- کتاب فہرست 182701
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ927 تعلیم346 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1609 صحت105 تاریخ3320طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1724 خطوط750
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4338 سیاسی357 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6644افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب452 ترجمہ4275خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1291
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1606
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4894
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1221
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
علی امام نقوی کا تعارف
علی امام نقوی مابعد جدید دو رکے ایک اہم ،سنجیدہ اور گراں قدر فکشن نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ان کی پیدائش ۹ نومبر ۱۹۴۵ کو ہوئی۔ والد امیر حیدر خوش حال اور کاروباری شخص تھے۔ علی امام نقوی بھی میٹرک تک تعلیم کے بعد والد کے کاروبار میں شامل ہوگئے۔لیکن جلد ہی کاروبار سے الگ ہوکر ایرانی قونصلیٹ میں بطور کلرک مستقل ملازم ہوگئے۔ علی امام نقوی نے ۱۹۷۰ کے آس پاس لکھنا شروع کیا۔ ’کھلتے ہوئے بل‘ ان کا وہ پہلا افسانہ ہے جس نے انہیں ادبی حلقوں میں ایک نمایاں شناخت عطا کی۔پہلا افسانوی مجموعہ ’نئے مکان کی دیمک‘ ۱۹۸۰ میں شائع ہوا۔اس کے بعد بالترتیب چار افسانوی مجموعے ’مباہلہ‘’گھٹتے بڑھتے سائے‘’موسم عذابوں کا‘’اور’ کہی ان کہی ‘شائع ہوئے۔
علی امام نے افسانوں کے علاوہ دو نال بھی لکھے، جو ’تین بتی کے راما‘ اور بساط ‘ کے نام سے شائع ہوئے۔نقوی کا آخری ناول ممبئی کی زندگی کے سیاہ وسفید منطروں کا بہترین عکاس ہے۔
۱۰ مارچ ۲۰۱۴ کو انتقال ہوا۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
