شرر فتح پوری کے اشعار
دل کی آوارہ مزاجی کا گلا کیا کیجے
خانہ برباد رہا خانہ خرابوں میں رہا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
میرے ہی خون میں نہلا کے شررؔ
وہ صلیبوں پہ سجا دے گا مجھے
ان سے شررؔ کچھ ایسے بچھڑے
جیون کا ہر سپنا بکھرا
اہل خرد کو سونپ نہ دنیا کی باگ ڈور
کار زمانہ اہل جنوں کو سنبھال دے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کیا تھی وہ دیر و حرم کی دنیا
جو بھی دنیا کا خدا تھا کیا تھا
بے حسی وہ ہے کہ اس دور میں جینے کا مزا
نہ گناہوں میں رہا اور نہ ثوابوں میں رہا
-
موضوع : گناہ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
میں سمجھتا ہوں زمانے کا مزاج
وہ بنائے گا مٹا دے گا مجھے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
دشواریٔ حیات کو دشوار تر بنا
جس کا جواب بن نہ پڑے وہ سوال دے
نقش تحیر چہرہ چہرہ
حسن کرامت جوبن جوبن
-
موضوع : حسن
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کیا تھا ہم راہ خیالوں کی طرح
سایہ سا ساتھ چلا تھا کیا تھا
-
موضوع : سایہ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
آئنہ دیکھ کے جینے والو
دور حاضر کے بھی تیور دیکھو
بجھ گئی ماتھے کی ایک ایک شکن
خالی ہاتھوں کا مقدر دیکھو
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
مصلحت تھی کوئی وہ چپ تھے اگر
بولنے والے تو کھل کر بولتے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کچھ نہ ہونے کا گماں تھا پھر بھی
کچھ تو ہونے کو ہوا تھا کیا تھا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جھوٹ تھا جو بھی کیا تھا میں نے
اور جو تم نے کہا تھا کیا تھا
-
موضوع : جھوٹ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اس ستم پیشہ کا اعجاز ستم ہی ہوگا
دست قاتل کو اگر دست مسیحا لکھوں