- کتاب فہرست 180576
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1979
ڈرامہ915 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1568 صحت104 تاریخ3280طنز و مزاح597 صحافت200 زبان و ادب1691 خطوط733
طرز زندگی30 طب972 تحریکات269 ناول4268 سیاسی350 مذہبیات4764 تحقیق و تنقید6503افسانہ2662 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2009نصابی کتاب433 ترجمہ4211خواتین کی تحریریں5765-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1253
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1572
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4857
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1205
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
احمد جمال پاشا کا تعارف
شناخت: احمد جمال پاشا اردو کے ممتاز انشائیہ نگار، صحافی اور صاحبِ اسلوب ادیب تھے، جنہوں نے طنز و مزاح کو فکری وقار اور سماجی شعور کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ وہ عام موضوعات کو غیر معمولی زاویے سے پیش کرنے میں مہارت رکھتے تھے اور انسانی و معاشرتی زندگی کے پیچیدہ پہلوؤں کو شگفتہ مگر سنجیدہ انداز میں بیان کرتے تھے۔
احمد جمال پاشا کا اصل نام آغا محمد نزہت پاشا تھا۔ وہ یکم جون 1929ء کو الہ آباد کے محلہ خلد آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1950ء میں کوئنس ہائی اسکول سے میٹرک، 1953ء میں لکھنؤ کرسچین کالج سے انٹرمیڈیٹ اور 1959ء میں لکھنؤ یونیورسٹی سے بی۔اے کیا۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور 1961ء میں ایم۔اے کی ڈگری حاصل کی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ لکھنؤ واپس آئے اور عملی طور پر صحافت سے وابستہ ہو گئے۔ صحافتی تجربے نے ان کے مشاہدے کو وسعت دی اور یہی وسعت ان کی تحریروں میں گہرائی اور اثرانگیزی کا باعث بنی۔ ان کے انشائیے زندگی کے روزمرہ مسائل، سماجی ناہمواریوں، فکری تضادات اور ادبی زوال کی عکاسی کرتے ہیں۔
احمد جمال پاشا کے انشائیوں میں طنز کی کاٹ اور ظرافت کی لطافت بیک وقت موجود ہے۔ وہ سطحی مزاح اور پھکڑپن کے سخت مخالف تھے اور ادب میں سنجیدگی، متانت اور اخلاقی ذمہ داری کے قائل تھے۔ ان کا خیال تھا کہ محض تفریح کے لیے مزاح ادب کا مقصد نہیں ہو سکتا، بلکہ ادبی ظرافت کو فکری بالیدگی کا ذریعہ ہونا چاہیے۔
ان کی نمایاں تصانیف میں اندیشۂ شہر، ستم ایجاد، لذتِ آزاد، مضامینِ پاشا، چشمۂ حیراں، آثارِ قیامت اور فنِ لطیفہ گوئی شامل ہیں۔ ان کے معروف مضامین جیسے ادب میں مارشل لا، ہجرت، شور، بے ترتیبی، تنہائی کی حمایت میں، چغلی کھانا وغیرہ اردو انشائیے کی روایت میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
انہوں نے سماجی، سیاسی، معاشی اور تعلیمی مسائل کے ساتھ ساتھ ادبی فضا کو بھی اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔ وہ ادبی زوال، سطحیت اور غیر سنجیدہ رویّوں پر گہری نظر رکھتے تھے اور اپنی تحریروں کے ذریعے اصلاح کی کوشش کرتے تھے۔ انہوں نے ادبی شخصیات اور ادبی رویّوں پر بھی بے لاگ تبصرہ کیا، جو ان کی تنقیدی بصیرت کا مظہر ہے۔
بیسویں صدی کی ساتویں دہائی میں ان کی تخلیقی صلاحیت اپنے عروج پر تھی۔ اس دور میں ان کی تحریروں نے اردو انشائیے کو ایک نیا فکری وقار اور تازگی عطا کی۔
وفات: 27 ستمبر 1987ء کو پٹنہ میں ایک ریڈیو پروگرام میں شرکت کے دوران انہیں دل کا دورہ پڑا اور 28 ستمبر کو ان کا انتقال ہو گیا۔ 29 ستمبر 1987ء کو انہیں ضلع سیوان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
مددگار لنک : | https://adbimiras.com/ahmad-jamal-pasha-ki-inshaya-nigaari-by-shafi-ahmad/#google_vignette
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1979
-
