ہم دونوں ایک شہر میں رہنے کے باوجود
ملتے نہیں اگر تو کوئی خاص بات ہے
کس نے کتنا فاصلہ رکھا گلے ملتے ہوئے
میرے کپڑے دیکھ لے اور اپنے کپڑے دیکھ لے
تجھ سے جدا نہ ہوں گے یہ سوچا تھا عمر بھر
یہ فیصلہ ترا تھا جو یہ فاصلہ ہوا
سامنے بیٹھی ہوئی تھی اور میرا دل نہ تھا
فون پر ہی اس سے اتنا پیار کر بیٹھا تھا میں
بخت بد کی نارسائی کا گلہ کیا کیجئے
کارواں منزل پہ ہے اور دور ہیں منزل سے ہم