Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Iqbal Mateen's Photo'

اقبال متین

1929 - 2015 | حیدر آباد, انڈیا

معروف افسانہ نگار اور شاعر، سماجی جبر و استحصال کی کہانیاں لکھنے کے لیے معروف

معروف افسانہ نگار اور شاعر، سماجی جبر و استحصال کی کہانیاں لکھنے کے لیے معروف

اقبال متین کا تعارف

تخلص : 'متین'

اصلی نام : مسیح الدین اقبال

پیدائش : 02 Feb 1929 | حیدر آباد, تلنگانہ

وفات : 05 May 2015 | حیدر آباد, تلنگانہ

شناخت: ممتاز فکشن نگار، شاعر اور خاکہ نویس

اقبال متین 2 فروری 1929ء کو محلہ رام کوٹ، حیدرآباد (دکن) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید مسیح الدین اور تخلص 'متین' تھا۔ ان کے والد سید عبدالقادر 'ناصر' اور چچا تمکین سرمست و نسیم قاسمی شعرا تھے، جن کے زیرِ اثر ان کے ادبی ذوق کی نشوونما ہوئی۔

اقبال متین نے حیدرآباد کے مختلف تعلیمی اداروں جیسے سٹی ہائی اسکول، دارالعلوم کالج اور چادر گھاٹ کالج سے تعلیم حاصل کی۔ اس دوران انہیں مخدوم محی الدین اور ڈاکٹر محی الدین قادری زور جیسے جلیل القدر اساتذہ کی سرپرستی حاصل رہی۔ حیدرآباد کی جاگیر ایڈمنسٹریشن اور بعد میں محکمہ مال (ریونیو) میں خدمات انجام دیتے ہوئے وہ نائب تحصیلدار کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔

اقبال متین کی ادبی زندگی کا آغاز 1942ء میں شاعری سے ہوا، لیکن جلد ہی انہوں نے افسانہ نگاری کی طرف رخ کیا۔ ان کا پہلا افسانہ ’’چوڑیاں‘‘ 1945ء میں شائع ہوا۔ ان کی بنیادی اور حقیقی شناخت ایک افسانہ نگار کی ہے۔ انہوں نے اپنی کہانیوں میں حیدرآباد کی زوال پذیر جاگیردارانہ زندگی، مادی تہذیب کے ہنگاموں، انسانی و اخلاقی اقدار کے زوال اور فرقہ وارانہ منافرت کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔

 اقبال متین کے سات افسانوی مجموعے منظرِ عام پر آئے جن میں ’’اجلی پرچھائیاں‘‘ (1960ء)، ’’نچا ہوا البم‘‘، ’’خالی پٹاریوں کا مداری‘‘، ’’آگہی کے ویرانے‘‘، ’’مزبلہ‘‘، ’’میں بھی فسانہ تم بھی کہانی‘‘ اور ’’شہر آشوب‘‘ (2003ء) شامل ہیں۔

افسانوں کے علاوہ انہوں نے سرمایہ دارانہ نظام کے سنگین رخ پر مبنی ایک ناولٹ ’’چراغِ تہہِ داماں‘‘ (1976ء) بھی تحریر کیا۔ ان کے خاکوں کا مجموعہ ’’سوندھی مٹی کے بت‘‘، یادوں پر مشتمل کتاب ’’باتیں ہماریاں‘‘ اور تاثراتی و تنقیدی مضامین کے مجموعے ’’اعتراف و انحراف‘‘ اور ’’اجالے جھروکے میں‘‘ (2008ء) ادبی حلقوں میں کافی مقبول ہوئے۔ ان کا ایک شعری مجموعہ ’’صریرِ جاں‘‘ بھی شائع ہوا۔

وفات: اقبال متین کا انتقال 5 مئی 2015ء کو حیدرآباد میں ہوا۔

Recitation

بولیے