Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Bekhud Dehlvi's Photo'

بیخود دہلوی

1863 - 1955 | دلی, انڈیا

داغ دہلوی کے شاگرد

داغ دہلوی کے شاگرد

بیخود دہلوی

غزل 58

اشعار 82

دل محبت سے بھر گیا بیخودؔ

اب کسی پر فدا نہیں ہوتا

  • شیئر کیجیے

ادائیں دیکھنے بیٹھے ہو کیا آئینہ میں اپنی

دیا ہے جس نے تم جیسے کو دل اس کا جگر دیکھو

جادو ہے یا طلسم تمہاری زبان میں

تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا

بات وہ کہئے کہ جس بات کے سو پہلو ہوں

کوئی پہلو تو رہے بات بدلنے کے لیے

EXPLANATION #1

شعر میں جو نکتہ بیان کیا گیا ہے اسی نے اسے دل چسپ بنایا ہے۔ اس میں لفظ بات کی اگرچہ تین دفعہ اور پہلو کی دو دفعہ تکرار ہوئی ہے مگر لفظوں کی ترنم ریزی اور بیان کی روانی کے وصف نے شعر میں لطف پیدا کیا ہے۔ پہلو کی مناسبت سے لفظ بدلنے نے شعر کی کیفیت کو تاثر بخشا ہے۔

دراصل شعر میں جو نکتہ بیان کیا گیا ہے، وہ اگرچہ کسی تخصیص کا حامل نہیں بلکہ عام فہم ہے مگر جس انداز سے شاعر نے اس نکتے کوبیان کیا ہے وہ اس نکتے کو عام فہم ہونے کے باوجود نادر بنادیتا ہے۔

ٍشعر کا مفہوم یہ ہے کہ بات کو کچھ ایسے رمزیہ انداز میں کہنا چاہیے کہ اس سے سو طرح کے مفہوم بر آمد ہوں۔کیونکہ معنی کے اعتبار سے اکہری بات کہنا دانا لوگوں کا شیوہ نہیں بلکہ وہ سو نکتوں کا نچوڑ ایک بات میں بیان کرتے ہیں۔ اس طرح سے سننے والوں کو بحث کرنے یا وضاحت طلب کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی پہلو ہاتھ آجاتا ہے۔ اور جب بات کے پہلو کثیر ہوں تو بات بدلنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔ یعنی نکتے سے نکتہ برآمد ہوتا ہے۔

شفق سوپوری

  • شیئر کیجیے

سن کے ساری داستان رنج و غم

کہہ دیا اس نے کہ پھر ہم کیا کریں

  • شیئر کیجیے

نعت 1

 

کتاب 6

 

تصویری شاعری 3

 

ویڈیو 3

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر
Dehli aur Bekhud Dehlvi

ضیا محی الدین

ایسا بنا دیا تجھے قدرت خدا کی ہے

نامعلوم

حجاب دور تمہارا شباب کر دے_گا

نامعلوم

آڈیو 17

آپ ہیں بے_گناہ کیا کہنا

ایسا بنا دیا تجھے قدرت خدا کی ہے

بزم_دشمن میں بلاتے ہو یہ کیا کرتے ہو

Recitation

متعلقہ مترجمین

"دلی" کے مزید مترجمین

 

Recitation

بولیے