- کتاب فہرست 180305
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1359 قصہ / داستان1567 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1624 خطوط726
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4263 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6509افسانہ2664 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4193خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1247
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4861
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
ہمایوں اقبال کا تعارف
شناخت: جاسوسی و تاریخی ناول نگار، مدیر، شاعر
ہمایوں اقبال، جو ادبی دنیا میں “ایچ اقبال” کے نام سے مشہور ہوئے، 6 جولائی 1941ء کو شمالی ہند کے شہر رام پور میں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے بعد خاندان کراچی منتقل ہوا جہاں کتابوں اور لائبریریوں کے ماحول نے ان کے مطالعے کے شوق کو جنون میں بدل دیا۔
روایتی تعلیم سے زیادہ انہیں کتابوں سے شغف تھا۔ نوجوانی میں روزانہ کرائے کی لائبریری سے ناول لا کر پڑھتے۔ ایک کمزور جاسوسی ناول پڑھ کر یہ جملہ کہا کہ “اس سے بہتر میں خود لکھ لوں” اور یوں پہلا ناول مظلوم لٹیرے وجود میں آیا۔ ناشر نے شائع کیا تو مصنف کے طور پر “ایچ اقبال” لکھا گیا، یہی قلمی نام بعد میں ان کی پہچان بن گیا۔
یہ وہ دور تھا جب ابن صفی کی عمران سیریز اپنے عروج پر تھی۔ ابن صفی کی علالت کے زمانے میں جب نئے ناول آنا بند ہوئے تو مختلف لکھنے والوں نے عمران کے کردار پر قلم اٹھایا۔ انہی میں ہمایوں اقبال بھی شامل تھے، مگر انہوں نے اپنی شستہ زبان، مضبوط پلاٹ اور ادبی مکالموں سے الگ شناخت قائم کی۔ جب ابن صفی صحت مند ہوئے تو انہوں نے احتراماً عمران سیریز لکھنا چھوڑ دی اور اپنا مستقل تخلیقی راستہ اختیار کیا۔
ان کا تخلیق کردہ کردار “میجر پرمود” بعد میں باقاعدہ سیریز بن گیا۔ اگرچہ یہ کردار عمران جیسی ہمہ گیر مقبولیت حاصل نہ کر سکا، مگر اردو جاسوسی ادب میں ایک مستقل حوالہ بن گیا اور کئی معروف قلمکاروں نے بھی اس پر لکھا۔
بطور مدیر ان کا سب سے بڑا کارنامہ “الف لیلیٰ ڈائجسٹ” کا اجرا تھا۔ اس ڈائجسٹ کی پہچان ان کی تحریر کردہ سنسنی خیز اور چونکا دینے والی سلسلہ وار کہانی “چھلاوہ” بنی، جو ابتدا میں “صبیحہ بانو” کے قلمی نام سے شائع ہوتی رہی، بعد میں معلوم ہوا کہ یہ خود ایچ اقبال ہی تھے۔ الف لیلیٰ نے جلد ہی پچاس ہزار سے زائد اشاعت کی حد عبور کی، مگر حد سے زیادہ محنت اور بیماری کے باعث انہیں ایک سال کا وقفہ لینا پڑا۔ واپسی پر ڈائجسٹ اپنی سابقہ بلندی پر نہ آ سکا اور مالی مشکلات بڑھتی گئیں۔
اس صورت حال سے نکلنے کے لیے انہوں نے بڑے سائز کا نیا ماہنامہ “نئی نسلیں” جاری کیا جس نے زبردست آغاز کیا، مگر بار بار سرکاری پابندیوں اور ڈیکلریشن کی منسوخی نے اسے بھی بند کرا دیا۔ یوں وہ باقاعدہ ڈائجسٹ نکالنے سے کنارہ کش ہو کر صرف لکھنے تک محدود ہو گئے۔
ہمایوں اقبال ہمہ جہت شخصیت تھے۔ جاسوسی ناولوں کے ساتھ تاریخی ادب، شاعری اور موسیقی پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ موسیقی سیکھنے والوں کے لیے ان کی کتاب ابجدِ موسیقی سادہ اور عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے اور اس میدان میں انہیں ایک مستند نام بناتی ہے۔
اندازاً ڈیڑھ سو کے قریب ناول تحریر کیے، اگرچہ حالاتِ زمانہ اور نقل مکانی کے باعث ان کا مکمل ریکارڈ محفوظ نہ رہ سکا۔ وہ لاولد تھے۔ اہلیہ کی وفات نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا اور آخری برسوں میں بیماری اور مالی تنگی کا سامنا بھی رہا، مگر تخلیقی وقار قائم رہا۔
اردو کے جاسوسی ادب میں عمومی رائے یہ ہے کہ ابن صفی کے بعد نمایاں ناموں میں مظہر کلیم اور ہمایوں اقبال سرفہرست شمار ہوتے ہیں۔ ہمایوں اقبال کی تحریر نے کرائے کی لائبریریوں سے لے کر ڈائجسٹوں کے سنہری دور تک لاکھوں قارئین کو مسحور رکھا۔
وفات: 14 اپریل 2025 کو کراچی میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%86_%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
