- کتاب فہرست 178650
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3279طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4300 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6596افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5831-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4852
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
علی امام نقوی کا تعارف
علی امام نقوی مابعد جدید دو رکے ایک اہم ،سنجیدہ اور گراں قدر فکشن نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ان کی پیدائش ۹ نومبر ۱۹۴۵ کو ہوئی۔ والد امیر حیدر خوش حال اور کاروباری شخص تھے۔ علی امام نقوی بھی میٹرک تک تعلیم کے بعد والد کے کاروبار میں شامل ہوگئے۔لیکن جلد ہی کاروبار سے الگ ہوکر ایرانی قونصلیٹ میں بطور کلرک مستقل ملازم ہوگئے۔ علی امام نقوی نے ۱۹۷۰ کے آس پاس لکھنا شروع کیا۔ ’کھلتے ہوئے بل‘ ان کا وہ پہلا افسانہ ہے جس نے انہیں ادبی حلقوں میں ایک نمایاں شناخت عطا کی۔پہلا افسانوی مجموعہ ’نئے مکان کی دیمک‘ ۱۹۸۰ میں شائع ہوا۔اس کے بعد بالترتیب چار افسانوی مجموعے ’مباہلہ‘’گھٹتے بڑھتے سائے‘’موسم عذابوں کا‘’اور’ کہی ان کہی ‘شائع ہوئے۔
علی امام نے افسانوں کے علاوہ دو نال بھی لکھے، جو ’تین بتی کے راما‘ اور بساط ‘ کے نام سے شائع ہوئے۔نقوی کا آخری ناول ممبئی کی زندگی کے سیاہ وسفید منطروں کا بہترین عکاس ہے۔
۱۰ مارچ ۲۰۱۴ کو انتقال ہوا۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
