Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Ahmad Jamal Pasha's Photo'

احمد جمال پاشا

1939 - 1987 | پٹنہ, انڈیا

اردو کے ممتاز انشائیہ نگار اور صحافی

اردو کے ممتاز انشائیہ نگار اور صحافی

احمد جمال پاشا کا تعارف

تخلص : 'احمد جمال پاشا'

اصلی نام : آغا محمد نزہت پاشا

پیدائش : 01 Jun 1939 | لکھنؤ, اتر پردیش

وفات : 27 Sep 1987 | پٹنہ, بہار

شناخت: احمد جمال پاشا اردو کے ممتاز انشائیہ نگار، صحافی اور صاحبِ اسلوب ادیب تھے، جنہوں نے طنز و مزاح کو فکری وقار اور سماجی شعور کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ وہ عام موضوعات کو غیر معمولی زاویے سے پیش کرنے میں مہارت رکھتے تھے اور انسانی و معاشرتی زندگی کے پیچیدہ پہلوؤں کو شگفتہ مگر سنجیدہ انداز میں بیان کرتے تھے۔

احمد جمال پاشا کا اصل نام آغا محمد نزہت پاشا تھا۔ وہ یکم جون 1929ء کو الہ آباد کے محلہ خلد آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1950ء میں کوئنس ہائی اسکول سے میٹرک، 1953ء میں لکھنؤ کرسچین کالج سے انٹرمیڈیٹ اور 1959ء میں لکھنؤ یونیورسٹی سے بی۔اے کیا۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور 1961ء میں ایم۔اے کی ڈگری حاصل کی۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ لکھنؤ واپس آئے اور عملی طور پر صحافت سے وابستہ ہو گئے۔ صحافتی تجربے نے ان کے مشاہدے کو وسعت دی اور یہی وسعت ان کی تحریروں میں گہرائی اور اثرانگیزی کا باعث بنی۔ ان کے انشائیے زندگی کے روزمرہ مسائل، سماجی ناہمواریوں، فکری تضادات اور ادبی زوال کی عکاسی کرتے ہیں۔

احمد جمال پاشا کے انشائیوں میں طنز کی کاٹ اور ظرافت کی لطافت بیک وقت موجود ہے۔ وہ سطحی مزاح اور پھکڑپن کے سخت مخالف تھے اور ادب میں سنجیدگی، متانت اور اخلاقی ذمہ داری کے قائل تھے۔ ان کا خیال تھا کہ محض تفریح کے لیے مزاح ادب کا مقصد نہیں ہو سکتا، بلکہ ادبی ظرافت کو فکری بالیدگی کا ذریعہ ہونا چاہیے۔

ان کی نمایاں تصانیف میں اندیشۂ شہر، ستم ایجاد، لذتِ آزاد، مضامینِ پاشا، چشمۂ حیراں، آثارِ قیامت اور فنِ لطیفہ گوئی شامل ہیں۔ ان کے معروف مضامین جیسے ادب میں مارشل لا، ہجرت، شور، بے ترتیبی، تنہائی کی حمایت میں، چغلی کھانا وغیرہ اردو انشائیے کی روایت میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

انہوں نے سماجی، سیاسی، معاشی اور تعلیمی مسائل کے ساتھ ساتھ ادبی فضا کو بھی اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔ وہ ادبی زوال، سطحیت اور غیر سنجیدہ رویّوں پر گہری نظر رکھتے تھے اور اپنی تحریروں کے ذریعے اصلاح کی کوشش کرتے تھے۔ انہوں نے ادبی شخصیات اور ادبی رویّوں پر بھی بے لاگ تبصرہ کیا، جو ان کی تنقیدی بصیرت کا مظہر ہے۔

بیسویں صدی کی ساتویں دہائی میں ان کی تخلیقی صلاحیت اپنے عروج پر تھی۔ اس دور میں ان کی تحریروں نے اردو انشائیے کو ایک نیا فکری وقار اور تازگی عطا کی۔

وفات: 27 ستمبر 1987ء کو پٹنہ میں ایک ریڈیو پروگرام میں شرکت کے دوران انہیں دل کا دورہ پڑا اور 28 ستمبر کو ان کا انتقال ہو گیا۔ 29 ستمبر 1987ء کو انہیں ضلع سیوان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

 

 

 

 

 

 

 

Recitation

بولیے