- کتاب فہرست 182645
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1988
ڈرامہ926 تعلیم344 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3296طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1710 خطوط746
طرز زندگی30 طب983 تحریکات272 ناول4320 سیاسی354 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6625افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4255خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1285
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4882
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1210
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
علی اکبر دھخدا کا تعارف
شناخت: عظیم فارسی ادیب، ماہرِ لغت، ممتاز طنز نگار اور 'لغت نامۂ دہخدا' کے مؤلف
علی اکبر خان دہخدا 1879ء میں تہران کے محلہ سنگلج میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد خان بابا خان قزوین کے ایک متوسط زمیندار تھے۔ وہ ایران کے مایہ ناز ادیب، لغت شناس، شاعر اور سیاست دان تھے۔ وہ فارسی زبان کی عظیم ترین لغت 'لغت نامہ دہخدا' کے بانی اور مؤلف ہیں۔ انہیں معاصر ایران کا 'پدرِ لغت نامہ' کہا جاتا ہے۔
دہخدا نے قدیم علوم کی تعلیم غلام حسین بروجردی سے حاصل کی۔ 1899ء میں تہران میں 'مدرسیہ علوم سیاسی' میں داخلہ لیا اور وہاں سے جدید علوم اور فرانسیسی زبان سیکھی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ وزارت خارجہ سے وابستہ ہوئے اور بلقان کے ممالک میں ایرانی سفیر کے منشی کی حیثیت سے ویانا (آسٹریا) میں دو سال مقیم رہے، جہاں انہوں نے یورپی معاشرت اور جدید علوم کا گہرا مطالعہ کیا۔
ایران واپسی پر انہوں نے مشہور جریدے 'صور اسرافیل' کے لیے لکھنا شروع کیا۔ ان کے طنزیہ کالم 'چرند و پرند' نے فارسی نثر میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔ وہ 'دخو' کے قلمی نام سے لکھتے تھے۔
وہ ایران میں آئینی تحریک کے سرگرم رکن تھے، جس کی پاداش میں انہیں محمد علی شاہ کے دور میں جلاوطن بھی کیا گیا۔
جلاوطنی کے دوران وہ پیرس اور سوئٹزرلینڈ میں رہے، جہاں انہوں نے 'صور اسرافیل' کی اشاعت جاری رکھی۔
پہلی جنگ عظیم کے دوران انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی اور چہار محال بختیاری کے پہاڑی علاقے میں قیام کیا۔ یہیں سے ان کے ذہن میں فارسی زبان کی ایک جامع لغت مرتب کرنے کا خیال پیدا ہوا، جس کے لیے انہوں نے 'امیر مفخم بختیاری' کی لائبریری سے استفادہ کیا۔
دہخدا نے اپنی زندگی کے آخری 40 سال اس عظیم لغت کی تیاری میں صرف کیے۔ اس لغت کے لیے انہوں نے لاکھوں کی تعداد میں 'فیش' (تحقیقی پرچیاں) تیار کیں۔
ان کی وفات کے بعد ان کی وصیت کے مطابق ڈاکٹر محمد معین، ڈاکٹر محمد دبیر سیاقی اور سید جعفر شہیدی نے اس کام کو جاری رکھا اور مکمل کیا۔
یہ لغت 26 ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے اور فارسی زبان و ادب کا سب سے مستند علمی ذخیرہ تسلیم کی جاتی ہے۔
ان کی دیگر تصانیف میں 'امثال و حکم' چار جلدوں پر مشتمل فارسی ضرب الامثال اور حکایات کا مجموعہ، 'چرند و پرند' طنزیہ اور سماجی مقالات کا مجموعہ، 'ترجمہ روح القوانین' مونٹیسکیو کی مشہور کتاب کا فارسی ترجمہ اور 'شرح حال ابوریحان بیرونی' ہیں۔
انہوں نے شاعری بھی کی، ان کی شاعری طنز، حب الوطنی اور عوامی ہمدردی کا مرقع ہے۔ ان کا مسمط 'یاد آر ز شمع مردہ یاد آر' فارسی ادب کا شاہکار مرثیہ مانا جاتا ہے۔
وفات: 27 فروری 1956ء (7 اسفند 1334ھ شمسی) کو تہران میں انتقال ہوا۔ انہیں شہرِ رے کے مشہور قبرستان 'ابن بابویہ' میں سپردِ خاک کیا گیا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Ali-Akbar_Dehkhoda
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1988
-
