- کتاب فہرست 180576
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1979
ڈرامہ915 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1568 صحت104 تاریخ3280طنز و مزاح597 صحافت200 زبان و ادب1691 خطوط733
طرز زندگی30 طب972 تحریکات269 ناول4268 سیاسی350 مذہبیات4764 تحقیق و تنقید6503افسانہ2662 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2009نصابی کتاب433 ترجمہ4211خواتین کی تحریریں5765-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1253
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1572
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4857
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1205
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
دیپک کنول کے افسانے
کہاں گیا میرا لال
میں چھانہ پورہ کے جس محلے میں رہتا تھا، وہ بھائی چارے کی ایک عمدہ مثال تھا۔ یہاں دس فیصد ہندوں کے ساتھ نوے فیصد مسلمان شیر و شکر کی طرح رہ رہے تھے۔ ہمارے گھر کے سامنے ہی حلیمہ آپا کا گھر تھا۔ حلیمہ آپا یعنی نور چاچا کی بیوی۔ حلیمہ آپا عمر کے ساٹھ پڑاو
پمپوش
فردوسہ کی زندگی جھیل ڈل کی اس شوریدہ سر موج سے کتنی مشابہت رکھتی تھی جسے ہوا کا ایک بے رحم تھپیڑا کنارے تک بہا کے لیجاتا ہے اور پھر یہ بے بس موج کنارے سے ٹکراکر پاش پاش ہو جاتی ہے اور آوارہ اور من موجی تھپیڑا نہال ہو کے کہیں اور نکل جاتا ہے۔ فردوسہ نے
فاصلے
حاکم دین کا ڈھوکا لائن آف کنٹرول سے چار ہاتھ کے فاصلے پر تھا۔ لائن آف کنٹرول وہ سرحد ہے جو کشمیر کو دو حصوں میں بانٹتی ہے۔ ایک حصہ اس طرف ہے جس میں جموں اور لداخ بھی شامل ہے اور ایک حصہ اس طرف ہے جو پاکستان کے زیر کنٹرول ہے۔ ادھر والے اس حصے کو آزاد
شیشے کا گھر
رحمت اللہ کشمیر کے ایک دور افتادہ علاقے پلوامہ کا رہنے والا تھا۔ گردش ِ روزگار اسے سری نگر لے آیا تھا۔ وہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے ہیڈ آفس میں کلرک کی نوکری کرتا تھا۔ چونکہ وہ ٹرانسپورٹ محکمے کا ملازم تھا اسلئے وہ سرکاری بسوں کی مفت سواری کرتا تھا۔ وہ صبح
آوارہ کتا
موتی ایک آوارہ کتا تھا جو میرے محلے میں شب و روز گھومتا رہتا تھا۔ اس محلے کے کچھ لوگ اسے پسند کرتے تھے اور کچھ ناپسند۔ حالانکہ وہ بڑا بے ضرر اور خوش خصال کتا تھا جو صرف بھونکنا جانتا تھا کاٹنا نہیں ،پھر بھی کچھ نفاست پسند لوگ اسے دیکھ کر ہی چڑ جایا کرتے
مچھی والی
سری نگر میں مچھلیوں کا کوئی مخصوص مارکیٹ نہیں ہے۔ یہاں مچھلیاں یا تو براہ راست آپ کے دروازے تک پہنچتی ہیں یا دریائے جہلم پربنے پل جیسے امیرا کدل پل، بڈشاہ پل، حبہ کدل پل یا زینہ کدل پل پر سے دستیاب ہو سکتی ہیں۔ ان پلوں کے فٹ پاتھوں پر مچھی والیوں نے
پیامبر
بلونت عرف بلو اپنی کبوتر بازی کی وجہ سے جموں کے سرحدی علاقے رنبیر سنگھ پورہ میں خاصا بدنام تھا۔ اسے کبوتر بازی کا ایسا جنون تھا کہ بس اوقات کھانا پینا تو کیا وہ اپنے آپ کو بھی بھول جاتا تھا اورکبو تروں کے پیچھے جنگلی بلی کی طرح بھاگتا پھرتا تھا۔ وہ دن
سنتا کی گوری
اس کا پورا نام سنتوکھ سنگھ تھا پر پاس پڑوسی اور ناطے رشتے دار اسے سنتا کے نام سے جانتے تھے۔ سنتا جموں کے چاند پورہ گاوں میں اپنے چھوٹے سے پریوار کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کا خاندان بہت ہی چھوٹا تھا۔ ایک تو بیٹا بنتا سنگھ تھا جو بالی عمر سے گزر رہا تھا۔ ایک
ایک تھا بلبل
جب بھی کوئی میرے ماضی کے تاروں کو چھیڑنے لگتاہے تو مجھ پرایک عجب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے؟ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میرے اندر ایک پھوڑا نکل آیا ہے جس کے اندر زہریلا مواد بھر گیا ہو۔ یہ پھوڑا ایک دہکتے انگارے کی مانند مجھے اندر ہی اندر جلاتا رہتا ہے، تڑپاتا
جب امبر روئے
فتح محمداپنے آپ کو مہذب کہتا تھا مگر سچ تو یہ تھا کہ وہ ایکدم اجڈ گنوار تھا۔ اس کی سرشت سے وحشی جبلت کا کا سایہ اب تک نہیں ٹلا تھا۔ وہ آج بھی ایک وحشی انسان کی طرح جی رہا تھا جسکے دل میں دیا دھرم نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ جسے دوسروں کو اذیتیں پہونچانے
بانگی مرغا
جموں کشمیر محکمہ ٹرانسپورٹ کی پندرہ سالہ ملازمت کے دوران میرا واسطہ بھانت بھانت کے لوگوں سے رہا ہے۔ ان میں سے بیشتر اسی محکمے میں کام کرنے والے ڈرائیور اور کلینر تھے۔ میرا کام ان سب کی حاضری کا ریکارڑ رکھنا ہوتا تھا اور اسی ریکارڑ کی بنا پر انہیں تنخواہ
گنیش بل کا باولا
جب ایک جنگلی جانور ہرنوں کے جھنڈ پر حملہ کر دیتا ہے تو پورے جھنڈ میں کھلبلی مچ جاتی ہے۔ کوئی دائیں بھاگتا ہے تو کوئی بائیں۔ ان کا آپس میں کوئی تال میل نہیں رہ جاتا۔ ہر کوئی اپنی جان بچانے کی تگ ودو میں جائے امان ڈھونڈنے کے لئے بھاگتا ہے۔ ٹھیک یہی حال
واسدیو زندہ ہے!
جونہی غلام نبی نے واسدیو کو اپنے گھر کے دروازے پر سجدہ کرتے ہوئے پایا تو اس کے ہوش فاختہ ہوئے۔ چہرے کا رنگ ایسے فق ہو گیا جیسے اسے بجلی کا گہرا جھٹکا لگا ہو۔ اس کی آواز حلق میں جا کر پھنس گئی۔ جب واسدیو دروازے کی چوکھٹ کو چوم کر کھڑا ہو گیا تو غلام نبی
آغوش
ولی محمد کی دکان کے۔ ایم۔ ڈی کے بس اڈے کی پتھریلی دیوار سے لگی ہوئی تھی۔ دکان کیا تھی جیسے مرغیوں کا دڑبہ۔ شکر ہے کہ ولی محمد ایک سوکھا مریل سا آدمی تھا جو جیسے تیسے اس دکان میں سما پاتا تھا۔ کوئی تن و توش والا آدمی ہوتا تو اس دکان کو کب کا تھوک کے نکل
زون
وہ صیح معنوں میں چاند کا ٹکڑا تھی۔ شاید اسی وجہ سے اس کے گھر والوں نے اس کا نام زون (چاند) رکھا تھا۔ وہ ایک مفلوک الحال گھرانے میں پیدا ہوئی تھی جہاں پانی پینے کے لئے روز کنواں کھودنا پڑتا ہے۔ زون واقعی کیچڑ میں کھلے کنول کی طرح تھی۔ اس کے ماں باپ ایک
لالی کی مکھنی
لال سنگھ عرف لالی بارہمولہ کا ایک خوش باش ٹرک ڈرائیور تھا جو حاجی صمد ڈار کا ٹرک چلا لیا کرتا تھا۔ حاجی صمد ڈار قصبہ سوپور کا ایک صاحب ثروت آدمی تھا جسکے یہاں بیس پچیس کارندے ہر دم دوڑتے بھاگتے نظر آتے تھے۔ ہر سال وہ لاکھوں ٹن ڈیلیشیس سیب دلی کی منڈیوں
پوشہ مال
وہ ہماری سگی نانی نہ تھی پھر بھی ہمارے لئے سگی سے کم نہ تھی۔ جب سے وہ ہمارے گھر پر آنے جانے لگی تھیں تو اس کی آمد آمد کی خبر کے ساتھ ہی گھر میں ہلچل مچ جاتی تھی۔ بڑے کمرے میں موٹا سا مٹرس بچھاد یا جاتا تھا۔ مٹرس کے اوپر کڑھائی کی ہوئی کھدر کی چادر بچھائی
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1979
-
