Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

فاصلہ پر اشعار

پھر تجھے اور مجھے اور کہیں جانا ہے

ہم سفر ساتھ تو چل جتنی سڑک باقی ہے

شکیل جاذب

ہم دونوں ایک شہر میں رہنے کے باوجود

ملتے نہیں اگر تو کوئی خاص بات ہے

حمزہ حسام

کس نے کتنا فاصلہ رکھا گلے ملتے ہوئے

میرے کپڑے دیکھ لے اور اپنے کپڑے دیکھ لے

ضیاء مذکور

تجھ سے جدا نہ ہوں گے یہ سوچا تھا عمر بھر

یہ فیصلہ ترا تھا جو یہ فاصلہ ہوا

روبینہ ایاز

قربتوں کے چراغ گل کر کے

فاصلوں کے دیے جلاؤں گا

رمیش کنول

سامنے بیٹھی ہوئی تھی اور میرا دل نہ تھا

فون پر ہی اس سے اتنا پیار کر بیٹھا تھا میں

ضیاء مذکور

بخت بد کی نارسائی کا گلہ کیا کیجئے

کارواں منزل پہ ہے اور دور ہیں منزل سے ہم

بسمل سنسہاروی گیاوی
بولیے