احمد علوی کے اشعار
سنا یہ ہے بنا کرتے ہیں جوڑے آسمانوں پر
تو یہ سمجھیں کہ ہر بیوی بلائے آسمانی ہے
الفاظ کی ادائیگی طرز بیان سیکھ
کرنا اگر ہے عشق تو اردو زبان سیکھ
دو سگی بہنوں کی دو گنجوں سے شادی ہو گئی
اور یہ بے زلف بھی ہم زلف کہلانے لگے
دل کو کسی کی یاد سے خالی نہ کیجیے
آسیب رہنے لگتے ہیں خالی مکان میں
پروفیسر یہ اردو کے جو اردو سے کماتے ہیں
اسی پیسے سے بچوں کو یہ انگریزی پڑھاتے ہیں
محبتوں میں تو کچھ بھی پتا نہیں لگتا
بہت برا ہے وہ پھر بھی برا نہیں لگتا
تعلقات بھی ریشم کی طرح ہوتے ہیں
الجھ گئے تو سرا عمر بھر نہیں ملتا