- کتاب فہرست 180305
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ917 تعلیم341 مضامين و خاكه1359 قصہ / داستان1567 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1624 خطوط726
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4263 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6512افسانہ2664 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4193خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1247
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4863
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
علی اکبر دھخدا کا تعارف
شناخت: عظیم فارسی ادیب، ماہرِ لغت، ممتاز طنز نگار اور 'لغت نامۂ دہخدا' کے مؤلف
علی اکبر خان دہخدا 1879ء میں تہران کے محلہ سنگلج میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد خان بابا خان قزوین کے ایک متوسط زمیندار تھے۔ وہ ایران کے مایہ ناز ادیب، لغت شناس، شاعر اور سیاست دان تھے۔ وہ فارسی زبان کی عظیم ترین لغت 'لغت نامہ دہخدا' کے بانی اور مؤلف ہیں۔ انہیں معاصر ایران کا 'پدرِ لغت نامہ' کہا جاتا ہے۔
دہخدا نے قدیم علوم کی تعلیم غلام حسین بروجردی سے حاصل کی۔ 1899ء میں تہران میں 'مدرسیہ علوم سیاسی' میں داخلہ لیا اور وہاں سے جدید علوم اور فرانسیسی زبان سیکھی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ وزارت خارجہ سے وابستہ ہوئے اور بلقان کے ممالک میں ایرانی سفیر کے منشی کی حیثیت سے ویانا (آسٹریا) میں دو سال مقیم رہے، جہاں انہوں نے یورپی معاشرت اور جدید علوم کا گہرا مطالعہ کیا۔
ایران واپسی پر انہوں نے مشہور جریدے 'صور اسرافیل' کے لیے لکھنا شروع کیا۔ ان کے طنزیہ کالم 'چرند و پرند' نے فارسی نثر میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔ وہ 'دخو' کے قلمی نام سے لکھتے تھے۔
وہ ایران میں آئینی تحریک کے سرگرم رکن تھے، جس کی پاداش میں انہیں محمد علی شاہ کے دور میں جلاوطن بھی کیا گیا۔
جلاوطنی کے دوران وہ پیرس اور سوئٹزرلینڈ میں رہے، جہاں انہوں نے 'صور اسرافیل' کی اشاعت جاری رکھی۔
پہلی جنگ عظیم کے دوران انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی اور چہار محال بختیاری کے پہاڑی علاقے میں قیام کیا۔ یہیں سے ان کے ذہن میں فارسی زبان کی ایک جامع لغت مرتب کرنے کا خیال پیدا ہوا، جس کے لیے انہوں نے 'امیر مفخم بختیاری' کی لائبریری سے استفادہ کیا۔
دہخدا نے اپنی زندگی کے آخری 40 سال اس عظیم لغت کی تیاری میں صرف کیے۔ اس لغت کے لیے انہوں نے لاکھوں کی تعداد میں 'فیش' (تحقیقی پرچیاں) تیار کیں۔
ان کی وفات کے بعد ان کی وصیت کے مطابق ڈاکٹر محمد معین، ڈاکٹر محمد دبیر سیاقی اور سید جعفر شہیدی نے اس کام کو جاری رکھا اور مکمل کیا۔
یہ لغت 26 ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے اور فارسی زبان و ادب کا سب سے مستند علمی ذخیرہ تسلیم کی جاتی ہے۔
ان کی دیگر تصانیف میں 'امثال و حکم' چار جلدوں پر مشتمل فارسی ضرب الامثال اور حکایات کا مجموعہ، 'چرند و پرند' طنزیہ اور سماجی مقالات کا مجموعہ، 'ترجمہ روح القوانین' مونٹیسکیو کی مشہور کتاب کا فارسی ترجمہ اور 'شرح حال ابوریحان بیرونی' ہیں۔
انہوں نے شاعری بھی کی، ان کی شاعری طنز، حب الوطنی اور عوامی ہمدردی کا مرقع ہے۔ ان کا مسمط 'یاد آر ز شمع مردہ یاد آر' فارسی ادب کا شاہکار مرثیہ مانا جاتا ہے۔
وفات: 27 فروری 1956ء (7 اسفند 1334ھ شمسی) کو تہران میں انتقال ہوا۔ انہیں شہرِ رے کے مشہور قبرستان 'ابن بابویہ' میں سپردِ خاک کیا گیا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Ali-Akbar_Dehkhoda
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
