تمغہ

MORE BYعلی اکبر ناطق

    ڈی آئی جی سمیت پولیس کے تمام افسران موجود تھے۔ سُرخ قالینوں اور کُرسیوں پر لوگوں کی بڑی تعداد جمع تھی۔ اسٹیج کو پولیس کے شہد ا کی تصویروں اور پھولوں سے سجا دیا گیا تھا۔ اناؤنسر نے مختصر تمہید کے بعد ڈی آئی جی شمس الحسن کو ڈائس پر آنے کی دعوت دی۔ ڈی آئی جی ڈائس پر آئے توہال میں مکمل خاموشی طاری ہو گئی۔

    حضرات! آپ جانتے ہیں، پنجاب پولیس نے کس طرح اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے جرائم پر قابو پایا ہے۔ ہم اپنے جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں، جو معاشرے کے بدمعاش اور ناسور وں کا مقابلہ دلیری سے کرکے اُن کو کیفر کردار تک پہنچاتے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح آج ہمیں پھر اپنے اِن دو جوانوں پر فخر ہے، جنہوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر انسانیت کے دشمنوں کا خاتمہ کیا ہے۔ اِن میں ایک سب انسپیکڑ حمید سندھو صاحب ہیں، جس کی کارکردگی پچھلے کئی سالوں سے پنجاب پولیس کو کامیابیوں سے ہمکنار کر رہی ہے اور دوسرے عابد بلال ہیں، جس نے اس کے شانہ بشانہ کام کیا۔ میں ان دونوں کو اگلے اسٹیج پر ترقی دیتا ہوں، یہ کہہ کر ڈی آ ئی جی صاحب ایک طرف ہو گئے اور اناونسر نے دوبارہ ڈائس پر آ کر اعلان شروع کیا، حمید سندھو صاحب اسٹیج پر آکر اپنا تمغہ وصول کریں۔

    حمید سندھو تالیوں کے شور میں پُر اعتماد قدموں کے ساتھ اسٹیج کی طرف بڑھتا ہے اور اپنا تمغہ وصول کرتا ہے۔ ڈی آئی جی صاحب اُس کے کاندھے پر بیجز بھی لگاتا ہے،

    اب میرا نام پکارا جانا تھا، جس کے تصور سے میرا جسم پسینے میں بھیگ گیا، ہاتھ پاؤں ٹھنڈے اور ٹانگوں میں لرزا طاری تھا۔ مجھے ڈر تھا گر نہ پڑوں۔ میری ساری توجہ اپنے آپ کو قابو میں رکھنے پر تھی۔ ایک دفعہ خیال آیا، واش روم جانے کا بہانہ کر کے بھاگ جاؤں لیکن اب وقت نہیں تھا اور مجھے ہر حالت میں اسٹیج پر جا کر اپنا تمغہ وصول کرنا تھا۔

    یہ شہر قصبے سے کچھ ہی بڑا تھا۔ مشرق کی طرف بیس کلو میٹر کے فاصلے پر دریا ہے۔ دریا جولانی پر آتا تو دور تک پھیل جاتا، جس کی وجہ سے ادھر اُدھر جنگلات بن چکے تھے۔ جنگلات اِس لیے بھی زیادہ تھے کہ تمام علاقہ رینجر کی حدود میں تھا اور وہ درخت کاٹنے کی اجازت نہیں دیتی۔ یہاں ہزاروں زمیندار تھے اور سب نے غنڈے پال رکھے تھے۔ یہ غنڈے پورے علاقے میں مجرمانہ کاروائیاں کرنے کے بعد ان زمینداروں کے پاس پناہ لیتے۔ کسی زمیندار کو مخالف سے نپٹنا ہوتا تو اپنے غنڈے کے ذریعے ہی دو دو ہاتھ کرتا۔ گویا غنڈوں کو پناہ دینا زمینداروں کی بقا کا مسئلہ تھا۔ مَیں کم وبیش سب زمینداروں اور اُن کے متعلقہ غنڈوں سے واقف تھا لیکن اپنی مرضی سے کاروائی کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ویسے بھی میرا منصب محض ایک حوالدار کی حیثیت سے بڑوں کے کاموں میں دخل دینا یا تھانے کی پالیسی وضع کرنا نہیں تھا۔ تھانے دار کو اُس کا مطلوبہ حصہ وقت پر پہنچ جاتا چنانچہ پولیس اپنا اثر رسوخ عموماً شہری حدود میں برقرار رکھتی۔ گویا پولیس، زمینداروں اور غنڈوں کے درمیان ایک خموش معاہدہ تھا۔ البتہ گرجی مہر پچھلے دو سال سے اس معاہدے سے باہر ہو چکا تھا۔ وہ علاقے کے زمینداروں، غنڈوں، پولیس اور عوام، سب کے لیے خطرہ بن چکا تھا۔ اُسے کوئی بھی پناہ دینے یا ہمدردی کے قابل نہ سمجھتا تھا۔

    مَیں نے اُسے اڑھائی سال پہلے حاجی شمس خاں کے ڈیرے پر دیکھا۔ حاجی شمس کی جلال کوٹ گاؤں میں تین ہزار ایکڑ زمین تھی اور گرجی اُسی کا پالتو غنڈہ تھا۔ اُس وقت ایسا خطرناک نہیں تھا۔ مَیں اپنے تھانیدار کے ساتھ وہاں کسی ملزم کے حوالے سے گیا تھا۔ اِن علاقوں کے تھانیداروں کا معمول تھا کہ وہ کسی ملزم کے خلاف کاروائی کرنا چاہتے تو سیدھے زمینداروں کے ہاں جاتے۔ اگر ملزم کو پولیس کے حوالے کرنا ناگزیر ہوتا تو خود حوالے کر دیتے ورنہ وہیں مک مکا کر کے چھوڑ دیا جاتا۔ اُس دن سہ پہر کا وقت تھا اور موسم سخت روشنی کا تھا۔ حاجی شمس ڈیرے سے ملحق اپنے گھر میں تھا۔ ہم نے اُسے اپنی آمد کی اطلاع بھجوائی اور وہیں بیٹھ گئے۔ ڈیرے پر بہت سے لوگوں کے موجود ہونے کے باوجود مکمل سکوت تھا۔ گرجی مہر بھی ایک طرف سنجیدگی سے بیٹھا کچھ پریشان نظر آ رہا تھا۔ یہ ساڑھے پانچ فٹ قد میں بالکل کمزور سا شخص تھا۔ چھوٹی چھوٹی باریک سی مونچھیں، کاندھے اندر کو دھنسے ہوئے، چہرہ بے رونق لیکن گندمی اور بمشکل پچاس کلو وزن کا ہوگا۔ پہلی نظر دیکھنے سے مجھ پر اس کا کوئی خاص اثر نہ ہوا۔ ایک چارپائی پر سترہ اٹھارہ سال کا لڑکا پینٹ شرٹ پہنے، نہایت متفکر انداز میں لیٹا آسمان کو گھور رہا تھا۔ مجھے خیال گزرا، لڑکا حاجی شمس خاں کا بھانجا یا بھتیجا ہے لیکن پولیس والوں کی عادت کے مطابق تھانیدار نے اُس پُر اسرار خموشی میں لڑکے کی موجودگی کی کُرید شروع کر دی اور بالآخر بات کھل گئی۔ لڑکا گرجی مہر کا واقف تھا اور لاہور سے ایک لڑکی بھگا لایا تھا۔ لڑکے کی شکل انتہائی معصوم تھی۔ نرم رخساروں پر ابھی سبزے کی آمد تھی، جسے شیو کر کے صاف کیا تھا لیکن سفید اور چکنے چہرے پر ہلکی ہلکی لویں دوبارہ نمودار ہو رہی تھیں۔ گرجی مہر سے خدا جانے اُس کا تعلق کیسے ہوا؟ مجھے اس تمام صورت حال سے خوف سا آنے لگا اور میں لڑکے کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہو گیا لیکن خود کو قابو میں رکھا اور لڑکے سے توجہ ہٹا لی۔ دو گھنٹے بیٹھے رہنے کے باوجود حاجی شمس گھر سے باہر نہ آیا اور نوکر کے ہاتھ پیغام بھیج دیا کہ تین دن بعد آپ کے مطلوبہ شخص کو تھانے حاضر کر دیا جائے گا۔ ہم واپس آ گئے لیکن دوسرے دن خبر ملی کہ گرجی مہر حاجی شمس کو قتل کر کے فرار ہو چکا ہے۔ واردات کی خبر ملتے ہی ہم وہاں پہنچے۔ لاش اور موقع واردات کا جائزہ لیا تو معاملہ کھل کر سامنے آگیا۔

    ہوا یہ کہ حاجی شمس نے لڑکی پر قبضہ جما لیا تھا اور اُسے لڑکے کے حوالے کرنے سے ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا۔ حتیٰ کہ اُس نے گرجی مہر کی بھی نہ سنی اور لڑکی سے خود نکاح کرنے کا بندوبست کرنے لگا۔ اس صورت کے پیشِ نظر گرجی نے لڑکے کو ساتھ لے کرحاجی شمس کے گھر پر حملہ کر دیا اور حاجی شمس سمیت تین بندوں کوقتل اور آٹھ لوگوں کو زخمی کرکے اور لڑکی کو لے کر فرار ہو گئے۔ لڑکا موٹر سائیکل چلانے کا ماہرتھا اس لیے کسی کے ہاتھ نہ آ ئے۔ بعد میں صورتِ حال بد ل ایک نئی شکل اختیار کر گئی۔ لڑکی کے ورثا کی طرف سے پہلے ہی اغوا کا مقدمہ درج تھا اور اب چار آدمیوں کے قتل بھی اُن کی کمر آگیا۔ کچھ دنوں بعد انھوں نے لڑکی کو چھوڑ دیا اور وہ اپنے گھر لوٹ آئی لیکن خود اشتہاری ہو گئے کہ پکڑے جانے کی صورت میں پھانسی پکی تھی۔ لڑکے کے ورثا نے، جو لاہور میں اچھے کھاتے پیتے تھے، بہت دفعہ کوشش کی اور پیغام چھوڑے کہ وآپس آجائے لیکن وہ پکڑے جانے کے خوف سے گھر نہ آیا۔ سب سے بڑھ کر خرابی یہ ہوئی کہ اِ نھوں نے ڈکیتی کی وارداتیں شروع کردیں۔ پولیس نے اُن کو پکڑنے کی کئی کاروائیاں کیں لیکن ہر دفعہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور مزید وارداتیں کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ حوصلے اتنے بڑھے کہ بھرے مجمعوں میں اندھا دھن فائرنگ کر کے واردات کر جاتے۔ ان ڈکیتیوں میں کئی لوگوں کو قتل اور زخمی کیا۔ انہوں نے اپنا کام اس طرح سنبھالا کہ لڑکے موٹر سائیکل چلانے کا فریضہ ادا کرتا اور گرجی ڈکیتی اور قتل کرنے کا کام۔ دو سال گزر گئے اور وہ قابو میں نہ آسکے۔

    ایک دن مَیں چھٹی لے کر گھر جا رہا تھا۔ لوکل ریلوے اسٹیشن پر بیٹھا ریل کے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ ان علاقوں میں لوکل ریل چلتی ہے، جو رائیونڈ سے بڑی لائن سے الگ ہو کر قصور، چونیاں، منڈی ہیرا سنگھ، بصیرپور، حویلی لکھا، پاکپتن اور عارف والا سے ہوتی ہوئی وہاڑی اور دوسرے چھوٹے چھوٹے شہروں سے گزر کر دوبارہ بڑی لائن پر چڑھ جاتی ہے۔ میرا گھر راجہ جنگ میں تھا جو رائیونڈ سے قصور جانے والی لائن پر ہے۔

    ریل کے ذریعے سفر کا فائدہ یہ تھا کہ یہاں سے بیٹھتا اور سیدھا گھر کے سامنے اُتر جاتا۔ دو بجے دن کا وقت تھا اور ریل آنے میں کچھ وقت تھا۔ ابھی میں ریل کی پٹڑی پر چڑھا ہی تھا کہ گولیوں کی تڑتڑاہٹ کا خوفناک شور برپا ہوااور ایک ہی دم ہنگامہ پھیل گیا۔ شور سن کرمَیں اُچھلا اور ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ آواز حاجی صداقت کی آڑھت کی طرف سے آئی تھی، جو شہر کے اُس واحد ریلوے پھاٹک کے ساتھ تھی، جو شہر کی مرکزی سڑک پر تھا۔ لوگ ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ اُس وقت نہتا ہونے کی وجہ سے عملی کاروائی کرنے سے گریز ہی بہتر تھا۔ آڑھت کے پاس آیا تو دو لاشیں خون میں لت پت پڑی میرا منہ چڑا رہی تھیں۔ اِس واردات میں نامراد نے کھلے بازار میں گولیوں کا ایسے مینہ برسایا کہ راہگیر چوتڑوں کے بل گر گر پڑے۔ کس کا کلیجہ تھا جو پیچھا کرتا۔ بازار کے اگلے ہی موڑ پر لطیف کپڑے والے کے منہ میں کلاشنکوف کی نال ڈال کر پورا تین کلو سیسہ غریب کے پیٹ میں داخل کر دیا اور پیسوں کا غٖلہ بیگ میں اُلٹ لیا۔ لوٹ سے فارغ ہو کر موٹر سائیکل پر بیٹھ گیا، لڑکے نے موٹر سائیکل ایسے اُڑایا، جیسے آنکھوں کے آگے سے چھلاوہ نکل گیا ہو۔ پل میں شہر بھر کو تلپٹ کر کے یہ جا وہ جا، ہوا کی طرح اُڑ گئے۔

    مَیں یہ سارا معاملہ ریل کی پٹڑی کے دائیں جانب کھڑا دیکھتا رہا۔ چھوٹا سا شہر تھا، پولیس کو پہنچنے میں وقت نہیں لگا۔ افراتفری مچ گئی اور پورا شہر واقعے کی جگہوں پر سمٹ گیا۔ میں کافی دنوں بعد گھر جا رہا تھااور ڈر تھا کہ چھٹی کینسل نہ ہو جائے، فوراً نظریں بچا کر وہاں سے کھسکا اور اسٹیشن پر آگیااور ریل آئی تو فوراًبھاگ کر چڑھ گیا لیکن گھر پہنچنے سے پہلے ہی واقعے کی اطلاع پہنچ گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ آپ کی چھٹی کینسل ہے، فوراً واپس پہنچو۔ مجھے اس حکم پر تکلیف بہت ہوئی مگر حکم حاکم تھا۔

    دوسرے دن شام چار بجے کی ریل سے واپس ڈیوٹی پر حاضر ہو گیا۔ پولیس اس نئی واردات سے ایسے حرکت میں آئی جیسے تلووں میں آگ لگی ہو۔ دوسری طرف گرجی مہر کے متعلق طرح طرح کی توہمات عوام میں مشہور ہونے لگیں۔ کسی کے مطابق وہ سب کچھ پولیس کی اشیر واد سے کر رہا تھا۔ کوئی اُسے انڈیا کی رینجر کا ایجنٹ قرار دینے لگا، جو واردات کرنے کے بعد باڈر پار کر جاتا۔ اگرچہ ایسی کوئی بات نہیں تھی لیکن اس میں بھی شک نہیں تھا کہ اُس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا اور پولیس کے لیے مستقل درد سر بن گیا۔ چنانچہ ڈی پی او صاحب نے اعلان کروا دیے کہ مخبر کو دو لاکھ انعام ملے گا۔ ایگل فورس کے کئی دستے دو دو کی شکل میں ترتیب دے کر پورے علاقے کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی۔ میری ڈیوٹی سب انسپکڑ حمید سندھو کے ساتھ لگا دی گئی۔ حمید سندھوکو چھ سال پہلے ایلیٹ فورس میں بحیثیت کانسٹیبل شامل کیا گیا تھا۔ اس دوران اُس نے بیسیوں پولیس مقابلوں میں حصہ لیا اور درجنوں جرائم پیشہ افراد کو موت کے گھاٹ اُتارا۔ دو دفعہ خود بھی گولی کا نشانہ بنا لیکن موت سے بچ نکلا۔ چھ فٹ قد اور جسامت کی سختی نے اُس کے اندر طاقت کا ایک احساس پیدا کر دیا تھا، جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے، اُس نے صرف چھ ہی سال میں سب انسپکڑ کا عہدہ حاصل کر لیا۔

    سندھو کا تعلق ساہیوال ڈویزن کی ایگل فورس سے تھا لیکن دوسال سے اُس کی تعیناتی سرگودھا ڈویزن میں تھی۔ اب جب کہ گرجی نے بصیر پور کے حالات اس قدر خراب کر دیے تو ڈی پی او اوکاڑہ نے اُسے سرگودھا ضلع سے طلب کر لیا۔ سندھو کی روز افزوں ترقی پر نہ صرف مجھے بلکہ تمام سکواڈ کو پرلے درجے کا حسد اور کینہ تھا۔ لیکن ہم اپنی دو سال کی ناکامی کو کہاں لے جاتے، جس نے ہمیں نہ صرف عملی طور پر بلکہ ذہنی شکست سے بھی دو چار کیا۔ ہم سندھو کی اس عزت افزائی پر سوائے کُڑھنے کے کچھ نہیں کر سکتے تھے اورخدا سے دعا گو تھے کہ سندھوبھی ناکامی سے دوچار ہو۔ ڈی پی او چیمہ صاحب نے اُس کی بصیر پور میں تعیناتی کر کے ہدایات جاری کر دیں اور میری ڈیوٹی اُس کے ساتھ لگا دی۔ عملی کاروائی کے لیے ہمیں جو علاقہ دیا گیا وہ بصیرپور سے لے کر سہاگ نہر، پھر وہاں سے دریا کو پار کر کے چک محمد پورہ سے ہوتے ہوئے باڈر تک چلا جاتا تھا۔ یہاں جنگلوں اور ویرانیوں کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ تھا، جہاں نہ آ سانی سے پولیس کی گاڑی جاسکتی اور نہ دوسرے ذرائع ہی کام کرتے تھے۔ وہ دو سال سے انہی علاقوں میں گھوم رہا تھا۔

    میرا سابقہ ریکارڈ اس بات کا گواہ تھا کہ مَیں متحمل مزاج اور سوچ سمجھ کر کاروائی کرنے والا بہادر آدمی تھا۔ میرا خیال ہے، میرے بارے میں یہ بات اُس وقت بالکل صحیح ہے، جب میں اپنے سے کم درجے کے لوگوں کے ساتھ کام کر رہا ہوں، سندھو کے ساتھ کام کرنے سے میری حیثیت دب جانے کا امکان تھا کیونکہ مَیں بہر حال اُس جیسا مضبوط اعصاب کا مالک نہیں تھا۔ ڈی پی او صاحب نے انفارمیشن آلات سے لے کر ہتھیاروں تک کا تمام ضروری سامان ایگل فورس کے دستوں کے حوالے کر کے گرجی کو پکڑنے کے لیے دو ماہ کا وقت مقرر کر دیا۔ مَیں اور سندھو بھی اپنے علاقے کی چھان بین اور غیر متوقع کاروائی کے لیے کام کرنے لگے۔

    یہ پورا علاقہ بیلے، جنگل، نہریں اور چراگاہوں پر مشتمل ہے، اس لیے گائیں اور بھینسوں کی کثرت تھی۔ ہم نے بھینسوں کے بیوپاری کا بھیس بدل لیا اور نئی ۱۲۵ ہنڈا موٹر سائیکل پر جگہ جگہ کھوج مار کر گرجی کے متعلق سُن گن لینے لگے۔ لباس کے لحاظ سے ہم مکمل دیہاتی اور بیوپاری تھے۔ مَیلے صافے، لنگی اور کُرتے پہنے، شیویں بڑھی ہوئی، ہاتھوں میں ڈنگوریاں پکڑی اور پاؤں میں مقامی موچی کے ہاتھوں تیار چمڑے کے جوتے یوں پورا ڈیڑھ مہینہ ہم نے اس کام میں صرف کیا۔ اس دوران آٹھ بھینسیں بھی خرید کر آگے بیچ دیں۔ اس کام میں ہمیں واقعی اتنا منافع بھی ہو گیا کہ ایک دفعہ سندھونے مجھ سے مذاق میں کہا، کیوں نہ نوکری چھوڑ کر یہی کام کر لیں۔ سچ یہ ہے کہ اس ڈیڑھ مہینے میں ہمارا منافع چار تنخواہوں کے برابر نکل آیا۔

    وقت سمٹتا گیا اور ہم غیر محسوس طریقے سے اُن کے نزدیک ہوتے گئے۔ ہمارے پاس جو نقشہ تھا اُس کو سامنے رکھتے ہوئے یہ علاقہ امیرا تیجے کا سے آگے نہر کی جھال کو عبور کر کے دریا کے ساتھ ساتھ جنگلوں کا تھا، جہاں نہ تو پو لیس کی گاڑی جا سکتی تھی اور نہ آدم نہ آدم زاد۔ یہ تمام جگہ دس کلو میٹر مربع میں مکمل غیر آباد اور بارڈر تک چلی گئی تھی۔ ہم نے تین چار جگہ یہاں اپنے مورچے بنا لیے اور مسلسل رات چھپتے رہے۔ چھوٹی گنیں، پسٹل اور خنجروں کے علاوہ لوہے کی نوکیلی اور بھاری سلاخیں بھی پاس تھیں۔ ہمیں پتا چلا، گرجی کسی بھی جگہ دو راتیں مسلسل نہیں گزارتا۔ متواتر ٹھکانا تبدیل کرتا ہے لیکن مطلوبہ علاقے میں کسی بھی جگہ مہینے میں ایک آدھ رات ضرور ٹھہرتا ہے۔ اُس کی سب سے بڑی بد قسمتی یہ تھی کہ اُس نے یہ علاقہ مستقل طور پر نہیں چھوڑا تھا۔ اس لیے ہم نے اسی خطے کو توجہ کا مرکز بنا لیا لیکن ہمارا اُس کا سامنا نہ ہو سکا۔

    بات یہ تھی کہ وہ واردات کر نے کے بعد کم از کم دو تین مہینے روپوش ہو جاتا اور بالکل سامنے نہ آتا۔ ایک بات جو ہمارے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوئی، وہ یہ کہ اُسے ریڈیو پر بی بی سی کی خبریں سننے کا بہت شوق تھا۔ لوگوں نے اُسے یہ کہتے سُنا تھا، انشاء اللہ میرے قتل کی خبر بی بی سی پر چلے گی۔ ہم نے ڈی پی او صاحب سے ریڈیو ریڈار سسٹم حاصل کر لیا اور ارد گرد کے پانچ کلو میٹر میں بی بی سی کی خبروں کے وقت ریڈیو کی لہریں کیچ کرنے لگے، جس سے اُس کی سمت اور فاصلے کا بھی پتا بھی چلایا جا سکتا تھا۔ علاقے میں جس جس کے پاس ریڈیو تھا، ہماری نگرانی میں آگیا۔ اس طرح ہماری تلاش کی حدود سکڑ گئیں اور مزید آسانی ہو گئی۔ اس میں ہمارے ایک مخبر کا بہت زیادہ عمل دخل تھا، جسے ہم نے زبردستی مخبر بنا لیا تھا۔ پچھلے دو مہینے کی محنت کے بعد اس بات کا پکا یقین ہو گیا کہ یہ شخص گرجی کا مخبر ہے اور اُسے علاقے کی صورت حال کے بارے میں مطلع کرتا ہے۔ جب زمین صاف دیکھتا ہے تو نئی کاروائی کا سگنل دے دیتا ہے۔ اس سلسلے میں بصیر پور کا ایک پی سی او والا بھی ملوث تھا۔ ہم نے سارا کام خفیہ رکھا، حتیٰ کہ اپنے تھانے اور ڈی پی او کو بھی بتانا مناسب نہ سمجھا۔ ہم نے دونوں مخبروں کو اغوا کر لیا اور اگلی کاروائی شروع کر دی۔

    تمام کاروائی میں اگرچہ مَیں ساتھ تھا لیکن مجھے اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ یہاں تک پہنچنے میں صرف اور صرف حمید سندھو کے دماغ کو دخل تھا، لیکن اُس نے ہر قدم پر مجھے یہ باور کرایا کہ گویا سب کچھ میری وجہ سے ٹھیک ہو رہا ہے اور مَیں اس کیس میں بہت اہم ثابت ہو رہا ہوں۔ یہ چیز اُس وقت میری ذات کو اور بھی پست کر رہی تھی اور مَیں لا شعوری طور پر اُس سے اتنا مرعوب ہو گیاکہ اُس کے کسی بھی حکم کی نافرمانی کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ان دو مہینوں میں حمید سندھو نے میری ذات کو گویا ہپنا ٹائز کر دیا۔

    یہ سردیوں کی ایک ٹھنڈی صبح تھی۔ کُہرِ اتنی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ ہم نے موٹر سائیکل چک لکھا کے قبرستان ہی میں رکھ دی کہ اُس کی آواز قرب و جوار میں دور تک جاتی تھی۔ مخبر سراج دین عرف سراجے نے ہمیں بتایا، گرجی رات ایک بجے اپنے ساتھی لڑکے کے ساتھ دُلے کی بھینی پر پہنچا ہے۔ وہ ساری رات سفر میں رہا ہے اس لیے ابھی تک سویا ہو ا ہے۔ اگر ہم پیدل نہر کے ساتھ ساتھ جائیں تو وہاں پہنچنے میں مشکل سے چالیس منٹ لگیں گے۔ ہم نے جلدی سے تیاری کی اور پیدل نکل لیے۔ یہ سفر ایسا آسان نہیں تھا ک چلنے کو ڈھنگ کی کوئی پگڈنڈی یا راستہ نہیں تھا، تمام راہ جھاڑ جھنکاڑ سے بھری ہو اور نہایت دشوار تھی لیکن ہمارے لیے یہ بات کچھ حقیقت نہیں رکھتی تھی۔ کبھی دوڑتے اور کبھی تیز چلنے لگتے، ٹھیک دس بجے ہم گرجی کے سر پر پہنچ گئے۔ وہ عک کے پودوں کے درمیان ایک پُرانی کوٹھڑی میں تھا، جسے کسی زمانے میں کھوئے کی بھٹھیاں چلانے والوں نے بنایاتھا لیکن چار پانچ سال پہلے جو سیلاب آ یا، اُس میں یہ جگہ دریا کی لپیٹ میں آنے سے بے آباد ہو گئی، تب سے کسی نے اِس پر توجہ نہ دی۔ بھٹھیاں تو بالکل ختم ہو گئیں لیکن یہ بے آباد کوٹھڑی پکی اینٹوں اور بلند جگہ پر ہونے کی وجہ سے بچ گئی تھی۔ اِس کے ارد گرد کیکروں کے بے شمار درخت بھی تھے۔ کوٹھڑی کا دروازہ اندر سے بند ہونے کی وجہ سے ہم اُنہیں دیکھ تو نہ سکے البتہ اُن کے موٹر سائیکل کے ٹائروں کے نشان واضع دکھائی دیتے تھے۔ اس کے علاوہ سانس لینے کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔

    جب ہمیں ہر طرح سے یقین ہو گیا کہ وہ دونوں موٹر سائیکل سمیت اندر ہیں، تو ہم ایکشن کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اب ہمارے سامنے دو راستے تھے کہ باہر رُک کر اُن کا انتظار کیا جائے یا فوری حملہ کر دیا جائے۔ میری صلاح یہ تھی کہ پولیس کو اطلاع کر کے بلوا لیا جائے مگر سندھو نے اس بات کو سختی سے رد کر دیا اور فوری حملے کا پلان بنانے لگا۔ وہ موقعے کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا، اگرچہ گرجی کا اِس دُھند اور کہر سے فائدہ اُٹھا کر بھاگ نکلنے کا بہت اندیشہ تھا۔ دروازہ بہت حد تک بوسیدہ تھا اس لیے فیصلہ ہوا کہ زور کا دھکا دے کر اُسے گرا دیا جائے۔ سراجے کو ہم نے احتیاطاً ایک کیکر کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیا تاکہ وقت پر دھوکا نہ دے۔ ہم نے چار قدم پیچھے ہٹ کر پوری طاقت سے اپنے آپ کو دروازے سے ٹکرا دیا۔ دروازہ ایک دھماکے سے اپنے تختوں سمیت اندر جا گرا۔ اس کے ساتھ ہی ہم نے فائر کھول دیے۔ گولیاں اتنی تیزی اور شدت سے چلائیں کہ گرجی کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا البتہ دونوں کی چیخیں ایک دو منٹ ضرور بلند ہوئیں۔ بھرپور فائرنگ کے بعد ہم نے دس منٹ تک انتظار کیا، جب کوئی حیل حجت نہ ہوئی تو حمید سندھو ٹارچ جلا کر کمرے کا جائزہ لینے لگا۔ کمرے کا نقشہ تلپٹ ہو چکا تھا۔ گرجی مہر چارپائی پر خون میں لت پت تھا جبکہ دوسری لاش دکھائی نہیں دی لیکن جیسے ہی دائیں طرف کے کونے میں لائٹ کی گئی تو مٹی کی بنی ہوئی کُھرلی نظر آئی، جو چھ فُٹ تک لمبی اور دو فٹ اُونچی دیوار کے ساتھ بنی تھی۔ وہاں لڑکا خموشی سے زخمی حالت میں سُکڑا ہوا لیٹا تھا۔ وہ اِس قدر سہما اور ڈراتھا کہ مجھے اُس سے ایک دفعہ وحشت سی ہوئی۔ گولی اُس کے بائیں کاندھے پر لگی تھی، جس سے خون رس رس کر کھرلی کی تہہ سے چپک رہا تھا۔

    لڑکے پر حمید کی نظر پڑی تو وہ حیران رہ گیا۔ لڑکا بہت خوبصورت تھا۔ سندھو کچھ لمحے اُسے دیکھتا رہا۔ مَیں نے دیکھا، اچانک اُس کی آنکھوں میں ہوس تیرنے لگی۔ سندھوکی آنکھوں کی بدلتی کیفیت کو دیکھتے ہوئے مَیں نے کہا، سر اِسے جلد اُٹھا کر ہاسپٹل پہنچانا چاہیے ورنہ لڑکا مر جائے گا لیکن اُس نے میری آواز گویا سُنی ہی نہیں اور مسلسل لڑکے کوگھورتا رہا۔ مجھے اس پورے منظر نامے سے ڈر لگنے لگا اور چاہتا تھا، کسی طرح سے لڑکے کو نکال کر لے جاؤں۔

    چند لمحوں کی شش و پنج کے بعد مَیں اُسے اُٹھانے کے لیے آگے بڑھا تو سندھو نے مجھے خوفناک طریقے سے دیکھا۔ مجھے محسوس ہوا، اگر مَیں نے ذرا بھی زحمت کی تو یہ مجھے فائر ما ر دے گا۔ بالکل اُسی لمحے اُس نے مجھے دھکا دے کر کوٹھڑی سے باہر کر دیا۔ پھر تھوڑی دیر بعد لڑکے کی کراہوں کی آواز سنائی دینے لگی۔ مَیں وہاں سے کھسک کر کیکر سے بندھے سراجے کے پاس آگیا تاکہ آواز میرے کانوں میں نہ پڑے اور گومگو کی حالت میں رہا کہ واقعے کے انجام تک پہنچنے کی خبر کے ساتھ لڑکے کی بابت پولیس کو مطلع کر دوں لیکن اُس وقت بزدلی نے مجھ پر ایسا شدید غلبہ کیاکہ مَیں کچھ بھی نہ کر سکا اور خاموشی سے بیٹھ گیا۔ کمرے سے لڑکے کی آواز مزید بلند ہوتی گئی، جس میں قیامت کا کرب تھاگویا کانوں کے پردے پھاڑ کر دل میں ضربیں لگا رہی ہو۔ مَیں دماغ میں طرح طرح کے منصوبے بنا کر رد کرنے لگا۔ حتیٰ کہ اس عمل کو پندرہ منٹ سے زیادہ ہو گئے۔ یہ حالت میرے لیے نحوست کو بڑھا دینے والی اور کراہت پیدا کر دینے والی تھی۔ ایک ایک لمحہ صدیوں پر بھاری ہوتا جا رہا تھا۔ غصے اور کراہت نے مجھ پر ایسا اُکتا دینے والا جذبہ پیدا کیا، مجھے اپنی سانس گُھٹتی ہوئی محسوس ہوئی۔ مَیں نے غصے سے اپنے دانت بھینچے اور اضطراری کیفیت میں سراجے کے بالکل نزیک ہو کر اُس پر فائر کھول دیا۔ اگرچہ وہ پل بھر میں ڈھیر ہو گیا لیکن مَیں نے بار بار اپنی میگزین گولیوں سے بھر کر اُس پر خالی کی۔ گویا فطری بُزدلی کا حساب چکا رہا تھا۔

    اس عمل کے کچھ ہی دیر بعد جس میں مجھے لڑکے کی کراہیں سننی بند ہو گئیں تھیں، حمید سندھو باہر آیا تو مَیں بھاگ کر کوٹھڑی میں داخل ہو گیا۔ لڑکے کا جسم برہنہ اور قریباً زرد ہو چکا تھا۔ ننگے جسم پر بے شمار نیل پڑ گئے تھے۔ نبض کی رفتار تیزی سے سست ہو رہی تھی۔ مَیں نے اُس کا پاجامہ اُوپر کر کے اُسے کاندھوں پر اُٹھا لیا لیکن اب سب کچھ فضول تھا۔ جسم سے خون اتنا بہہ چکا تھا کہ اُس کے بچنے کی امید صفر تھی۔ شاید اس بات کو حمید سندھو نے بھی محسوس کر لیاتھا اس لیے اب اُس نے مجھ سے مزاحمت کرنا مناسب نہیں سمجھا اور پولیس کو ایک واضح رعونت کے ساتھ اطلاع دینے میں محو ہو گیا، کیونکہ ایک اور کامیابی کا نوٹ اُس کی فائل میں درج ہو چکا تھا۔ پولیس آئی تو ہر طرف سکون تھا۔ گھنٹہ بھر کی واقعاتی پورٹ کے بعد تینوں لاشیں وین میں رکھیں گئیں اور سہہ پہر کے قریب ہم تھانے پہنچ گئے۔

    میرے کانوں میں پولیس کے ترانے بے ہنگم اور مہمل آواز کے ساتھ سے گونجتے رہے۔ مَیں آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتا اسٹیج کی طرف بڑھتا گیا۔ دو تین قدم چلنے کے بعد میری حالت میں اعتدال آگیا۔ بالآخر مَیں نے بھی اپنا میڈل ترانوں اور نعروں کے شور میں وصول کر لیا۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے