زلزلہ پر اشعار

زلزلہ ایک قدرتی آفت ہے جس سے بعض اوقات بڑی بڑی انسانی تباہیاں ہوجاتی ہیں اور انسان کی اپنی سی ساری تیاریاں یونہی دھری رہ جاتی ہیں ۔ ہمارے منتخب کردہ یہ شعر قدرت کے مقابلے میں انسانی کمزوری اور بے بسی کو بھی واضح کرتے ہیں اور ساتھ ہی اس بے بسی سے پھوٹنے والے انسانی احتجاج اور غصے کو بھی ۔

زلزلہ آیا اور آ کر ہو گیا رخصت مگر

وقت کے رخ پر تباہی کی عبارت لکھ گیا

فراز حامدی

تمام خلق خدا زیر آسماں کی سمیٹ

زمیں نے کھائی ولیکن بھرا نہ اس کا پیٹ

ولی اللہ محب

زلزلہ نیپال میں آیا کہ ہندوستان میں

زلزلہ کے نام سے تھرا اٹھا سارا جہاں

کمال جعفری

زلزلوں کی نمود سے فرحتؔ

مستقر مستقر نہیں رہتے

فرحت عباس

متعلقہ موضوعات