کیفی چریاکوٹی کے اشعار
اب تم بھی ذرا حسن جہاں سوز کو روکو
ہم تو دل بے تاب کو سمجھائے ہوئے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ادھر تو طول دیا ہے امید کو اس نے
ادھر حیات عطا کی ہے مختصر مجھ کو
وہ جس نے چھین لی ہے زندگانی
متاع زندگانی بھی وہی ہے