Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

رؤف رحیم کے اشعار

179
Favorite

باعتبار

نرس کو دیکھ کے آ جاتی ہے منہ پہ رونق

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

ملت کی آبرو کو ملاتا ہے خاک میں

لیڈر ہمارا کتنا بڑا خاکسار ہے

اپنے استاد کے شعروں کا تیا پانچہ کیا

اے رحیم آپ کے فن میں یہ کمال اچھا ہے

ملے گی سیٹ الیکشن میں آپ کو اک دن

اگر یہ چمچہ گری کامیاب ہو جائے

نہیں ہے بحر میں بے وزن ہے رحیمؔ مگر

ہماری شاعری سر میں ہے اور تال میں ہے

سارے احباب میں بد نام تمہیں کر دے گی

اپنے احوال پڑوسن سے چھپا کر رکھنا

ہے بجٹ گھاٹے میں جرمانے ضروری ہیں یہاں

اس لیے سرکار میری لوٹ کر کھانے کو ہے

اگر تو کانا راجہ ہے تو اندھوں کا بنا حلقہ

تو اپنی شاعری کے واسطے میدان پیدا کر

چاند سورج زمیں سے اگتے ہیں

شاعری جب جدید ہوتی ہے

بد شکل ہے ضعیف ہے دلہن تو کیا ہوا

لاکھوں کی جائیداد بھی میری نظر میں ہے

قائل ہیں ذائقے کے غرض کیا ہے رنگ سے

دستر پہ دیکھتے ہی نہیں ہم مٹن کا رنگ

نہ حرام اچھا ہے یارو نہ حلال اچھا ہے

کھا کے پچ جائے جو ہم کو وہی مال اچھا ہے

سارے اساتذہ سے چراؤ سخن کا رنگ

گر کچھ نکھارنا ہو تمہیں اپنے فن کا رنگ

جو مذہبی تھے مسائل وہ اب سیاسی ہیں

یہیں تو دال میں کالا ہے کیا کیا جائے

کہنے کی ہے آزادی مگر بات یہ سچ ہے

اوروں کی کوئی بات وہ چلنے نہیں دیتے

شاید اسی لیے تھا وہ غرق مطالعہ

تصویر پدمنیؔ کی تھی چسپاں کتاب میں

ڈاکٹر آج کے تاجر ہی نہ ہونے پاتے

چارہ سازوں سے اگر بچنے کا چارا ہوتا

واعظ کے مشورہ پہ عمل کس طرح کریں

کہتا ہے صرف پڑھ کے وہ سمجھا کئے بغیر

جب سے رخصت ہوا شباب رحیمؔ

تب سے میں مائل خضاب ہوا

غصہ نکالتا ہے جو عملے پہ اے رحیمؔ

افسر عجب نہیں ہے کہ بیگم کے ڈر میں ہے

اسکول کی تعلیم نے گل ایسا کھلایا

اب آنکھیں دکھاتا ہے بھتیجا مرے آگے

مجھ سے بیگم کا تقابل تو فقط اتنا ہے

میں دیا ہوں تو وہ طوفان خدا خیر کرے

کرو نہ اتنا تکبر جمال پر اپنے

ملو گی ہاتھ جو رخصت شباب ہو جائے

ہے حماقت رحیمؔ شادی بھی

اس سے مٹی پلید ہوتی ہے

دور تک نام کی تشہیر اگر ہے منظور

جاری تنقید ادیبوں پہ برابر رکھنا

فیشن سے ان کے دھوکا ہوا ہے مجھے رحیمؔ

مادہ سمجھ کے چھیڑنے والا تھا نر کو میں

مجموعہ اپنے صرفے سے کیسے چھپاؤں میں

چارہ نہیں ہے چندہ اکٹھا کئے بغیر

بھروسے پر کسی لیڈر کے رہنا اک حماقت ہے

یہ سوکھے پیڑ ہیں یارو کبھی سایہ نہیں کرتے

حوروں پہ ہے نگاہ گو مرقد میں پاؤں ہیں

واعظ اخیر عمر میں کیا تیرا ڈھنگ ہے

ترنم میں گویے کی طرح سے تان پیدا کر

نئے انداز سے شعروں میں اپنے جان پیدا کر

ہر روز کیا کرتے ہیں وہ اک نیا وعدہ

عشاق کو ہاتھوں سے نکلنے نہیں دیتے

غریبوں کا بہا کر خون ہمدردی جتاتے ہو

کھلونے ہاتھ میں دے دے کے بہلایا نہیں کرتے

ہم نام پہ فرقوں کے لڑائیں گے رحیمؔ اب

یوں پرورش دیر و حرم کرتے رہیں گے

مردہ بتا کے زندوں کو پہنچایا مردہ گھر

کتنا بڑا کمال مرے ڈاکٹر میں ہے

راتوں کو بھی غازہ سے چمکتا ہے وہ چہرہ

سورج وہ کبھی حسن کا ڈھلنے نہیں دیتے

ہم اپنی ناک کھجانے سے ہو گئے قاصر

ہمارے سامنے نکٹا ہے کیا کیا جائے

ساری غزلیں سنا کے چھوڑا ہے

اس سے ملنا تو اک عذاب ہوا

خدا نخواستہ وہ بے نقاب ہو جائے

تو زندگانی ہماری عذاب ہو جائے

سوکھے پیڑوں کی طرح یہ لیڈر

ہم پہ سایہ ذرا نہیں کرتے

رہتے الگ تو عیش بھی کرتے الگ الگ

ماں باپ اپنے بن گئے ہڈی کباب میں

لیڈر کی یہ پہچان کہ وہ پھولتا جائے

شاعر کی یہ پہچان کہ موٹا نہیں ہوتا

شاید کوئی حسین ہے محفل میں اے رحیمؔ

ہلچل مچی ہوئی ہے جو ہر شیخ و شاب میں

اب ترنم کی روایت بھی پرانی ہو گئی

ایک شاعر اپنی غزلیں ساز پر گانے کو ہے

گر لاٹری اٹھ جائے تو کیا ٹھاٹ سے گزرے

یہ خواب ہے اندھوں کا جو پورا نہیں ہوتا

Recitation

بولیے