فکشن کی سچائیاں

شمس الرحمن فاروقی

فکشن کی سچائیاں

شمس الرحمن فاروقی

MORE BYشمس الرحمن فاروقی

    میں مدت العمر فکشن کا قاری رہا ہوں ۔ مختلف زبانوں میں مختلف طرح کا فکشن کثیر تعداد میں پر ھ ڈالنے کے باوجود یہ سوال مجھے ہمیشہ پریشان کرتا رہا ہے کہ وہ کیا صفت ہے جو کسی تحریر کو فکشن بناتی ہے؟ ( یہاں فکشن سے میری اولین مراد ناول اور افسانہ ہیں ۔ لیکن یہ سوال دوسری طرح کے بیانیوں مثلاً داستان ، قصہ ، بچوں کے لئے بنائی ہوئی کہانی وغیرہ کے بھی بارے میں پوچھا جاسکتا ہے ۔)

    ظاہر ہے کہ پہلا جواب تو یہی ہے کہ فکشن کی بنا حقیقت پر نہیں ہوتی ۔ حقیقت سے میری مراد وہ واقعات ہیں جو واقعی اور یقینی طور پر پیش آچکے ہیں ۔فکشن کو مبنی پر حقیقت نہیں کہا جاتا، کیونکہ اس میں جو واقعات بیان ہوتے ہیں ان کے بارے میں مصنف کا دعویٰ یہ نہیں ہوتا کہ وہ حقیقی دنیا میں پیش آچکے ہیں ، اورنہ ہی فکشن کا قاری یہ فرض کرتا ہے کہ جو کچھ میں کسی فکشن میں پڑھوں گا وہ سب کا سب سچ ہوگا ، یعنی اس میں جو کچھ بیان کیا جائے گا وہ واقعی اور حقیقی طور پر پیش آچکا ہوگا ۔

    لہٰذا فکشن کی پہلی تعریف یہ ہوئی کہ وہ جھوٹ ہوتا ہے ، یا سراسر جھوٹ نہیں تو جھوٹ پر مبنی ضرور ہوتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بعض تہذیبوں میں یہ مسئلہ اٹھایا گیا ہے کہ اگر فکشن جھوٹ ہے ، یا جھوٹا ہے ، تو اس کا بنانے والا جھوٹ بول رہا ہے ۔ یعنی وہ ایک خاصے سنگین اخلاقی گناہ کا مرتکب ہورہا ہے ۔ ان تہذیبوں میں یہ سوال بھی اٹھا یا گیا کہ اگر ایسا ہے تو فکشن نگاری کو اخلاقی جرم قرار دیا جانا چاہےئے اور معاشرے سے فکشن کو بالکل ختم کر دینا چاہےئے ۔ اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کم سے کم اب سے فکشن نگاری اور فکشن خوانی پر پابندی عائد ہونی چاہئے ۔

    لیکن اس معاملے میں بہت سے الجھاو ہیں ۔ حقیقت یا سچائی کی نوعیت اور اس کے علمیاتی وجود پر جو بحثیں ہیں ، انہیں تو الگ رکھئے ، لیکن یہ سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ حقیقت پر مبنی ہونا سے کیا مراد ہے ؟ یہ تو ظاہر ہے کہ کوئی بھی فکشن ، خواہ وہ کتنا ہی حقیقت پرمبنی کیوں نہ ہو، اس میں سارے کا سارا تو ’حقیقی نہیں ہوسکتا ۔مثلاً اور کچھ نہیں تو ایک حقیقی واقعہ یوں ہے کہ دو شخصوں کے مابین مکالمہ ہوا تھا اور کوئی تیسرا موجود نہیں تھا ۔اب اگر فکشن نگار اس مکالمے کو اپنے فکشن میں درج کرتا ہے تو وہ کیونکر دعویٰ کرسکتا ہے کہ یہ مکالمہ حقیقت پرمبنی ہے ؟ اور اگر اس مکالمے کو بیان کرنے والا ان دو میں ایک شخص ہے جو مکالمے میں شریک تھے ، تو یہ کس طرح ثابت ہوسکتا ہے کہ خود وہ شخص جھوٹ نہیں بول رہا ہے اور مکالمے کے الفاظ کو ٹھیک اسی طرح بیان کررہا ہے جس طرح وہ الفاظ ادا کئے گئے تھے؟

    ایک دوسری مثال ایسے فکشن کی ہے ( یعنی افسانے اور ناول ) جس کے بارے میں مصنف دعویٰ کرتا ہے کہ یہ سچا واقعہ ہے ۔تو پھر ایسی تحریر کو فکشن کہنے کا جواز کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ کوئی جواز نہیں ۔ یا اگر ہے تو پھر ہمیں فکشن کی اس تعریف سے دست بردار ہونا پڑے گا جو ہم نے اوپر بیان کی تھی ۔ عندلیب شادانی نے ’’ سچی کہانیاں ‘‘ کے نام سے ایک سلسلہ شروع کیا تھا جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ واقعات ان میں بیان ہوئے ہیں وہ بالکل سچے ہیں ۔ اور ان کا بیان کنندہ اکثر واحد متکلم کے صیغے میں ہوتا تھا اور ہر بار پورے وثوق سے یہ کہا جاتا تھا کہ یہ افسانے نہیں ، سچے واقعات ہیں ۔ لیکن نہ تو مصنف بیان کنندہ اور نہ پڑھنے والوں نے ان تحریروں کو ماننے سے انکار کیا ۔

    خیال رہے کہ میں تاریخی فکشن کو اپنی بحث سے خارج رکھ رہا ہوں کیونکہ تاریخی فکشن بیشتر انہیں واقعات پرمبنی ، یا ان واقعات کے بارے میں ہوتا ہے جو پیش آچکے ہیں ۔فکشن نگار اس میں اپنی طرف سے نمک مرچ لگا کر اپنے فکشن ، بلکہ کبھی کبھی اس کے پلاٹ کو بھی اپنے طور پر بیان کرتا ہے اور یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں نے واقعات کو کسی قسم کی آمیزش کے بغیر لکھا ہے ۔ لہٰذا تاریخی فکشن بھی ایک طرح کا فکشن ، یعنی جھوٹ ہی ہوتا ہے ۔ لیکن یہ بات اپنی جگہ پر قائم رہتی ہے کہ کوئی فکشن سوفی صدی انہیں باتوں کو نہیں بیان کرسکتا جو ہوچکی ہیں اور جن کے لئے آزاد اور غیر متعصب شواہد موجود ہیں ۔

    لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ فکشن جھوٹ ہو یا سچ ، یا دونوں کا امتزاج ، لیکن اس میں کوئی چیز ایسی ہے جس کی بنا پر یہ پڑھا جاتا ہے ، سنا جاتا ہے ( اب چاہے کم سنا جاتا ہو ، لیکن فکشن کا سننا اور سنانا معدوم نہیں ہوا ہے ) ، اور لوگوں کو متاثر کرتا ہے ۔

    اس کا ایک جواب یہ ہوسکتا ہے کہ جھوٹ انسانی فطرت میں داکل ہے ، لہٰذا فکشن ہماری فطرت کے عین مطابق ہے ۔ یہ جواب بظاہر تو غیر سنجیدہ ہے ، لیکن اس کے پیچھے ایک بہت بڑی حقیقت ہے جس کی طرف ہزاروں برس پہلے ارسطو نے اشارہ کیا تھا ۔ارسطو کا کہنا ہے کہ جب ہم کسی شخص کی تصویر دیکھتے ہیں تو ہمیں لطف آتا ہے اور ہم کہتے ہیں کہ واہ! اچھا ، یہ فلاں شخص کی تصویر ہے ! تصویر تو ظاہر ہے کہ جھوٹ ہے ، یعنی وہ ہزار خوبصورت ، یا کتنی ہی بولتی ہوئی تصویر کیوں نہ ہو ، وہ ہے محض تصویر ، اصل شخص نہیں ہے ، یعنی جھوٹ ہے ۔ ہم اس بات کو خوب جانتے ہیں ، لیکن پھر بھی تصویر ہمارے لئے لطف کا سامان مہیا کرتی ہے ۔ معلوم ہوا کہ ہماری فطرت کذب پسند ہے ۔

    لیکن معاملہ پھر بھی حل نہیں ہوا : وہ کیا چیز ہے جو کسی تحریر کو فکشن بناتی ہے ؟ ظاہر ہے کہ اگر ہم فکشن کو جھوٹ ہی قرار دے لیں ، اور یہ بھی دعویٰ کر ڈالیں کہ انسان جھوٹ کو پسند کرتا ہے ، تو بھی یہ تو ماننا ہی ہوگا کہ فکشن کسی خاص قسم کا جھوٹ ہوتا ہے اور وہی اسے غیر فکشنی جھوٹ سے ممتاز کرتا ہے ۔ تو وہ خاص بات کیا ہے جو کسی متن کو فکشن بناتی ہے ؟

    ہمارے زمانے میں فکشن کے اہم نظریہ ساز جیر لڈ پرنس Gerald Prince)) کا کہنا ہے کہ ہم جبلی اور فطری طور پر فکشن اور غیر فکشن میں فرق کرلیتے ہیں ۔ کوئی تحریر ہمارے سامنے لائیے ، ہم فوراً اور خود بخود بدیہی طور پر پہچان لیں گے کہ یہ فکشن ہے ، یا نہیں ہے ۔ ملحوظ رہے کہ پرنس نے یہ بات Storyیعنی کہانی کے بارے میں کہی تھی ۔ لیکن Storyکوئی الگ شے نہیں ہے ، وہ بھی فکشن ہے اور ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ تمام فکشن کی بنیاد ہے ۔

    اس جواب میں سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اس کا انحصار تہذیبی اقدار پر ہے جو بہر حال اضافی اور مقامی ہیں اور اسی باعث اسے وجدانی عقل (Intuition)پر مبنی نہیں کہہ سکتے ۔ ہوسکتا ہے جو چیز مغربی تہذیب میں جبلی طور پر پہچانی جاسکتی ہو کہ یہ فکشن ہے ، وہ کسی اور تہذیب کے لئے جبلی اور بد یہی طورپر فکشن نہ محسوس ہو ۔چلئے ہم فرض کرلیتے ہیں کہ پرنس کی تعریف وجدانی عقل Intuition))کے خلاف نہیں ہے ، بلکہ موافق ہے ۔ پھر بھی سوال باقی رہتا ہے کہ ہم کیوں اور کس طریقے یا قرینے سے کسی متن کے بارے میں بد یہی اور جبلی طور پر فیصلہ کردیتے ہیں کہ یہ فکشن ہے ؟

    ہم کہہ سکتے ہیں کہ فکشن اور کچھ نہیں ہے ، واقعات کا بیان ہے ۔ یعنی یہاں زور واقعے پر ہے ، جسے ارسطو نے Actionکہا تھا ۔ فکشن میں کچھ ہورہا ہوتا ہے ، خواہ اسے ترتیب زمانی کے لحاظ سے نہ بیان کیا گیا ہو ۔ لیکن پھر تاریخ ، سوانح حیات ، خودنوشت سوانح ، ڈائری وغیرہ کو فکشن سے الگ یا مختلف کیونکر قرار دے سکتے ہیں ؟ کسی تاریخی متن میں واقعات کا تجزیہ ،ان کی بنا پر اصول سازی اور واقعات سے نتیجہ برآمد کرنے کی کوشش ، یہ سب کچھ ہوسکتا ہے ، لیکن پھر بھی تاریخ کو ضرور ہے وہ ان واقعات کو صحت اور باریک بینی سے بیان کرئے جن سے اس کا بیانیہ عبارت ہے ۔یعنی تاریخ سچ ہوتی ہے ۔ ایسی صورت میں اسے فکشن کا نام دینا بظاہر مشکل معلوم ہوتا ہے ۔لیکن اس کے برعکس ، لوکاچ Lukacs)) کا دعویٰ تھا کہ ماضی کی معروضی اوقر سچی تصویر کشی صرف تاریخی ناول ہی میں ممکن ہے ۔لیکن وہ اس بات کو واضح نہیں کرتا کہ یہ معروضی اور سچی تصویر کشی مثلاً سوانح حیات یا خود نوشت کے ذریعہ ممکن کیوں نہیں ہے ؟ ارسطو بہت پہلے یہ بات ہمیں بتا چکا تھا کہ کسی واقعے کو کتنی ہی صحت کے ساتھ کیوں نہ بیان کیا جائے ، لیکن ناظریا مشاہدکا نظریہ اور نقطہء نظر Point of view )) بہر حال ہر بیانیہ کو متاثر کرتا اور اس کی صحت کو مشکوک کردیتا ہے ۔ ایسی صورت میں تاریخی ناول ، یا کسی بھی فکشن کے بارے میں مکمل صحیح ہونے کا دعویٰ مخدوش ہی رہے گا ۔

    مجھے ہمیشہ ایسا لگتا رہا ہے کہ افسانہ اور ناول کے جدید نقادوں نے نئے بیانیوں کے سیاق و سباق میں دعوے فکشن کی سچائی اور اس کے حقیقت Truth))‘ کا صورت کش ہونے کے بارے میں کئے ہیں ، وہ مبالغہ آمیز ہیں ۔ پورا سچ سے کم کوئی چیز ہمارے نقادوں کو مطمئن کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی ۔ وہ فکشن سے پورا سچ مانگتے ہیں اور بعض فکشن نگاروں کے یہاں وہ پورا سچ دیکھ بھی سکتے ہیں ۔اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ افلاطون سے فیض یافتہ ادبی تہذیب میں شاعری کے بارے میں ایسے کوئی دعوے نہیں کئے گئے تھے اور کئے جاسکتے بھی نہیں تھے ۔ فکشن کو شاعری سے برتر ثابت کرنے کا ایک ذریعہ یہ تھا کہ اگرچہ شاعری پورا سچ نہیں پیش کرسکتی لیکن فکشن یہ کام کرسکتا ہے ۔ بہت سے نقادوں کا خیال تھا کہ حقیقت اور واقعیت یا حقیقت نگاری ایک ہی شے ہیں اور واقعیت کی ضد عینیت Idealism))ہے۔

    حقیقت نگاری کے تصور کی بنیاد اس مقروضے پر تھی کہ معروضی حقیقت یا معروضی حقائق کہیں موجود ہیں ، چاہے وہ پوری طرح ہمارے سامنے نہ ہوں ۔ اور ان معروضی حقائق کو ایمان داری اور سچائی کے ساتھ پیش کیا جاسکتا ہے ، یا ان کی نمائندگی یا نقل ہوسکتی ہے ۔ اور ،عروضی حقائق لو فکشن نگار کے تخیل میں توڑا ، ٹکڑے ٹکڑے کیا جاسکتا ہے ، تا کہ انہیں کاغذ پر مرتسم کیا جاسکے ۔ لوکاچ جیسا حقیقت پرست بھی کہتا تھا کہ فکشن ہمیشہ اس خطرے میں ہے کہ وہ پھسل کر’ تغزل یا ڈراما Lyricism or drama)) کی حدود میں داخل ہوجائے ، اور اس طرح حقیقت کو تنگ اور محدود کرتے ہوئے اپنی سطح سے نیچے گر محض تفریحی ادب کی سطح sinking to the level of mere entertainment literature))پر آجائے۔ لوکاچ کے خیال میں اس خطرے کے خلاف مقاومت کے لئے ضروری ہے کہ ناول نگاری شعوری طور پر ، اور مسلسل دنیا کی شکست وریخت پذیر اور نا مکمل حقیقت کو اصل حقیقت سمجھے اور سب باتوں کو بھی سامنے موجود رکھے جو باہر کی طرف راہ دکھاتی اور دنیا کے حدود سے باہر لے جاتی ہیں اس کے الفاظ ہیں :

    { The danger can be resisted only by positing the fragile and incomplete nature of the world as ultimate reality by recognizing, consciously and consistently, everything that points outside and beyond the confines of the world. }

    فکشن کی واقعیت اور حقیقت کے بارے میں اس سے بڑا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن ہم یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری شکست و ریخت کی عکاسی ( مکمل یا جزوی ) ممکن ہی نہیں ہے اور اس وقت تو بالکل ممکن نہیں ہے جب فکشن نگاری ان باتوں کو نظر انداز کردے جو دنیا کے حدود سے باہر لے جاتی ہیں ۔‘

    واقعیت پرستوں کے برخلاف مجھے تو یہ نظر آتا ہے کہ روب گرےئے(Robbe-Grillet ) جیسے کٹر حقیقت نگار بھی اس بات پر قادر نہیں ہیں کہ وہ کسی بھی صورت حال کی مکمل حقیقت کو گرفت میں لاسکیں۔ وہ حد سے حد بس اتنا کرسکتے ہیں کہ کسی صورت حال یا حقیقت کا بیان کسی نقطہء نظر point of veiw))سے کرسکیں ۔یعنی تمام ممکن نقطہ ہائے نظر کو گرفت میں لانا روب گرےئے جیسوں کے بھی بس کا نہیں۔روپ گرےئے اس بات کا منکر ہے کہ فکشن کے لئے ممکن ہے یا فکشن کو چاہےئے کہ وہ معنی پذیری کی کائنات ‘universe of signification))خلق کرئے یا کوئی ایسی کائنات بنائے جس سے معنی مستفاد ہوسکیں (کیوں کہ آخری درجے میں معنی ہی حقیقت ہے روب گرےئے کا تقاضا تھا کہ فکشن کو چاہےئے کہ وہ ایسی دنیا خلق کرئے جو ٹھوس اور فوری ‘) solid and immediate)ہو۔

    مجھے روپ گرےئے کا دعویٰ اور اس کا تقاضا اچھا تو لگا ، کیونکہ یہ واقعیت کے سطحی نظرےئے پر ضرب لگاتا ہے ۔ لیکن میں یہ بھی سوچنے پر مجبور ہوں کہ کیا کوئی دنیا معنی پذیری سے خالی ہوبھی سکتی ہے ؟ روب گرےئے کے بہت پہلے وین بوتھ Wayne Booth))نے صاف صاف ثابت کردیا تھا کہ انتہائی معروضی فکشن کے بیانیوں ، مثلاً فلوئبیر اور بالزاک جیسے بیانیہ نگاروں کے یہاں بھی نقطہء نظر در ہی آتا ہے۔ اسطور کی بیان کردہ حقیقت کا کوئی رداب تک نہیں ہوسکا ہے ۔

    لیکن معنی پذیری کی کائنات کا تصور مجھے معنی کے مسئلے کی طرف ضرور لے جاتا ہے اور میں یہ پوچھنے پر خود کو مجبور پاتا ہوں کہ کیا روب گرےئے معنی پذیری کی کائنات کا اس لئے انکاری ہے کہ وہ فکشن میں کسی خاص معنی یا نظرےئے کی تلاش کا منکر ہے ۔ لیکن کیا روب گرےئے کے خیال کے خلاف کہیں ایسا تو نہیں کہ وہی متن فکشن ہے جس میں معنی پذیری ہو یعنی جس میں ہم کچھ معنی تلاش کرسکیں اور حاصل کرسکیں ؟

    بات تو بڑی دلکش ہے ، لیکن ایسا تو نہیں کہ معنی کا وجود صرف فکشن میں ہوتا ہو ۔معنی تو ہر جگہ موجود ہے اور ہمارے فلسفے میں صورت اور معنی کی تفریق اسی بنا پر تھی کہ صورت وہ ہے جو سامنے نظر آتی ہے اور معنی وہ شے ہے جو صورت کی اصل ہے ۔یعنی وہ شے جو صورت کو صورت بناتی ہے ، وہ معنی ہے ۔ لہٰذا معنی کو صرف فکشن تک محدود کرنا کوئی سود مند بات نہیں ۔

    مان لیجئے ہم کہیں ، نہیں صاحب ، فکشن میں ایک خاص طرح کے معنی ہوتے ہیں ؟ لیکن مشکل یہ ہے کہ یہ دعویٰ تو ہر فن پارے بلکہ ہر متن کے لئے کیا جاسکتا ہے اور کیا جاتا رہا ہے ۔ معنی کے ایوان میں سب کے لئے الگ الگ گھر ہیں ۔ اچھا ، اب میں معنی کو صنفِ سخن کی بحث سے جوڑ کر یہ کہتا ہوں کہ فکشن ایسی صنفِ سخن ہے جس کی دسترس میں ایسے اور اس طرح کے معنی ہیں جن تک اور اصناف کی رسائی نہیں۔ ای این واٹ Ian Watt)) کا دعویٰ تھا کہ ناول ( فکشن ) کی حقیقت نگاری زندگی کی محض تصویر کشی میں نہیں ، بلکہ اس طرز وطور میں ہے جس کو بروئے کار لا کر ہم حقیقت نگاری کرتے ہیں ۔لیکن واٹ نے بھی تسلیم کیا کہ اس کی یہ تعریف فرانسیسی حقیقت نگاریFrench Realism))سے کچھ بہت مختلف نہیں ۔(ہم جانتے ہیں کہ فرانسیسی حقیقت نگاری کا دور مدت ہوئی ختم ہوچکا اور اب کوئی فکشن نگار خود کو فرانسیسی حقیقت نگاری سے منسلک تو کیا ، متاثر بھی نہیں بتاتا ۔)

    اس اعتراض کو رد کرنے کے لئے واٹ صاحب یہ فرماتے ہیں کہ جدید فلسفیانہ حقیقت نگاری دراصل فلسفے کی تحریک حقیقت پرستی Realism)) پر مبنی ہے اور جدید فکشن نکتہ چیں ، معترضانہ ، روایتی باتوں کا مخالف اور تغیرانگیز critical, anti-traditioal and innovating))ہے ۔ لیکن باے کیا بنی ؟ اگر ہم اس بیان کو فکشن کی موجودہ صورت حال کے بارے میں ایک بیان یعنی

    statementکے طور پر قبول بھی کرلیں تو ہمارا سوال وہیں کا وہیں رہتا ہے : وہ کیا چیز جو کسی تحریر یا متن کو فکشن بناتی ہے ؟

    پریم چند کو احساس تھا کہ فکشن کے جدید اور معاصر تقاضے کیا ہیں ۔ وہ اپنے ہر افسانے میں کوئی فلسفیانہ یا نفسیاتی نکتہ ضرور رکھتے تھے ( کم سے کم خود ان کا بیان یہی تھا) ۔ ان کا قول تھا کہ کوئی واقعہ اس وقت تک افسانہ نہیں کہا جاسکتا جب تک وہ کسی نفسیاتی حقیقت کو پیش نہ کرئے ۔ وہ خود داستان کی روایت کے ایک حد تک پروردہ تھے ، لیکن انہوں نے داستان کو فکشن ( ان کی زبان میں افسانہ ) کا درجہ دینے سے انکار کیا ۔لیکن اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی نظر میں ( اور ایک حد ان کے بعد واٹ کی نظر میں ) داستان ، کہانی ، قصہ ، جانوروں کی کہانیاں وغیرہ یہ سب افسانہ نہیں تھے ۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا کے تخلیقی ادب کے بڑے حصے کو فکشن یا کہانی کے دائرے سے خارج کررہے ہیں ۔ اس زمانے میں تو یہ بات شاید کسی کو قبول نہ ہو ۔

    دراصل وہ پریم چند ہوں یا واٹ ، دونوں اپنی سادہ لوحی کے شکار ہیں ۔ وہ اس بات کو نظر انداز کر گئے ہیں کہ نکتہ چیں ، معترضانہ ، روایتی باتوں کا مخالف اور تغیر انگیز ہونا اتنے غیر قطعی اور پھسلواں دعوے ہیں جتنی کہ نفسیاتی حقیقت اور فلسفیانہ حقیقت جیسی اصطلاحات ۔ ذرا سا غور و فکر اس بات کو بالکل واضح کردے گا ۔ اور یہ بات تو ہے ہی کہ مندرجہ بالا کوئی اصطلاح یا نکتہ ایسا نہیں جو ادب کی مختلف اصناف کے لئے بکارنہ لایا جاسکے ۔واٹ ہوں یا پریم چند ، وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ہر بیانیہ اپنی سطح پر معنی خیز ہوتا ہے ۔زویتان ٹا ڈاراف Tzvetan Todorov))نے عمدہ بات کہی ہے کہ ہر بیانیہ کلام Discourse))ہے ، صرف واقعات کا سلسلہ نہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ موجودہ سیاق و سباق میں کلام یا Discourseسے مراد وہ اصول یا بیان یا تصور ہے جو مرتب ہوتا ہے ، معنی خیز ہوتا ہے اور ہم کو متاثر کرسکتا ہے ۔ لہٰذا ایسا نہیں ہے کہ کوئی بیانیہ محض بیانیہ ہو ( لہٰذا ہر فکشن ) استعاراتی اور اپنی سطح کے نیچے یا سطح پر ہی معنی رکھتا ہے ۔

    ہم دیکھ سکتے ہیں کہ فکشن یا افسانہ کی تعریف متعین کرنے میں ہم اب تک کئی طرح کے دوری یعنی circularبیانات کے مرتکب ہوچکے ہیں ۔ اس لئے آےئے پھر سے شروع کریں ۔

    ایک مدت ہوئی جب میں نے فکشن کے افسانہ پن کی تعریف یہ کی تھی کہ کوئی واقعہ اس وقت فکشن یا افسانہ بن جاتا ہے جب وہ انسانی سطح پر ہماری دلچسپی کو برانگیخت کرتا ہے ۔ مثلاً یہ بیانیہ متن ملاحظہ ہو :

    ایک درخت سے ایک پتا ٹوٹ کر گر ا اور نیچے بہتے ہوئے چشمے میں ڈوب گیا ۔

    یہاں دو واقعات بیان ہوئے ہیں ، لیکن کوئی واقعہ ایسا نہیں جو ہماری انسانی حیثیت میں ہمارے لئے دلچسپ ہو یا ان میں کوئی ایسی بات بظاہر نہیں ہے جو ہمارے انسانی سروکاروں کے لئے معنی خیز ہو ۔ لیکن اگر ہم یہ فرض کریں کہ درخت‘ سے مراد شجر حیات ہے اور درخت کے نیچے جو ندی بہ رہی ہے وہ موت ہے جو ہر چیز کو بہا لے جاتی ہے اور پتے کا ٹوٹ کر گرنا اور پانی میں غرق ہوجانا کسی زندگی کے ختم ہوجانے کے معنی رکھتا ہے ، تو ہماری انسانی ہو شمندی ایک حد تک بیدار ہوتی ہے لیکن اس حد تک نہیں کہ ہمیں ذاتی طور پر درخت یا گرتے ہوئے پتے سے کوئی ہمدردی یا ان کے بارے میں کچھ ترد ہوجائے یا ہم یہ سوچ کر افسوس میں مبتلا ہوں کہ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے ۔

    ان واقعات میں استعاراتی قوت تو ہے لیکن یہ قوت ہمیں انسانی سطح پر متاثر کرنے کے لئے پوری طرح بروئے کار نہیں ۔ایسا اس وقت ممکن تھا جب مثلاً درخت ، پتے اور چشمے میں انسانی یا تمثیلی کردار وں کی بھی صفات کا مشاہدہ ممکن ہوتا ۔اب ایک اور مثال لیتے ہیں ؛

    ’’ اچانک بڑے زور کا طوفان اٹھا ۔‘‘

    یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بہت پُر قوت لیکن تجریدی اور نا انسانی non-human)) واقعہ ہے ۔ اس کے بہت سے معنی ہوسکتے ہیں ، لیکن ان معنی ( یا اس واقعے ) کا کوئی انجام ہمیں نہیں بتایا گیا۔ اصولی طور پر یہاں معنی کی کثرت تو ہے لیکن یہ معنی ہمارے کام کے نہیں ۔ اگر کوئی انجام ہوتا تو شاید ہم اس کی مدد سے اس واقعے کو موقع دیتے کہ وہ ہماری ہوشمندی کو متاثر کرئے اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں جب ہم کوئی اقلید سی شکل مثلاً مثلت یا مربع دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ تو معلومات ہوتا ہے کہ فطرت یا کائنات میں ایسی شکلیں ہوتی ہیں اور ان کے ذریعے بہت سی باتیں ثابت ہوسکتی ہیں وغیرہ ۔لیکن یہ شکلیں ہمیں انسان یا انسانی صورتِ حال کے بارے میں کوئی ٹھوس انسانی بات نہیں بتاتیں ۔اب فرض کیجئے ہمارا بیانیہ حسبِ ذیل ہے :

    ’’ اچانک بڑے زور کا طوفان اٹھا اور چراغ بجھ گیا ۔‘‘

    یہاں چراغ نے فوراً ایک انسانی صورتِ حال پیدا کردی ہے کیونکہ چراغ تو انسان ہی بناتے اور بکار لاتے ہیں ۔ لیکن ابھی یہاں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو کسی مخصوص یا عمومی انسانی صورتِ حال کو قائم کرئے یا اسکی طرف اشارہ کرئے ۔ لفظ چراغ بہت سی تجریدی اور استعاراتی باتوں یا امکانات کا حامل ضرور ہے ۔اور یہ باتیں ہمیں ذہنی یا عقلی طور پر متاثر کرتی ہیں یا بامعنی معلوم ہوتی ہیں ۔ لیکن ہم ان باتوں میں انسان کی سطح پر داخل نہیں ہوتے ، کیونکہ ابھی تک ہم کسی ایسے واقعے سے دوچار نہیں ہوئے جس میں کوئی انسانی پہلو ہو ۔ لیکن اگر یہ کہا جاتا :

    ’’ اچانک بڑے زور کا طوفان اٹھا اور چراغ بجھ گیا ۔ غریب طالب علم نے مجبوراً کتاب بند کردی اور اسے ایک طرف رکھ دیا ۔‘‘

    اب بہت سی باتیں سامنے آتی ہیں یا مضمر ہیں لیکن ہم انہیں فوراً دیکھ سکتے ہیں ، چراغ یا طوفان میں کوئی استعاراتی معنی نہیں ہیں لیکن انسانی معنی ہیں ۔ کوئی طالبِ علم ہے ، وہ اتنا غریب ہے کہ بجلی تو کیا لالٹین بھی اس کی استطاعت کے باہر ہے ۔ جہاں وہ رہتا ہے وہ جگہ بھی بہت ترقی یافتہ نہیں ہے۔وہاں سڑک پر مٹی کے تیل کے چراغ والے کھمبے ہوتے ہیں ، بجلی کے کھمبے نہیں ۔ طالبِ علم اسی چراغ کی روشنی میں اپنا سبق یاد کرتا ہے یا امتحان کی تیاری کرتا ہے ۔ طوفان نے سڑک کا چراغ بجھا دیا تو طالبِ علم کا پڑھنا بند ہوگیا ۔

    میرے وضع کئے ہوئے بیانیے کا یہ روپ گذشتہ دو بیانیوں سے مختلف ہے ۔ اس میں الفاظ زیادہ ہیں معنی کے امکانات کم ہیں ۔لیکن معنی کے امکانات کی کمی کو انسانی سروکاروں کے وفور نے ہمارے لئے زیادہ معنی خیز بنادیا ہے ۔ یہاں مجھے غالبؔ یاد آتے ہیں :

    ہجوم سادہ لوحی پنبہء گوش حریفاں ہے وگرنہ خواب میں مضمر ہیں افسانے کی تعبیریں

    غالبؔ بظاہر فکشن کی تنقید کا ایک نکتہ بیان کررہے ہیں ، ایسا نکتہ جو میرے اس وقت کے استدلال کے لئے مفید مطلب ہے ۔اوپر میں نے کہا تھا کہ فکشن میں معنی کی کثرت سے زیادہ اہمیت انسانی سروکاروں کی ہے ۔ غالبؔ اس سے بڑھ کر یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اگرچہ افسانوں ( یا کسی بھی فکشن ) کو تعبیر کی ضرورت ہے ، لیکن لوگ یہ نہیں جانتے کہ ہم جو خواب دیکھتے ہیں ان ہی میں ہمارے افسانے کے معنی موجود ہیں ۔ خواب کیا ہے ؟ تخیل کا کرشمہ ہے ۔ اس لئے تخیل کو کام میں لائیں تو ہم دیکھیں گے کہ جو بھی افسانے کسی نے ( وہ کوئی شخص ہو یا اور کوئی ہستی ) گھڑے ہیں ، وہ دراصل ہمارے خواب ہیں ، یعنی تخیلی حقائق ہیں ۔ با لفاظ دیگر فکشن کی تعبیر اس کی سطح پر نہیں ہوتی ، کہیں دور گہرائی میں ہوتی ہے ۔ میرا کہنا یہ ہے کہ گہرائی کی یہ سطح انسانی سروکاروں اور انسانی دلچسپیوں کی سطح ہے ۔ فکشن کو ہم تب ہی سمجھ سکیں گے جب فکشن ہمیں بطور انسان اپنی گرفت میں لیتا ہے ۔

    ہم جانتے ہیں کہ نیر مسعود نے اپنے سارے افسانے نہیں تو بیش از بیش تعداد مین افسانے خواب میں دیکھے ہیں ،یعنی پہلے تو افسانے کو خواب میں مجسم واقع ہوئے دیکھا اور پھر اسے حافظے کی تجویل سے باہر نکل کر کاغذ پر اُتارا ۔ گویا افسانہ ( اس کا ملفوظ پیکر ) اور تعبیر ( اس کا خیالی پیکر) ایک ساتھ ہی وجود میں آئے ۔میرا خیال ہے اس بات میں ہمارے لئے کچھ بصائر پوشیدہ ہیں ۔میں اپنے بارہ میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنا افسانہ لاہور کا ایک واقعہ بڑی حد تک خواب میں دیکھا تھا ۔ یعنی خواب مکمل ہونے کے پہلے نیری آنکھ کھل گئی تھی ۔پھر میں نے پورا افسانہ لکھا اور اس میں اپنے خواب کی تعبیر یہ لکھی کہ سارے افسانے سچے ہوتے ہیں ۔‘ بالکل اسی طرح جس طرح سارے خواب سچے ہوتے ہیں جب تک ہم انہیں عالم خواب ( یا عالم واقعہ ) میں دیکھتے ہیں ۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ ہماری زبان میں واقعہ کے ایک معنی ’خواب بھی ہیں ۔

    میرا کہنا ہے کہ فکشن نگار ہم سے تقاضا کرتا ہے ، بلکہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ جو واقعہ وہ بیان کررہا ہے تم اسے سچ سمجھو ، چاہے وہ سچ ان معنی میں نہ ہو جن معنی میں کوئی آنکھوں دیکھا حال سچ ہوتا ہے ، لیکن میرے فکشن کی سچائی تمہارے لئے فوری اور حقیقی ہے گویا تم خواب دیکھ رہے ہو ۔ فرق یہ ہے خواب سے بیدار ہونے پر شاید تم خود کو سمجھا لو کہ وہ سب فرضی اور غیر حقیقی تھا لیکن جب تک خواب جاری ہے میرا فکشن تمہارے شعور اور احساس میں جاری ہے ۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایسا فکشن وہی ہوسکتا ہے جو ہمیں انسانی سطح پر برا نگیختہ کرئے ۔ اور ایسے فکشن کا پسندیدہ ہونا اس کی فنی قوت پر اثر انداز نہیں ہوسکتا ۔

    مثال کے طور پر میں راجندر سنگھ بیدی کو اردو کے سب سے بڑے افسانہ نگاروں اور اعلیٰ ترین درجے کے افسانہ نگاروں میں گنتا ہوں ، لیکن مجھے ان کے وہ افسانے سخت ناپسند ہیں جن میں وہ اس عورت کو آئیڈیل قرار دیتے نظر آتے ہیں جو دکھ اٹھاتی ہے ، سسرال کی سختیاں سہتی ہے ، بچوں پر بچے پیدا کرتی ہے اور ہر طرح شوہر کی محکوم رہتی ہے ۔ اس حد تک محکوم کہ وہ شوہر کی مارہی کو اس کی محبت کی دلیل سمجھتی ہے ۔ میری مراد لاجونتی ، گرہن ، اپنے دکھ مجھے دے دو جیسے افسانوں ہی سے نہیں بلکہ متھن اور ’ببل جیسے افسانوں سے بھی ہے ۔مجھے یہ افسانے ناقابلِ برداشت حد تک ناپسند ہیں ۔ بیدی صاحب ان افسانوں میں اس عورت کو آدرش کے روپ میں پیش کررہے ہیں یا اس عورت کو Idieal Truth یا عینی سچائی کا نمونہ پیش کررہے ہیں جو مظلوم اور بے چارہ ہی نہیں بلکہ وہ اپنی مظلومی اور بے چارگی کو زندگی کا آدرش اور عورت کا فریضہ قرار دے کر نہ صرف قبول کرتی ہے بلکہ اس میں ایک طرح لطف اور فخر محسوس کرتی ہے ۔

    یہ سب درست لیکن میں مندرجہ بالا افسانوں میں سے اکثر کو اردو فکشن کے شاہکاروں میں شمار کرتا ہوں ۔ یعنی فنی اعتبار سے ان میں سے کئی افسانے خاص کر لاجونتی اور ببل انتہائی بلند افسانے ہیں۔لیکن میں ان سے نفرت بھی کرتا ہوں کیونکہ ان میں عورت کا جو تصور پیش کیا گیا ہے وہ غیر منصفانہ مرد کے نظام اقدار system ) value)کی طرف جھکا ہوا اور استحصالی ہے ۔تو پھر ایسا کیوں ہوسکا ہے ؟ اس لئے کہ فکشن میں جو واقعہ بیان ہوتا ہے ہم اسے سچا قرار دیتے ہیں اور اسے ہمیشہ کے لئے موجود سمجھتے ہیں ۔

    شاعری کا معاملہ مختلف ہے ۔ایک اس لئے کہ ہماری شاعری میں کوئی بیان کنندہ نہیں ہوتا۔لہٰذا شاعری میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم بیان کنندہ / شاعر کے ( شعوری یا غیر شعوری طور پر اختیار کئے ہوئے ) نظریات سے متفق ہوں یا نہ ہوں ۔

    تو اس مسئلے پر دوبارہ غور کریں کہ کوئی متن افسانہ یا فکشن کب بنتا ہے ۔ میرا خیال ہے یہ بات ایک حد تک صاف ہوچکی ہوگی کہ فکشن انسانی صنف سخن ہے ، انسان اس میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے ۔اور انسان ہمیشہ انجام یا آج کی زبان میں Closure چاہتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ جو بھی واقعہ ہو وہ اپنے فطری انجام تک پہنچے ۔ اور اگر حقیقی معنی میں فطری انجام ممکن نہ ہو تو پھر ایسا انجام ہو جوفطری محسوس ہو کہ اب اس کے بعد کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ۔انجام فطری محسوس ہو اور فکشن ہماری انسانی حیثیت کو انگیز کرئے یہ کافی ہے ۔ پریم چند اور ای این واٹ اور لوکاچ کے خیالات جو میں نے اوپر نقل کئے ان کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ فکشن نگار اور قاری دونوں کو فکشن کے پیغام اور مقصد سے سروکار زیادہ ہوجاتا ہے ، خود فکشن یا کہانی سے کم ۔ میرا کہنا ہے کہ فکشن واقعات کی ترتیب کا نام ہے اور ترتیب اس طرح ہو جس میں انسانی سروکار نمایاں ہوں ۔ فکشن ہمیں سوچنے کی ترغیب دیتا ہے یہ ہماری طرف سے فیصلے نہیں کرتا بلکہ ہماری ہمت افزائی کرتا ہے یا یوں کہیں کہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنے فیصلے خود کریں ۔

    فکشن میں بیان کئے ہوئے واقعات ہمارے لئے کسی بھی سلسلہء واقعات کسی بھی بیانیہ کی طرح ہوتے ہیں ۔ ہمیں اس بات سے فوری غرض نہیں ہوتی کہ وہ واقعات حقیقی ہیں یا قوانین قدرت کے خلاف ہیں ۔ فکشن وہ شے ہے جسے ہم بیک وقت حقیقی اور غیر حقیقی سمجھ کر برتتے ہیں ۔ ہم جتنی قوت سے اس بات کا شعور رکھیں گے کہ جو ہورہا ہے وہ حقیقی نہیں ہے اور ہے بھی ہمارے لئے فکشن کی قرات اتنی ہی کامیاب اور اطمینان بخش ہوگی ۔

    اب ذرا اس بات کو ذرا اور باریکی سے دیکھیں ۔ اخباروں میں اور ٹی وی پر ہم آئے دن قتل و غارت ، اغوا اور بچوں کے خلاف ظالمانہ وارداتوں کے بارے میں پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں ۔ ہمیں یہ خبر یں بہت شاق گذرتی ہیں اور مجرم کے لئے ہمارے دل میں گھن اور نفرت پیدا کرتی ہیں ۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ ہم نے جو خبر سنی وہ پہلے ہی واقع ہوچکی ہے ۔ اب وہ ماضی میں ہے ہمارا کوئی قابو ، کوئی اختیار اس پر نہیں ۔ جو ہوگیا ہے وہ ہوگیا ہے ، اب وہ منسوخ نہیں ہوسکتا ۔ یعنی ہم اسے ان ہوا نہیں کرسکتے ۔ہمیں گھبراہٹ ، تشویش ، تجسس اور پریشانی نہیں ہوتی ۔ لیکن جب ہم ایسے ہی کسی واقعے کا حال فکشن میں پڑھتے ہیں تو ہمارے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہیں ، سانسیں نابرابر ہونے لگتی ہیں ، خوف اور تشویش ہمارے اوپر حاوی ہونے لگتی ہے ۔ یااللہ اب کیا ہوگا ؟ کاش کہ یہ لڑکی برے لوگوں کے دھوکے یا ظلم کا شکار نہ بن سکے ، کاش ظالم مجرموں کے ہاتھوں اس کا اغوا نہ ہو ، کاش اس دودھ پیتے چبے کی ماں اسے بلکتا چھوڑ کر لقمہء اجل نہ بن جائے ۔ کاش کہ گاؤں یا محلے یا شہر کے لوگوں پر ظلم و تعدی کا بازار گرم ہوپائے ۔جب ہم فلو بےئر کا ناول مادام بوواری‘ ختم کرتے ہیں تو ہم دل میں کہتے ہیں کہ کاش شاید کسی طرح ، کسی بھی طرح، مادام بوواری کو خود کشی کرنے سے بچایا جاسکتا ۔ہمارے دل میں ایک بے نام سا احساس جرم ہمیں شرمندہ کرتا ہے کہ ہم نادام بوواری کو یا اینا کار ینینا کو خود کشی کرنے سے نہ روک سکے ۔ کاش کہ ناول ( یعنی مادام بوورای کے لئے فلوبےئر اور اینا کے لئے ٹالسٹائی ) کوئی ایسا راستہ نکال لیتے کہ ان ہیروئنوں کا انجام ایسانہ ہوتا۔

    یہ اسی وجہ سے تو ہے کہ ہم خوب جانتے ہیں کہ فکشن میں جو واقع ہوتا ہے وہ بس فکشن ہے ، اس کی اصل کچھ نہیں ۔ لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ جو ہوا ہے یا ہو رہا ہے وہ ہمارے لئے حقیقی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہم فکشن کا خلاصہ ہمیشہ زمانہء حال میں بیان کرتے ہیں ۔ اخبار یا ٹی وی نے وہ بتا دیا جو ہو چکا ہے لیکن فکشن ہمیں بتاتا ہے کہ ہم جو آپ کو بتا رہے ہیں وہ آپ کے سامنے ہورہا ہے ۔آپ کسی خبر کے قاری یا تماشبین نہیں خود اس خبر کا حصہ ہیں ۔ہم یہ نہیں کہتے کہ اینا ایک دولت مند خاندان کی نو عمر لڑکی تھی اور وہ ایک بڑے رئیس کو بیاہی گئی تھی ۔وہ رئیس عمر میں اس سے بڑا تھا ۔ ہم کہتے ہیں اینا ایک دولت مند خاندان کی نوعمر لڑکی ہے اور وہ ایک بڑے رئیس کو بیاہی ہے ، وہ رئیس عمر میں اُس سے بڑا ہے ۔ یہ صورتِ حال ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی ۔ہم یا ہمارے بعد آنے والا کوئی بھی شخص جو اس ناول کو پڑھے گا یہ صورتِ حال اس کے لئے ویسی فوری اور زندہ ہوگی جیسی ہمارے لئے ہے ۔

    ہم جانتے ہیں کہ شارل بوواری کچھ احمق سا ، گنوار ، کم رو اور اپنی بیوی پر غیر ضروری حد تک بھروسا کرنے والا شخص ہے اور اس کی بیوی بڑی ظرح دار ہے ۔ شاید یہی مناسب ہے کہ مادام بوواری اس کی پیٹھ پیچھے دوسروں سے عشق لڑائے ۔ لیکن ۔۔۔۔۔ لیکن پھر بھی کاش ایسا نہ ہوا ہوتا ۔فکشن نگار نے جو غیر حقیقی لیکن حقیقی زندگی ہمارے سامنے پیش کی ہے وہ امکانات سے پرہے اور ہمیشہ رہے گی ۔ فکشن نگار کے لئے ممکن تھا کہ وہ دونوں ہیروئنوں کے لئے کچھ مختلف انجام وضع کرتا ۔یقیناً فکشن نگار شدت سے انکار کرئے گا اور کہے گا کہ جو واقعات میں نے بیان کئے ہیں اور کرداروں کو جس طرح پیش کیا ہے اس کی منطق یہی تھی جو میں نے اختیار کی ۔لیکن ہم جانتے ہیں کہ فکشن نگار کچھ بھی کہے فکشن اپنی جگہ پر کچھ اور بھی کرسکتا ہے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ دستہ ئفسکی Dostoevsky)) نے ایک بار جھنجھلا کر قلم رکھ دیا کہ میں اس کردار سے بہت ناراض ہوں ۔ میں اسے کچھ اور بنانا چاہتا ہوں اور یہ کچھ اور ہی بن بیٹھتا ہے۔

    ماریووار گاس لیوسا Mario Vargas Llosa))کے ناول The Bad Girl کو ہم ایک طرح ہے مادام بوواری کی طرز پر بنایا ہوا کہہ سکتے ہیں ۔ یہ بری لڑکی جو کبھی کوئی نام رکھ لیتی ہے اور کبھی کوئی اور نام ، اسے دولت اور طاقت سے عشق ہے اور وہ مادام بوواری سے زیادہ نفیس اور متمدن ہے ۔ وہ مادام بوواری سی کہیں زیادہہ بے وفا اور بے رحم قسم کی عورعت ہے ۔اخلاقیات اسے چھو بھی نہیں گئی ہے ۔ ایما بوواری کے ملکی یعنی Provincial مزاج کے بر خلاف اس کا مزاج بین الاقوامی ہے ۔ ناول جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے ہم تردد میں پڑتے جاتے ہیں ۔ آخر ایسا کیا ہورہا ہے ؟ اس کاانجام کیا اور کہاں ہوگا ؟ ہم جانتے ہیں کہ اس کا انجام اگر خراب اور تکلیف دہ ہوگا تو ہمیں افسوس ہوگا اور یہ افسوس بری لڑکی پر اتنا نہ ہوگا جتنا خو د اپنے اوپر ہوگا ۔ ؂ پھیلا ہے اس طرح کاہے کو یاں خرابا ، ہم میر کی زبان میں پوچھتے ہیں ۔

    بالآخر وہ بُری لڑکی اپنے اولین ، وقار اور صابر عاشق کے پاس لوٹ جاتی ہے ۔ اس کاحسن اورصحت دونوں تباہ ہوچکے تھے ۔ لیکن اس کا چونچال پن اور مزاج کی تیزی سب پہلے ہی جیسی ہیں ۔ بمشکل ایک مہینے کے بعد وہ مرجاتی ہے ۔ لیکن ہمیں اب اس پر افسوس نہیں ہوتا بلکہ اس کے عاشق صادق پر ہوتا ہے ۔ اسے ساری زندگی ناکامی اور مایوسی ہی ہاتھ لگی ہے ۔ اور وہ کسی اخبار میں خبر نہیں ہے بلکہ انسان ہے ۔ہم جانتے ہیں کہ فکشن نگار واقعات اور کرداروں کے ساتھ طرح طرح کی ہیرا پھیریاں کرتا ہے تا کہ فکشن منطقی انجام تک پہنچ سکے ۔لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ خود فکشن ہے جو ہمارے ساتھ ہیرا پھیری کرتا رہتا ہے ۔ اور یہی اس کی سچائیوں کا سب سے بڑا حصہ ہے ۔یہ ہیرا پھیری ہی تو ہے کہ ایک ہی طرح کی دولڑکیاں ہیں ، لیکن وہ ایک ہی طرح کی نہیں بھی ہیں ۔ ان کا انجام ایک ہی طرح کا ہوتا ہے ، لیکن ایک ہی طرح کا نہیں ہوتا ۔

    بعض لوگ کہتے ہیں کہ بابو گوپی ناتھ یا سوگندھی جیسے افسانے منٹو ہی لکھ سکتے تھے ۔ یہ بات صحیح بھی ہے اور غلط بھی ۔ صحیح اس لئے کہ منٹو کا افسانہ انسان اور انسانوں کے بارے میں ہوتا تھا ، تصورات اور عقائد کے بارے میں نہیں ۔ لیکن یہ بات غلط اس لئے ہے کہ کوئی بھی فکشن نگار جو دنیا کی نیرنگیوں کو مدنظر رکھتا ہے اسے بابو گوپی ناتھ یا سوگندھی جیسے لوگ نظر ہی آجائیں گے ۔ اور فکشن کی سچائی اسی بات میں ہے کہ فلوبےئر اور وارگاس لیو سا جیسے مختلف العہد اور مختلف المزاج فکشن نگار ایک ہی طرح کا کردار بنا سکے ۔

    ٹاداراف نے لکھا ہے کہ ہر فکشن کے لئے دو شخص لازمی ہوتے ہیں : فکشن نویس یا بیان کنندہ اور فکشن کو حاصل کرنے والا یعنی سامع اور قاری ۔ وہ کہتا ہے کہ ہر فکشن کے لئے یہ دو شریک لازمی ہیں ۔ لیکن یہ بات داستان یا زبانی بیانیہ پر زیادہ صادق آتی ہے ، ناول یا افسانہ پر کم ۔ باختن نے صحیح کہا ہے کہ ناول نگار سے زیادہ کوئی آدمی تنہا نہیں اسے کچھ نہیں معلوم کہ میرا بیانیہ کون پڑھے گا ، کب پڑھے گا ، کس جگہ پڑھے گا اور میرے پڑھنے والے کتنے لوگ ہوں گے ۔ اس کے برخلاف زبانی بیانیہ کا ہدف ( یعنی اس کا سامع) بیان کنندہ کے سامنے ہوتا ہے ۔ یہاں دوسرا نکتہ یہ نکلتا ہے کہ زبانی بیان کنندہ کو اپنے سامع کا پورا لحاظ رکھنا ہوتا ہے ۔ اور وہ اپنے بیانیہ کے ساتھ کوئی ہیر پھیر ، کوئی ایسا سلوک نہیں کرسکتا اس کا سامع جس سے متفق نہ ہو ۔ وہ نہ تو اپنے بیانیہ کے ساتھ کوئی ہیر پھیر کا سلوک کرسکتا ہے اور نہ ہی اس کا بیانیہ اپنے بیانن کنندہ کے ساتھ کوئی ہیرا پھیری کرسکتا ہے ۔

    زبانی بیان میں بیانیہ اور بیان کنندہ دونوں برابر کے شریک ہوتے ہیں ۔ لیکن فکشن ( یعنی ناول اور افسانہ ) ایک حد تک اپنے بیان کنندہ سے آزاد ہوتے ہیں ۔ دستہ ئفسکی Dostoevsky))کی مثال میں اوپر نقل کرچکا ہوں کہ وہ اپنے ایک کردار سے خفا ہوگیا تھا کیونکہ اس کردار نے کچھ اپنی ہی زندگی حاصل کرلی تھی ۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ کسی افسانے کو خود مصنف نے یا کسی اور نے دوبارہ لکھا تو نیا روپ گذشتہ روپ سے کم یا بیش مختلف نکلا ۔

    فکشن نگار کی حیثیت سے میرا اپنا تجربہ بھی یہی ہے کہ میں اپنے کردار یا وقوعے کو جیسا بنانا چاہتا ہوں ہمیشہ ویسا بنتا نہیں ہے ۔ میرے سامنے سامع بھی نہیں ہے جس کے دباؤ کے تحت میں کردار اور واقعے کو آزاد نہ ہونے دوں ۔اس طرح کچھ متضاد سی صورتِ حال بنتی ہے کہ میں اپنے فکشن کا خالق ہوں بھی اور نہیں بھی ہوں ۔ اس لئے مجھے اس بات پر کوئی حیرت نہیں ہے کہ فلوبئیر نے کہا :

    ’’ میں ایسی کتاب لکھنا چاہتا ہوں جو کسی شے کے بارے میں نہ ہو ، ایسی کتاب جو صرف اسلوب کی اندرونی قوت کے بل بوتے پر قائم ہو ، جس طرح زمین کسی سہارے کے بغیر ہوا میں خود کو قائم رکھتی ہے ۔ میں ایسی کتاب لکھنا چاہتا ہوں جو کسی موضوع پر نہ ہو یا کم سے کم ایسا ہو کہ اس کا موضوع دکھائی نہ دے ۔۔۔۔۔۔۔ میرا خیال ہے کہ فن کا مستقبل انہیں راہوں میں ہے ۔‘‘

    ظاہر ہے کہ جب کوئی موضوع ہی نہ ہوگا صرف اسلوب ہوگا تو پھر فکشن اپنے بنانے والے کے ساتھ کوئی گڑبڑ ، کوئی ہیرا پھیری نہ کرسکے گا ۔ لیکن یہ بھی ظاہر ہے کہ فکشن کے غیر مرئی دباؤ سے آزاد ہونے کی کوشش کبھی کامیاب نہ ہوسکی ۔ جیمس جوائس James Joyce))اور سیموئل بیکیٹ Samuel Beckett))اور کچھ دوسروں نے بے انتہا کوشش کرلی ، لیکن فلوبئیر کی پیشین گوئی پوری نہ ہوسکی ۔ فکشن کسی نہ کسی طور سے اپنے خالق سے آزاد ہی رہا ۔

    اس طرح فکشن کی سچائیاں کم سے کم دو ہیں : ایک تو یہ کہ ہم یہ خوب جانتے اور اچھی طرح بوجھتے ہیں کہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یہ محض فرضی ہے لیکن پھر بھی ہم اس کے ساتھ معاملہ یوں کرتے ہیں کہ یہ فرضی نہیں حقیقی ہے ۔ جو کچھ ہورہا ہے ہم اس کے تماشبین ہی نہیں ، ہم اس میں شریک بھی ہیں ۔ دوسری سچائی یہ ہے کہ فکشن میں جو کچھ بیان ہوتا ہے وہ ہمارے لئے ماضی نہیں بلکہ ایک طرح کا اسمتراری حال ہے کیونکہ ہم جب بھی فکشن کو پڑھتے ہیں پہلی بار یا بار بار وہ ہمارے لئے زمانہء حال ہی میں ہوتا ہے۔ تیسری سچائی یہ ہے کہ فکشن نگار کسی نہ کسی معنی میں اپنی وقل اور منطقی شعور کا نہیں بلکہ فکشن کی اندرونی منطق کا پابند ہوتا ہے ۔

    **

    ( شمیم نکہت یاد گار خطبہ : لکھنؤ ، ۴ / اپریل / ۲۰۱۷)

    مآخذ:

    • کتاب : Tafheem,Rajouri(Jammu @Kashmir Vol:12
    • Author : Umar Farhat

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY