قائم چاندپوری کے 10منتخب شعر

اٹھارہویں صدی کے ممتاز شاعر، میر تقی میر کے ہم عصر

قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند

کچھ دور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا

قائم چاندپوری

کس بات پر تری میں کروں اعتبار ہائے

اقرار یک طرف ہے تو انکار یک طرف

what should I believe of what you say to me

on one hand you refuse on the other you agree

what should I believe of what you say to me

on one hand you refuse on the other you agree

قائم چاندپوری

چاہیں ہیں یہ ہم بھی کہ رہے پاک محبت

پر جس میں یہ دوری ہو وہ کیا خاک محبت

قائم چاندپوری

ظالم تو میری سادہ دلی پر تو رحم کر

روٹھا تھا تجھ سے آپ ہی اور آپ من گیا

قائم چاندپوری

ٹوٹا جو کعبہ کون سی یہ جائے غم ہے شیخ

کچھ قصر دل نہیں کہ بنایا نہ جائے گا

قائم چاندپوری

مے کی توبہ کو تو مدت ہوئی قائمؔ لیکن

بے طلب اب بھی جو مل جائے تو انکار نہیں

قائم چاندپوری

ہر دم آنے سے میں بھی ہوں نادم

کیا کروں پر رہا نہیں جاتا

قائم چاندپوری

نہ جانے کون سی ساعت چمن سے بچھڑے تھے

کہ آنکھ بھر کے نہ پھر سوئے گلستاں دیکھا

قائم چاندپوری

غیر سے ملنا تمہارا سن کے گو ہم چپ رہے

پر سنا ہوگا کہ تم کو اک جہاں نے کیا کہا

قائم چاندپوری

نظر میں کعبہ کیا ٹھہرے کہ یاں دیر

رہا ہے مدتوں مسکن ہمارا

قائم چاندپوری