- کتاب فہرست 182695
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں88
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1605 صحت105 تاریخ3306طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1717 خطوط748
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4333 سیاسی355 مذہبیات4778 تحقیق و تنقید6636افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2043نصابی کتاب452 ترجمہ4263خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1290
- دوہا50
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1267
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1607
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4888
- مرثیہ387
- مثنوی750
- مسدس44
- نعت588
- نظم1217
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
حیات اللہ انصاری کے افسانے
ماں بیٹا
’’مذہبی انتہا پسندی سے پریشان ایک ہندو بیٹے اور مسلمان ماں کی کہانی۔ وہ دونوں بالکل الگ تھے۔ الگ ماحول، معاشرہ اور ایک دوسرے کے مذہب سے سخت نفرت کرنے والے۔ مگر ان کے اجڑنے کی کہانی ایک جیسی تھی۔ پھر اتفاق سے جب وہ ملے اور ایک دوسرے کی کہانی سنی تو ان کی سوچ پوری طرح سے بدل گئی۔‘‘
آخری کوشش
یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جس نے بہتر زندگی کی تلاش میں اپنی زندگی کے 25 سال کولکاتہ میں گزار دیے۔ مگر حاصل کچھ نہیں کر سکا۔ جیسا وہ 25 سال پہلے شہر سے گیا تھا ویسا ہی واپس لوٹ آتا ہے۔ گاؤں میں بھی اس کے سامنے بدحالی اور غریبی منھ پھاڑے کھڑی رہتی ہے۔ گھر کے حالات کو لے کر اکئی بار س کا اپنے چھوٹے بھائی سے جھگڑا بھی ہوتا ہے۔ پھر دونوں بھائی مل کر ایک نیا کام شروع کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں۔
ڈھائی سیر آٹا
’’یہ ایک مزدور کی کہانی ہے، جو بہت مشکل سے اپنی کنبے کا پیٹ بھر پاتا ہے۔ ایک روز کام سے لوٹتے ہوئے اسے سڑک پر ڈھائی سیر آٹا پڑا ہوا مل جاتا ہے۔ وہ آٹے کو سمیٹتا ہے اور گھر لے آتا ہے۔ اس آٹے کی بھی اپنی ہی کہانی ہوتی ہے۔ وہ آٹا ایک مدت بعد اس کے اور اس کے بچوں کے چہرے پر خوشی اور راحت کا احساس دلا تا ہے۔‘‘
بھیک
’’ایک ایسے شخص کی کہانی، جو پہاڑوں پر سیر کرنے کے لیے گیا ہے۔ وہاں اسے ایک غریب لڑکی ملتی ہے، جسے وہ اپنے یہاں نوکری کرنے کا آفر دیتا ہے۔ مگر اگلے دن امید سے لبریز جب وہ لڑکی اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کے ساتھ ڈاک بنگلے پر پہنچتی ہے تو ایک ساتھ اتنے بچوں کو دیکھ کر وہ اسے نوکری پر رکھنے سے منع کر دیتا ہے۔ انکار سن کر لڑکی جب واپس جانے لگتی ہے تو وہ اسے دو روپیے دے دیتا ہے۔‘‘
شکر گزار آنکھیں
یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جو فسادیوں کے ایک ایسے گروہ میں شامل ہوتا ہے، جو ایک ٹرین کو گھیر کر روک لیتا ہے۔ گروہ ٹرین میں بیٹھے مسلمانوں کو اتار لیتا ہے۔ ان میں ایک نوبیاہتا جوڑا بھی ہوتا ہے۔ وہ شخص نوبیاہتا جوڑے میں دولہے کو مار دیتا ہے اور پھر دلہن کی التجا پر اسے بھی موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ مگر مرتے وقت دلہن کی آنکھوں میں کچھ ایسا جذبہ تھا جسے وہ ساری زندگی کبھی بھلا نہیں پایا۔
بھرے بازار میں
کوئی چیز رکھی کے پیٹ پر پھد سے گری۔ رکھی کنمنائی اور آنکھیں کھولنے کی کوشش کرنے لگی۔ پھر ایک زیادہ وزنی چیز آکر چھاتی پر گری اور ساتھ ہی ایک قہقہہ سنائی دیا۔ اب رکھی کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے گلی کے نکڑ پر کلو کو دیکھا جس نے رکھی سے آنکھیں ملاتے ہی
اندھیرا اجالا
یہ ایک جیب کترے کی کہانی ہے، جو اپنے کام میں جتنا پرفیکٹ ہے خاندان کے معاملے میں اتنا ہی ناکام۔ اس کی بیٹی ایک دوسرے جیب کترے کے بیٹے کے ساتھ بھاگ جاتی ہے اور بیٹا بھی ایک دوسرے جیب کترے کے ساتھ ایک نازیبا حالت میں پولس کے ہتھے چڑھ جاتا ہے۔
بے حد معمولی
’’نسلی برتری پر یقین کرنے والے ایک ایسے شخص کی کہانی، جس کی بیوی ایک بھکارن کے بچوں کو پالنے کے لیے گھر لے آتی ہے۔ پروفیسر دارا مرزا کا یقین ہے کہ عظیم شخصیتیں صرف برتر نسلوں میں ہی پیدا ہوتی ہیں۔ وہیں ان کی بیوی کا ماننا ہے کہ کسی کی عظمت یا کامیابی کی سرا اس کی نسل میں نہیں، پرورش میں ہوتی ہے۔‘‘
join rekhta family!
-
کارگزاریاں88
ادب اطفال1990
-
