- کتاب فہرست 179344
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1601 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت203 زبان و ادب1732 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4318 سیاسی355 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6657افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب457 ترجمہ4306خواتین کی تحریریں5894-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1304
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1609
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ389
- مثنوی775
- مسدس41
- نعت580
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ75
- واسوخت26
باقر مہدی کے مضامین
غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات
ہوئی مدت کہ غالب مر گیا، پر یاد آتا ہے وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہو تا کیا ہوتا؟ پتانہیں غالب کے اس شعر کو اچھے اشعارمیں شامل کیا جا سکتا ہے یانہیں، اس لیے کہ ایک حلقہ ان کے علامتی اور استعاراتی اشعار ہی کو ان کے اچھے اشعار سمجھنے اور سمجھانے
ترقی پسند شاعری کے مسائل
دنیا کے ہر ملک کا ادب ایک ایسے دور سے گزرتا ہے جب معاشی بحران اور سیاسی ہنگامہ آرائیوں سے شاعروں اور ادیبوں کے ذہنو ں میں زندگی کے سارے نئے مسائل الجھ جاتے ہیں۔ تاریخ کا بہتا ہوا دھارا اپنی راہ بناتا ہوا بڑھتا ہے۔ طریقہ پیداوار میں تبدیلی نئی قدروں
میر تقی میر اور ہم
ہوں زرد غم تازہ نہالانِ چمن سے اس باغ خزاں دیدہ میں برگ خزاں ہوں اور برگ خزاں کے لیے اٹھارہویں صدی کا ہندوستان اور آج کے عہدمیں مماثلتیں تلاش کر لینا دشوار نہیں ہے۔ وہ جاگیردارانہ بربریت کا دور تھا اور آج مغربی طرز کی جمہوری ’’آمریت‘‘ کا دور
غالب اور تشکیک
میں اپنے مضمون کا آغاز غالب کے ایک دعائیہ شعر سے کرتا ہوں۔ اے آبلے کرم کر، یا ں رنجہ اک قدم کر اے نور چشم وحشت، اے یادگار صحرا اس لیے کہ تشکیک پر گفتگو ایک معنی میں خار مغیلاں کی راہ سے گزرنے کی داستاں سے کم نہیں ہے۔ آج اس مسئلہ پر بحث کرنا
یگانہ آرٹ
خودپرستی کیجئے یا حق پرستی کیجئے یاس کس دن کے لیے نا حق پرستی کیجئے مرزا یاس یگانہ چنگیزی کا یہ شعر ہمیں ان کی شاعری اور شخصیت دونوں کو سمجھنے میں بڑی مدد دیتا ہے کیونکہ یہی ان کا مطمح نظر تھا۔ یگانہ کے بارے میں نقادوں اور شاعروں کا رویہ زیادہ تر
نقاد کا نیا ادبی رول
اٹھارہویں صدی کے مشہور انگریزی شاعر الگزنڈر پوپ کی طویل نظم ’’تنقید پر ایک مضمون‘‘ پڑھنے کے بعدیہ خیال آتا ہے کہ نقاد کا ایک عام ادیب کے مقابلے میں کتنا اہم رول ہوتا ہے۔ اس کے ان اشعار کا آزاد ترجمہ ملاحظہ ہو، ’’یہ جاننے کی کوشش کرو کہ ناقدین کس
ترقی پسندی اور جدیدیت کی کشمکش
آج کی کشمکش انسانی زندگی کے سب سے مشکل مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ۔ یہ ٹوٹی ہوئی ’’قدریں‘‘ اور بکھری ہوئی ’’حقیقت‘‘ کی آویزش متضاد تصورات حیات کو توڑتی ہوئی خون کے ایک ایک قطرے میں سما گئی ہے ۔ یہ خیروشر کی، اشراکیت اور سرمایہ داری کی، مکمل فرد اور
غالب: خوف پر قابو پانے کی ایک کوشش
مجھے نہیں معلوم کہ کتنے ادیبوں اور شاعروں کوغالب پر لکھتے ہوئے کسی قسم کے خوف کا احساس ہوا ہے یا نہیں؟ اپنے ذاتی تجربے کا اعتراف نہایت عجز سے کرنا چاہتا ہوں کہ جب بھی غالب پراپنا تاثر لکھنے کا خیال آیا ہے تو ایک انجانے خوف نے مجھے ڈرانے اور مجھ پر قابو
جدیدیت اور توازن
ادب میں نئے رجحانات یا تحریکوں کی ابتدا سرکشی سے ہوتی ہے۔ جیسے فیوچرازم اور سریلزم۔ اس سرکشی کے ابتدائی نقوش دیکھے جائیں تو معلوم ہوگا کہ اگر سرکش ادیب ’’صالح رول‘‘ اختیار کرنے کی کوشش کرتے تو جدیدیت کی تحریکیں اور رجحانات اور کلاسیکی ادبی اقتدار
غزل کا تیسرا نام
(۲۸ ستمبر ۶۳ء کوعوامی سنٹر (بمبئی) کی طرف سے ’شب یگانہ‘ منائی گئی، جس میں سردار جعفری نے یگانہ سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کیا۔ ظ۔ انصار ی نے یگانہ کو ایک بڑا کاریگر کہا۔ علی وجد نے یگانہ کو اچھا شاعر تسلیم کیا مگران کی شخصیت پر ناجائز اور بےبنیاد الزامات
تین رخی تنقیدی کشمکش: آخری قسط
ترقی پسندی، جدیدیت کی کشمکش کا تفصیلی ذکر کر چکا ہوں۔ اب یہ کشمکش تین رخی ہو گئی ہے یعنی مابعد جدیدیت بھی داخل ہو گئی ہے۔ اس طرح اردو زبان اپنے آخری دور میں نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ان چھوٹے چھوٹے ’’گروہوں‘‘ میں اتنا تناؤ ہے کہ کسی کو
کیا جدیدیت کی اصطلاح اب بھی بامعنی ہے؟
آج کا موضوع خاصا آزمائشی ہے۔ کلیدی لفظ ہے ’’اب بھی‘‘ یعنی کل تک جدیدیت بامعنی تھی۔ اصطلاحیں اپنے معنی کیسے کھو دیتی ہیں۔ میرا یہ سوال اس بات کا متقاضٰی ہے کہ بحث علمی سطح پر ہو یعنی مجھے اس کا جواب دیتے ہوئے نہایت OBJECTIVE ہونا چاہئے اور میں اس کی
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
