- کتاب فہرست 180356
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1570 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4266 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6485افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2006نصابی کتاب424 ترجمہ4198خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4864
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت587
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
حیات اللہ انصاری کا تعارف
شناخت: معروف فکشن نگار، صحافی، سیاست دان اور ترقی پسند ادیب
حیات اللہ انصاری 11 مئی 1911ء (اہل خانہ کے مطابق تاریخ پیدائش یکم مئی 1901 ہے) کو فرنگی محل، لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولوی وحید اللہ انصاری تھے۔ ابتدائی تعلیم فرنگی محل کے علمی ماحول میں ہوئی اور علومِ شرقیہ کی سند حاصل کی۔ بعد ازاں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے بی اے کیا۔ طالب علمی کے زمانے میں ترقی پسند ادبی تحریک سے متاثر ہوئے، جبکہ بعد میں گاندھیائی فلسفے سے بھی گہرا اثر قبول کیا۔
حیات اللہ انصاری اردو کے ممتاز افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے افسانوی مجموعوں ’’انوکھی مصیبت‘‘، ’’بھرے بازار میں‘‘ اور ’’شکستہ کنگورے‘‘ کو خاص شہرت حاصل ہوئی۔ ان کا افسانہ ’’آخری کوشش‘‘ اردو افسانے کی اہم تخلیقات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے افسانوں میں سماجی حقیقت نگاری، انسانی دکھ درد، طبقاتی مسائل اور نفسیاتی پیچیدگیوں کی مؤثر عکاسی ملتی ہے۔ ڈاکٹر عشرت ناہید نے ان کے افسانوں کا کلیات ’’حیات اللہ انصار ی کی کہانی کائنات ‘‘کے نام سے شائع کیا۔
افسانہ نگاری کے علاوہ انہوں نے پانچ جلدوں پر مشتمل ایک عظیم اور ضخیم ناول ’’لہو کے پھول‘‘ (1969ء) قلمبند کیا، جس کا پس منظر بیسویں صدی کے نصف اول کا ہندوستان، تحریکِ آزادی، خلافت تحریک اور کسانوں و مزدوروں کی زندگی ہے، جسے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ ’’مدار‘‘ اور ’’گھروندا‘‘ ان کے معروف ناولٹ ہیں۔ انہوں نے جدیدیت کے موضوع پر 'جدیدیت کی سیر' ایک اہم کتاب تحریر کی۔
صحافت کے میدان میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ وہ طویل عرصے تک روزنامہ ’’قومی آواز‘‘ کے مدیر رہے اور اردو صحافت کو نئی جہتیں عطا کیں۔ وہ راجیہ سبھا کے رکن بھی رہے اور ترقیِ اردو بیورو، حکومتِ ہند کے ڈپٹی چیئرمین کے عہدے پر بھی فائز ہوئے۔ مراکش یونیورسٹی نے انہیں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے بھی نوازا۔
حیات اللہ انصاری کا شمار ان ادیبوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ترقی پسند فکر، گاندھیائی انسان دوستی اور سماجی شعور کو اپنے ادب کا حصہ بنایا۔ اردو فکشن اور صحافت میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
وفات: حیات اللہ انصاری کا انتقال 18 فروری 1999 لکھنو میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Hayatullah_Ansari
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n85019760
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
