ’’نہیں۔‘‘

    ’’پھر یہی ٹھیک ہے۔‘‘

    اس نے رجسٹر بند کیا، مگر سرخ قلم میز پر رہنے دیا۔

    اگلی صبح مطالعہ گاہ کھلی تو پہلا قاری ایک کم عمر طالب علم تھا۔ وہ کتاب لے کر کھڑکی کے پاس بیٹھ گیا۔ کچھ دیر فرید کا متن پڑھتا رہا، پھر صفحے کے کنارے پر رفعت کا حاشیہ آیا۔ اس نے دونوں کو دوبارہ پڑھا، جیسے اسے فیصلہ کرنا ہو کہ کس کی بات درست ہے۔

    پھر شاید اسے سمجھ آیا کہ صفحہ اس سے فوری فیصلہ نہیں مانگ رہا۔

    وہ آگے بڑھا تو ایک جگہ نیلی سیاہی کا جملہ سرخ لکیر سے کاٹا ہوا تھا۔ نیچے رفعت کا متبادل جملہ تھا۔ اس کے بعد تدوینی نوٹ میں بتایا گیا تھا کہ مطبوعہ نسخے میں فرید نے پہلا جملہ واپس رکھ لیا تھا۔

    طالب علم نے پنسل اٹھائی۔

    کچھ لکھنے سے پہلے وہ رکا۔ مطالعہ گاہ کے ضابطے کے مطابق کتاب میں نشان لگانا منع تھا۔ اس نے اپنی نوٹ بک کھولی اور دونوں جملے نقل کر لیے۔

    پھر ان کے نیچے لکھا،

    ’’کیا کاٹا ہوا جملہ ختم ہوجاتا ہے؟‘‘

    کھڑکی سے آنے والی روشنی کتاب کے بیچوں بیچ پڑ رہی تھی۔

    سرخ حاشیہ اب کنارے پر نہیں رہا تھا۔

    صفحہ اس کے لیے پہلے ہی جگہ بنا چکا تھا۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے