- کتاب فہرست 180840
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1365 قصہ / داستان1571 صحت104 تاریخ3290طنز و مزاح598 صحافت200 زبان و ادب1697 خطوط738
طرز زندگی30 طب973 تحریکات271 ناول4269 سیاسی351 مذہبیات4771 تحقیق و تنقید6536افسانہ2669 خاکے/ قلمی چہرے234 سماجی مسائل110 تصوف2010نصابی کتاب437 ترجمہ4222خواتین کی تحریریں5775-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1258
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1592
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4858
- مرثیہ387
- مثنوی738
- مسدس44
- نعت587
- نظم1206
- دیگر84
- پہیلی15
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
ابراہیم جلیس کا تعارف
تخلص : 'ابراہیم'
اصلی نام : ابراہیم حسین
پیدائش : 01 Aug 1924 | بنگلور, کرناٹک
وفات : 01 Oct 1977 | کراچی, سندھ
LCCN :no99060384
ابراہیم جلیس کا تعلق حیدرآباد دکن کی مردم خیز سرزمین سے تھا۔ وہ 11 اگست 1922ءکو بنگلور میں پیدا ہوئے لیکن ان کی ابتدائی تعلیم و تربیت گلبرگہ حیدرآباد دکن میں ہوئی۔ 1942ءمیں انہوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے گریجویشن کیا اور تقریباً اسی زمانے میں لکھنے لکھانے کا سلسلہ شروع کیا۔ابراہیم جلیس کی صحافتی زندگی کا آغاز حیدرآباد دکن سے ہی ہوا۔ 1948ءمیں وہ پاکستان چلے آئے یہاں وہ مختلف اخبارات سے وابستہ رہے جن میں امروز، انجام، جنگ، حریت اور مساوات شامل تھے۔ وہ کچھ عرصے روزنامہ انجام کے مدیر بھی رہے اور انہوں نے اپنا ایک ہفت روزہ بھی عوامی عدالت کے نام سے جاری کیا۔ عمر کے آخری حصے میں وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے ترجمان روزنامہ مساوات کے مدیر تھے جو 1977ءمیں مارشل لاءلگنے کی وجہ سے حکومت کی زیر عتاب آگیا۔ لیکن ابراہیم جلیس نے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور اسی جدوجہد کے دوران 26 اکتوبر 1977ءکو دماغ کی شریان پھٹنے سے ان کا انتقال ہوگیا۔ابراہیم جلیس ایک بہت اچھے افسانہ نگار بھی تھے۔ ان کا پہلا افسانہ ”رشتہ“ فروری. 1943ءمیں ساقی میں شائع ہوا تھا۔ انہوں نے متعدد کتابیں یادگار چھوڑیں جن میں زرد چہرے، چالیس کروڑ بھکاری، دو ملک ایک کہانی، الٹی قبر، آسمان کے باشندے، جیل کے دن جیل کی راتیں، اوپر شیروانی اندر پریشانی، نیکی کر تھانے جا، ہنسے اور پھنسے کے علاوہ روس، امریکا اور ایران کے سفرنامے خصوصاً قابل ذکر ہیں۔
ابراہیم جلیس کے انتقال کے 12 برس بعد 14 اگست 1989ء کو حکومت پاکستان نے جناب ابراہیم جلیس کی خدمات کے اعتراف میں انہیں بعدازمرگ تمغہ حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : no99060384
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
-
