- کتاب فہرست 178650
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1380 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3279طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4299 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6596افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5831-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4852
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
ابن خلدون کا تعارف
شناخت: مؤرخ، عمرانیات کے بانی، فلسفی، ماہرِ معاشیات اور ’’مقدمہ ابن خلدون‘‘ کے مصنف
ابو زید ولی الدین عبد الرحمن بن محمد بن خلدون حضرمی اشبیلی، المعروف ابن خلدون، 732ھ/1332ء میں تونس میں ایک معزز اندلسی عرب خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان اصل میں اندلس سے تعلق رکھتا تھا اور بعد ازاں شمالی افریقہ منتقل ہو گیا تھا۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد اور اُس دور کے ممتاز علما سے حاصل کی، جہاں انہوں نے قرآن، حدیث، فقہ، عربی زبان، ادب، منطق اور فلسفہ کی تعلیم پائی۔
ابن خلدون مسلم دنیا کے مایہ ناز مفکر، فلسفی اور جدید "علمِ عمران" (سماجی عمرانیات / Sociology) کے حقیقی بانی مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے تاریخ کو قصے کہانیوں سے الگ کر کے عقل و منطق کی بنیاد پر پرکھا اور سماجی مظاہر کے مطالعے میں پہلی بار سائنسی منہج کو اپنایا۔
ابن خلدون کی عملی زندگی سیاسی اتار چڑھاؤ، درباری سازشوں اور مسلسل اسفار سے عبارت رہی۔ وہ تونس، فاس (مراکش) اور اندلس (غرناطہ) کے درباروں میں کاتب، وزیر اور سفیر کے اہم عہدوں پر فائز رہے، اور سیاسی رقابتوں کے باعث قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلیں۔ سیاست کی تلخیوں سے تنگ آ کر انہوں نے قلعہ سلامہ (الجزائر) میں چار سالہ علمی اعتکاف اختیار کیا، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا معرکہ آرا علمی شاہکار تحریر کیا۔ بعد ازاں وہ مصر ہجرت کر گئے، جہاں وہ مالکی قاضی القضاہ کے منصب پر فائز رہے اور دمشق کے محاصرے کے دوران دنیا کے نامور فاتح امیر تیمور لنگ سے تاریخی ملاقات کر کے کامیاب ثالث کا کردار ادا کیا۔
ابن خلدون کی تصانیف نے عالمی فکری تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔ ان کا سب سے بڑا علمی کارنامہ ان کی لکھی ہوئی کثیر الجلدی تاریخ "کتاب العبر" (تاریخ ابن خلدون) ہے، جس کا مقدمہ "مقدمہ ابن خلدون" (The Muqaddimah) کے نام سے دنیا بھر میں جدید سماجی علوم کی بنیادی دستاویز تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس میں انہوں نے ریاستوں کے عروج و زوال اور 'عصبیہ' (سماجی یکجہتی) کا نظریہ پیش کیا۔ وہ دنیا کے پہلے مورخ بھی ہیں جنہوں نے اپنی تفصیلی خود نوشت سوانح حیات تحریر کی۔ ان کے انقلابی افکار کا اعتراف صدیوں بعد یورپی مفکرین نے کیا اور 1636ء میں جاكوب خوليو کی کتاب "رحلات ابن خلدون" کے ذریعے ان کے نظریات لاطینی، فرانسیسی اور یونانی زبانوں میں منتقل ہو کر عالمی سطح پر مقبول ہوئے۔
وفات: ابن خلدون کا انتقال 808ھ/1406ء میں قاہرہ، مصر میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Ibn_Khaldun
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
