Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Ibn Khaldun's Photo'

ابن خلدون

1332 - 1406

مشہور مؤرخ، عمرانیات کے بانی اور 'مقدمہ ابن خلدون' کے مصنف

مشہور مؤرخ، عمرانیات کے بانی اور 'مقدمہ ابن خلدون' کے مصنف

ابن خلدون کا تعارف

تخلص : 'ابن خلدون'

اصلی نام : عبد الرحمٰن

وفات : قاہرہ, دوسرا

شناخت: مؤرخ، عمرانیات کے بانی، فلسفی، ماہرِ معاشیات اور ’’مقدمہ ابن خلدون‘‘ کے مصنف

ابو زید ولی الدین عبد الرحمن بن محمد بن خلدون حضرمی اشبیلی، المعروف ابن خلدون، 732ھ/1332ء میں تونس میں ایک معزز اندلسی عرب خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان اصل میں اندلس سے تعلق رکھتا تھا اور بعد ازاں شمالی افریقہ منتقل ہو گیا تھا۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد اور اُس دور کے ممتاز علما سے حاصل کی، جہاں انہوں نے قرآن، حدیث، فقہ، عربی زبان، ادب، منطق اور فلسفہ کی تعلیم پائی۔

ابن خلدون مسلم دنیا کے مایہ ناز مفکر، فلسفی اور جدید "علمِ عمران" (سماجی عمرانیات / Sociology) کے حقیقی بانی مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے تاریخ کو قصے کہانیوں سے الگ کر کے عقل و منطق کی بنیاد پر پرکھا اور سماجی مظاہر کے مطالعے میں پہلی بار سائنسی منہج کو اپنایا۔

ابن خلدون کی عملی زندگی سیاسی اتار چڑھاؤ، درباری سازشوں اور مسلسل اسفار سے عبارت رہی۔ وہ تونس، فاس (مراکش) اور اندلس (غرناطہ) کے درباروں میں کاتب، وزیر اور سفیر کے اہم عہدوں پر فائز رہے، اور سیاسی رقابتوں کے باعث قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلیں۔ سیاست کی تلخیوں سے تنگ آ کر انہوں نے قلعہ سلامہ (الجزائر) میں چار سالہ علمی اعتکاف اختیار کیا، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا معرکہ آرا علمی شاہکار تحریر کیا۔ بعد ازاں وہ مصر ہجرت کر گئے، جہاں وہ مالکی قاضی القضاہ کے منصب پر فائز رہے اور دمشق کے محاصرے کے دوران دنیا کے نامور فاتح امیر تیمور لنگ سے تاریخی ملاقات کر کے کامیاب ثالث کا کردار ادا کیا۔

ابن خلدون کی تصانیف نے عالمی فکری تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔ ان کا سب سے بڑا علمی کارنامہ ان کی لکھی ہوئی کثیر الجلدی تاریخ "کتاب العبر" (تاریخ ابن خلدون) ہے، جس کا مقدمہ "مقدمہ ابن خلدون" (The Muqaddimah) کے نام سے دنیا بھر میں جدید سماجی علوم کی بنیادی دستاویز تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس میں انہوں نے ریاستوں کے عروج و زوال اور 'عصبیہ' (سماجی یکجہتی) کا نظریہ پیش کیا۔ وہ دنیا کے پہلے مورخ بھی ہیں جنہوں نے اپنی تفصیلی خود نوشت سوانح حیات تحریر کی۔ ان کے انقلابی افکار کا اعتراف صدیوں بعد یورپی مفکرین نے کیا اور 1636ء میں جاكوب خوليو کی کتاب "رحلات ابن خلدون" کے ذریعے ان کے نظریات لاطینی، فرانسیسی اور یونانی زبانوں میں منتقل ہو کر عالمی سطح پر مقبول ہوئے۔

وفات: ابن خلدون کا انتقال 808ھ/1406ء میں قاہرہ، مصر میں ہوا۔

Recitation

بولیے