شرر فتح پوری
غزل 9
اشعار 16
دل کی آوارہ مزاجی کا گلا کیا کیجے
خانہ برباد رہا خانہ خرابوں میں رہا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ان سے شررؔ کچھ ایسے بچھڑے
جیون کا ہر سپنا بکھرا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
میرے ہی خون میں نہلا کے شررؔ
وہ صلیبوں پہ سجا دے گا مجھے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
اہل خرد کو سونپ نہ دنیا کی باگ ڈور
کار زمانہ اہل جنوں کو سنبھال دے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کیا تھی وہ دیر و حرم کی دنیا
جو بھی دنیا کا خدا تھا کیا تھا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے