- کتاب فہرست 182645
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3299طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1710 خطوط747
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4325 سیاسی354 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6626افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4259خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1285
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4884
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1211
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
ابن کنول کے افسانے
آخری کوشش
جیل کی آہنی سلاخوں کے اندر رہتے ہوئے اسے پورا ایک مہینہ ہو چکا تھا۔ اس کے بدن کا ایک ایک جوڑ درد سے کراہ رہا تھا۔ کون کون سی اذیتیں تھیں جو اسے نہ دی جا چکی تھیں۔ لیکن وہ پتھّر کا آدمی خاموش تھا۔ جیل کے حکام گرمی میں زبان نکال کر ہانپتے ہوئے کتوّں
تیسری دُنیا کے لوگ
رات قبر کے اندھیرے کی طرح تاریک اور خاموش تھی ۔ چہار طرف مہیب سناٹا چھایا ہوا تھا ۔ تھکے ہارے جسم زلفِ شب کی گھنی چھاؤں میں پناہ لے کر عالمِ خواب میں مست و سرشار تھے کہ اچانک چاروں سمتیں شفق کی طرح سرخ ہو گئیں ۔ رفتہ رفتہ وہ تمام روشنیاں نزدیک آتی
خانہ بدوش
گذشتہ ستر سال سے بلال کی اذان کی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی اور اس آواز کے ساتھ وہ صلاۃ اور فلاح کی طرف دوڑ پڑتا تھا۔ پہلی اذان کی آواز اس نے اس وقت سنی تھی جب ماں کے بدن سے الگ ہو کر باپ کی گود میں آنکھیں کھولی تھیں ۔ خدا کی وحدانیت، رسول کی
ایک گھر کی کہانی
وہ بالکل تنہا تھا۔ لیکن کچھ دن پہلے وہ تنہا نہیں تھا۔ اور اب وہ تنہائی کے ڈراونے جنگل سے نجات حاصل کرنے کے لیے ہر اس جاندار سے پوچھتا جو اس جیسا تھا ۔ ’’ کیا شہر میں اب بھی انسانوں کا قتل ہو رہا ہے؟ کیا اب بھی شہر جل رہا ہے ؟‘‘ ’’ہاں‘‘ ایک
اپنی آگ اپنا گھر
جوان بیٹے کا جنازہ صحن میں رکھا ہوا تھا پورے گھر میں ہاہاکار مچی ہوئی تھی۔ ہر چہرے پر افسوس و ملال تھا۔ عورتیں رو رو کر اپنا سر پیٹ رہی تھیں۔ ہر آنکھ نم تھی لیکن زبیدہ بالکل خاموش تھی، جس کا جوان بیٹا موت کی وادی میں کفن اوڑھے سو رہا تھا۔ اُس کی آنکھ
گرم سُوٹ
تکیہ پر نئے غلاف کی طرح وہ اپنے بدن پر نیا سوٹ چڑھا کر کمرے سے باہر آیا خوشی سے اس کی بانچھے کھلی جا رہی تھیں ۔ آج عرصۂ دراز کی آرزوئے دِلی عملی جامہ زیب تن کر کے اس کے رو برو آئی تھی ۔ اپنی بے انتہا مسرتوں کو اُچھالتے ہوئے اس نے رسوئی میں بیٹھی ہوئی
ابن آدم
ہر روز کی طرح کمرے کی دیوار پر لگے ہوئے بلب کے نیچے دو موٹی موٹی چھپکلیاں بار بار منہ کھول کر بے بس کیڑوں کی نگل رہی تھیں اور وہ دونوں بھی ہر روز کی طرح اپنے تھکے ہارے جسموں کو لے کر بے جان کرسیوں پر آن پڑے تھے۔ پھر ایک نے دوسرے سے سوال کیا: ’’تم
بند راستے
ہندوپاک کے راستے کھلتے ہی اسے ایسا لگا کہ اب تک وہ نظر بند تھا اور اسے آزاد کیا گیا ہو۔ اس نے سب سے پہلا کا م یہ کیا کہ ہندستان جانے کے لیے ویزا منظور کروایا اور بہت جلد اپنے گاؤں کی گلیوں کو نگاہوں میں بسا کر لاہور سے روانہ ہوا ۔ اس نے اپنے آنے کی
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
-
