Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Humayun Iqbal's Photo'

ہمایوں اقبال

1941 - 2025 | کراچی, پاکستان

مقبول جاسوسی ناول نگار، 'میجر پرمود' کردار کے خالق

مقبول جاسوسی ناول نگار، 'میجر پرمود' کردار کے خالق

ہمایوں اقبال کا تعارف

تخلص : 'ایچ اقبال'

اصلی نام : ہمایوں اقبال

پیدائش : 06 Jul 1941 | رام پور, اتر پردیش

وفات : 14 Apr 2025 | کراچی, سندھ

شناخت: جاسوسی و تاریخی ناول نگار، مدیر، شاعر

ہمایوں اقبال، جو ادبی دنیا میں “ایچ اقبال” کے نام سے مشہور ہوئے، 6 جولائی 1941ء کو شمالی ہند کے شہر رام پور میں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے بعد خاندان کراچی منتقل ہوا جہاں کتابوں اور لائبریریوں کے ماحول نے ان کے مطالعے کے شوق کو جنون میں بدل دیا۔

روایتی تعلیم سے زیادہ انہیں کتابوں سے شغف تھا۔ نوجوانی میں روزانہ کرائے کی لائبریری سے ناول لا کر پڑھتے۔ ایک کمزور جاسوسی ناول پڑھ کر یہ جملہ کہا کہ “اس سے بہتر میں خود لکھ لوں” اور یوں پہلا ناول مظلوم لٹیرے وجود میں آیا۔ ناشر نے شائع کیا تو مصنف کے طور پر “ایچ اقبال” لکھا گیا، یہی قلمی نام بعد میں ان کی پہچان بن گیا۔

یہ وہ دور تھا جب ابن صفی کی عمران سیریز اپنے عروج پر تھی۔ ابن صفی کی علالت کے زمانے میں جب نئے ناول آنا بند ہوئے تو مختلف لکھنے والوں نے عمران کے کردار پر قلم اٹھایا۔ انہی میں ہمایوں اقبال بھی شامل تھے، مگر انہوں نے اپنی شستہ زبان، مضبوط پلاٹ اور ادبی مکالموں سے الگ شناخت قائم کی۔ جب ابن صفی صحت مند ہوئے تو انہوں نے احتراماً عمران سیریز لکھنا چھوڑ دی اور اپنا مستقل تخلیقی راستہ اختیار کیا۔

ان کا تخلیق کردہ کردار “میجر پرمود” بعد میں باقاعدہ سیریز بن گیا۔ اگرچہ یہ کردار عمران جیسی ہمہ گیر مقبولیت حاصل نہ کر سکا، مگر اردو جاسوسی ادب میں ایک مستقل حوالہ بن گیا اور کئی معروف قلمکاروں نے بھی اس پر لکھا۔

بطور مدیر ان کا سب سے بڑا کارنامہ “الف لیلیٰ ڈائجسٹ” کا اجرا تھا۔ اس ڈائجسٹ کی پہچان ان کی تحریر کردہ سنسنی خیز اور چونکا دینے والی سلسلہ وار کہانی “چھلاوہ” بنی، جو ابتدا میں “صبیحہ بانو” کے قلمی نام سے شائع ہوتی رہی، بعد میں معلوم ہوا کہ یہ خود ایچ اقبال ہی تھے۔ الف لیلیٰ نے جلد ہی پچاس ہزار سے زائد اشاعت کی حد عبور کی، مگر حد سے زیادہ محنت اور بیماری کے باعث انہیں ایک سال کا وقفہ لینا پڑا۔ واپسی پر ڈائجسٹ اپنی سابقہ بلندی پر نہ آ سکا اور مالی مشکلات بڑھتی گئیں۔

اس صورت حال سے نکلنے کے لیے انہوں نے بڑے سائز کا نیا ماہنامہ “نئی نسلیں” جاری کیا جس نے زبردست آغاز کیا، مگر بار بار سرکاری پابندیوں اور ڈیکلریشن کی منسوخی نے اسے بھی بند کرا دیا۔ یوں وہ باقاعدہ ڈائجسٹ نکالنے سے کنارہ کش ہو کر صرف لکھنے تک محدود ہو گئے۔

ہمایوں اقبال ہمہ جہت شخصیت تھے۔ جاسوسی ناولوں کے ساتھ تاریخی ادب، شاعری اور موسیقی پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ موسیقی سیکھنے والوں کے لیے ان کی کتاب ابجدِ موسیقی سادہ اور عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے اور اس میدان میں انہیں ایک مستند نام بناتی ہے۔

اندازاً ڈیڑھ سو کے قریب ناول تحریر کیے، اگرچہ حالاتِ زمانہ اور نقل مکانی کے باعث ان کا مکمل ریکارڈ محفوظ نہ رہ سکا۔ وہ لاولد تھے۔ اہلیہ کی وفات نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا اور آخری برسوں میں بیماری اور مالی تنگی کا سامنا بھی رہا، مگر تخلیقی وقار قائم رہا۔

اردو کے جاسوسی ادب میں عمومی رائے یہ ہے کہ ابن صفی کے بعد نمایاں ناموں میں مظہر کلیم اور ہمایوں اقبال سرفہرست شمار ہوتے ہیں۔ ہمایوں اقبال کی تحریر نے کرائے کی لائبریریوں سے لے کر ڈائجسٹوں کے سنہری دور تک لاکھوں قارئین کو مسحور رکھا۔

وفات: 14 اپریل 2025 کو کراچی میں انتقال ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے