- کتاب فہرست 180350
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1361 قصہ / داستان1570 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب971 تحریکات268 ناول4264 سیاسی350 مذہبیات4764 تحقیق و تنقید6484افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4199خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4864
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
باقر مہدی کے مضامین
غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات
ہوئی مدت کہ غالب مر گیا، پر یاد آتا ہے وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہو تا کیا ہوتا؟ پتانہیں غالب کے اس شعر کو اچھے اشعارمیں شامل کیا جا سکتا ہے یانہیں، اس لیے کہ ایک حلقہ ان کے علامتی اور استعاراتی اشعار ہی کو ان کے اچھے اشعار سمجھنے اور سمجھانے
میر تقی میر اور ہم
ہوں زرد غم تازہ نہالانِ چمن سے اس باغ خزاں دیدہ میں برگ خزاں ہوں اور برگ خزاں کے لیے اٹھارہویں صدی کا ہندوستان اور آج کے عہدمیں مماثلتیں تلاش کر لینا دشوار نہیں ہے۔ وہ جاگیردارانہ بربریت کا دور تھا اور آج مغربی طرز کی جمہوری ’’آمریت‘‘ کا دور
ترقی پسند شاعری کے مسائل
دنیا کے ہر ملک کا ادب ایک ایسے دور سے گزرتا ہے جب معاشی بحران اور سیاسی ہنگامہ آرائیوں سے شاعروں اور ادیبوں کے ذہنو ں میں زندگی کے سارے نئے مسائل الجھ جاتے ہیں۔ تاریخ کا بہتا ہوا دھارا اپنی راہ بناتا ہوا بڑھتا ہے۔ طریقہ پیداوار میں تبدیلی نئی قدروں
غالب اور تشکیک
میں اپنے مضمون کا آغاز غالب کے ایک دعائیہ شعر سے کرتا ہوں۔ اے آبلے کرم کر، یا ں رنجہ اک قدم کر اے نور چشم وحشت، اے یادگار صحرا اس لیے کہ تشکیک پر گفتگو ایک معنی میں خار مغیلاں کی راہ سے گزرنے کی داستاں سے کم نہیں ہے۔ آج اس مسئلہ پر بحث کرنا
یگانہ آرٹ
خودپرستی کیجئے یا حق پرستی کیجئے یاس کس دن کے لیے نا حق پرستی کیجئے مرزا یاس یگانہ چنگیزی کا یہ شعر ہمیں ان کی شاعری اور شخصیت دونوں کو سمجھنے میں بڑی مدد دیتا ہے کیونکہ یہی ان کا مطمح نظر تھا۔ یگانہ کے بارے میں نقادوں اور شاعروں کا رویہ زیادہ تر
نقاد کا نیا ادبی رول
اٹھارہویں صدی کے مشہور انگریزی شاعر الگزنڈر پوپ کی طویل نظم ’’تنقید پر ایک مضمون‘‘ پڑھنے کے بعدیہ خیال آتا ہے کہ نقاد کا ایک عام ادیب کے مقابلے میں کتنا اہم رول ہوتا ہے۔ اس کے ان اشعار کا آزاد ترجمہ ملاحظہ ہو، ’’یہ جاننے کی کوشش کرو کہ ناقدین کس
ترقی پسندی اور جدیدیت کی کشمکش
آج کی کشمکش انسانی زندگی کے سب سے مشکل مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ۔ یہ ٹوٹی ہوئی ’’قدریں‘‘ اور بکھری ہوئی ’’حقیقت‘‘ کی آویزش متضاد تصورات حیات کو توڑتی ہوئی خون کے ایک ایک قطرے میں سما گئی ہے ۔ یہ خیروشر کی، اشراکیت اور سرمایہ داری کی، مکمل فرد اور
غالب: خوف پر قابو پانے کی ایک کوشش
مجھے نہیں معلوم کہ کتنے ادیبوں اور شاعروں کوغالب پر لکھتے ہوئے کسی قسم کے خوف کا احساس ہوا ہے یا نہیں؟ اپنے ذاتی تجربے کا اعتراف نہایت عجز سے کرنا چاہتا ہوں کہ جب بھی غالب پراپنا تاثر لکھنے کا خیال آیا ہے تو ایک انجانے خوف نے مجھے ڈرانے اور مجھ پر قابو
جدیدیت اور توازن
ادب میں نئے رجحانات یا تحریکوں کی ابتدا سرکشی سے ہوتی ہے۔ جیسے فیوچرازم اور سریلزم۔ اس سرکشی کے ابتدائی نقوش دیکھے جائیں تو معلوم ہوگا کہ اگر سرکش ادیب ’’صالح رول‘‘ اختیار کرنے کی کوشش کرتے تو جدیدیت کی تحریکیں اور رجحانات اور کلاسیکی ادبی اقتدار
غزل کا تیسرا نام
(۲۸ ستمبر ۶۳ء کوعوامی سنٹر (بمبئی) کی طرف سے ’شب یگانہ‘ منائی گئی، جس میں سردار جعفری نے یگانہ سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کیا۔ ظ۔ انصار ی نے یگانہ کو ایک بڑا کاریگر کہا۔ علی وجد نے یگانہ کو اچھا شاعر تسلیم کیا مگران کی شخصیت پر ناجائز اور بےبنیاد الزامات
تین رخی تنقیدی کشمکش: آخری قسط
ترقی پسندی، جدیدیت کی کشمکش کا تفصیلی ذکر کر چکا ہوں۔ اب یہ کشمکش تین رخی ہو گئی ہے یعنی مابعد جدیدیت بھی داخل ہو گئی ہے۔ اس طرح اردو زبان اپنے آخری دور میں نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ان چھوٹے چھوٹے ’’گروہوں‘‘ میں اتنا تناؤ ہے کہ کسی کو
باقر مہدی سے چند آدھی ادھوری ملاقاتیں
باقر صاحب سے میرے مراسم کیسے تھے؟ کتنے تھے؟ اور کیوں تھے؟ تھے بھی یا نہیں؟ یہ سب سوالات تشنہ ہیں۔ اگر میں ان کے جوابات دینے کی کوشش کروں تو شاید جوابات بھی تشنہ ہی رہیں گے۔ میری ناقص رائے میں دو افراد کے درمیان تعلقات کبھی یکساں نہیں رہتے۔ وقت
کیا جدیدیت کی اصطلاح اب بھی بامعنی ہے؟
آج کا موضوع خاصا آزمائشی ہے۔ کلیدی لفظ ہے ’’اب بھی‘‘ یعنی کل تک جدیدیت بامعنی تھی۔ اصطلاحیں اپنے معنی کیسے کھو دیتی ہیں۔ میرا یہ سوال اس بات کا متقاضٰی ہے کہ بحث علمی سطح پر ہو یعنی مجھے اس کا جواب دیتے ہوئے نہایت OBJECTIVE ہونا چاہئے اور میں اس کی
باقر مہدی: رگوں میں اچھلتا لہو کالی مٹی سے ملنے کو بے تاب ہے
بہت دن ہوئے اپنی ایک نظم ’کاش ایسا ہو!‘ (۱۹۸۱ء) میں باقر مہدی نے کہا تھا، بورژوازی۔۔۔ کتنے خوش ہیں دورتک انقلابی کرن کا۔۔۔ پتہ تک نہیں بوڑھے ترقی پسند شاعر۔۔۔ ادھیڑ عمر جدید یے۔۔۔ دونوں بڑے مطمئن ہیں۔ جمہوری دربار میں سر جھکائے کھڑے ہیں حضور!
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
