ADVERTISEMENT

رات پر غزلیں

رات کا استعارہ شاعری

میں معنیاتی لحاظ سے بہت متنوع اور پھیلا ہوا ہے ۔ رات اپنی سیاہی اور تاریکی کے حوالے سے زندگی کی منفی صورتوں کی علامت کے طور پر بھی برتی گئی ہے ساتھ ہی روشنی کی چکا چوند اور اس کی اذیت کے مقابلے میں سکون اور تنہائی کے استعارے کے طور پر بھی ۔ رات کے اس متضاد اور دلچسپ شعری بیانیے کو پڑھئے ۔

ADVERTISEMENT
ADVERTISEMENT
ADVERTISEMENT

صبح کو حشر بھی ہے کٹ گئی گر آج کی رات

منشی نوبت رائے نظر لکھنوی
ADVERTISEMENT
ADVERTISEMENT

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر

مخدومؔ محی الدین
ADVERTISEMENT
ADVERTISEMENT