جمہوریت پر اشعار

جمہوریت ایک سیاسی ںظام ہے جس میں اقتدار کی تمام راہیں عوام سے ہوکر گزرتی ہیں اور عوام ہی طاقت کا بنیادی مرکز ہوتی ہے وہ اپنی مرضی سے اپنے حکمراں چنتی ہے ۔ اقتدار کا یہ نظام باقی تمام نظاموں سے اپنی بہت سی خصوصیات کی بنا پر اچھا ہے اور زیادہ کامیاب بھی لیکن اسی کے ساتھ اس کی اپنی کچھ کمزوریاں بھی ہیں کہ اس میں قابلیت کی نہیں صرف تعداد کی اہمیت ہوتی ہے اسی لئے سیاسی اور سماجی سطح پر بہت سی منفی صورتیں جنم لے لیتی ہیں ۔ تخلیق کاروں نے جمہوری ںظام کی انہیں اچھائیوں اور کمزریوں کو بہت گہری سطح پر جا کر دیکھا ہے اور ان کا تجزیہ کیا ہے ۔ ہم ایک چھوٹا سا انتخاب پیش کر رہے ہیں ۔

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

علامہ اقبال

یہی جمہوریت کا نقص ہے جو تخت شاہی پر

کبھی مکار بیٹھے ہیں کبھی غدار بیٹھے ہیں

ڈاکٹر اعظم

کبھی جمہوریت یہاں آئے

یہی جالبؔ ہماری حسرت ہے

حبیب جالب

نام اس کا آمریت ہو کہ ہو جمہوریت

منسلک فرعونیت مسند سے تب تھی اب بھی ہے

مرتضیٰ برلاس

جمہوریت کے بیچ پھنسی اقلیت تھا دل

موقعہ جسے جدھر سے ملا وار کر دیا

نعمان شوق

جمہوریت کا درس اگر چاہتے ہیں آپ

کوئی بھی سایہ دار شجر دیکھ لیجئے

عاجز ماتوی

جھکانا سیکھنا پڑتا ہے سر لوگوں کے قدموں میں

یوں ہی جمہوریت میں ہاتھ سرداری نہیں آتی

مہیش جانب

دہائی دے کے وہ جمہوریت کی

نظام خواب رسوا کر رہا ہے

محمد اظہر شمس

سننے میں آ رہے ہیں مسرت کے واقعات

جمہوریت کا حسن نمایاں ہے آج کل

شعری بھوپالی

جمہوریت کی لاش پہ طاقت ہے خندہ زن

اس برہنہ نظام میں ہر آدمی کی خیر

اجے سحاب

جمہوریت بھی طرفہ تماشہ کا کس قدر

لوح و قلم کی جان ید اہرمن میں ہے

بیباک بھوجپوری

متعلقہ موضوعات