- کتاب فہرست 180433
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1572 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4195خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1249
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4870
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
ابن خلدون کا تعارف
شناخت: مؤرخ، عمرانیات کے بانی، فلسفی، ماہرِ معاشیات اور ’’مقدمہ ابن خلدون‘‘ کے مصنف
ابو زید ولی الدین عبد الرحمن بن محمد بن خلدون حضرمی اشبیلی، المعروف ابن خلدون، 732ھ/1332ء میں تونس میں ایک معزز اندلسی عرب خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان اصل میں اندلس سے تعلق رکھتا تھا اور بعد ازاں شمالی افریقہ منتقل ہو گیا تھا۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد اور اُس دور کے ممتاز علما سے حاصل کی، جہاں انہوں نے قرآن، حدیث، فقہ، عربی زبان، ادب، منطق اور فلسفہ کی تعلیم پائی۔
ابن خلدون مسلم دنیا کے مایہ ناز مفکر، فلسفی اور جدید "علمِ عمران" (سماجی عمرانیات / Sociology) کے حقیقی بانی مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے تاریخ کو قصے کہانیوں سے الگ کر کے عقل و منطق کی بنیاد پر پرکھا اور سماجی مظاہر کے مطالعے میں پہلی بار سائنسی منہج کو اپنایا۔
ابن خلدون کی عملی زندگی سیاسی اتار چڑھاؤ، درباری سازشوں اور مسلسل اسفار سے عبارت رہی۔ وہ تونس، فاس (مراکش) اور اندلس (غرناطہ) کے درباروں میں کاتب، وزیر اور سفیر کے اہم عہدوں پر فائز رہے، اور سیاسی رقابتوں کے باعث قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلیں۔ سیاست کی تلخیوں سے تنگ آ کر انہوں نے قلعہ سلامہ (الجزائر) میں چار سالہ علمی اعتکاف اختیار کیا، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا معرکہ آرا علمی شاہکار تحریر کیا۔ بعد ازاں وہ مصر ہجرت کر گئے، جہاں وہ مالکی قاضی القضاہ کے منصب پر فائز رہے اور دمشق کے محاصرے کے دوران دنیا کے نامور فاتح امیر تیمور لنگ سے تاریخی ملاقات کر کے کامیاب ثالث کا کردار ادا کیا۔
ابن خلدون کی تصانیف نے عالمی فکری تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔ ان کا سب سے بڑا علمی کارنامہ ان کی لکھی ہوئی کثیر الجلدی تاریخ "کتاب العبر" (تاریخ ابن خلدون) ہے، جس کا مقدمہ "مقدمہ ابن خلدون" (The Muqaddimah) کے نام سے دنیا بھر میں جدید سماجی علوم کی بنیادی دستاویز تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس میں انہوں نے ریاستوں کے عروج و زوال اور 'عصبیہ' (سماجی یکجہتی) کا نظریہ پیش کیا۔ وہ دنیا کے پہلے مورخ بھی ہیں جنہوں نے اپنی تفصیلی خود نوشت سوانح حیات تحریر کی۔ ان کے انقلابی افکار کا اعتراف صدیوں بعد یورپی مفکرین نے کیا اور 1636ء میں جاكوب خوليو کی کتاب "رحلات ابن خلدون" کے ذریعے ان کے نظریات لاطینی، فرانسیسی اور یونانی زبانوں میں منتقل ہو کر عالمی سطح پر مقبول ہوئے۔
وفات: ابن خلدون کا انتقال 808ھ/1406ء میں قاہرہ، مصر میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Ibn_Khaldun
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
