- کتاب فہرست 188640
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں59
ادب اطفال2075
ڈرامہ1028 تعلیم377 مضامين و خاكه1531 قصہ / داستان1738 صحت108 تاریخ3579طنز و مزاح748 صحافت216 زبان و ادب1978 خطوط817
طرز زندگی26 طب1033 تحریکات300 ناول5029 سیاسی372 مذہبیات4900 تحقیق و تنقید7352افسانہ3057 خاکے/ قلمی چہرے294 سماجی مسائل118 تصوف2281نصابی کتاب568 ترجمہ4579خواتین کی تحریریں6357-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار69
- دیوان1498
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح211
- گیت66
- غزل1330
- ہائیکو12
- حمد54
- مزاحیہ37
- انتخاب1659
- کہہ مکرنی7
- کلیات717
- ماہیہ21
- مجموعہ5351
- مرثیہ400
- مثنوی886
- مسدس61
- نعت602
- نظم1318
- دیگر82
- پہیلی16
- قصیدہ201
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی306
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام35
- سہرا10
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی30
- ترجمہ74
- واسوخت28
باقر مہدی کے اقوال
آزادی کی خواہش خود بخود نہیں پیدا ہوتی۔ اس کے لیے بڑا خون پانی کرنا پڑتا ہے، ورنہ اکثر لوگ انہیں راہوں پر چلتے رہنا پسند کرتے ہیں جن پر ان کے والدین ا پنے نقش پا چھوڑ گئے ہیں۔
ادب کی تخلیق ایک غریب ملک میں پیشہ بھی نہیں بن سکتی اور اس طرح بیشتر ادیب و شاعر اتواری مصور SUNDAY PAINTERS کی زندگی بسر کرتے ہیں، یعنی ضروری کاموں سے فرصت ملی تو پڑھ لکھ لیا۔
جس ملک میں جمہوریت کی جڑیں گہری اور دیرپا نہ ہوں وہاں کی فضا میں ادب و تہذیب کی ترقی کے امکانات بھی زیادہ نہیں ہوتے۔
ہم آج کے دور کو اس لیے تنقیدی دور کہتے ہیں کہ تخلیقی ادب کی رفتار کم ہے اور معیار ی چیزیں نہیں لکھی جا رہی ہیں۔
اب غالب اردو میں ایک صنعت Industryکی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ اتنی بڑی اور پھیلی ہوئی نہیں جتنی کہ یوروپ اور امریکہ میں شیکسپیئر انڈسٹری۔ ہاں آہستہ آہستہ غالب انڈسٹری بھی High Cultured Project میں ڈھل رہی ہے۔ یہ کوئی شکایت کی بات نہیں ہے۔ ہر زبان و ادب میں ایک نہ ایک شاعر یا ادیب کو یہ اعزاز ملتا رہا ہے کہ اس کے ذریعے سے سیکڑوں لوگ باروزگار ہو جاتے ہیں۔
کل تک ادب چند بہت ہی برگزیدہ ہستیوں کی جاگیر تھا اور وہی لوگ اس پر بحث کے اہل سمجھے جاتے تھے۔ آج ادبی ذوق عام ہو چلا ہے اور اب تمام علوم میں ماہر ہوئے بغیر بھی ادبی رائے رکھی جا سکتی ہے اور قاری کی باتوں کو دھیان سے سنا بھی جانے لگا ہے۔ ان حالات میں ادبی ذوق کو زیادہ بہتر اور برتر بنانے کا کام نقادوں کے علاوہ کوئی اور پوری خوبی سے نہیں کر سکتا ہے۔ اس لیے نقادوں کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ اچھے ادبی ذوق کو عام کرنے کی مہم میں پیش پیش رہیں۔
نقاد کا کام صرف تنقیدی ترازو میں ناپنا تولنا ہی نہیں ہے بلکہ اپنی آواز کے ذریعے ادیبوں میں حرکت و عمل کی وہ قوت بھی پیدا کرنی ہے جو تخلیق ادب کی باعث ہو سکے۔
ادب اور زندگی کے رشتے اتنے مستحکم ہو چکے ہیں کہ سیاسی تبدیلیوں کا اد ب پر اثر ناگزیر ہے۔
ترقی پسندی انسانی زندگی کو ’’حسین سے حسین تر‘‘ بنانے کی کوشش میں تنگ سے تنگ تر کرتی گئی جیسا کہ مذاہب کے ساتھ حشر ہوا کہ وہ خدا کے بندوں کو راہ راست پر لانے کے لیے آئے تھے مگر آہستہ آہستہ انسانوں پر اس کے دروازے بند ہوتے گئے اوریہ چھوٹی دنیا بہت سے چھوٹے چھوٹے فرقوں میں بدل گئی۔
آدمی جذبات کو منعکس کرنے کے باوجود آئینے سے مشابہ نہیں ہے اور یہیں سے ساری پیچیدگی شروع ہوتی ہے۔
شاعر اور ادیب کے افکار و احساسات کو کبھی بھی کسی سیاسی لائن کا غلام نہیں بنایا جا سکتا اور جب بھی اس کی کوشش کی گئی ہے، ادبی بحران کا ’سیلاب بلا‘ اپنے تمام تباہ کن نتائج کو لیے ہوئے آیا ہے۔
اصطلاحیں اپنے معنی کھوتی ہیں، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ میں اس سے انکار نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ انہیں نئے معنی و مفہوم دے کر پھر تر و تازہ کیا جاتا ہے اور اس طرح خزاں اور بہار کے موسم اصطلاحوں کی دنیامیں بھی آتے رہتے ہیں۔
پہلی تفصیلی ملاقات کتنی سرسری ہوتی ہے۔ رسمی جملے ٹوٹ ٹوٹ کر ربط نہاں کی تخلیق کرنے کی ناکام سی کوشش کرتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ایک دوسرے سے واقف ہو رہے ہیں۔ جب کہ ہم بڑے ضبط سے کام لے رہے ہوتے ہیں۔ اس کے یہ معنی ہوئے کہ غیر شعوری طور سے ہم نہیں چاہتے کہ پہلا تاثر خراب پڑے۔ زندگی کے ’بازاری ماحول‘ نے ہمیں اتنا مسخ کر دیا ہے کہ ایک دوسرے پر عیاں ہونے کے باوجود آدھے چھپے ہوئے غائب رہتے ہیں۔
اردو تنقید کی یہ بدنصیبی رہی ہے کہ اس کا آغاز کسی بڑی اثاث سے نہیں ہوا اور نہ ہی ہمارے ادب میں کوئی تنقیدی روایت کا سلسلہ ملتا ہے جس سے کڑیاں ملاکر نقادوں نے نقد ادب کے اصول متعین کیے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی چند برسوں تک ہمارے ترقی پسند اور جدید ادب کے نقاد اصول نقد ادب کی تشکیل اور تعبیر میں الجھے ہوئے ہیں۔
معاشی قوتیں ان پوشیدہ دھاروں کی طرح ہیں جو اندر بہتے رہتے ہیں اور آہستہ آہستہ کناروں کو کاٹتے ہوئے اپنے لیے نئی جگہ بناتے جاتے ہیں۔
جدیدیت نے دنیا کو جنت ارضی بنانے کا بیڑا اٹھا کر ’جہنم‘ نہیں بنایا ہے جیسا کہ ترقی پسندی نے کیا ہے۔
جدیدیت ’تعمیر اور تخریب‘ کی پرفریب اصطلاحوں کو رد کرتی ہے، وہ ادب کو سب سے پہلے ذات کا آئینہ دار قرار دیتی ہے لیکن ذات کو حرف آخر نہیں سمجھتی اس لئے کہ جدیدیت ’حرف آخر‘ کی سرے سے قائل نہیں۔
join rekhta family!
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
-
کارگزاریاں59
ادب اطفال2075
-
