احوال شاعری

عرض احوال کو گلا سمجھے

کیا کہا میں نے آپ کیا سمجھے

داغؔ دہلوی

ہمارے شہر کے لوگوں کا اب احوال اتنا ہے

کبھی اخبار پڑھ لینا کبھی اخبار ہو جانا

ادا جعفری

ہم تو رات کا مطلب سمجھیں خواب، ستارے، چاند، چراغ

آگے کا احوال وہ جانے جس نے رات گزاری ہو

عرفان صدیقی

نہ مجھ کو کہنے کی طاقت کہوں تو کیا احوال

نہ اس کو سننے کی فرصت کہوں تو کس سے کہوں

بہادر شاہ ظفر

غالبؔ ترا احوال سنا دیں گے ہم ان کو

وہ سن کے بلا لیں یہ اجارا نہیں کرتے

مرزا غالب

حال ہمارا پوچھنے والے

کیا بتلائیں سب اچھا ہے

آفتاب حسین

احوال کیا بیاں میں کروں ہائے اے طبیب

ہے درد اس جگہ کہ جہاں کا نہیں علاج

جرأت قلندر بخش

ہمارے ظاہری احوال پر نہ جا ہم لوگ

قیام اپنے خد و خال میں نہیں کرتے

اظہر فراغ

ہوش اڑ جائیں گے اے زلف پریشاں تیرے

گر میں احوال لکھا اپنی پریشانی کا

مصحفی غلام ہمدانی

احوال دیکھ کر مری چشم پر آب کا

دریا سے آج ٹوٹ گیا دل حباب کا

نہ پڑھا یار نے احوال شکستہ میرا

خط کے پرزے کئے بازوئے کبوتر توڑا

وزیر علی صبا لکھنؤی

تو نے کیا دیکھا نہیں گل کا پریشاں احوال

غنچہ کیوں اینٹھا ہوا رہتا ہے زردار کی طرح

عشق اورنگ آبادی