- کتاب فہرست 179576
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1603 صحت105 تاریخ3317طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6666افسانہ2703 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2065نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1611
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4869
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت579
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
ہمایوں اقبال کا تعارف
شناخت: جاسوسی و تاریخی ناول نگار، مدیر، شاعر
ہمایوں اقبال، جو ادبی دنیا میں “ایچ اقبال” کے نام سے مشہور ہوئے، 6 جولائی 1941ء کو شمالی ہند کے شہر رام پور میں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے بعد خاندان کراچی منتقل ہوا جہاں کتابوں اور لائبریریوں کے ماحول نے ان کے مطالعے کے شوق کو جنون میں بدل دیا۔
روایتی تعلیم سے زیادہ انہیں کتابوں سے شغف تھا۔ نوجوانی میں روزانہ کرائے کی لائبریری سے ناول لا کر پڑھتے۔ ایک کمزور جاسوسی ناول پڑھ کر یہ جملہ کہا کہ “اس سے بہتر میں خود لکھ لوں” اور یوں پہلا ناول مظلوم لٹیرے وجود میں آیا۔ ناشر نے شائع کیا تو مصنف کے طور پر “ایچ اقبال” لکھا گیا، یہی قلمی نام بعد میں ان کی پہچان بن گیا۔
یہ وہ دور تھا جب ابن صفی کی عمران سیریز اپنے عروج پر تھی۔ ابن صفی کی علالت کے زمانے میں جب نئے ناول آنا بند ہوئے تو مختلف لکھنے والوں نے عمران کے کردار پر قلم اٹھایا۔ انہی میں ہمایوں اقبال بھی شامل تھے، مگر انہوں نے اپنی شستہ زبان، مضبوط پلاٹ اور ادبی مکالموں سے الگ شناخت قائم کی۔ جب ابن صفی صحت مند ہوئے تو انہوں نے احتراماً عمران سیریز لکھنا چھوڑ دی اور اپنا مستقل تخلیقی راستہ اختیار کیا۔
ان کا تخلیق کردہ کردار “میجر پرمود” بعد میں باقاعدہ سیریز بن گیا۔ اگرچہ یہ کردار عمران جیسی ہمہ گیر مقبولیت حاصل نہ کر سکا، مگر اردو جاسوسی ادب میں ایک مستقل حوالہ بن گیا اور کئی معروف قلمکاروں نے بھی اس پر لکھا۔
بطور مدیر ان کا سب سے بڑا کارنامہ “الف لیلیٰ ڈائجسٹ” کا اجرا تھا۔ اس ڈائجسٹ کی پہچان ان کی تحریر کردہ سنسنی خیز اور چونکا دینے والی سلسلہ وار کہانی “چھلاوہ” بنی، جو ابتدا میں “صبیحہ بانو” کے قلمی نام سے شائع ہوتی رہی، بعد میں معلوم ہوا کہ یہ خود ایچ اقبال ہی تھے۔ الف لیلیٰ نے جلد ہی پچاس ہزار سے زائد اشاعت کی حد عبور کی، مگر حد سے زیادہ محنت اور بیماری کے باعث انہیں ایک سال کا وقفہ لینا پڑا۔ واپسی پر ڈائجسٹ اپنی سابقہ بلندی پر نہ آ سکا اور مالی مشکلات بڑھتی گئیں۔
اس صورت حال سے نکلنے کے لیے انہوں نے بڑے سائز کا نیا ماہنامہ “نئی نسلیں” جاری کیا جس نے زبردست آغاز کیا، مگر بار بار سرکاری پابندیوں اور ڈیکلریشن کی منسوخی نے اسے بھی بند کرا دیا۔ یوں وہ باقاعدہ ڈائجسٹ نکالنے سے کنارہ کش ہو کر صرف لکھنے تک محدود ہو گئے۔
ہمایوں اقبال ہمہ جہت شخصیت تھے۔ جاسوسی ناولوں کے ساتھ تاریخی ادب، شاعری اور موسیقی پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ موسیقی سیکھنے والوں کے لیے ان کی کتاب ابجدِ موسیقی سادہ اور عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے اور اس میدان میں انہیں ایک مستند نام بناتی ہے۔
اندازاً ڈیڑھ سو کے قریب ناول تحریر کیے، اگرچہ حالاتِ زمانہ اور نقل مکانی کے باعث ان کا مکمل ریکارڈ محفوظ نہ رہ سکا۔ وہ لاولد تھے۔ اہلیہ کی وفات نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا اور آخری برسوں میں بیماری اور مالی تنگی کا سامنا بھی رہا، مگر تخلیقی وقار قائم رہا۔
اردو کے جاسوسی ادب میں عمومی رائے یہ ہے کہ ابن صفی کے بعد نمایاں ناموں میں مظہر کلیم اور ہمایوں اقبال سرفہرست شمار ہوتے ہیں۔ ہمایوں اقبال کی تحریر نے کرائے کی لائبریریوں سے لے کر ڈائجسٹوں کے سنہری دور تک لاکھوں قارئین کو مسحور رکھا۔
وفات: 14 اپریل 2025 کو کراچی میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%86_%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
