Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Sharar Fatehpuri's Photo'

شرر فتح پوری

1928 - 1992 | کیتھل, انڈیا

معتبر اور مقبول شاعر

معتبر اور مقبول شاعر

شرر فتح پوری کے اشعار

32
Favorite

باعتبار

دل کی آوارہ مزاجی کا گلا کیا کیجے

خانہ برباد رہا خانہ خرابوں میں رہا

میرے ہی خون میں نہلا کے شررؔ

وہ صلیبوں پہ سجا دے گا مجھے

ان سے شررؔ کچھ ایسے بچھڑے

جیون کا ہر سپنا بکھرا

اہل خرد کو سونپ نہ دنیا کی باگ ڈور

کار زمانہ اہل جنوں کو سنبھال دے

کیا تھی وہ دیر و حرم کی دنیا

جو بھی دنیا کا خدا تھا کیا تھا

بے حسی وہ ہے کہ اس دور میں جینے کا مزا

نہ گناہوں میں رہا اور نہ ثوابوں میں رہا

میں سمجھتا ہوں زمانے کا مزاج

وہ بنائے گا مٹا دے گا مجھے

دشواریٔ حیات کو دشوار تر بنا

جس کا جواب بن نہ پڑے وہ سوال دے

نقش تحیر چہرہ چہرہ

حسن کرامت جوبن جوبن

کیا تھا ہم راہ خیالوں کی طرح

سایہ سا ساتھ چلا تھا کیا تھا

آئنہ دیکھ کے جینے والو

دور حاضر کے بھی تیور دیکھو

بجھ گئی ماتھے کی ایک ایک شکن

خالی ہاتھوں کا مقدر دیکھو

مصلحت تھی کوئی وہ چپ تھے اگر

بولنے والے تو کھل کر بولتے

کچھ نہ ہونے کا گماں تھا پھر بھی

کچھ تو ہونے کو ہوا تھا کیا تھا

جھوٹ تھا جو بھی کیا تھا میں نے

اور جو تم نے کہا تھا کیا تھا

اس ستم پیشہ کا اعجاز ستم ہی ہوگا

دست قاتل کو اگر دست مسیحا لکھوں

Recitation

بولیے