Farooq Banspari's Photo'

فاروق بانسپاری

1907 - 1968 | بلیا, ہندوستان

مرے ناخدا نہ گھبرا یہ نظر ہے اپنی اپنی

ترے سامنے ہے طوفاں مرے سامنے کنارا

یقیں مجھے بھی ہے وہ آئیں گے ضرور مگر

وفا کرے گی کہاں تک کہ زندگی ہی تو ہے

غم عشق ہی نے کاٹی غم عشق کی مصیبت

اسی موج نے ڈبویا اسی موج نے ابھارا

ستاروں سے شب غم کا تو دامن جگمگا اٹھا

مگر آنسو بہا کر ہجر کے ماروں نے کیا پایا

کسی کی راہ میں فاروقؔ برباد وفا ہو کر

برا کیا ہے کہ اپنے حق میں اچھا کر لیا میں نے

ندیم تاریخ فتح دانش بس اتنا لکھ کر تمام کر دے

کہ شاطران جہاں نے آخر خود اپنی چالوں سے مات کھائی

اللہ کے بندوں کی ہے دنیا ہی نرالی

کانٹے کوئی بوتا ہے تو اگتے ہیں گلستاں

مری زندگی کا محور یہی سوز و ساز ہستی

کبھی جذب والہانہ کبھی ضبط عارفانہ